وجود

... loading ...

وجود

دو معروف خواتین کا عاشق پولیس افسر پر جھگڑا، طبقہ اشرافیہ بے قابو!

جمعرات 16 فروری 2017 دو معروف خواتین کا عاشق پولیس افسر پر جھگڑا، طبقہ اشرافیہ بے قابو!

کہتے ہیں کہ خون اور کستوری چھپائے نہیں جاسکتے اسی طرح عشق ومشک بھی چھپائے نہیں چھپتے۔ پچھلے دنوں اچانک ایک ایف آئی آر نے دو خواتین کو اس طرح ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کردیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اس لڑائی سے لطف اندوز ہونے لگا۔ہوا کچھ یوں کہ کراچی کے ایک علاقہ شانتی نگر میں ایک خاتون صنم عباسی کے گھر ڈکیتی کی واردات ہوئی انہوں نے کچھ لڑکوں کو پہچان لیا۔ ایف آئی آر درج ہوئی، ایک ملزم گرفتار اور دو ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مگر پھر ایک گلوکارہ صنم ماروی نے سوشل میڈیا میں آکر بیان دیا کہ یہ ڈکیتی صنم عباسی نامی ایک خاتون کے گھر ہوئی ہے لیکن معروف سماجی رہنما شیریں اعجاز نے اس کو ذاتی دشمنی کا رنگ دیتے ہوئے خبریں چلائی ہیں کہ یہ ڈکیتی صنم ماروی کے گھر میں ہوئی ہے۔ صنم ماروی نے 15منٹ کے وڈیوبیان میں شیریں اعجاز کو مخاطب ہوکر کہا کہ وہ پیٹھ پیچھے وار نہ کریں، لڑائی کرنی ہے تو کھل کر سامنے آجائیں۔
صنم ماروی کے اس ویڈیو بیان پر شیریں اعجاز نے بھی وضاحت کی کہ انہوں نے یہ بیانات نہیں چلوائے اور وہ خود بھی چاہتی ہیں کہ صنم ماروی کھل کر سامنے لڑیں۔ دونوں معروف خواتین کون ہیں؟ صنم ماروی کے خاندان کا تعلق گانے بجانے سے ہیں ،جب ارباب غلام رحیم سندھ کے وزیراعلیٰ تھے تو ان کے ذاتی دوست آفتاب احمد پھرڑو سے صنم ماروی کا عشق ہوا ،اس دوران میں حیدرآباد کے ایک صحافی ناز سہتو کا بھی صنم ماروی سے عشق ہوا لیکن صحافی اتنا امیر نہ تھا، آفتاب پھرڑو زمیندار تھا وزیراعلیٰ کا دوست تھا۔ لہذا صنم ماروی نے ناز سہتو کے مقابلے میں آفتاب بھرڑو کا انتخاب کیا اور اس سے شادی رچالی اور پھر جب ارباب رحیم کا اقتدار چلاگیا تو آفتاب بھرڑو سے صنم ماروی نے منہ موڑ لیا۔ اس وقت ان کے یہاں ایک بچی کی ولادت بھی ہوچکی تھی لیکن بچی کے معصوم ذہن کی پروانہ کرتے ہوئے اُس نے زندگی کے سفر کو جاری رکھا۔ اور ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والے حامد علی نامی شخص کے ساتھ معاملاتِ حیات کو اٹکا لیا۔اس دوران میں آفتاب بھڑو نے مزید ایک سال تک صبر کے ساتھ اپنی بیوی کو منانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ لیکن صنم ماروی واپس نہ آئیں اور خلع بھی نہ لیا ۔ یہاں تک کہ ایک دن آفتاب بھڑرو کو جوہر موڑ کراچی کے قریب پراسرار طور پر گولیاں مار کر قتل کردیاگیا۔ بعد میں اس حوالے سے ایک جرگہ ہوا جس میں صنم ماروی نے آفتاب بھڑرو کے والد کو چار لاکھ روپے دے کر اپنی جان چھڑالی۔ اور حامد علی کی باقاعدہ زوجیت میں رہنے لگیں۔لیکن ایک دن حامد علی کروڑوں روپے لے کر اڑن چھو ہوگیا اور صنم ماروی کو لاہور کا رخ کرنا پڑا جہاں یوسف عبداللہ اُن کے منتظر تھے۔یہیں وہ موسیقی کی محفلوں میں شریک ہوتی رہیں۔
شیریں اعجاز اصل میں ضلع جامشورو سے تعلق رکھتی ہیں وہ عورت فائونڈیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں سرگرم رہتی ہیں۔ خیر سے شیریں اعجاز نے بھی اپنا گروپ بنالیا ہے جو طبقۂ اشرافیہ کے ساتھ مخصوص محفلوں میں شرکت کرکے اس میں’’ نئی روح‘‘ پھونکتی ہیں۔ انہوں نے بھی ایک صحافی کے ساتھ معاشقہ کیا جو فطری طور پر بدنامی پر ہی ختم ہوا ۔پھر سوشل میڈیا میں ناکام معاشقے کی کہانیاں بھی سامنے آنے لگیں۔ لیکن اس کو کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس نے ایک طاقتور سیکریٹری سے مراسم بڑھائے اس سیکریٹری کی سابق صدر سے رشتہ داری بھی ہے۔ یوں وہ اونچی اڑان اڑنے لگیں۔ صنم ماروی کا دو تین برس سے سندھ پولیس کے ایک پولیس افسر ’’پیر صاحب‘‘ سے معاشقہ شروع ہوا۔ دونوں میں راز ونیاز بڑھنے لگے اور پھر معاملات آگے بڑھے۔ صنم ماروی خود کو خوش نصیب سمجھنے لگیں وہ ہر دوسرے تیسرے دن لاہور سے کراچی آکر پیر صاحب سے مل کرواپس چلی جاتیں۔ چھ ماہ قبل جب شیریں اعجاز کا ایک صحافی سے معاشقہ ختم ہوا تو عین ان ہی دنوں میں ان کا ٹکرائو اسی پولیس افسر ’’پیرصاحب‘‘ سے ہوگیا۔ پیر صاحب نے شیریں اعجاز کے لیے اپنی آنکھیں بچھادیں یوں پیرصاحب بیچارے دن میں پولیس کی ڈیوٹی کرتے اور شام کو صنم ماروی اور شیریں اعجاز کی خدمت میں گزارتے۔ جیسا کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ یوں کسی نہ کسی طرح دونوں کو پتہ چل گیا کہ وہ ایک ہی پیر صاحب کی ’’عقیدت مند‘‘ ہیںاور جس بارگاہ میں اپنی جبینِ عشق کو جھکاتی ہے وہ یکساں ہے تو صنم ماروی نے پیر صاحب پر دبائو ڈالا کہ وہ شیریں اعجاز کو چھوڑ دے۔ پھر شیریںاعجاز نے پیر صاحب پر دبائو ڈالا کہ وہ صنم ماروی کو چھوڑ دے مگر پیر صاحب نے دونوں کو نہیں چھوڑا۔ بالآخر صنم ماروی نے پیر صاحب سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور پھر صنم عباسی کے کیس کی آڑ میں جئے سندھ قومی محاذ کے رہنمائوں سے رابطہ کرلیا جیسے ہی شیریں اعجاز کو پتہ چلا کہ صنم ماروی جئے سندھ قومی محاذ کے پاس پہنچ گئی ہیں تو اُس نے فوری طور پر جئے سندھ قومی محاذ سے اپنے مراسم استوار کر لیے۔ اوران کے مردم شماری سے متعلق ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کرنے لگی۔ اس صورتحال میں صنم ماروی کو دوسری مرتبہ پیچھے ہٹنا پڑا۔
خیر اسی صحافی نے بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی طرح جئے سندھ قومی محاذ کے رہنمائوں سے رابطہ کرکے شیریں اعجاز کے خلاف ان کو بھڑکایا مگر ان کو ناکامی نصیب ہوئی۔ شیریں اعجاز آج بھی جئے سندھ قومی محاذ کی آنکھ کا تارا بنی ہوئی ہیں۔ یوں دو معروف خواتین نے ایک پولیس افسر پیر صاحب سے زیادہ قربت حاصل کرنے کے لیے اپنی ہی جگ ہنسائی کا سامان کیا۔ شاید ان کو پتہ ہے کہ ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘!!!اس پوری کہا نی کی اہم بات یہ ہے کہ طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے یہ کردار دراصل معمول کے لغو تعلقات تک خود کو محدود نہیں رکھتے بلکہ حسد ، رقابت، سبقت اور برتری کے جنون میں یہ کردار خود کو جرائم کی دنیا تک لے جاتے ہیں۔اس معاملے کی چھان بین میں بھی ایسے ہی شرمناک واقعات سامنے آتے ہیں جس میں ایک طرف خاندانی اقدار کا مرثیہ ملتا ہے تو دوسری طرف خواتین سے معمولی تعلقات کی کہانیاں ڈکیتی کی وارداتوں سے لے کر قتل وغارت گری کے ڈانڈے بھی رکھتی ہے۔ اس معاملے کی مزید چھان بین سے یہ بھی اندازا ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے جرائم کے حوالے سے اپنے منصبی کردار کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ملک میںجاری جرائم سے لے کر دہشت گردی کی وارداتوں کو دیکھنے کا یہ زاویہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر