وجود

... loading ...

وجود

دو معروف خواتین کا عاشق پولیس افسر پر جھگڑا، طبقہ اشرافیہ بے قابو!

جمعرات 16 فروری 2017 دو معروف خواتین کا عاشق پولیس افسر پر جھگڑا، طبقہ اشرافیہ بے قابو!

کہتے ہیں کہ خون اور کستوری چھپائے نہیں جاسکتے اسی طرح عشق ومشک بھی چھپائے نہیں چھپتے۔ پچھلے دنوں اچانک ایک ایف آئی آر نے دو خواتین کو اس طرح ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کردیا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا بھی اس لڑائی سے لطف اندوز ہونے لگا۔ہوا کچھ یوں کہ کراچی کے ایک علاقہ شانتی نگر میں ایک خاتون صنم عباسی کے گھر ڈکیتی کی واردات ہوئی انہوں نے کچھ لڑکوں کو پہچان لیا۔ ایف آئی آر درج ہوئی، ایک ملزم گرفتار اور دو ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مگر پھر ایک گلوکارہ صنم ماروی نے سوشل میڈیا میں آکر بیان دیا کہ یہ ڈکیتی صنم عباسی نامی ایک خاتون کے گھر ہوئی ہے لیکن معروف سماجی رہنما شیریں اعجاز نے اس کو ذاتی دشمنی کا رنگ دیتے ہوئے خبریں چلائی ہیں کہ یہ ڈکیتی صنم ماروی کے گھر میں ہوئی ہے۔ صنم ماروی نے 15منٹ کے وڈیوبیان میں شیریں اعجاز کو مخاطب ہوکر کہا کہ وہ پیٹھ پیچھے وار نہ کریں، لڑائی کرنی ہے تو کھل کر سامنے آجائیں۔
صنم ماروی کے اس ویڈیو بیان پر شیریں اعجاز نے بھی وضاحت کی کہ انہوں نے یہ بیانات نہیں چلوائے اور وہ خود بھی چاہتی ہیں کہ صنم ماروی کھل کر سامنے لڑیں۔ دونوں معروف خواتین کون ہیں؟ صنم ماروی کے خاندان کا تعلق گانے بجانے سے ہیں ،جب ارباب غلام رحیم سندھ کے وزیراعلیٰ تھے تو ان کے ذاتی دوست آفتاب احمد پھرڑو سے صنم ماروی کا عشق ہوا ،اس دوران میں حیدرآباد کے ایک صحافی ناز سہتو کا بھی صنم ماروی سے عشق ہوا لیکن صحافی اتنا امیر نہ تھا، آفتاب پھرڑو زمیندار تھا وزیراعلیٰ کا دوست تھا۔ لہذا صنم ماروی نے ناز سہتو کے مقابلے میں آفتاب بھرڑو کا انتخاب کیا اور اس سے شادی رچالی اور پھر جب ارباب رحیم کا اقتدار چلاگیا تو آفتاب بھرڑو سے صنم ماروی نے منہ موڑ لیا۔ اس وقت ان کے یہاں ایک بچی کی ولادت بھی ہوچکی تھی لیکن بچی کے معصوم ذہن کی پروانہ کرتے ہوئے اُس نے زندگی کے سفر کو جاری رکھا۔ اور ضلع جھنگ سے تعلق رکھنے والے حامد علی نامی شخص کے ساتھ معاملاتِ حیات کو اٹکا لیا۔اس دوران میں آفتاب بھڑو نے مزید ایک سال تک صبر کے ساتھ اپنی بیوی کو منانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ لیکن صنم ماروی واپس نہ آئیں اور خلع بھی نہ لیا ۔ یہاں تک کہ ایک دن آفتاب بھڑرو کو جوہر موڑ کراچی کے قریب پراسرار طور پر گولیاں مار کر قتل کردیاگیا۔ بعد میں اس حوالے سے ایک جرگہ ہوا جس میں صنم ماروی نے آفتاب بھڑرو کے والد کو چار لاکھ روپے دے کر اپنی جان چھڑالی۔ اور حامد علی کی باقاعدہ زوجیت میں رہنے لگیں۔لیکن ایک دن حامد علی کروڑوں روپے لے کر اڑن چھو ہوگیا اور صنم ماروی کو لاہور کا رخ کرنا پڑا جہاں یوسف عبداللہ اُن کے منتظر تھے۔یہیں وہ موسیقی کی محفلوں میں شریک ہوتی رہیں۔
شیریں اعجاز اصل میں ضلع جامشورو سے تعلق رکھتی ہیں وہ عورت فائونڈیشن اور انسانی حقوق کی تنظیموں میں سرگرم رہتی ہیں۔ خیر سے شیریں اعجاز نے بھی اپنا گروپ بنالیا ہے جو طبقۂ اشرافیہ کے ساتھ مخصوص محفلوں میں شرکت کرکے اس میں’’ نئی روح‘‘ پھونکتی ہیں۔ انہوں نے بھی ایک صحافی کے ساتھ معاشقہ کیا جو فطری طور پر بدنامی پر ہی ختم ہوا ۔پھر سوشل میڈیا میں ناکام معاشقے کی کہانیاں بھی سامنے آنے لگیں۔ لیکن اس کو کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ اس نے ایک طاقتور سیکریٹری سے مراسم بڑھائے اس سیکریٹری کی سابق صدر سے رشتہ داری بھی ہے۔ یوں وہ اونچی اڑان اڑنے لگیں۔ صنم ماروی کا دو تین برس سے سندھ پولیس کے ایک پولیس افسر ’’پیر صاحب‘‘ سے معاشقہ شروع ہوا۔ دونوں میں راز ونیاز بڑھنے لگے اور پھر معاملات آگے بڑھے۔ صنم ماروی خود کو خوش نصیب سمجھنے لگیں وہ ہر دوسرے تیسرے دن لاہور سے کراچی آکر پیر صاحب سے مل کرواپس چلی جاتیں۔ چھ ماہ قبل جب شیریں اعجاز کا ایک صحافی سے معاشقہ ختم ہوا تو عین ان ہی دنوں میں ان کا ٹکرائو اسی پولیس افسر ’’پیرصاحب‘‘ سے ہوگیا۔ پیر صاحب نے شیریں اعجاز کے لیے اپنی آنکھیں بچھادیں یوں پیرصاحب بیچارے دن میں پولیس کی ڈیوٹی کرتے اور شام کو صنم ماروی اور شیریں اعجاز کی خدمت میں گزارتے۔ جیسا کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ یوں کسی نہ کسی طرح دونوں کو پتہ چل گیا کہ وہ ایک ہی پیر صاحب کی ’’عقیدت مند‘‘ ہیںاور جس بارگاہ میں اپنی جبینِ عشق کو جھکاتی ہے وہ یکساں ہے تو صنم ماروی نے پیر صاحب پر دبائو ڈالا کہ وہ شیریں اعجاز کو چھوڑ دے۔ پھر شیریںاعجاز نے پیر صاحب پر دبائو ڈالا کہ وہ صنم ماروی کو چھوڑ دے مگر پیر صاحب نے دونوں کو نہیں چھوڑا۔ بالآخر صنم ماروی نے پیر صاحب سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور پھر صنم عباسی کے کیس کی آڑ میں جئے سندھ قومی محاذ کے رہنمائوں سے رابطہ کرلیا جیسے ہی شیریں اعجاز کو پتہ چلا کہ صنم ماروی جئے سندھ قومی محاذ کے پاس پہنچ گئی ہیں تو اُس نے فوری طور پر جئے سندھ قومی محاذ سے اپنے مراسم استوار کر لیے۔ اوران کے مردم شماری سے متعلق ہونے والے اجلاسوں میں شرکت کرنے لگی۔ اس صورتحال میں صنم ماروی کو دوسری مرتبہ پیچھے ہٹنا پڑا۔
خیر اسی صحافی نے بیگانے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی طرح جئے سندھ قومی محاذ کے رہنمائوں سے رابطہ کرکے شیریں اعجاز کے خلاف ان کو بھڑکایا مگر ان کو ناکامی نصیب ہوئی۔ شیریں اعجاز آج بھی جئے سندھ قومی محاذ کی آنکھ کا تارا بنی ہوئی ہیں۔ یوں دو معروف خواتین نے ایک پولیس افسر پیر صاحب سے زیادہ قربت حاصل کرنے کے لیے اپنی ہی جگ ہنسائی کا سامان کیا۔ شاید ان کو پتہ ہے کہ ’’بدنام جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘!!!اس پوری کہا نی کی اہم بات یہ ہے کہ طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے یہ کردار دراصل معمول کے لغو تعلقات تک خود کو محدود نہیں رکھتے بلکہ حسد ، رقابت، سبقت اور برتری کے جنون میں یہ کردار خود کو جرائم کی دنیا تک لے جاتے ہیں۔اس معاملے کی چھان بین میں بھی ایسے ہی شرمناک واقعات سامنے آتے ہیں جس میں ایک طرف خاندانی اقدار کا مرثیہ ملتا ہے تو دوسری طرف خواتین سے معمولی تعلقات کی کہانیاں ڈکیتی کی وارداتوں سے لے کر قتل وغارت گری کے ڈانڈے بھی رکھتی ہے۔ اس معاملے کی مزید چھان بین سے یہ بھی اندازا ہوتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے جرائم کے حوالے سے اپنے منصبی کردار کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ ملک میںجاری جرائم سے لے کر دہشت گردی کی وارداتوں کو دیکھنے کا یہ زاویہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔


متعلقہ خبریں


بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

چیئرمین پی ٹی آئی نے اعتماد سازی کیلئے بانی کی فیملی، کوٹ لکھپت جیل میں اسیر رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کردیں،بانی پی ٹی آئی کی فیملی جیل کے باہر متنازع گفتگو نہ کرنے پر راضی ہوگئی پارٹی بشریٰ بی بی کے ایشو کو لیکر کوئی متنازع پریس کانفرنس نہیں کرے گی، سوشل میڈیا پیغامات جاری ن...

بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئے کوششیں شروع ، بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی فیملی کو مذاکرات ،لچک کا مظاہرہ کرنے پرقائل کرلیا

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا وجود - هفته 18 اپریل 2026

عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دبائو کومودی سرکار نے سرتسلیم خم کرلیا بھارت کی خارجہ پالیسی واشنگٹن کے رحم وکرم پرہے، بھارتی چینلاین ڈی ٹی وی عوامی مفادات کو پسِ پشت ڈال کرامریکی دباؤ کیسامنے مودی سرکار نے سرتسلیم خم کردیا ہے۔ بھارتی چینل این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکہ ن...

امریکی دباؤ نے بھارتی عوام کونئی مصیبت میں دھکیل دیا

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں وجود - هفته 18 اپریل 2026

سندھ حکومت فسطائیت بند کرے، کراچی والے اپنا حق مانگتے رہیں گے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا، حافظ نعیم الرحمن امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکی دے ...

حق دو کراچی کے بینرزچھاپنے والوں کو دھمکیاں

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں وجود - هفته 18 اپریل 2026

رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذربائیجان کے صدر الہام علیئف، شامی صدر احمد الشرح سے ملاقاتیں کیں۔وزیر اعظم کی قطر ک...

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے وجود - هفته 18 اپریل 2026

وزیرِ اعظم کی انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شریک عالمی رہنمائوں سے غیر رسمی ملاقاتیں رجب طیب ایردوان ودیگر سے عالمی سطح اور خطے کی کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال وزیرِ اعظم شہبازشریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، میر قطر شیخ تمیم بن حمد آلثانی قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکائیف، آذر...

دورہ ترکیہ، شہبازشریف عالمی رہنمائوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار وجود - هفته 18 اپریل 2026

لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سیزفائر کی مدت کے دوران تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھلی رہے گی، ایرانی پورٹ اور میر ی ٹائم آرگنائزیشن کے طے کردہ راستوں سے گزرنا ہوگا، عباس عراقچی بحری ناکہ بندی پوری طاقت سے برقرار رہے گی، یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران سے ہمارا لین دین...

ایران کا آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ،تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال،ٹرمپ ایران کے شکر گزار

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران وجود - جمعه 17 اپریل 2026

مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے، کہیں اور نہیں ،ایران خطے میں بالادستی نہیں چاہتا خودمختاری کا تحفظ چاہتا ہے، پاکستان غیر جانبدار ثالث قرار،ایرانی سفیرکا خطاب ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں، امریکا پر نہیں۔ مذاکرات صرف پاکستان میں ہوں گے...

پاکستان پر بھروسہ ہے امریکا پر نہیں،ایران

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س وجود - جمعه 17 اپریل 2026

صدر ٹرمپ تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے پابندیوں سمیت دیگر اقدامات بدستور زیرِ غور ہیں، ڈپٹی چیف آف اسٹاف وائٹ ہائو س کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے کے خواہاں ہیں اور پرامن حل کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ تہران ک...

امریکا نے ایران پر نئی معاشی پابندیاں عائد کردیں،وائٹ ہائو س

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے وجود - جمعه 17 اپریل 2026

متعدد افراد زخمی،مودی کی پالیسیوں کیخلاف علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں شدید جھڑپیں، بھارتی فورسز کی 2گاڑیوں کو آگ لگادی ، فوجیوں کو یرغمال بنالیا مودی حکومت کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کیخلاف عوام میں شدید غم و غصہ،علیحدگی پسند تحریکیں عروج پر پہنچ گئیں۔ بھارت کے اپنے ...

منی پورمیں دوبارہ فسادات پھوٹ پڑے،عوام،سیکیورٹی فورسزآمنے سامنے

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی وجود - جمعه 17 اپریل 2026

موٹرسائیکل سوار ملزمان فرار ،واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس ٹیم تشکیل آئی جی کا نوٹس، ایڈشنل آئی جی کراچی سے واقعے کی فی الفور تفصیلی رپورٹ طلب کرلی (رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے منگھو پیر میں مدرسے والی نہر کے قریب ڈاکووں کی پولیس اہلکاروں پر ہونے والی ف...

منگھو پیرمیں ڈاکوئوں کی پولیس پر فائرنگ ،ایک اہلکارشہید، دوسرا زخمی

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 17 اپریل 2026

عدالت کی ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر کارروائی سول جج عباس شاہ نے وزیراعلیٰ کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اسلام آباد کی عدالت نے ریاستی اداروں پر الزامات لگانے کے کیس میں عدم حاضری پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ناقابل ضمانت وا...

سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید وجود - جمعه 17 اپریل 2026

امدادی کارروائیوں کے دوران اسرائیل نے حملہ کر کے 4طبی ورکرز کو قتل کر دیا بنت جبیل میں حزب اللہ، اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں ، میڈیارپورٹ جنگ بندی مذاکرات کے باوجود لبنان پراسرائیلی حملے جاری ہیں، لبنان میں 24 گھنٹوں میں مزید 43 شہری شہید کر دیئے گئے ۔غیرملکی میڈیارپ...

جنگ بندی مذاکرات کے دوران ،لبنان پراسرائیلی حملے جاری،43شہری شہید

مضامین
پاکستان ایک عظیم کردار وجود اتوار 19 اپریل 2026
پاکستان ایک عظیم کردار

بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن وجود اتوار 19 اپریل 2026
بھارت ہندو ریاست بننے کی طرف گامزن

آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔ وجود اتوار 19 اپریل 2026
آؤ !! انقلاب لائیں۔۔۔

مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری وجود اتوار 19 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کاوشیںاور پاکستان کی سفارتکاری

ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا ! وجود هفته 18 اپریل 2026
ٹرمپ کی جنگ نے امریکہ کو کمزور کر دیا !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر