وجود

... loading ...

وجود

داعش کو کرۂ ارض سے ختم کردیں گے،ٹرمپ

جمعه 03 مارچ 2017 داعش کو کرۂ ارض سے ختم کردیں گے،ٹرمپ

امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ روز ارکان کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہ داعش کو کرہ ارض سے ختم کرکے دم لیں گے۔امیگریشن پر کنٹرول کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ملازمتوں کے مواقع میں اضافے، سیکورٹی اور ملک میں قانون کی پاسداری کی صورت حال کو بہتر بنا کر حقیقی معنوں میں امیگریشن کے مسئلے کی اصلاح ممکن ہے۔کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں انھوںنے نفرت پر مبنی جرائم کی شدید مذمت کی ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب امیدیں اپنی گرفت مضبوط کررہی ہیںجس سے اب امریکا کی عظمت کاایک نیا باب کھلنے جارہاہے۔انھوں نے یہودیوں کے قبرستان میں گزشتہ روز بعض عناصر کی جانب سے کی جانے والی توڑ پھوڑ اورکنیسا میں ہونے والے نفرت انگیز حملے جس میں ایک بھارتی شہری ہلاک ہوگیاتھا کے واقعے کی بھی مذمت کی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایک ایساملک ہے جو متفقہ طورپر نفرت اور برائیوں کی مذمت کرتاہے ، انھوںنے امریکا کی اصل روح کی تجدید کا بھی دعویٰ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے خطاب کرتے ہونے ٹرانس پیسیفک تجارتی معاہدے سے علیحدگی کے حوالے سے اپنے فیصلے کا بھی ذکرکیا اور اس کے ساتھ ہی امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے اپنے ارادے کا بھی اعادہ کیا۔انھوں نے کہا کہ امیگریشن سے متعلق سخت قوانین پر عملدرآمد سے ہی ہم امریکی باشندوں کو روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرسکیں گے اور ان کی اجرتوں میں اضافہ کرسکیں گے ۔اس طرح بیروزگاروں کو روزگار ملے گا اور حکومت کو سالانہ اربوں ڈالر کی بچت ہوگی ،اس طرح ہماری برادری یعنی امریکی عوام ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوسکیں گے۔
داعش کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے جب یہ کہا کہ ہم نام نہاد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ یعنی داعش کا پوری دنیا سے خاتمہ کردیں گے تو ارکان کانگریس نے پرجوش انداز میں تالیاں بجاکر ان کے اس عزم کا خیر مقدم کیا۔لیکن سب سے زیادہ تالیاں اس وقت بجیںاور ارکان کانگریس نے کھڑے ہوکر ان کی تعظیم کی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس امریکی کمانڈو کی بیوہ کو خراج تحسین پیش کیا جو یمن میں القاعدہ کے خلاف حالیہ امریکی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگیاتھا ۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے ارکان پر زور دیا کہ وہ سابق صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر کے پروگرام کا متبادل پروگرام پیش کریں ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر امریکا کی دوسری سب سے بڑی جماعت یعنی ڈیموکریٹس کو ملک کی بھلائی اور ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کی پیشکش کی لیکن جب ڈونلڈ ٹرمپ کے کسی جملے پر ری پبلکن ارکان کھڑے ہوکر تالیا ں بجارہے ہوتے تھے تو ڈیموکریٹ ارکان اپنی نشستوں پر بیٹھے رہتے تھے اور وہ تالیاں بجانے والوں کاساتھ نہیں دے رہے تھے۔
ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کانگریس میں داعش کا پوری دنیا سے صفایا کرنے کا دعویٰ کررہے تھے اور دوسری جانب افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل نکلسن کا کہناہے کہ داعش پہلے سے زیادہ مضبوط ہورہی ہے اور اب داعش نے ازبک اور پاکستانی طالبان کے ساتھ مل کر ایک غیر رسمی اتحاد بنالیاہے۔جنرل نکلسن کاکہناہے کہ ازبک افغان اور پاکستانی طالبان کا داعش کے ساتھ اتحاد امریکا کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔جنرل نکلسن نے اس خطرے اور داعش کے اس گٹھ جوڑ کا ذکر امریکا کے کومبیٹنگ ٹیرر ازم سینٹر میں امریکی فوجی ادارے کو دی گئی ایک بریفنگ نما انٹرویو میں کیا۔ جنرل نکلسن کا کہناتھا کہ داعش ایک شدت پسند تنظیم ہے جو طالبان کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے اور طالبان حقانی نیٹ ورک ،لشکر طیبہ اور القاعدہ فی البرصغیر کی بھی مدد کرتے ہیں۔ ان پانچ تنظیموں کاایک غیر رسمی اتحاد ہے اور ضرورت کے وقت یہ ایک دوسری کی ہر طرح مالی اور فوجی مدد کرتے ہیں۔جو امریکا کے لئے تشویشناک بات ہے۔ انھوںنے اس بات پربھی زور دیا کہ داعش اور القاعدہ کے مقاصد کسی ایک ملک تک محدود نہیں ہیں، بلکہ ان کابنیادی مقصد امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کونشانہ بنانا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کو ہم نے بھی سرفرہست رکھاہواہے۔دیگر انتہا تنظیموں پر بھی ہمیں تشویش ہے لیکن یہ تنظیمیں خاص خطے تک محدود ہیں، مثال کے طورپر القاعدہ برصغیر کی کارروائیوں کا محور اسی خطے تک محدود ہے ،بہت سی تنظیمیں صرف پاکستان یا افغانستان میں کارروائیاں کرتی ہیں اور ان کی کارروائیاں ایک خاص علاقے تک محدود ہیں۔جبکہ جیش محمد اور لشکر طیبہ کے جنگجو افغانستان میں آکر بھی لڑتے ہیں۔جنرل نکلسن نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے 98 تنظیموں کو دہشت گرد قرار دیاہے ان میں سے 20 تنظیمیں پاکستان اور افغانستان میں موجود ہیں جبکہ ایسا دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ اور جنرل نکلسن کے ساتھ ہی افغانستان کے صدر اشرف غنی نے بھی دہشت گردی کو اس عہد کاایک چیلنج قرار دیتے ہوئے اس چیلنج کامقابلہ کرنے کیلئے ایک پوری نسل کی جانب سے عزم وہمت کی ضرورت کااظہار کیاہے۔جرمنی کے شہرمیونخ میں سیکورٹی کے حوالے سے ہونے والی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اشرف غنی نے کہا کہ ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں نظم وضبط کو نئے معنی پہنائے جارہے ہیںاور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اسے سود مند ،پریشان کن یا تباہ کن بناتے ہیں۔انھوں نے اس موقع پرپاکستان کی جانب سے افغان سرحد کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملوں کا بھی ذکر کیا اورکہا کہ اس سے ثابت ہوتاہے کہ دہشت گرد اچھا یابرا نہیں ہوتا اس میں کوئی تمیز نہیں برتی جانی چاہئے۔جب تک یہ تفریق اور تقسیم کی جاتی رہے گی ہم مرتے رہیں گے اور ہارتے رہیں گے ۔
اشرف غنی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں جاری جنگ اور تخریبی کارروائیاں خانہ جنگی نہیں ہے بلکہ یہ منشیات فروشوں کی جنگ ہے یہ دہشت گردوں کی جنگ ہے اور یہ ریاستوں کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ ہے۔انھوں نے یقین ظاہر کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف اس جنگ میں ہم کامیاب ہوں گے اور ہمیں اس میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی کیونکہ ہماری نئی نسل کی زندگی اور خوشحالی کا انحصار اس جنگ میں فتح کے حصول پر ہی ہے۔
امریکا کے نائب صدر مائیک پینس نے اس موقع پریورپی ممالک کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے موقف سے قطعی برعکس موقف اختیار کرتے ہوئے اعلان کیا کہ امریکا اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا تاہم اس کے ساتھ ہی انھوں نے نیٹو کے اخراجات کے حوالے سے یورپی ممالک کو ان کی ذمہ داریوں کااحسا س دلاتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک مشترکہ دفاع کا پوراخرچ برداشت نہیں کررہے ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ، افغانستان کے صدر اشرف غنی اور امریکی جنرل نکلسن کے بیانات سے واضح ہوتاہے کہ داعش اور القاعدہ کے خطرات نے ان کو بری طرح جکڑ رکھاہے اور امریکا کسی بھی قیمت پر داعش سے چھٹکارا پانے کا خواہاں ہے، جبکہ افغان صدر نے داعش اور القاعدہ کے وجود سے ہی انکار کرتے ہوئے افغانستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو منشیات فروشوں کی جنگ قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کااظہار کیاہے ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس پورے خطے میں افغانستان ہی وہ جگہ ہے جو دہشت گردوں کی نرسری کاکردار ادا کررہاہے دہشت گردوں نے افغانستان میں اپنا وسیع نیٹ ورک اور تربیت گاہیں قائم کررکھی ہیں جہاں سے تربیت حاصل کرنے والے دہشت گرد نہ صرف یہ کہ افغانستان میں امن کو تہہ وبالا کررہے ہیں بلکہ پاکستان میں کارروائیاں کرکے پاکستانی عوام کا جینا دوبھر کئے ہوئے ہیں امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک کو اس حقیقت کاادراک کرتے ہوئے افغان حکمرانوں کو حقائق سے آنکھیں چرانے کی روش ترک کرکے حقائق کا ادراک کرنے کی تلقین کرنی چاہئے اور اس صورت حال کے تدارک کیلئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا مشورہ دینا چاہئے تاکہ ان دونوں پڑوسی ممالک میں حقیقی معنوں میں امن وسکون قائم ہوسکے اوردونوں ملکوں کے عوام بے فکری اور احساس تحفظ کے ساتھ اپنی معاشی سرگرمیوں پر توجہ دے سکیں۔
امید کی جاتی ہے کہ امریکا اور دیگر یورپی ممالک افغان حکمرانوں کو بے سروپا تصورات کے پیچھے چلنے اورپاکستان سے بلاوجہ کی مخاصمت کاسلسلہ ترک کرکے پاکستان کے ساتھ مل کر مسائل پر قابو پانے کی کوششیں کرنے کی ضرورت کاقائل کرنے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر