وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں نئی بھرتیاں،بلاول ہاوس میں خصوصی سیل قائم کردیا گیا

پیر 16 جنوری 2017 سندھ میں نئی بھرتیاں،بلاول ہاوس میں خصوصی سیل قائم کردیا گیا

رواں مالی سال کی بجٹ تقریر کرتے ہوئے اس وقت کے وزیر خزانہ اورموجودہ وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیاتھا کہ سندھ میں90ہزار810نئے ملازمین بھرتی کیے جائیںگے۔ اس میں25 ہزار ملازمین کا تعلق پولیس سے تھا۔ـجس میں سے اب تک 12 ہزار پولیس اہلکار بھرتی کرلیے گئے ہیں اب پولیس کے باقی 13ہزار اہلکار بھرتی ہوناباقی ہیں۔ مگردیگرمحکموں میں بھرتیوں سے قبل بلاول ہائوس نے نئی حکمت عملی طے کی ہے کہ اب یہ بھرتیاں پولیس کی طرح میرٹ پرنہیں کی جائیںگی۔ پولیس بھرتیوں سے قبل انورمجید نے آئی جی سندھ پولیس سے کہاکہ بھرتیوں کی فہرست میں دوں گا آپ صرف اس پردستخط کرکے ان کے آرڈر نکالیں گے مگر آئی جی سندھ پولیس نے ان کوصاف جواب دے دیا تھا۔عام طور پر پولیس اہلکاروں کی بھرتی پر پیسے کمانے کا چلن عام ہے۔ اس سے قبل پولیس میں فی اہلکار کی بھرتی پرپانچ لاکھ روپے مارکیٹ میں عام طور پر طلب کیے جاتے تھے۔ مگرآئی جی سندھ پولیس نے ایپکس کمیٹی سے پالیسی منظو رکرائی کہ پولیس کی بھرتیوں میں جوسلیکشن کمیٹی بنے گی اس میں ایک ایس ایس دی اورایک فوج کا میجر شامل ہوں گے اب یہ توممکن نہیں کہ فوج کے میجر کی موجودگی میں کسی کولسٹ دی جائے اوروہ انٹرویو میں آنے والوں کے بجائے لسٹ میں شامل افراد کوبھرتی کرلے جب سلیکشن کمیٹی نے میرٹ پر فیصلے کیے توغریبوں کے بچے محنت کشوں کے بچے ،یتیم بچے پولیس میں بھرتی ہوگئے اوریہ بات انورمجید یا بلاول ہائوس میں بیٹھے ہوئے ساہوکاروں کوگوارا نہ تھی، پھرکیاتھا آئی جی سندھ پولیس کوجبری چھٹی پربھیج دیاگیا اوربھلا ہوسندھ ہائی کورٹ کا جنہوں نے حکم امتناعی جاری کردیا اوراوپر سے وفاقی حکومت نے بھی آنکھیں دکھادیں تب جاکر حکومت سندھ کوزہر کا گھونٹ پی کرآئی جی کی چھٹیوں سے واپسی کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کرنا پڑا۔پھرایپکس کمیٹی کے فوجی افسران نے بھی آئی جی سندھ پولیس کی واپسی کے لیے دباؤ بڑھایا۔ تب حکومت سندھ کے پاس آئی جی سندھ کو بادل نخواستہ برداشت کرنے کے علاوہ کوئی راستا ہی نہ بچا تھا۔ آئی جی نے سیاسی جماعتوں کے لئے ایک سبق چھوڑا ہے کہ اگرنیت اچھی ہوتو ہرممکن کا م جلد ہوسکتاہے ۔1986ء سے لے کر 2016ء تک30سالوں میں کراچی میں میرٹ پرپولیس کی بھرتیاں نہیں ہوئی تھیں۔پی پی،ایم کیوایم ،مسلم لیگ نے اقتدار کے مزے لوٹے مگران کے ضمیر نے گوارا نہ کیا کہ کراچی میں پولیس کے اندر میرٹ پربھرتیاں کی جائیں اورآئی جی نے ساڑھے چارہزار افراد پولیس اہلکارکراچی میں میرٹ پربھرتی کرلیے جس کے بعدبلاول ہائوس اورنائن زیرو کے بڑے بڑوں کو چپ لگ گئی۔ اس تجربہ کے بعدانورمجید، بلاول ہائوس ،محترمہ فریال تالپر چوکس ہوگئے اوراب انہوں نے میرٹ کوداخل دفتر کرتے ہوئے نئی حکمت عملی بنالی ہے ۔
وزیر اعلیٰ سندھ سے کہاہے کہ وہ صرف ان افراد کونوکری دیں جس کی فہرست وہ فراہم کریں وزیراعلیٰ صرف پوسٹ آفس کا کام کریں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی ہاں میں ہاں ملادی ہے۔ اب نئی نوکریوں کے لئے 60 فیصد کوٹہ ایم پی ایز کو دیاجائے گا اور10 فیصد سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز کودیاجائے گا۔ باقی30فیصد بلاول بھٹو زرداری، آصف علی زرداری اورفریال تالپر ہی دیں گے۔ اوروزیراعلیٰ سندھ کوایم پی ایز کے کوٹہ کے ساتھ ساتھ وہ خالی پوسٹیں ملیں گی جوپروموشن کی وجہ سے خالی ہوں گیں۔ اس ضمن میں جوحکمت عملی طے کی گئی ہے اس کے تحت تین قسم کی کمیٹیاں بنادی گئی ہیں ایک کمیٹی ضلع سطح پرڈپٹی کمشنر ز کی سربراہی میں بنائی گئی ہیں۔ دوسری کمیٹی محکمہ کے سیکریٹری کی سربراہی میں بنائی گئی ہے اورتیسری کمیٹی سیکریٹری سروسز ایس اینڈ جی اے ڈی کی سربراہی میں بنائی گئی ہے اوران کوکہا گیا ہے کہ وہ صرف فرضی کمیٹیوں کے سربراہ ہیں وہ صرف ان ہی افراد کوملازمت دیں گے جن کی فہرست ان کووزیراعلیٰ ہائوس سے دی جائے گی۔ اس ضمن میں بلاول ہائوس کی سفارش پردس ملازمین پر مشتمل ایک سیل سی ایم ہائوس میں قائم کیاگیاہے جوبلاول ہائوس ،زرداری ہائوس کی جاری کردہ فہرست متعلقہ محکموں اور متعلقہ اضلاع کوفراہم کرے گا۔ اب تمام ایجنٹ بلاول ہائوس اورزرداری ہائوس نوابشاہ، کراچی میں پہنچ گئے ہیں اوروہ اب ملازمتوں کے امیدواروں سے ’’بات چیت‘‘ میں مصروف ہیں اوربے روزگار نوجوان ملازمتوں کے حصول کے لیے مذکورہ ایجنٹوںسے معاملات کرنے پرمجبور ہیں وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری افسران اورصوبائی وزراء کوآگاہ کردیاہے کہ نئی ملازمتوں کے حوالے سے نئی پالیسی کیاہے؟ اوران کوہدایت کی ہے کہ وہ اس پالیسی پر عمل کریں اس پالیسی کا مقصد 2018ء کے عام الیکشن سے قبل لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے اوراس کے ذریعہ عوام کے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کیے جاسکیں۔ صرف پولیس میں بھرتیاں میرٹ پر آئی جی سندھ پولیس کی طرف سے ثابت قدمی دکھانے کے باعث ممکن ہوسکی۔انہوں نے ثابت کردکھایا ہے کہ اگرحوصلہ اورنیت صاف ہوں تو بڑے سے بڑا کام بھی ہوسکتاہے کیا آئی جی سند ھ پولیس کی طرح صوبائی محکموں کے سیکریٹریز اورضلعی ڈپٹی کمشنر ایسی ہمت دکھا سکتے ہیں؟ یا پھروہ بھی وزیراعلیٰ سندھ کی طرح سرہلاکرہاں میں ہاں ملائیں گے؟


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر