... loading ...
فرقہ واریت اور انتہا پسندی پاکستان کے لیے دہشت گردی سے بھی زیادہ خطرناک لعنتیں بن چکی ہیں، بغور دیکھا جائے تو فرقہ واریت بھی انتہا پسندی کی ہی ایک شکل ہے اور انتہا پسندی ہی دہشت گردی کو جنم دیتی ہے،اس بات کو اس طرح سمجھاجاسکتاہے کہ جب ایک مقرر 500 افراد کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کسی بھی مذہبی معاملے میں کسی ایک مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کو کافر یا واجب القتل قرار دیتاہے اور 500 کے اس اجتماع میں 5 افراد بھی اس کی دلیل سے مرعوب ہوجاتے ہیں تو دراصل یہی 5 افراد آگے چل کر دہشت گردی کی راہ اختیار کرنے والے بن سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ فرقہ واریت اور انتہا پسندی کو معاشرے کے لیے ایک ناسور تصور کیاجاتاہے ۔لیکن حکومت خاص طورپر ہماری وزارت داخلہ ملک کو اس لعنت سے نجات دلانے کے لیے کوئی ایسا قدم اٹھانے سے گریزاں ہیں جس کے ذریعہ انتہا پسندی اور فرقہ واریت کا پرچار کرنے والے مذہبی اسکالرز کو روکا جاسکے اور ایسا کرنے والوں کوقرار واقعی سزا دی جاسکے۔ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ حکومت کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ کون سے عناصر مذہبی لبادے میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں، کون لوگ ایک دوسرے کو کافر اورواجب القتل قرار دے کر لوگوں کے مذہبی عقائد سے کھیلنے کی کوشش کررہے ہیںاور کون لوگ اس آگ کو ایندھن فراہم کررہے ہیں، جس کا اندازہ مختلف مواقع پر مختلف علما کے مختلف علاقوں میں داخلوں پر پابندی کے اعلانات سے لگایاجاسکتاہے۔
یہ درست ہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی آئین اور حقوق انسانی کے اصولوں کے تحت ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی ہے، ہر شخص اپنی پسند کامذہب اختیار کرنے اور عقیدے پر کاربند رہنے میں آزادہے، لیکن اس آزادی کی آڑ میں کسی کو دوسرے کی آزادی میں خلل اندازی کرنے اور دوسروں کو کسی کی جان ومال کو نقصان پہنچانے کی ترغیب دینے کی دنیا کاکوئی بھی قانون اجازت نہیں دیتا۔یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ہر شخص کی سوچ کاالگ زاویہ ہوتاہے ہر شخص کو کسی کے بارے میں بھی کوئی بھی رائے رکھنے کاحق ہے لیکن اپنی اس رائے کو دوسرے پرمسلط کرنے یا اپنی اس رائے کا اس طرح اظہارجس سے دوسرے کی دلآزاری ہوکسی بھی طرح جائز قرار نہیں دی جاسکتی۔
اگر ہماری وزارت داخلہ وقتی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ ایک مرتبہ ہر مکتبہ فکر کے لیے یکساں کارروائی کے لیے تیار ہوجائے اور یہ واضح کردے کہ ملک میں کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کو دوسرے کے عقائد کے خلاف بولنے یا اپنے قول وعمل سے دوسروں کو تکلیف میں مبتلاکرنے کی کسی طوراجازت نہیں دی جائے گی، تو اس فتنے کو بڑی آسانی سے کچلاجاسکتاہے،لیکن جب تک کسی مخصوص مکتب فکر کے لوگوں کو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے نام پر ملک کی شاہراہوں کو بند کرنے، کسی جواز کے بغیر ملک کے کسی بھی علاقے میں ہونے والی دہشت گردی یا انتہا پسندی کے کسی واقعے کو بنیاد بنا کر شاہراہوں کو بند کرنے اور ان شاہراہوں سے گزر کر روزی کمانے کے لیے آنے جانے والوں کو پریشانی میں مبتلا کرنے کی اجازت دی جاتی رہے گی اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جائے گی اس وقت تک فرقہ واریت اورانتہا پسندی کی اس لعنت پر قابو پانا ممکن نہیں ہوسکتا۔
پاکستان میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کے زیاں کا جائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ جس پر ہمارے منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی کی بلاشرکت غیرے حکومت ہے،ترقی اور عوامی بہبود کے اعتبار سے دیگر تمام صوبوں سے آگے ہو یا نہ ہوفرقہ واریت اورانتہا پسندی کے واقعات میں سب سے آگے ہے، جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 2016 کے دوران پورے پاکستان میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے نتیجے میں ہونے والی مجموعی طورپر241 ہلاکتوں میں سے 79 ہلاکتیں پنجاب میں ہوئیں، انتہا پسندی کا سب سے زیادہ بڑا اور اندوہناک واقعہ مسیحی برادری کے ایسٹر کے تہوار کے موقع پر علامہ اقبال پارک لاہور میں پیش آیا،جو تخت لاہور کے حکمراں کی رہائش گاہ سے بہت زیادہ فاصلے پر نہیں ہے۔
انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے واقعات سے پاکستان کا کوئی صوبہ خالی نہیں ہے اور پورے پاکستان میں صرف اسلام آباد اور آزاد کشمیر ہی وہ واحد علاقے ہیں جو گزشتہ سال فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی واقعات سے محفوظ رہے۔
2016 کے دوران ہونے والے فرقہ وارانہ اور انتہا پسندی کے واقعات کاجائزہ لیاجائے تو اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کے جمع کردہ اعدادوشمار کی بنیاد پریہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ 2016 کے دوران پنجاب میں اس طرح کے 79 واقعات ہوئے جبکہ بلوچستان اس حوالے سے دوسرے نمبر پر رہا جہاں مجموعی طورپر ایسے 73 افسوسناک واقعات ہوئے جس میں نومبر 2016 میںخضدار کے قریب شاہ نورانی کے مزار پر زائرین کے اجتماع میں خود کش حملے کے نتیجے میں 62 معصوم افراد کی ہلاکت کاواقعہ شامل ہے،رپورٹ کے مطابق سندھ کانمبر تیسرا تھا اور سندھ میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے40 ، فاٹا میں 36 اور خیبر پختونخوا میں 13 واقعات ہوئے ، فرقہ واریت کی بنیاد پر ہلاکتوں میں شہرکے اعتبار سے کراچی ملک میں تیسرے نمبر رہا جہاں 2016 کے دوران مجموعی طورپر 38 افراد کواپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے ،فاٹا میں فرقہ واریت اور انتہا پسندی کی بنیاد پر ہونے والی تمام ہلاکتیں مہمند ایجنسی میں ہوئیں،اس رپورٹ سے یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ 2016 کے دوران فرقہ واریت کی بنیاد پر جان سے جانے والوں میںسنیوں اور صوفیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور مذہبی فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے نتیجے میں 2016 کے دوران ہونے والی مجموعی طورپر 241 ہلاکتوں میں سنیوں اور صوفیوں کی تعداد بالترتیب 62 اور48 رہی یعنی مجموعی طورپر 241 میں سے 111 سنی ان واراداتوں کانشانہ بنے، ان اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ فرقہ واریت اور انتہا پسندی نے کس حدتک اس پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے یہ واقعات حکومت اور خاص طورپر وزیر داخلہ کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہییں اور انھیں اس لعنت کو کچلنے کے لیے پوری قوت صرف کردینے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ، اگر ایسا نہ کیاگیا تو ملک میں دہشت گرد تیار ہوتے رہیں گے اور اس ملک میں پائیدار امن کاخواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکے گا۔
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...
سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...
واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...
پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...
حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...
خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...