وجود

... loading ...

وجود

غاصب ریاست اسرائیل کی باچھیں کھل گئیں

منگل 24 جنوری 2017 غاصب ریاست اسرائیل کی باچھیں کھل گئیں

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا صدارتی منصب پر بیٹھتے ہی اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھانا شروع کردی ہیں اور اطلاعات کے مطابق صدارتی انتخابات کی مہم اورانتخابات میں کامیابی کے بعد سے عہدہ صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد تک ان کے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار ہے۔وائس آف امریکا کی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم ڈونلڈ ٹرمپ کے ہر ہر قدم کی بھرپور تائید وحمایت کررہے ہیں ، گزشتہ روز بھی نیتن یاہو نے شدت پسند اسلامی دہشت گردی کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کی بھرپور حمایت کااعلان کیا ،اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ میں اسرائیل کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی قریبی دوستی اور ساتھ ہی شدت پسند اسلامی دہشت گردی سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹنے کی خواہش کے اعلان کو سراہتا ہوں۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے یروشلم میں اپنی کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے آغازپر اسرائیل کے انتہائی اہم اتحادی، امریکا اور اْس کے نئے سربراہ ڈونالڈ ٹرمپ سے رابطہ کرکے بات چیت کرنے کے بعد یہ بات کہی۔وائس آف امریکا کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اوراسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے اتوار کو ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
بات چیت سے قبل، وائٹ ہائوس نے بتایا کہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے سے متعلق بات ابھی سوچ کے انتہائی ابتدائی درجے پر ہے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسا کرنے پر زور دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو نے اتوار کی علی الصبح کہا کہ ہم عہدہ سنبھالنے پر صدر ٹرمپ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔اْنھوں نے کہا کہ میں اسرائیل کے لیے اْن کی قریبی دوستی اور ساتھ ہی شدت پسند اسلامی دہشت گردی سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹنے کی خواہش کے اعلان کو سراہتا ہوں۔
نیتن یاہو کو ماضی میں اعتراض رہا ہے کہ وائٹ ہائوس کے اْن کے سابق حریف، صدر براک اوباما ”شدت پسند اسلامی دہشت گردی کی اصطلاح ادا کرنے سے انکار کرتے رہے تھے۔ اسرائیلی سربراہ حکومت سمجھتے ہیں کہ شدت پسند اسلام یہودی ریاست اور مغرب دونوں کے لیے یکساں طور پر خطرے کا باعث ہے۔ لیکن، اوباما فلسطین کے معاملے سے اسے علیحدہ کرنے کے خواہاں رہے، جسے وہ آزادی کی جائز جدوجہد قرار دیتے تھے۔ یہ کئی ایک معاملات میں سے ایک معاملہ تھا جس پر دونوں رہنمائوں کے درمیان نااتفاقی قائم رہی۔دوسرا معاملہ امریکا اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کا جوہری سمجھوتا تھا، جسے نیتن یاہو ایک تباہ کْن غلطی خیال کرتے ہیں، جو اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اْنھوں نے کہا کہ ایران کئی معاملوں میں سے ایک معاملہ ہے جو نئی انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کے ایجنڈے میں سرِ فہرست ہے۔
ادھر ایک اور اطلاع کے مطابق امریکی ایوانِ نمائندگان نے دونوں پارٹیوں کی جانب سے پیش کردہ ایک بِل منظور کیا ہے، جِس میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے خلاف ووٹ دئے جانے پر اقوام متحدہ پر تنقید کی گئی ہے، واضح رہے کہ سلامتی کونسل نے فلسطینی علاقے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے خلاف ووٹ دیا تھا۔جمعرات کودونوں پارٹیوں کے ارکان کی جانب سے مشترکہ طورپر پیش کردہ بِل کے حق میں 235 جب کہ مخالفت میں 188 ووٹ پڑے، لیکن اس قانون سازی پر عمل درآمد لازم نہیں۔بِل میں اسرائیل کے ساتھ حمایت کا اعلان کرتے ہوئے امریکا پر زور دیا گیا ہے کہ مستقبل میں اقوام متحدہ میں اس نوعیت کی قرارداد پیش ہونے کی صورت میں اْس کی مخالفت کی جائے، جو، بِل کے الفاظ میں، ’’یک طرفہ اور اسرائیل مخالف‘‘ عمل ہے۔اِس بِل کے مخالفین نے جن میں زیادہ تعداد ڈیموکریٹس کی تھی، نے کہا ہے کہ بِل مشرقِ وسطیٰ کے امن عمل کی پیچیدگیوں کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔گزشتہ ماہ تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے سالانہ ووٹ کے دوران امریکا غیر حاضر رہا، جس میں فلسطینی علاقے میں بستیوں کی تعمیر پر اسرائیل کی مذمت کی گئی تھی۔جبکہ ماضی میں، سلامتی کونسل کے مستقل رْکن کی حیثیت سے، امریکا اسرائیل کے حق میں ویٹو کا حق استعمال کرتا آیا ہے، جس کے باعث اس طرح کی قرارداد منظور نہیں ہوپاتی تھی۔
ادھراسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کے لیے تعمیرات بند کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور ہونے والی قرارداد پر خاصے برہم ہیں اور وہ یہ قرارداد پیش کرنے والوں میں شامل2 ممالک نیوزی لینڈ اور سینیگال سے اپنے سفیروںکو واپس طلب کر چکے ہیں۔بنجمن نیتن یاہو کے حکم پر ان دونوںملکوں کے سفیراسرائیل واپس آچکے ہیں تاہم ابھی تک ان کو واپس بلانے کی وجہ ان سے مشاورت بتائی گئی ہے۔یاد رہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیرات رکوانے سے متعلق رائے شماری کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس ان دو ممالک کے علاوہ وینزویلا اور ملائیشیا کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔مصر بھی اس کے حق میں تھا لیکن صدر عبدالفتاح السیسی اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد قاہرہ اس عمل سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔سلامتی کونسل میں یہ قرارداد منظور کر لی گئی اور روایتی طور پر اسرائیل کی حمایت کرنے والا ملک امریکا اجلاس سے غیر حاضر رہا۔اس قرارداد کی منظوری پراسرائیل کے وزیراعظم نے اپنے فوری ردعمل میں ایک بیان میں کہا تھاکہ ’’ان کا ملک اس شرمناک قرارداد کو مسترد کرتا ہے اور اس پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔‘‘
“وائٹ ہائوس کے نائب مشیر برائے قومی سلامتی بین روہڈز نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا، اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا ہے لیکن اسرائیل کی حکومت تواتر سے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر آبادکاری سے متعلق واشنگٹن کے تحفظات سے صرف نظر کرتی آرہی ہے۔”ہم نے ہر طرح سے کوشش کی لیکن اس کا ایک جیسا ہی نتیجہ نکلا کہ یہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔
“ادھر فلسطین کے اعلیٰ مصالحت کار صائب عریقات نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو سراہتے ہوئے اسے “فلسطین کے موقف کے لیے منصفانہ فتح قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ میں فلسطین کے سفیر ریاض منصور نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر ثابت قدم رہے اور کسی “منفی خطرے کی پروا نہ کرے۔”
فلسطینی سفیر کی جانب سے اس فیصلے پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کے باوجود اس بات کاامکان کم ہے کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے برسراقتدار آنے کے بعد اب اقوام متحدہ کے بہت سے ارکان کے لیے اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے ڈٹ جانا شاید ممکن نہ رہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اگلے ہی اجلاس میں اس کے متوازی تحریک منظور کیے جانے کے خدشات کو رد نہیں کیاجاسکتا تاہم اس حوالے سے اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی اس طرح آنکھ بند کرکے حمایت کے نتیجے میں امریکا کو پوری دنیا میں سبکی کاسامنا کرنا پڑے گا جس سے ایک بڑی عالمی طاقت کی حیثیت سے اس کی ساکھ بری طرح مجروح ہوگی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر