... loading ...
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایک خفیہ ایجنسی نے اوباما دور میں وہائٹ ہائوس میں منعقد ہونے والی پر تعیش تقریبات میں خفیہ طریقے سے کروڑوں ڈالر کے خرچ کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہے۔
سرکاری اخراجات پر نظر رکھنے والی تنظیم ’’فریڈم واچ ‘‘ کے بانی لیری کلے مین نے انکشاف کیا ہے کہ سابق صدر بارک اوباما نے اپنے دور میں وہائٹ ہائوس میں متعدد ایسی پرتعیش تقریبات کا اہتمام کیا جن کا حکومت یا کسی حکومتی ادارے کی کارکردگی یاسرکاری خزانے کو کسی طرح کے فائدے سے کوئی تعلق نہیں تھا ،انھوں نے یہ اخراجات اپنی صوابدید پر میڈیا کی تنقید سے لاپروا ہوکر کئے تھے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان اخراجات کا نوٹس لیا ہے اور اس کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
اے بی سی نیوز کی اطلاع کے مطابق سابق صدر اوباما نے متعدد ایسی تقریبات منعقد کرائیں جن کاکوئی جواز نہیں تھا جن میں شکاگو میں فتح کی تقریب جس میں 75 ہزار مہمانوں کو مدعو کیاگیاتھا۔ یہ تقریب کھلے آسمان تلے ٹینٹ لگا کر منعقد کی گئی تھی اور اس میں اسٹیج بنانے کیلئے ستون یونانی طرز کے تیار کرائے گئے تھے،ایک اندازے کے مطابق اس تقریب پر مجموعی طورپر 17 کروڑ ڈالر خرچ ہوئے تھے۔ ڈبلیو این ڈی ڈاٹ کام کی رپورٹس کے مطابق کلے مین نے بتایا ہے کہ وہائٹ ہائوس کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایسی تقاریب جن میں دنیا کے مہنگے ترین فنکار اسٹیو ونڈر جیسے لوگوں کو مدعو کیاجاتا رہاتھا، کے اخراجات کا ریکارڈ جنرل سروسز ایڈمنسٹریشن سے طلب کرلیاگیاہے۔اس ریکارڈ کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایاجائے گا کہ امریکی ٹیکس دہندگان سے جمع ہونے والی کتنی رقم ناجائز طورپر بلامقصد تقریبات پر اڑائی گئی ۔
کلے مین کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ سابق صدر بارک اوباما اور ان کی اہلیہ مشعل اوباما تقریباً ہر رات ہی اپنے دوستوں اور اپنے حمایتیوں کے ساتھ اس طرح کی پرتعیش تقریبات کا انعقاد کرتے تھے۔کلے مین کے مطابق اس طرح کی تقریبات سے امریکی عوام کو غلط پیغام جاتاتھا اور امریکی عوام کو یہ دکھ ہوتاتھا کہ ان کی خون پسینے کی کمائی اس طرح کی بے مقصد پارٹیوں پر اڑائی اور لٹائی جارہی ہے۔کلے مین کاکہنا ہے کہ ایک طرف سابق صدر اوباما اور ان کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن پرتعیش پارٹیوں پر سرکاری خزانہ اڑا رہے تھے اور دوسری جانب امریکی عوام کو مختلف معاملات میں مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑرہاتھا۔
کلے مین کاکہناہے کہ ایک ایسے وقت جب امریکی عوام بیروزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے مشکلات اور مسائل کا شکار تھے اور ان کیلئے زندگی گزارنا مشکل ہورہاتھا سرکاری خزانے کو اس طرح لٹانا ـ’’روم جل رہاتھا اور (نیرو) بادشاہ بانسری بجارہاتھا‘‘ یا کسی کی موت پر رنگ ونور سے آراستہ محفل کا انعقاد کرنے کے مترادف ہے۔ اس پر گرفت کیاجانا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات کے اعادے کی راہ روکی جاسکے۔نیوز اینڈکمنٹری ویب سائٹ پولیٹیکو کے مطابق صدر اوباما کی جانب سے منعقد کی جانے والی ایسی بیشتر پارٹیوں کانہ کوئی سیاسی پس منظر ہوتاتھا اور نہ ہی ان کا تعلق سرکاری میٹنگوں سے ہوتاتھا۔ یہ صرف پارٹی کے نام پر پارٹی ہوتی تھیں۔
رپورٹ میں لکھاگیا ہے کہ سابق صدر بارک اوباما اور اپنے وقت کی خاتون اول مشعل اوبامانے دنیا کی اس مشہور ترین سرکاری رہائش گاہ کے چپے چپے کو اپنے دوستوں کادل خوش کرنے اور اپنے مخالفین پر رعب جمانے کیلئے استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق انھوں نے اپنے مقصد کی تکمیل کیلئے سرکاری خزانے کو بیدریغ استعمال کیا۔رپورٹ کے مطابق وہائٹ ہائوس میں منتقل ہونے کے فوری بعد سابق صدر اوباما اور ان کی اہلیہ نے کم وبیش نصف درجن پرتعیش کاک ٹیل پارٹیوں کااہتمام کیا جس میں ان کی پارٹی کے عہدیدار وں اور پارٹی کے سپورٹرز کو بڑی تعداد میں مدعو کیاجاتاتھا اور یہ پارٹیاں شام ڈھلے شروع ہوکر نصب شب کے بعد تک جاری رہتی تھیں۔اقتدار سے سبکدوش ہونے سے کچھ قبل ہی انھوںنے ڈیموکریٹ پارٹی کے اہم اور بااثر رہنمائوں کے اعزاز میں ایک اوپن ہائوس پارٹی کا اہتمام کیا تھا جس میں ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے اہم رہنمائوں کے علاوہ بڑی تعداد میں اوباما اور مشعل کے دوستوں کو مدعو کیاگیاتھا۔وہائٹ ہائوس کے ایک معاون کا کہناتھا کہ بارک اوباما اور ان کی اہلیہ نے ہر بدھ کو کاک ٹیل پارٹی کو وہائٹ ہائوس کی ایک روایت بنادیاتھا۔
رپورٹ میں وہائٹ ہائوس کے سوشل سیکریٹری ڈیزائر راجرز کے حوالے سے کہاگیاہے کہ اوباما وہائٹ ہائوس میں بھی شکاگو میں اپنی نجی رہائش گاہ جیسا ماحول بنانا چاہتے تھے ،اور وہ اقتدار کے آخری دنوں تک شکاگو کی سیر کرتے رہے ،سابق صدر اوباما کے ایک دوست کا کہناہے کہ یہ ناممکن تھا کہ شکاگو میں کوئی تقریب ہو اور بارک اوباما اس میں شرکت نہ کریں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ اپنی سرکاری حیثیت میں ایسا کرنے کے مجاز تھے اور کیا ان کو سرکاری فنڈز اس طرح استعمال کرنے اور پارٹیوں پر ضائع کرنے کا اختیار حاصل تھا؟اگر ایسا نہیں تھا تو ان کو اس کاحساب تو دیناہوگا۔
رپورٹ کے مطابق ڈی ڈی سی ایلنڈر ہولمز نارٹن نے اسی طرح کی ایک پارٹی کے بعد کہاتھا کہ اس پارٹی میں سیاست کی بات کرنے والے کتنے بیوقوف معلوم ہورہے تھے مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ یہ سمجھ ہی میں نہیں آرہاتھا کہ یہ کوئی سوشل اجتماع تھا یا سیاسی تقریب ۔
وہائٹ ہائوس کے ایک اندرونی ذریعہ نے بتایا کہ سابق صدر اوباما کی سوشل مصروفیات وہائٹ ہائوس آنے والی دیگر تمام شخصیات کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھیں اور ان مصروفیات پر اخراجات سرکاری خزانہ ہی برداشت کرتاتھا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سابق صدر اوباما کے غیر ضروری بلکہ پرتعیش اخراجات کے حوالے سے شروع کی جانے والی تحقیقات کاکیا نتیجہ نکلتاہے اور امریکی ایوان صدر اور وزارت خزانہ کے قانونی ماہرین سابق صدر کو سرکاری خزانے کے بیجا استعمال کے الزام میں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے میں کامیاب ہوں گے یا صدر کی حیثیت سے ان کے دور کے تمام اخراجات کو ان کو حاصل صوابدیدی اختیارات کی چھتری دے کر قالین تلے دبادیاجائے گا۔
عدل طباطباعی
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...