وجود

... loading ...

وجود

انفارمیشن ٹیکنالوجی ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے کے لئے حکومت سندھ مصروف عمل ہے سکندر علی شورو

اتوار 12 فروری 2017 انفارمیشن ٹیکنالوجی ثمرات نچلی سطح تک پہنچانے کے لئے حکومت سندھ مصروف عمل ہے سکندر علی شورو

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سہولیات حکومتی سطح سے نچلی سطح تک پہنچانے کے لئے حکومت سندھ مصروف عمل ہے‘ صحت‘ تعلیم‘ تجارت‘ زراعت‘ کمیونیکیشن غرض کہ ہرشعبے کو جدید تکنیک سے ہم آہنگ کرنے اور ہر سطح پر ترقی کے لئے انفارمیشن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈپارٹمنٹ حکومت سندھ‘ صوبائی حکومت کے شانہ بشانہ ہے اور صوبے کی IT کے شعبہ میں تیز رفتار ترقی کی خواہاں ہے جس کے لئے متعدد پروجیکٹس مکمل اور کامیابی کے ساتھ جاری ہیں جبکہ صوبہ سندھ کو بین الصوبائی اور ملکی سطح سمیت بیرونی دنیا سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کئی عالمی معیار کے منصوبے زیر تکمیل‘ زیر غور ہیںاور انشاء اللہ قوی امید ہے کہ 2018 کے وسط تک صوبہ سندھ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار ممبر صوبائی اسمبلی وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے اسپیشل ایڈوائزر برائے انفارمیشن‘ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی حکومت سندھ ڈاکٹر سکندر علی شورو نے نمائندہ روزنامہ جرأت سے ایک خصوصی ملاقات میں کیا۔ انہوں نے انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ IT کی ضرورت ہر شعبہ میں نظر آتی ہے اور اس ضرورت میں روزافزوں اضافہ ہورہا ہے اور تعلیم‘ صحت‘ کاروبار سمیت ہر شعبے کی ترقی کے لئے IT کا فروغ صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے جس کے لئے خلوص و نیک نیتی سے حکومت سندھ کام کررہی ہے اور ہمارا ڈپارٹمنٹ اس پر سندھ دھرتی اور حب الوطنی کے جذبہ سے کاربند ہے کہ IT کو ہر شعبہ میں تیز رفتاری سے فروغ دیں‘ رائج کریں اور عالمی معیار سے ہم آہنگ کرسکیں اس ضمن میں سب سے پہلے بائیو میٹرک سسٹم کے رائج ہونے سے سندھ سیکریٹریٹ کے ملازمین سمیت تمام سرکاری شعبوں‘ اداروں کے ملازمین کی حاضری یقین و 100 فیصد بنانے میں کامیابی حاصل ہوئی کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام CM ہائوس میں رواں دواں ہے‘ آڈیو ویژول سسٹم کے ذریعے وزیر اعلیٰ سندھ‘ چیف سیکریٹریIG‘ مختلف شعبہ جاتی سیکریٹریز‘ کمشنر کراچی و دیگر ادارے منسلک ہیں اور براہ راست مشاورت‘ مشوروں سے مسائل اور ان کے حل میں معاونت ملی ہے۔
فیڈرل سطح پر تو IT پالیسی ہے لیکن سندھ میں رائج کرنے کے لئے بورڈ قائم کیا گیا ہے اور اس آئی ٹی بورڈ میں 8 ممبران پرائیویٹ اور سرکاری سطح پر ہیں جو جلد اپنی تجاویز پیش کرینگے۔
Emangmant کے ذریعے 42 حکومتی شعبوں کو one linked سسٹم میں لارہے ہیں جبکہ IT کے حوالے سے سندھ میں سب سے بڑا پروجیکٹ ’’سیف سٹی‘‘ ہے جو ڈسٹرکٹ ملیر میں 200 ایکڑ رقبے پر تعمیر کیا جارہا ہے اور اس کی ابھی سے کامیابی یہ ہے کہ چین نے اس میں شمولیت‘ سرمایہ کاری کے لئے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے جبکہ ای مینجمنٹ کے ذریعے فائلوں کے ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک کے سفر کو ختم کرنے اور فوری عملدرآمد کے لئے پیپر لیس سسٹم کا آغاز کرچکے ہیں جو جلد پورے صوبے میں نافذ العمل ہوگا جبکہ اس سے بچت میں بھی مدد ملے گی۔
ڈاکٹر سکندر شورو نے مزید بتایا کہ صوبہ سندھ اور بالخصوص کراچی کی عوام کی سہولت کیلئے نادرا، اور مزید وسعت کے ساتھ صحت، ایریگیشن، ایجوکیشن، لائیو اسٹاک، ڈومیسائل، PRC و دیگر مسائل کے حل کیلئے انہیں ایک سسٹم میں لاکر کمپیوٹرائزڈ کرنے پر غور و خوص جاری ہے اور اس پر بھی جلد عملدرآمد ہوگا جبکہ اسمارٹ سٹی، (Geographic Inf System) GIS، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹیز کا قیام، ون ونڈو آپریشن سسٹم، ٹریننگ سیشنز کے پروگرام جو کہ مزید وسعت کے ساتھ ہمارے پرپوزلز میں شامل ہیں اور بتدریج ان پر عملدرآمد بھی جاری ہے اسی طرح ہمارا اسکول پروگرام ہے کہ ہر اسکول میں 100 طلبہ پر ایک لیب بنائی جائے اس طرح طلبہ کی ایک اچھی تعداد IT ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوسکے گی۔
ایک سوال کے جواب میں ایڈوائزر IT نے بتایا کہ مین پاور کی کمی نہیں ہے IT کے شعبوں میں ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹر ان خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ ادارے کے ملازمین کو بھی ہم آہنگ کرتے ہوئے ان سے کام لیا جارہا ہے جبکہ ڈسٹرکٹ سے ڈویژن سطح تک جانا چاہتے ہیں ضرورت پڑنے پر ہائی IT کنسلٹنٹ بھی ہائر کئے جاتے ہیں اس ضمن میں بیرونی دنیا چائنا سمیت، برطانیہ، امریکہ سے بھی روابط ہیں۔
ماضی کے پروجیکٹس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت نے ان عوامی فلاح کے منصوبوں کو جاری رکھا ہے جس میںارفع کریم ٹریننگ سینٹر طرز پر ٹریننگ سیشنز، سول و سرکاری اسپتالوں میں این ایم آئی سسٹم، بائیو میٹرک سسٹم، کمانڈ اینڈ کنٹرول و دیگر جدید تکنیک کے جاری و ساری ہیں۔
سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے سائبر پولیسنگ کو سپورٹ کررہے ہیں جو کہ کراچی میں جاری ہے اس کے لئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پنجاب کے دورے کے موقع پر CM پنجاب کی مدد سے وہ سوفٹ ویئر حاصل کرلیا ہے جس سے پولیسنگ کے نظام میں واضح بہتری عنقریب نظر آئے گی۔
حیدرآباد، سکھر، میرپور خاص سمیت صوبہ بھر میں مختلف اسکولوں، اداروں کی سطح پر IT پروجیکٹس کو فروغ دیا جارہا ہے جبکہ کراچی کے کالجز، یونیورسٹیز کے طلبہ و طالبات کی IT میں حوصلہ افزائی کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سطح پر بھی ان کی معاونت جاری ہے کہ یہی ہمارے ملک کا مستقبل اور اصل سرمایہ ہیں اور بنیاد جتنی اچھی ہوگی مستقبل بھی اتنا ہی اونچا، معیاری اور پائیدار ہوگا۔
سکندر علی شورو نے مزید بتای اکہ IT کے فوائد یہ ہیں کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر کراچی سمیت سندھ بھر کے نوجوانوں کو روزگار سے آراستہ کرنے کیلئے sindh.rozgaar.com متعارف کرائی گئی ہے جس سے روزانہ سینکڑوں تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوان استفادہ حاصل کررہے ہیں۔
ایڈوائز IT نے مزید بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے مختص محدود بجٹ کے باوجود شعبہ انفارمیشن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی بہتری کیلئے خدمات جاری وساری ہیں جبکہ بتدریج منصوبوں کی رقوم میں اضافہ کررہے ہیں دیگر پروجیکٹس کی طرح بلاول انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی کا جامشورو‘ کراچی‘ حیدر آباد کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
17 فروری سے کراچی ایکسپو میں کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقد کی جانے والی کراچی الیکٹرونکس‘ الیکٹریکل موبائل اینڈ ٹیلی کام فیئر ’’KEEMT2017‘‘ میں حکومت سندھ کی معاونت پرڈاکٹر سکندر علی شورو نے بتایا کہ حکومت سندھ KEDA کی اس نمائش میں 3 روزہ سمٹ منعقد کررہی ہے جہاں ملکی وغیر ملکی مندوبین‘ تجارتی وفود مقامی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے متعلق مہمانوں کو آگاہی فراہم کریگی وہیں مہمانوں کے خیالات و تجربات سے بھی آگاہی ہوگی اس سمٹ کا سب سے بڑا مقصد اور وژن اکیڈمک بنیادوںپر طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی ہے کہ موبائل‘ ٹیلی کام‘ کمیونیکیشن جیسے شعبوں میں روز بروز ہونے والی ایجادات ‘ٹیکنالوجی کو ان تک پہنچایا جاسکے جبکہ نمائش وسمٹ میں شرکت کرنے والے کالج یونیورسٹیز و پرائیویٹ سیکٹرز کے طلبہ کو بھی مدعو کیا گیا ہے جو اپنی ایجادات‘ تخلیقات کے ساتھ شریک ہونگے اور کامیاب طلبہ وطالبات ناصرف مقامی بلکہ غیر ملکی ریسرچ‘ تعمیراتی‘ ٹیکنیکل‘ مینو فیکچررز کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھائینگے جبکہ کامیاب ہونے پر اسناد وایوارڈز بھی حاصل کرسکیں گے اور نہ صرف کراچی‘ صوبہ سندھ بلکہ پاکستان کے مستقبل کیلئے یہ ایکسپو بہتر ثابت ہوگی اور اس سے پاکستان کے سافٹ اور پرامن ہونے کا پیغام بھی پوری دنیا کو ملے گا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ PPP کا ماضی نہایت شاندار ہے اور بی بی وشہید بھٹو شہید کے وژن اور بلاول بھٹو و آصف زرداری کے جذبے سے متاثر ہوکر 2008ء میں شمولیت اختیار کی 2 بار MPA منتخب ہوا ایڈیشنل اسپورٹس پارلیمانی سیکریٹری ودیگر شعبوں میں پارلیمانی ہیڈ کا اعزاز حاصل ہے۔ گریجویشن لمس (Lims) سے 2000 میں کیا MBBS کی ڈگری کے حامل ہیں اور عوامی خدمت کے جذبے سے الیکشن میں حصہ لیا اور جامشورو سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔

محمد طارق بشیر


متعلقہ خبریں


گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم وجود - بدھ 21 جنوری 2026

صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...

پختونخوا کو 800 ارب دیے ، ترقی نظر نہیں آتی، وزیراعظم

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل وجود - بدھ 21 جنوری 2026

داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...

مضبوط اورعوام دوست پولیس داخلی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،فیلڈ مارشل

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے وجود - بدھ 21 جنوری 2026

گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...

آگ گل پلازہ میں نہیں، ہرشہری کے دل میں لگی ہے

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 21 جنوری 2026

پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...

تحقیقات سے واضح ہوگا ذمہ داری کس پرعائد ہوتی ہے،شرجیل میمن

مضامین
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

بھارت میں ہجومی تشدد وجود بدھ 21 جنوری 2026
بھارت میں ہجومی تشدد

دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار وجود منگل 20 جنوری 2026
دہلی واشنگٹن تعلقات تناؤ کا شکار

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر