وجود

... loading ...

وجود

عالمی نظام خوراک کی کارکردگی غیر تسلی بخش،’’اسمارٹ پالیسی ‘‘ ناگزیر

منگل 17 جنوری 2017 عالمی نظام خوراک کی کارکردگی غیر تسلی بخش،’’اسمارٹ پالیسی ‘‘ ناگزیر

عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) نے خبردارکیا ہے کہ 2030 تک انسانوں کی بلا تفریق ضروریات پوری کرنے کے لیے دنیا کے موجودہ خوراک کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔ڈیوس میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کی’عالمی خوراک کے مستقبل کی تشکیل‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ مستقبل میں عالمی خوراک کے تحفظ اور وسائل کی پیداوار کو درپیش خطرات کا منظرنامہ پیش کر رہی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ آبادی میں اضافے سے خوراک کی مانگ میں تبدیلی آئے گی، 2030 تک دنیا کی آبادی بڑھ کر8 ارب 50 کروڑ تک پہنچنے کی امید ہے، جب کہ اسی دورانیے میں متوسط طبقے کی تعداد ایک ارب 80 کروڑ سے 4 ارب 90 کروڑسے بڑھ جانے کی امید ہے۔رپورٹ میں تجزیہ کرتے ہوئے تجویز دی گئی ہے کہ خوراک کا نظام صحت مند اور پائیداراشیاء کی فراہمی کرنے کے قابل نہیں ہے اوریہ نظام مستقبل میں موجودہ صورتحال سے بھی کم خوراک کی تیاری کرے گا،اس لیے سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز(ایس ڈی جی ایس) کے اہداف حاصل کرنے کے لیے خوراک کے نظام میں سسٹیمیٹکل تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی، زراعت، خوراک اور مشروب کی پیداوار کرنے والی کمپنیوں کو خوراک کی تیاری کے لیے جدید طرز کے تحت خوراک کی تیاری کرنی پڑے گی۔رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ تمام حکومتوں کو خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ’اسمارٹ پالیسی‘ اختیارکرنا ہوں گی۔حکومتوں کو خوراک کے حقیقی تخمینوں کو مد نظر رکھ کرخوراک، زراعت، صحت مند غذا کی ماحولیاتی پالیسیوں کو اپناتے ہوئے جامع ٹیکنالوجی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں دلیل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کی امیر ترین ایک فی صد آبادی کے پاس باقی تمام آبادی سے بھی زائد دولت ہے، جب کہ اقتصادی عدم مساوات میں اضافہ سماجی ہم آہنگی کی کم رفتارکا سبب ہے۔رپورٹ کے مطابق 2 ارب سے زیادہ افراد ’مائیکرو نیوٹریشن‘ کی کمی کا شکار ہیں اور یہ کمی بیماریوں میں اضافے اور ترقی کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، دوسری جانب 2 ارب لوگ موٹاپے کا شکار تھے۔رپورٹ کیمطابق خوراک کا شعبہ دنیا کا 70 فیصد پانی کھینچ رہا ہے جب کہ زراعت، جنگلات اور زمینیں خارج ہونے والے گرین ہائوس کا چوتھا حصہ کھینچ لیتی ہیں، خوراک کے شعبے کی جانب سے گزشتہ 50 سال میں پانی کھینچنے میں 3 فیصد اضافہ ہوا، جب کہ 2030 تک اس میں مزید 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ میں زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کے دن بہ دن غیرمستحکم ہونے سے خوراک کے نظام میں لچک پیدا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ حکومتوں، کاروباری کمپنیوں اور دیگراداروں پر انحصار کرنا پڑے گا۔
جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو وزیراعظم نواز شریف نے انتخابات سے قبل بھی معاشی بہتری کو اپنی اولین ترجیح قراردینے کا عویٰ کیا تھا۔ انہوں نے ٹیکس نظام، معاشی استحکام ، دہشتگردی کی روک تھام اور امن وامان کو بھی ترجیحات میں شامل رکھا تھا۔ جبکہ اسی طرح کے دیگر اہم چیلنجز بھی ہیں جن میں غربت ایک اہم مسئلہ ہے جس کا ملکی معیشت سے بہت گہرا تعلق ہے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت نے شدید اور ہلاکت خیز بھوک کو جنم دیا ہے۔ گزشتہ برس ورلڈ بینک نے پاکستان میں بچوں میں خوراک کی شدید کمی سے خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ یہاں بچوں اور خواتین میں اہم وٹامن کی کمی کی شرح دنیا میں بلند ترین ہے۔ عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او ) نے پاکستان میں غذائی کمی کو عوامی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔خوراک اور غذا کی کمی بچوں اور خواتین کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور انہیں مختلف انفیکشن لاحق ہونے کے خطرات کو بڑھاتی ہے۔ یہ خطرہ پوشیدہ ہے، خاموش اور میڈیا کی نظروں سے ماورا ہے۔کیونکہ ان کے متاثرہ افراد غریب اور مفلوک الحال انسان ہوتے ہیں۔ ان کی آواز آگے تک نہیں پہنچ سکتی اور وہ اوجھل ہی رہتے ہیں۔ دوسری جانب حالیہ آفات، سیلاب اور دیگر حادثات سے لاتعداد افراد بے گھر ہوئے ہیں۔ پھر دہشتگردی نے صورتحال مزید خراب کردی اور اس کا نتیجہ شدید غذائی عدم تحفظ کی صورت میں برآمد ہوا ہے۔پورے پاکستان میں ساٹھ فیصد گھر یا خاندان ایسے ہیں جو غربت، وسائل یا کسی اور وجہ سے کھانے پینے کی معیاری اشیا تک رسائی نہیں رکھتے اور یوں مناسب خوراک سے محروم ہیں۔ ایسے گھرانوں یا افراد کو غذائی عدم تحفظ کا شکار یا food insecure کہا جاتا ہے۔ یعنی ساٹھ فیصد پاکستانیوں کو مناسب خوراک کی فراہمی نہیں ہوپاتی۔گزشتہ روز نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ( نسٹ) میں ہونے والی پاپولیشن ایسوسی ایشن آف پاکستان ( پی اے پی) کی ایک ریسرچ کانفرنس میں یہ سروے اور اس کی تفصیلات پیش کی گئیں۔سروے میں بتایا گیا کہ پاکستان میں بچوں میں اسٹنٹنگ ( عمر کے لحاظ سے چھوٹا قد) اور ویسٹنگ ( قد کے لحاظ سے کم وزن) اور خوراک کے دیگر چھوٹے چھوٹے اجزا ( مائیکرونیوٹرینٹ) کی شرح بہت کم ہے۔سروے میں 2001 اور 2011 میں خوراک اور غذائیت کی شرح کا موازنہ بھی کیا گیا۔سروے کے مطابق پاکستان میں 2011 میں 43.7 فیصد بچے عمر کیساتھ چھوٹے قد کے شکار ہیں جبکہ 2001 میں یہ تعداد41.6 فیصد پر تھی۔اس کے علاوہ ملک میں (پانچ سال سے کم عمر) بچوں کی 35 فیصد تعداد کا تعلق غذائیت کی کمی سے ہے جبکہ اگر یہ شرح صرف 15 فیصد سے اوپر ہوجائے تو اسے عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے تحت قومی ہنگامی حالت یا ایمرجنسی کہا جاتا ہے۔اس موقع پر پی اے پی کی صدر شہناز وزیر علی نے کہا پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی فوڈ سیکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ دوسری مشکل یہ ہے کہ 1998 کے بعد سے ملک میں مردم شماری نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ معلومات اور تحقیق تو موجود ہے لیکن پالیسی بنانے اور منصوبوں کے لیے ان سے مدد نہیں لی جاتی۔انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کی بجائے لوگوں پر توجہ ہونی چاہئے تاکہ سماجی اقدار، انسانی حقوق اور مرد وزن کی برابری جیسے اہم امور کو مدِ نظر رکھا جاسکے۔اس کے علاوہ ضروری ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں فیملی پلاننگ پر بھرپور اور منظم توجہ دیں۔وفاقی پذیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور اصلاحات، احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کے غیر تسلی بخش ترقیاتی اشاریے ( انڈیکیٹرز) پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ترقی کی دھیمی رفتار کو درست کرنا ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے مستقبل پر ایک آواز سے بات کرنا ہوگی۔
پی اے پی یقین رکھتی ہے کہ حکومت مجموعی قومی آمدنی ( جی ڈی پی) کا کم ازکم 6 فیصد حصہ صحت کے لیے مختص کرے۔ پاکستان میں 2011 میں کئے گئے نیشنل نیوٹریشن سروے نے ملک میں غربت کی صورتحال پر خطرے کی گھنٹیاں بجائی ہیں۔ اس بھرپور سروے میں ملک کے چاروں صوبوں میں 30,000 گھروں کا جائزہ لیا گیا تھا جن میں صرف پنجاب کی صورتحال تھوڑی بہتر تھی اور بلوچستان ، سندھ اور صوبہ خیبر پختونخوا شدید غذائی قلت کے حامل صوبوں میں شامل تھے۔مجموعی طور پر ملک کی 60 فیصد خواتین اور بچوں کو ناکافی خوراک کا سامنا ہے۔ امید سے ہونے کی حالت میں اور بچوں کودودھ پلانے والی خواتین کو خاص خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کی خوراک میں فولاد، پروٹین، آئیوڈین، وٹامن اے، اور دیگراشیا ضروری ہوتی ہے۔ خصوصاً مدتِ حمل میں خوراک میں اہم اجزا کی کمی سے پیدا ہونے والے بچے میں نقائص ہوسکتے ہیں اس کی جسمانی اور ذہنی نشونما پر فرق پڑ سکتا ہے۔نومولود اوربچوں میں خوراک اور غذائیت کی اہمیت کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ( پمز) کے پروفیسر محمود جمال نے کہا کہ پاکستان میں صحت کے بہت سے مسائل کا براہِ راست تعلق والدہ اور نومولود بچے کی خوراک سے ہوتا ہے۔ غربت کے مارے لوگوں میں خوراک کی کمی، صحت کی ناکافی سہولیات اور نامناست خاندانی منصوبہ بندی سے پاکستان اقوامِ متحدہ کے تحت وضع کردہ ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز ( ایم ڈی جی) کو حاصل نہیں کرپائے گا۔اگر خوراک کی کمی مسلسل رہے تو مسوڑھے سوج جاتے ہیں اور دانت گرنے لگتے ہیں، اعضا متاثر ہوتے ہیں اور دل کے امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ خصوصاً ابتدائی عمر میں خوراک کی کمی سے دماغی بڑھوتری نہیں ہوپاتی اور بچے کا آئی کیو بھی کم ہوسکتا ہے۔ پھر اس کے اثرات پوری زندگی رہتے ہیں اور بلوغت تک کا عرصہ متاثر رہتا ہے۔کھانے کی کمی سے اور دماغی امراض کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔پاکستان کی آبادی میں خوراک کی کمی کے خاتمے کے لیے کچھ کم خرچ اور بہتر طریقے بھی موجود ہیں۔ پاکستان خیرات دینے میں بہت سخی ہیں۔ ملک بھر میں ایک بڑی آبادی کو روزانہ مفت کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچن گارڈننگ، ماں کو دودھ پلانے کی ترغیب اور دیگر غذائیت سے بھرپور خوراک کے آپشن اپنی جگہ موجود ہیں۔ اس سلسلے میں میڈیا اپنا اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے ہی سہی لیکن اقدامات اْٹھائے جائیں تاکہ رفتہ رفتہ غذائیت کی کمی پر قابو پایا جاسکے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر