وجود

... loading ...

وجود

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے من پسند چار کے ٹولے کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈیرہ

اتوار 15 جنوری 2017 وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے من پسند  چار کے ٹولے کا وزیراعلیٰ ہاؤس میں ڈیرہ

نام بڑے اور درشن چھوٹے کا محاورہ وزیرا علیٰ سندھ سید مراد علی شاہ پر پوری طرح صادق آتا ہے۔ وہ بظاہر کافی سرگرم نظر آتے ہیں اور خود کو صاف ستھرا ثابت کرنے پر بھی تُلے رہتے ہیں۔ مگر اُن کا عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بھی سابق وزرائے اعلیٰ کی طرح ہی اپنی سیاست اور ’’دیگر امور‘‘ انجا م دیتے ہیں جس کے لیے اُنہوں نے بھی ایک نجی ٹیم بنارکھی ہے جو’’ منفعت بخش کاموں‘‘ کی تلاش میں سرگرم رہتی ہے۔
انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق صوبائی وزارتوں کے لیے اس ٹیم نے جینا حرام کررکھا ہے ۔وزانہ کی بنیاد پر یہ ٹیم ان سے مختلف بہانوں سے مختلف معاملات طے یا تہہ کرتی نظر آتی ہیں۔ ’’جرأت‘‘ کی خصوصی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ مراد علی شاہ نے چار افراد پر مشتمل نجی ٹیم بنارکھی ہے جس میں سلیم باجاری‘ حاجن شاہ‘ سکندر راھپوٹو اور سابق الیکٹرک انسپکٹر اعجاز قاضی شامل ہیں۔ ان چاروں نے روزانہ کی بنیاد پر غیراعلانیہ طور پر شیڈول بنارکھا ہے کہ کس محکمہ کو کیا حکم دینا ہے؟ اور ان سے کیا معاملات طے کرنے ہیں؟کس کا تبادلہ کرانا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ بغیر حاصل وصول کے نہیں ہوتا۔ مگر ایسا پہلی مرتبہ سنا جارہا ہے کہ بعض لوگ پیٹرول کی پرچیاں اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ کی بھی بڑے پیمانے پر’’ مفت تلاش‘‘ میں رہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ کی اس انتہائی’’ مستعد اور کارآمد ‘‘ ٹیم کے ان چار افراد میں سے تین کا تعلق وزیراعلیٰ کے اپنے آبائی علاقہ سے ہے جبکہ اعجاز قاضی ان کے اپنے علاقے سے تونہیں لیکن وہ ان کے پرانے بااعتماد ساتھی ہیں۔ محکمہ توانائی اور محکمہ خزانہ کے علاوہ محکمہ آبپاشی میںاربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں میں بھی یہی چار کا ٹولہ ملوث بتایا جاتا ہے۔ نہ صرف صوبائی محکموں میں ان کے احکامات مانے جاتے ہیں جبکہ حیدرآباد ڈویژن خصوصاً ضلع جامشورو میں ان کی طوطی بولتی ہے۔ ایس ایس پی جامشورو اور ڈی سی جامشورو تو ان کے ذاتی ملازم کی طرح کام کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ وزیراعلیٰ ہائوس سے روزانہ سرکاری افسران کوان چاروں افراد کی جانب سے فون کیا جاتا ہے ان کو طلب کرکے مختلف کام بتائے جاتے ہیں ۔ سلیم باجاری محکمہ خوراک کاملازم ہے مگر وہ وزیراعلیٰ ہائوس میں سیاہ وسفید کا مالک بنا ہوا ہے ۔ اُن کا تعلق وزیراعلیٰ کے علاقے سے ہیں ۔ وہ وہاں اُن کے نجی ملازم کی طرح کام کرتے ہیں۔ سکندر راھیوٹو کاخاندان بھی عبداللہ شاہ سے لے کر اب تک ان کا وفادار رہا ہے۔ وہ ہر مشکل وقت میں عبداللہ شاہ اور مراد علی شاہ کا ساتھ دیتا رہاہے۔ پرویزمشرف کے دور میں اس خاندان نے صعوبتیں برداشت کیں اور عبداللہ کے بدلے وہ وزیراعلیٰ ہائوس میں ڈیرا جماکر بیٹھ گئے ہیں۔ ان کا ایک کزن محکمہ خوراک میں ڈائریکٹر ہے جس کے دور میں چار ارب روپے کی گندم حیدرآباد اور سکھر سے غائب کی گئی ہے جس کی انکوائری بھی دبالی گئی تھی۔ اطلاعات یہ ہیں کہ اب کہیں جاکر نیب نے اس میگا اسکینڈل کی چھان بین مکمل کی ہے۔
دوسرے کزن ایک الیکٹرک انسپکٹر ہیں جو آٹھ سال سے اس عہدے پر بیٹھے ہوئے ہیں جن کو تبدیل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ سید حاجن شاہ بھی وزیراعلیٰ کے قریبی رشتہ دار ہیں اور اس نے مراد علی شاہ کے وزیراعلیٰ بننے کے بعد وزیراعلیٰ ہائوس پر ایک طرح سے قبضہ جما لیا ہے۔ اُنہوں نے پولیس اور ریونیو افسران کے تبادلوں کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔اور ان کے احکامات ، وزیراعلیٰ کے احکامات سمجھے جاتے ہیں۔ چوتھا کردار اعجاز قاضی کا ہے جو ماضی میں انسپکٹر رہ چکے ہیں اب وہ ملازمت چھوڑچکے ہیں اُنہوں نے ہی محکمہ توانائی میں سولر پاور پلانٹ اور ونڈ انرجی پلانٹ میں اربوں روپے کی بے قاعدگیوں کا راستہ دکھایا۔ ان کا تعلق سکھر سے ہے لیکن وہ شاید تینوں افراد سلیم باجاری‘ سکندر راھیوٹو اور اور حاجن شاہ سے بھی طاقتور ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بے قاعدگیوں کے اس پورے کھیل میں تقریباً125ارب روپے سے زیادہ کی رقم کی ہیر پھیر ہوئی ہے۔شاید اسی لیے ان کو وزیراعلیٰ ہائوس میں سب سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے۔ ان سے ملنے کے لیے سیکریٹریز اور ڈی آئی جیز رابطے کرتے ہیں تو وہ ان سے کئی ماہ بعد ملتے ہیں ۔ وہ جب چاہیں کسی کا تبادلہ کرادیں اور جب چاہیں کسی کو ٹھیکے دلائیں یا کسی کو بڑی ادائیگی کرادیں۔
کوئی افسر اگر ان چاروں کے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا کرے یا پھر سست روی اختیار کرے تو اس افسر کو صرف ایک ہی فون چلاجاتا ہے کہ کیا تم کو نوکری کرنی ہے یا نہیں؟ اور پھر افسران کانپنے لگتے ہیں۔ اس طرح سرکاری افسران اپنی کارکردگی کے بارے میں وزیراعلیٰ کے بجائے ان چاروں افسران کو ہی بتاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں۔
کہ اگر چاروں افراد ان سے راضی ہیں تو سب کچھ ٹھیک ہے اور اگر وہ چاروں ناراض ہوجائیں تو ان کی پھر خیر نہیں ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ اگر خود اچھے اور صاف ستھرے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ اس کھیل سے خود کو الگ کریں ۔ کیا اُنہوں نے کبھی سوچا ہے کہ جب پرنسپل سیکرٹری‘ ڈی ایس اسٹاف‘ پرنسپل اسٹاف افسر (پی ایس او) پریس سیکریٹری اور دیگرمعاون افسران ہیں، تمام صوبائی محکمے فعال ہیں تو پھر ان چاروں کی کیا ضرورت ہے؟ مگر وہ خاموش ہیں تو اس کا مطلب واضح ہے کہ وزیراعلیٰ نے آنکھیں بند کرلی ہیں کہ پہلے وہ کرپشن کرلیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کرپشن تو سمندر ہے اس میں اگر ان چاروں نے غوطہ لگالیا تو کیا نقصان ہوگا؟کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وزیراعلیٰ ان کو اس لئے بھی چھوٹ دے رہے ہیں کیونکہ آگے انتخابات سر پر کھڑے ہیں۔اور اب انتخابات معمولی اخراجات کا کھیل تو رہا نہیں۔ وہی الیکشن مہم میں گاڑیاں‘ تیل اور کھانے پینے کے اخراجات برداشت کریں گے۔ وزیراعلیٰ ہائوس کا عملہ بھی ان چاروں کے سامنے بے بس ہے اور وہ بھی ان چاروں کے احکامات پر من وعن عمل کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ خود کو کتنا ہی اچھا اور صاف ستھرا کہلائیں لیکن ان کے عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ وہ براہ راست کرپشن کرنے کے بجائے بالواسطہ کرپشن کے راستے کھلے رکھے ہوئے ہیں۔
عقیل احمد


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر