وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ بضد،میکسیکودیوار پراربوں ڈالر پھونکنے کے لیے تیار

هفته 25 مارچ 2017 ٹرمپ بضد،میکسیکودیوار پراربوں ڈالر پھونکنے کے لیے تیار

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برسر اقتدار آنے کے بعد فوری طورپر جس بجٹ کااعلان کیاہے وہ اُن کے دیگر اعلانات کی طرح متنازع بن گیاہے ، ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اپنے پہلے بجٹ میں ٹرمپ کے انتخابی اعلانات کے مطابق میکسکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے اور امیگرنٹس کو امریکا میں داخلے سے روکنے کے لیے دیگر اقدامات جن میں مزید وکلا کی خدمات حاصل کرنا شامل ہے، اربوں ڈالر مختص کیے ہیں، ایک ایسے ملک میں جہاں لوگوں کو ضرورت کے مطابق علاج معالجے کی سہولتیں حاصل نہیں ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اوباما دور میں شروع کئے گئے ہیلتھ کیئر پروگرام کو بھی لپیٹنے کے درپے ہیں، صرف میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر اور امیگرنٹس کی روک تھام کے اقدامات پر پہلے ہی سے خرچ کیے جانے والے کروڑوں ڈالر میں اربوں ڈالر کے اس اضافے پر نہ عوام خوش ہیں اور نہ سیاستداں۔ یہاں تک کہ خود ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کے بعض رہنمائوں نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ان اقدامات اور ان پالیسیوں کی کھل کر مذمت کرنا اور انہیں ملک و قوم کے مفادات کے منافی قرار دینا شروع کردیاہے۔
نیویارک ٹائمز نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھاہے کہ امریکا کی جنوبی سرحدیں محفوظ کرنے کے حوالے سے اپنا انتخابی وعدہ پورا کرنے کے لیے صدر ٹرمپ اب تارکین وطن کو روکنے اور سرحدوں پر قانون پر عملدرآمد کے ذمہ دار موجودہ ڈیڑھ ہزار افسران پر مشتمل عملے میں مزید اضافہ کرنے کے لیے کم وبیش 100 نئے وکلا بھرتی کرنا چاہتے ہیں ۔امیگرینٹس کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے پروگرام کے مطابق امیگرنٹس کو حراست میں رکھنے اور ملک بدر کرنے کے حوالے سے کارروائیوں کے لیے اگلے مالی سال کے اعلان کردہ بجٹ میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم کے خرچ کاتخمینہ لگایاگیاہے۔
ڈونلڈ انتظامیہ کے اعلان کردہ بجٹ کے مطابق سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے نقد 2 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔امریکا کی ہوم لینڈ سیکورٹی کے ایک سابق سینئر افسر کارڈینل برائون نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ وعدے کرنا بہت آسان ہوتاہے لیکن ان کی تکمیل اتنی آسان نہیں ہوتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران جتنے وعدے کئے ہیں وہ اپنے تمام وعدے کبھی پورے نہیں کرسکیں گے اس لیے انہیں اور ان کے رفقا کو دیگر فوری توجہ کے حامل مسائل اور معاملات پر توجہ دینی چاہیے ۔
امریکا کے بائی پرٹیسن پالیسی سینٹر کی امیگریشن پالیسی کی ڈائریکٹرتھریسا کارڈینل برائون نے بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے لیے بھاری رقم مختص کیے جانے کا واضح مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے وعدے پورے کرنا چاہتے ہیں۔
سرحد پر دیوار کی تعمیر اور امیگرنٹس کی روک تھام اور ان کی ملک بدری پر بھاری اخراجات پر تنقید کاجواب دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے لیے اضافی اخراجات کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جائے گا اور یہ رقم وفاقی حکومت کے مختلف اداروں میں بچت کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔دوسری جانب ڈیموکریٹس نے سرحد پر دیوار کی تعمیر اور امیگرنٹس کے خلاف ڈونلڈ انتظامیہ کے دیگر اقدامات کی شدت کے ساتھ مخالفت کرنے کا اعلان کیا ہے یہی وجہ ہے کہ اب ڈونلڈ ٹرمپ خود تو اپنے وعدوں کے حوالے سے بلند بانگ دعوے دہراتے رہتے ہیں لیکن ان کی انتظامیہ کا کوئی رکن یہاں تک کہ ان کے قریبی ساتھی بھی اس حوالے سے لب کشائی سے گریز کررہے ہیں اور’’ دیکھو اور انتظار کرو ‘‘کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے ناقدین اور خاص طورپر ڈیموکریٹس کاکہنا ہے کہ صرف ایک دیوار کا ڈیزائن تیار کرنے اور اس کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کردینے سے بھی یہ معاملہ حل نہیں ہوگا بلکہ اپنے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنانے اور امریکا میں غیر قانونی طورپر مقیم لوگوں کو ملک بدر کرنے کے لیے ہوم لینڈ سیکورٹی اور وکلا کی فوج میں اضافہ کرنا ہوگا جس پر اربوں ڈالر سالانہ اضافی خرچ کرنا ہوں گے اوریہ اضافی اربوں ڈالر حاصل کرنے کے لیے امریکا کی ہوم لینڈ سیکورٹی سمیت دیگر تمام اہم اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتی کرنا ہوگی ،جس کی وجہ سے ان اداروں سے ہزاروں افراد کی چھانٹی کرنا ہوگی جس سے بیروزگاری کا ایک نیا سیلاب سامنے آجائے گا جس سے نمٹنا ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے بجٹ کی تجاویز میں سرحد پر ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر اور سیکورٹی ٹیکنالوجی کے لیے 2 ارب60 لاکھ ڈالر کی رقم مختص کی گئی ہے ۔جبکہ دیوار کی منصوبہ بندی ڈیزائن اور اس کی تعمیر شروع کرنے کے لیے رقم کی علیحدہ ضرورت ہوگی۔
اس پروگرام پر عملدرآمد کے لیے سرحد پر گشت کے لیے 500 اضافی افراد رکھنا پڑیں گے جن کی تربیت پر کم وبیش 31 کروڑ40 لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔اس کے علاوہ اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے اگلے سال کے دوران امیگریشن اور کسٹمز کے قوانین پر عملدرآمد کرانے کے لیے ایک ہزار افراد بھرتی کرناہوںگے ،اس کے علاوہ غیر قانونی طورپر امریکا میں داخل ہونے والے لوگوں کو زیر حراست رکھنے کے لیے حراستی مراکز کی تعمیر اور ان کو واپس بھیجنے پر ایک ارب 50 لاکھ ڈالر خرچ ہوں گے۔
اس کے ساتھ ہی ملک میں کاروبار اور قیام کرنے کی اہلیت کا تعین کرنے کے لیے پورے ملک میں ای ویری فائی یعنی انٹرنیٹ پر تصدیق کاایک لازمی پروگرام شروع کیاجائے گا جس کے تحت امریکا میں غیر قانونی طورپر مقیم اور کاروبار کرنے والوں کا پتہ چلایاجاسکے گا۔
اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام کاموں کی انجام دہی کے لیے ہوم لینڈ سیکورٹی کے بجٹ میں مجموعی طورپر صرف 6.8 فیصد اضافے کااعلان کیاہے لیکن یہ تمام اخراجات پورے کرنے کے لیے اس محکمے کو اپنے اندرونی اخراجات میں کٹوتی کرنے اور غیر ضروری یعنی اضافی عملے کی چھانٹی پر مجبور ہونا پڑے گا۔اتنی بڑی رقم حاصل کرنے کے لیے محکمے کو فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی کو حکومت اور مقامی طورپر دی جانے والی66 کروڑ70 لاکھ ڈالر سالانہ گرانٹ یعنی امداد بھی بند کرنا پڑے گی۔ نیویارک کی ایک اور خبر سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی کوسٹ گارڈز کے بجٹ میں بھی بھاری کٹوتی کرنے کاارادہ رکھتے ہیں۔تاہم خیال کیاجاتاہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی اس کوشش کی کانگریس میں شدید مزاحمت کی جائے گی اور اس کی راہ روکنے کی کوشش کی جائے گی۔
بجٹ تجاویز میں اگرچہ وعدے تو بہت سے کیے گئے ہیں لیکن یہ نہیں بتایاگیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدے کس طرح پورے کیے جائیں گے جبکہ سینیٹ میں اکثریتی پارٹی کے قائد سینیٹر مک کونیل کا کہنا ہے کہ میکسیکو کی سرحد پر صرف دیوار کی تعمیر پر کم وبیش 15ارب ڈالر خرچ ہوں گے جبکہ بجٹ میں ظاہر کی گئی اس حوالے سے دیگر تجاویز پر بھی اخراجات تخمینے سے بہت زیادہ آئیں گے جس کے معنی یہ ہیں کہ وہائٹ ہائوس کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدے پورے کرنے کے لیے مزید اربوں ڈالر کی ضرورت ہوگی اب یہ رقم کہاں سے آئے گی؟ حکومتی ارکان اس معاملے پر بالکل خاموش ہیں۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر