وجود

... loading ...

وجود

ٹرمپ پالیسیز: سیاحتی شعبے کو 7 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کااندیشہ

اتوار 19 مارچ 2017 ٹرمپ پالیسیز: سیاحتی شعبے کو 7 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کااندیشہ

امریکا کے نومنتخب صدرڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خاص طورپر غیر ملکیوں کے بارے میں ان کے خیالات اور اس کے پرتشدد انداز میں اظہار امریکی معیشت کے لیے بوجھ بنتے جارہے ہیں،امریکی ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تندوتیز بیانات سے سب سے پہلے سیاحت کے شعبے پر منفی اثرات نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیںاور سیاحت کی غرض سے امریکا آنے والے لوگوں کی تعداد میں نمایاں کمی ہونا شروع ہوگئی ہے ،ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غیر ذمہ دارانہ بیانات امریکی معیشت کے لیے بوجھ بنتے جارہے ہیں کیونکہ ان بیانات کی وجہ سے امریکا کے صرف سیاحتی شعبے کورواں سال کے دوران 7 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان کااندیشہ ہے۔اس کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات کی وجہ سے امریکا کی دیگر صنعتوں کوبھی ہنر مند افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے نقصان یہاں تک کہ بندش تک کاسامنا کرنا پڑسکتاہے، جس سے لاکھوں امریکی بیروزگار ہوجائیں گے۔
امریکا میں سیاحتی شعبے کے ماہرین کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے تند وتیز بیانات کی وجہ سے نیویارک اور دیگر امریکی شہروں میں سیر وسیاحت کے لیے آنے والے لوگوں نے اپنے سفر کی ترجیحات میں تیزی سے تبدیلی شروع کردی ہے جس کی وجہ سے نیویارک آنے والے سیاحوں کی تعداد جس میں رواں سال اضافے کی توقع کی جارہی تھی،اب یہ شعبہ روبہ زوال نظر آرہاہے اور صرف نیویارک آنے والے سیاحوں کی تعداد میں0 2 فیصد سے زیادہ کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل گزشتہ 8 سال سے نیویارک آنے والے سیاحوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیاجارہاتھا۔اعدادوشمار کے مطابق نیویارک کے علاوہ لاس اینجلس اور میامی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں بھی نمایاںکمی ریکارڈ کی جارہی ہے۔
ماہرین کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے لوگوں پر امریکا میں داخلے کے حوالے سے احکامات کو اگرچہ امریکی عدالت نے معطل کردیاہے لیکن ان احکامات کی وجہ سے پوری دنیا کے سامنے جو پیغام گیاہے وہ یہ ہے کہ اب امریکا پوری دنیا کے لوگوں کے لیے کھلا ملک نہیں رہا اوراب بتدریج امتیازی نسلی پالیسیوں کا مرکز بننے کی راہ پر گامزن ہے۔ اس منفی پیغام کا سب سے پہلا اثر سیر وتفریح کے لیے امریکا آنے والے سیاحوں کی تعداد کی کمی کی صورت میں سامنے آیاہے، لیکن یہ صرف ابتدا ہے کیونکہ اطلاعات کے مطابق حصول تعلیم کے لیے امریکا آنے والے غیر ملکی طلبہ نے بھی امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے حاصل کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنا شروع کردی ہے اور اب غیر ملکی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکی یونیورسٹیوں کے مقابلے میں برطانیہ،آسٹریلیا اور کینیڈا کی یونیورسٹیوں کو ترجیح دے رہے ہیں جہاں عالمی معیار کے بیشمار تعلیمی ادارے موجود ہیں ۔یہی نہیں بلکہ ان ملکوں میں حصول تعلیم کے لیے آنے والے طالبعلموں کو بعض ایسی سہولتیں بھی حاصل ہوجاتی ہیں جو امریکا میں حصول تعلیم کے دوران ان کو نہیں ملتیں۔ ان سہولتوں میں دوران تعلیم جز وقتی ملازمتوں کی اجازت اور تعلیم کی تکمیل کے بعد متعلقہ ملک کی شہریت کے حصول کے حوالے سے رعایتیں اور ترغیبات شامل ہیں۔
امریکی ماہرین معاشیات کاکہناہے کہ حصول تعلیم کے لیے امریکا آنے والے طلبہ کی تعداد میں کمی کی صورت میں امریکا کے بعض مشہور تعلیمی ادارے مالی بحران کا شکار ہوجائیں گے اور ان کا وجود برقرار رکھنے کے لیے حکومت کو ان کی مدد کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ اس طرح غیر ملکی طلبہ کی وجہ سے امریکی خزانے کو ہونے والی متوقع آمدنی میں کمی کے ساتھ ہی تعلیمی اداروں کی مدد کے لیے سرکاری اداروں کو غیر متوقع بوجھ بھی برداشت کرنا پڑے گا۔
امریکی ماہرین کاکہناہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر امیگریشن پالیسی کے نتیجے میں آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے بچوں کے معروف ادیب میم فاکس کو لاس اینجلس کے ایئرپورٹ پرر وک کر ان سے پوچھ گچھ اور ان کی کڑی جانچ پڑتال اور فلوریڈا کے فورٹ لائوڈر ڈل بین الاقوامی ایئر پورٹ پر امریکا کے مایہ ناز باکسر محمد علی کے بیٹے کوروک کر اس سے کڑی پوچھ گچھ کے واقعات نے پوری دنیا میں امریکا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور ان واقعات کی وجہ سے اب امریکا کو بھی دنیا کے نسل پرست ممالک کے زمرے میں شمار کیاجانے لگاہے۔
امریکا میں سیاحوں کی آمد کے حوالے سے اعدادوشمار مرتب کرنے والے ادارے ’’فارورڈ کیز ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق20 جنوری 2017 یعنی ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد فروری کے دوران یعنی صرف ایک ماہ کے دوران امریکا میں سیر وتفریح کے لیے آنے والے لوگوں کی جانب سے کرائی گئی بکنگ میں 14 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے،جس کے معنی یہ ہیں کہ اس سال امریکا میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کم وبیش15 فیصد کم لوگ سیر وتفریح کے لیے امریکا کارخ کریں گے، اعدادوشمار کے مطابق امریکا آنے والے غیر ملکی مجموعی طورپر ہرسال امریکا میں250 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں. سیاحوں کی آمد میں کمی کے سبب ان کی جانب سے کیے گئے اخراجات کی صورت میں قومی خزانے کو ہونے والے فائدے میں اسی شرح سے کمی ہوگی اور کمی کا یہ رجحان عارضی نہیں ہوگا بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار رہنے یا ان کی طرف سے غیر ملکیوں کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں مثبت تبدیلیوں کے باقاعدہ اعلان تک کمی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا ۔سیاحوں کی آمد میں کمی کی وجہ سے امریکا کے مختلف شہروں میں سیاحوں کی دلچسپی کی اشیا تیار و فروخت کرنے والے اداروں اور دکانداروں کو بھی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔ اس طرح ان دکانوں اور فیکٹریوںا ور کارخانوں سے درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں ملازمین کو سڑکوںپر آنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔
ماہرین کاکہناہے کہ نیویارک میں سیاحوں کی آمد میں کمی کے نتیجے میں اس شہر کو سالانہ کم وبیش90 کروڑ ڈالر کانقصان اٹھانا پڑے گا ۔اسی طرح لاس اینجلس اورمیامی کے دکانداروں اورفیکٹری مالکان کوبھی مجموعی طورپر کروڑوں ڈالر کانقصان اٹھانا پڑے گا۔ماہرین کاکہناہے کہ امریکا میں سیاحوں کی آمد میں کمی کا ڈونلڈ ٹرمپ کو براہ راست بھی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ وہ خود امریکا کے کئی بڑے ہوٹلوں کے مالک ہیں جن کی آمدنی کابڑا ذریعہ غیر ملکی سیاح ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب سیاحوں کی آمد کی شرح میں کمی ہوگی تو اسی مناسبت سے ان ہوٹلوں کی آمدنی بھی متاثر ہوگی جس کا براہ راست نقصان ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی فیملی کے دیگر ارکان کو ہوگا۔

ہینری گولڈ مین


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر