... loading ...

ایک ایسے وقت جب پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں روبہ زوال ہیں اور تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی کمی کے سبب تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک معاشی انحطاط کا شکار ہیں اور معاشی مشکلات پر قابو پانے کے لیے اپنے اخراجات میں کٹوتی کرنے پر مجبور ہورہے ہیں، پاکستان میں حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کے ثمرات عوام کو منتقل کرنے کے بجائے پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسیوں،ڈیوٹیز اور سرچارجز میں اضافے کے ذریعے عوام کو مسلسل زیر بار کرنے کی پالیسی پر گامزن نظر آتی ہے۔
پاکستان میں تیل کی منصوعات پر نت نئے ٹیکسوں ،ڈیوٹیز اور سرچارجز کے نفاذ اور ان کی شرح میں بے انتہا اضافہ کیے جانے کی وجہ سے عوام کو پوری دنیا کے مقابلے میں تیل کی 38 فیصد زیادہ قیمت ادا کرنا پڑرہی ہے جس کے نتیجے میںکار ، بھاری گاڑیوں ، صنعتوںاور زرعی مشینری استعمال کرنے والوں پربوجھ بڑھ رہاہے جس کی وجہ سے کرایوں ، نقل وحمل پرآنے والے اخراجات اور اس سب کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوتاچلاجارہاہے۔جبکہ حکومت پیٹرول کی قیمتوں میں روزبروز اضافے کی وجہ سے عوام پر پڑنے والے ناقابل برداشت بوجھ سے لاپروا پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعے اپنی آمدنی میں کمی پوری کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔حکومت دراصل اپنے غیر ضروری اخراجات اور کرپشن سے قومی خزانے پر پڑنے والے بے جا بوجھ کو کم کرنے کے لیے اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام کو منتقل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات میں سب سے زیادہ ڈیزل استعمال ہوتاہے کیونکہ بھاری گاڑیوں اور زرعی اور صنعتی مشینری عام طورپر ڈیزل سے ہی چلتی ہیں۔ٹرانسپورٹر بھی خاص طورپر بھاری گاڑیاں چلانے والے بھی ڈیزل پر ہی انحصار کرتے ہیں ،ڈیزل کی قیمتوں میں زرعی شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوتاہے جس کی وجہ سے زرعی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوتاہے اور عوام کو کم قیمت پر اجناس ، پھل اور سبزیاں فراہم کرنا آسان نہیں رہتا۔ ایک طرف زرعی مشینری ڈیزل سے چلتی ہے اور اس سے زرعی پیدا وار کی لاگت بڑھتی ہے، دوسری طرف ٹرانسپورٹر بھی ڈیزل پر ہی اکتفا کرتے ہیں جس کی وجہ سے کرائے میں اضافہ ہوتا ہے اورزرعی پیداوار کو کھیتوں سے منڈیوں تک پہنچانے کے اخراجات میں اضافہ ہوتاہے اور زرعی پیداوار کی قیمت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے منفی اثرات کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ آئل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی اوگرا نے جو رپورٹ تیار کرکے اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بھیجی ہے اس میں واضح طورپر لکھا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میںتیل استعمال کرنے والے صارفین سب سے زیادہ متاثر ہوئے اور انہیں ڈیزل پر جنرل سیلز ٹیکس کی سب سے زیادہ شرح سے ادائیگی پر مجبور ہونا پڑا۔
اوگرا کی رپورٹ کے مطابق 2015-16 ءکے دوران پاکستان میں تیل کے صارفین نے ایک لیٹر ڈیزل پر 29.57 روپے جنرل سیلز ٹیکس ادا کیا،حکومت نے تیل کے صارفین سے ایک لیٹر ڈیزل پر 29.57 روپے جنرل سیلز ٹیکس وصول کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ ان سے ہر لیٹر پر 6 روپے کی شرح سے پیٹرولیم لیوی بھی وصول کی۔اسی طرح پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو جن میں غریب اسکوٹر اور رکشہ والو ں کی اکثریت ہے فی لیٹر پیٹرول پر 15.22 روپے جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیاگیا۔مٹی کاتیل استعمال کرنے والوں کو فی لیٹر مٹی کے تیل یعنی کیروسین آئیل پر13.18 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل استعمال کرنے والوں کو12.21 روپے فی لیٹر جنرل سیلز ٹیکس اد ا کرنا پڑا۔پیٹرول ،ڈیزل اور کیروسین آئل استعمال کرنے والوں سے وصول کی جانے والی یہ رقم اپنی نوعیت کے اعتبار سے پاکستان کی پوری تاریخ کی سب سے زیادہ رقم ہے، یعنی اب تک پاکستان میں برسراقتدار آنے والی کسی بھی حکومت نے عوام کی بے بسی سے اس طرح فائدہ اٹھانے اور اتنی بھاری شرح سے ڈیوٹیز اور لیویز وصول کرنے کی جرأت نہیں کی تھی۔
اس صورت حال پر اخبارات میں شور مچنے اورعوام کی جانب سے شدید ردعمل اور کئی ضمنی انتخابات سامنے آجانے کی وجہ سے حکومت نے بعد میںڈیزل پر وصول کیے جانے والے ٹیکس کی شرح کم کرکے19.39 روپے کردیا۔رواں مالی سال کے دوران پیٹرول پر وصول کیے جانے والے جنرل سیلز ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح10.71 روپے رکھی گئی جبکہ کیروسین پر جی ایس ٹی کی شرح2.83 روپے اورکیروسین آئل پر جی ایس ٹی کی شرح2.83 روپے مقر ر کی گئی۔
سابقہ اور موجودہ حکومتوں کے دور میں پیٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس کی شرح بالترتیب16.96 روپے،16.45 روپے اور15.71 روپے اور14.71 روپے تھی۔یہ ایک واضح امر ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اثر براہ راست صارفین اور بحیثیت مجموعی پورے ملک کے عوام پر پڑتاہے، پیٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے کا اثر تمام ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی کمیابی کی صورت میں سامنے آتاہے۔
اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جب سردیوں میں پنجاب کے بعض علاقوں میں گیس کی فراہمی بند کی جاتی ہے تو گاڑیاں چلانے والے اور ٹرانسپورٹرز کو سی این جی کے بجائے پیٹرول کے استعمال پر مجبور ہونا پڑتا ہے جس کے نتیجے میں پیٹرول کی طلب میں بے انتہا اضافہ ہوجاتاہے اور حکومت کو پیٹرول پر ڈیوٹی ٹیکسوں اور جی ایس ٹی کی مد میں بھاری رقم ملنا شروع ہوجاتی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات سے حکومت کو ہونے والی آمدنی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق حکومت ہر ماہ پیٹرولیم اور ڈیزل کے صارفین سے جی ایس ٹی کی مد میں 25 ارب روپے اورپیٹرولیم پر لیوی کی مد میں10 ارب روپے وصول کررہی ہے،یعنی صرف پیٹرولیم کی فروخت سے حکومت عوام سے ہر ماہ کم وبیش35 ارب روپے کی خطیر رقم وصول کررہی ہے، جو ملک کے کسی اور شعبے سے ممکن نہیں ہے۔
اب جبکہ عام انتخابات قریب ہیں اور انتخابی صف بندیا ں شروع ہورہی ہیں توقع کی جاتی ہے کہ حکومت پیٹرولیم اور ڈیزل کے صارفین پر جی ایس ٹی اور لیویز کے بوجھ میں مناسب حد تک کمی کرنے پر غور کرے گی تاکہ حکومت کے مخالفین اسے عوام کے سامنے حکمراں پارٹی کے خلاف پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہ کرسکیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...