وجود

... loading ...

وجود

سی پیک:حکومت صوبوں کی شکایات کے ازالے میں تاحال ناکام

جمعرات 16 فروری 2017 سی پیک:حکومت صوبوں کی شکایات کے ازالے میں تاحال ناکام

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ، ڈیولپمنٹ اینڈ ریفارمز کو بورڈ آف انویسٹمنٹ نے آگاہ کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے لیے مددگار 41 مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے، جہاں خصوصی معاشی زون قائم کیے جاسکتے ہیں۔قائمہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے عبدالمجید خان خانان خیل نے کہا کہ سی پیک سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم برآمداتی نوعیت کے کاروبار کی راہ ہموار کریں۔ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی اس حوالے سے مقامی سرمایہ کاروں کے لیے میسر مراعات کا جائزہ لینا چاہتی ہے کیونکہ ایسی افواہیں سامنے آتی رہی ہیں کہ مقامی سرمایہ کاروں کے لیے سی پیک میں خاص فوائد موجود نہیں۔عبدالمجید خان کے مطابق بورڈ آف انویسٹمنٹ اب تک کمیٹی کو 7 خصوصی معاشی زونز سے متعلق آگاہ کرچکی ہے۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے مطابق ان خصوصی معاشی زونز سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حاصل ہونے والے فوائد میں کوئی فرق نہیں۔علاوہ ازیں بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے ان خصوصی زونز میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سی پیک سے فوائد کے حصول کے لیے انڈسٹریل پارک کی تیاری کا پلان بھی ترتیب دیا گیا ہے۔
ناقدین کا خیال ہے کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سربراہ عبدالمجید خان کا یہ خیال بالکل درست ہے کہ سی پیک سے حقیقی معنوں میں فوائد اسی وقت حاصل ہوسکیں گے جب ہم اس کے ذریعے برآمداتی نوعیت کے کاروبار کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں،جبکہ اب تک سی پیک پرجو بھی کام ہواہے وہ بظاہر کاغذوں پر ہی نظر آرہاہے اور اس اہم منصوبے کے تحت کوئی ایسی صنعت قائم کرنے کے حوالے سے پیش رفت نہیں کی جاسکی جس میں تیار ہونے والی اشیا ہماری برآمدات میں اضافے کاسبب بن سکتی ہوں، یہی نہیں اس منصوبے کے تحت توانائی کا بھی کوئی ایسا منصوبہ اب تک سامنے نہیں آیا ہے جس کے ذریعے پاکستانی صنعت کاروں کو سستی بجلی ملنے کی امید ہوسکے، یہ درست ہے کہ سی پیک کے تحت توانائی کے شعبے کی ترقی کیلئے وافر رقم رکھی گئی ہے اور اس منصوبے کے تحت توانائی کے مجوزہ منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان اپنی بجلی کی ضروریات میں نہ صرف خود کفیل ہوجائے گا بلکہ اس کے پاس فاضل بجلی بھی موجود ہوگی لیکن اگر ان منصوبوں سے حاصل ہونے والی بجلی سستی نہ ہوئی توا س سے نہ تو ہماری صنعتوں کوکوئی فائدہ پہنچے گا اور نہ ہی برآمدات میں اضافے کا خواب پورا ہوسکے گا۔
دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں ابھی تک تمام صوبوں کو بھی اعتماد میں لینے سے گریز کیاگیا ہے جس کی وجہ سے صوبوں میں منصوبوں کے حوالے سے بد اعتمادی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہورہاہے جس کااظہارسینیٹ کمیٹی کی جانب سے سی پیک سے متعلق حکومتی برتائو پر عدم اطمینان کے اظہار سے ہوتاہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے ایک حالیہ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان نے پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کے حوالے سے حکومتی رویے پر کھل کر تحفظات کا اظہار کیا اور قائمہ کمیٹی کے چیئرمین محمد دائود خان اچکزئی تو اس موقع پر پھٹ پڑے۔ محمد دائود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ راہداری کے مغربی روٹ کی تکمیل نہ ہونے کے باوجود تجارتی قافلوں کی آمد کا آغاز ہوگیا۔جبکہ ہم نے جب کبھی مغربی روٹ پر جاری کام کے حوالے سے سوال کیا، یہی جواب سننے کو ملا کہ فنڈز اور کام کے لیے افرادی قوت کی کمی ہے۔
بلوچستان کے چیف سیکریٹری قائمہ کمیٹی کے اراکین کے سامنے اس سے قبل کے اجلاس میںیہ تسلیم کرچکے ہیںکہ وزیراعظم نواز شریف کی ہدایت پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں اراضی کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی کا اب تک ایک اجلاس بھی منعقد نہیں ہوا اور نہ ہی کسی علاقے کا قبضہ حاصل کیا جاسکا ہے۔ چیف سیکریٹری کے اس بیان پر قائمہ کمیٹی کے چیئرمین دائود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ مغربی روٹ صرف کاغذات کی حد تک محدود ہے اور حقائق اس سے بہت مختلف ہیں، جیسا کہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
داؤد خان اچکزئی نے اس منصوبے کیلئے افرادی قوت کی بھرتی کے طریقۂ کار پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ لوگوں کی بھرتی صوبے کے کوٹے کے بجائے نیشنل ہائی وے کی لمبائی کا فیصلہ کرتے ہوئے کرنی چاہیے، ورنہ چھوٹے صوبوں کے لوگوں میں احساسِ محرومی جنم لیتا ہے۔ان کامؤقف تھا کہ پارلیمانی کمیٹی وزارتِ خزانہ کو متعدد بار فنڈز جاری کرنے اور موٹر وے پولیس میں بھرتیوں کا عمل مکمل کرنے کی تجویز دے چکی ہے، یہاں تک کہ سینیٹ میں بھی اس رپورٹ کو پیش کیا جاچکا ہے تاہم اس میں کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ قائمہ کمیٹی کو اس سے قبل ایک اجلاس میں بتایا گیاتھا کہ صوبائی حکومتوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور فاٹا سیکریٹریٹ سے مشاورت کے بعد 41 مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے۔اجلاس کے شرکانے ان زونز میں مقامی افراد کی تربیت کے لیے تربیتی مراکز کھولنے کی بھی تجاویز دیں تاہم ابھی تک نہ تو ان مقامات کا باقاعدہ اعلان کیاگیاہے اور نہ کسی صوبے سے اس بارے میں مشاورت کی اطلاعات ہیں، ہم یہ نہیں کہتے کہ ارباب اختیار اس حوالے سے غلط بیانی کررہے ہیں، لیکن اس عمل کو خفیہ رکھنے کی یہ حکمت عملی صوبوں کے درمیان غلط فہمیوں کو جنم دے رہی ہے،وزیراعظم نواز شریف کو بذات خود اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے اور اس اہم منصوبے کو صوبوں اور وفاق کے درمیان تفاوت بڑھانے کا ذریعہ بننے سے روک کر اس منصوبے کو وفاق اور صوبوں کے درمیان اتحاد واتفاق کی زنجیر بنانے کو یقینی بناناچاہیے۔
ایک اور اطلاع کے مطابق پاکستان اور چین کے سینئر افسران نے سی پیک میں شامل توانائی سے متعلق منصوبوں کو زیادہ مؤثر اور کارآمد بنانے کیلئے بجلی تیار اور تقسیم کرنے والے اداروں کو بھی سی پیک کا حصہ بنانے پر غور شروع کردیا ،اس تجویز کے تحت توانائی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوس) اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی لمیٹڈ (این ٹی ڈی سی ایل) کو مستقبل میں پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے (سی پیک) کا حصہ بنایاجاسکتاہے۔اس حوالے سے ان دونوں کمپنیوں کی کارکردگی اور دیگر افعال سے متعلق معلومات سمیت آئندہ 5 سال میںان کمپنیوں کی زیر نگرانی مکمل ہونے والے میگا پراجیکٹس کی تفصیلات اسلام آباد میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں چین کے ساتھ شیئر کی جاچکی ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اب تک سوائے ایک منصوبے کے بجلی کی ٹرانسمیشن اور تقسیم سے متعلق کوئی بھی منصوبہ سی پیک کا حصہ نہیں بن سکاہے لہٰذا حکومت نے اس بات کی ضرورت محسوس کی کہ ان کمپنیوں کو سی پیک میں شامل کیا جائے۔سینئر افسر کے مطابق وزارت پانی و بجلی نے 2 ڈسکوس —لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی ‘لیسکو اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی ‘ایسکو کے اعلیٰ افسران اور این ٹی ڈی سی ایل کو اسلام آباد پہنچنے کی ہدایت کی تھی تاکہ وہ سی پیک کے ورکنگ گروپ کو اپنی کمپنیوں کے کردار، کام کی نوعیت اور مستقبل کے منصوبوں پر بریف کرسکیں، ان معلومات کے تبادلے کا مقصد چین کو بجلی کی تقسیم اور ترسیل کے نظام سے آگاہ کرنا تھا۔
خیال رہے کہ سی پیک کے تحت چین اب تک مٹیاری -لاہور ٹرانسمیشن لائن منصوبے کے لیے 2.1 ارب ڈالر کی فنڈنگ کا اعلان کرچکا ہے، 878 کلومیٹر طویل اور 660 کلو واٹ ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ لائن کا یہ منصوبہ مستقبل میں 4 ہزار میگاواٹ کی ترسیل کرے گا۔صحافیوں سے گفتگو میں حکام نے بتایا کہ لیسکو اور ایسکو کو ڈسکوس کی جانب سے سی پیک کے اجلاس میں شرکت کا موقع فراہم کیا گیا، ان اداروں کے سربراہوں نے اپنے5 سالہ ترقیاتی پلان کی تفصیلات بیان کیںجن میں ٹرانسمیشن گرڈز اور ٹرانسمیشن لائن کے متعدد نئے اور موجودہ منصوبے شامل تھے۔اسی طرح این ٹی ڈی سی ایل حکام نے ورکنگ گروپ کے ساتھ مستقبل میں 500 کلو واٹ اور 220 کلو واٹ کی ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشنز کے حوالے سے منصوبوں کی تفصیلات کا تبادلہ کیا۔حکام کے مطابق سی پیک کے کل تخمینے (54 ارب ڈالر) میں سے بڑا حصہ (35 ارب ڈالر سے زائد) توانائی کے شعبے کے لیے مختص کیا گیا ہے جبکہ توانائی کے شعبے کے لیے رکھی گئی اس رقم کو مزید مختص کیا جانا باقی ہے، یہی وجہ ہے حکومت کی جانب سے ڈسکوس اور این ٹی ڈی سی ایل کو سی پیک کے منصوبوں میں شامل کرنے کی درخواست کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ چین نے لائن لاسز اور صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈسکوس کی کارکردگی کاجائزہ لیاہے اور اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ سی پیک کے تحت آسان قرضے کی شکل میں ادا کیے گئے فنڈز ڈسکوس مقررہ ٹائم فریم میں واپس کرسکے گی یا نہیں۔حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ لیسکو اور ایسکو نے چین کے ساتھ اس اجلاس میں تقریباً 80 ارب روپے کے منصوبوں کی معلومات شیئر کیں اور اگر چین رضامند ہوجاتا ہے تو ڈسکوس کے لیے کل فنڈز کی تعداد 200 ارب روپے ہوجائے گی، جس میں لیسکو اور ایسکو کے لیے 80 ارب روپے بھی شامل ہیں۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر