وجود

... loading ...

وجود

جے پی مورگن پر ساڑھے26کروڑ ڈالرز جرمانہ

هفته 14 جنوری 2017 جے پی مورگن پر ساڑھے26کروڑ ڈالرز جرمانہ

چین کی حکومت نے امریکی مالیاتی ادارے جے پی مارگن پر کرپشن میں ملوث ہونے کاالزام ثابت ہونے پر 264 ملین ڈالر جرمانہ عاید کردیاہے اور اس کے ساتھ یہ بھی واضح کردیا ہے کہ چین میں کام کرنے والے امریکی اور برطانوی اداروں سمیت تمام غیر ملکی اداروں پر وہی قانون نافذ ہوں گے جو ملکی اداروں کے لیے قابل عمل ہیں، اور اس حوالے سے کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ چین میںامریکی بینک پر جرمانے کی یہ کارروائی امریکا اور برطانیہ میں بینکوں اوردیگر مالیاتی اداروں کے خلاف کارروائی میں صرف معمولی جرمانہ عاید کیاجاتاہے اور ان اداروں کے ڈائریکٹران اور چیف ایگزیکٹو ز سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
اینن ایچ کیو کی رپورٹ میں اس حوالے سے اطلاع دیتے ہوئے کہاگیاہے کہ ہم سب جانتے ہیں کہ 2008 کے مالی بحران کا بنیادی سبب بڑے بینکوں خاص طورپر امریکا اوربرطانیہ کے بینکوں کی لاپروائی کانتیجہ تھا۔ آئس لینڈ کی حکومت نے اس مسئلہ کو سمجھ لیا اوربعض بینکرز کوجیل بھیج دیا ان میں سے کچھ اب بھی جیل میں سزا کاٹ رہے ہیںجس کے نتیجے میں آج آئس لینڈ کی معیشت ترقی کررہی ہے اورآئس لینڈ چند یورپی ممالک میں سے ایک ہے جہاں معیشت کی ترقی کی رفتار تیز اورمستحکم ہے۔لیکن امریکا میں بنکرز کو کوئی سزانہیں دی گئی بلکہ اس کے برعکس حکومت نے آگے بڑھ کر ان کو بچایا اور تحفظ دیا، اس لیے بینکوں نے اس کانوٹس بھی نہیں لیا،ان میں سے زیادہ تر بینک ملٹی نیشنل ہیں جو امریکا اور ان تمام ممالک میں جہاں قاعد وضوابط کمزور ہیں اسی لاپروائی اور من مانی کا مظاہرہ کررہے ہیں،امریکا میں تو اگر یہ بینک کسی غیر قانونی حرکت ،لین دین یا کارروائی پر رنگے ہاتھوں پکڑے بھی جاتے ہیں تواس کے ذمہ داروں کوسزائیں دینے کے بجائے حکومت بینکوں پر معمولی جرمانے کرکے معاملے کو رفع دفع کردیتی ہے اور سزا نہ ملنے کی وجہ سے بینکار خود کو من مانی کاچمپئن تصور کرنے لگتے ہیں،اور اس طرح انھیں غیرقانوی کام جاری رکھنے کی کھلی چھوٹ ملی رہتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں جے پی مورگن پر جرمانے اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے۔چین میں جے پی مارگن پر اپنے کاروبار کو بڑھاوا دینے کے لیے رشوت اور کرپشن کے ارتکاب کے الزام میں جرمانہ عاید کیاگیا ہے ۔
امریکا کے سیکورٹی اور ایکسچینج کمیشن کے مطابق جے پی مورگن اور اس کے ذیلی اداروں پر ہانگ کانگ میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی رشوت کی اسکیمیں چلانے کا الزام تھا جو وال اسٹریٹ کے دیگر بہت سے بینکوں میں بھی پھیل رہی تھیں۔سیکورٹی اور ایکسچینج کمپنی کی تحقیقات کے مطابق چین میں بینک کی جانب سے لوگوں کی خدمات حاصل کرنے کے طریقہ کار کی تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اس میں بہت سی بے قاعدگیاں موجود تھیں۔رپورٹ کے مطابق بینک نے ملک میں بزنس حاصل کرنے کے لیے ہانگ کانگ کے بااثر اور بااختیار لوگوںکے بچوں کوملازمتیں فراہم کررکھی تھیں۔جس کے بدلے میں متعلقہ فرد بینک کی بیجا حمایت کرتے اور غیر قانونی طورپر بزنس کے حصول کے لیے ان کی کوششوں سے چشم پوشی کرتے تھے۔بینک کی اس حکمت عملی کے تحت مناسب تعلیمی صلاحیت نہ ہونے کے باوجود صرف بااثر اوربااختیار افرادسے رشتہ داری اور تعلقات کو ہی صلاحیت کاپیمانہ بنالیاگیاتھا۔اس کے واضح معنی یہ تھے کہ جے پی مارگن خود امریکا کے قوانین کی بھی خلاف ورزی کامرتکب ہورہاتھا۔ اب اس غیر قانونی بھرتی کی اجازت دینے والے بینک کے ایگزیکٹوز کو جیل کی ہوا کھانا چاہئے تھی لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ اب بھی نہ صرف آزاد ہیں بلکہ بھاری تنخواہیں اور مراعات بھی وصول کررہے ہیں۔
جے پی مارگن کے خلاف تحقیقات کرنے والے تفتیش کاروں کاکہناہے کہ بینک نے بڑی تعداد میں چینی رہنمائوں اور اعلیٰ شخصیات یہاں تک کہ بینک کے اعلیٰ عہدیداروں کی سفارش میں بڑی تعداد میں نااہل اور کم تعلیم یافتہ افراد کوبھرتی کرلیاتھا، ان لوگوں کو ابتدامیں انٹرن شپ پر رکھاجاتاتھا تاکہ یہ اندازہ لگایاجاسکے کہ یہ بینک کو سرکاری اداروں کابزنس دلانے میں کس حد تک کارآمد ہوسکتے ہیں۔
بینک کی زبان میں ان بھرتی کئے جانے والے لوگوں کو بزنس کے مواقع سے براہ راست رابطہ قرار دیاجاتاتھا ،اور بعد میں ان میں سے زیادہ تر ملازمین کو امریکا ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے علاوہ ایشیا کے بعض ممالک میں بھیج دیاجاتاتھا ۔یہ اسکیم بینک کی جانب سے 100 ملین ڈالر سے زیادہ کا بزنس حاصل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ تھی۔امریکی شہر بروک لین کے اٹارنی رابرٹ ایل کیپرز کاکہناہے کہ اس طرح کے حربوں سے حاصل کی جانے والی رقم یا پروجیکٹ کوبزنس نہیں بلکہ کرپشن ہی کہاجاسکتاہے۔
سیکورٹی اور ایکسچینج کمیشن کاکہناہے کہ چونکہ جے پی مارگن نے تفتیش کے دوران مکمل تعاون کیاتھا اس لیے اس پر نسبتا کم جرمانہ کیاگیاہے۔یہ پتہ نہیں چل سکا کہ اس بینک نے یہ غیر قانوی طریقہ کب سے اختیار کررکھا تھا لیکن اگست 2013 میں نیویارک ٹائمز میں ایک خبر چھپی تھی کہ ریگولیٹرز چین میں جے پی مارگن کی جانب سے لوگوںکی بھرتی کے طریقہ کار کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں۔ جبکہ ٹائمز نے امریکی حکومت کی ایک خفیہ دستاویز کے حوالے سے لکھاتھا کہ یہ بینک پرکشش بزنس حاصل کرنے کے لیے کس طرح چین کے بااثر حکام کے بچوں کوملازمت دے رہاہے۔جے پی مارگن نے 2013 میں غلط کاریوں کااعتراف کرلیاتھا ۔جس کے بعد وفاقی حکومت نے اس کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیاتھا ۔بعد میں جے پی مارگن کے ایک ترجمان بریان مارچیونف نے ایک بیان میں کہاتھا کہ ہم نے لوگوں کی بھرتی کا یہ طریقہ کار2013 میں ہی تبدیل کردیاتھا اور اب بھرتی کے اعلیٰ ترین اصولوں پر عمل کرنے کی کوشش کررہے ہیں،دلچسپ بات یہ ہے کہ بینک کی غلط کاریوں کی تفصیلات ملنے اور خود بینک کی جانب سے اس کے اعتراف کے بعد اس بینک کے کسی بھی اعلیٰ عہدیدار کے خلاف ان غلط کاریوں کے الزام میں کوئی مقدمہ تک قائم نہیں کیاگیا۔یہی نہیں بلکہ بینک کی جانب سے تفتیش میں تعاون کے نام سے بینک پر جرمانے کی رقم میں بھی کمی کردی گئی۔
امریکی بینکوں کی ان غلط کاریوں کا بنیادی سبب یہ ہے کہ امریکی قانون کے تحت بینکاروں کو ہر طرح کے کاموں کو کھلی چھوٹ دی جاتی ہے اور جب وہ کسی غلط کاری پر پکڑ میں آجاتے ہیں تو ان پر عاید کئے والے جرمانے میں بھی تفتیش میں تعاون کے نام پر نمایاں کمی کردی جاتی ہے جبکہ بینکوں کے اعلیٰ عہدیداروں اور چیف ایگزیکٹو ز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکا اور یورپ کے دیگر بہت سے بڑے بینک بھی اسی طرح کی بے قاعدگیوں میں ملوث ہیں جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ چین میں کام کرنے والے دیگر بینکوں جن میں ایچ ایس بی سی ،گولڈ مین ساچ وار ڈیوچے بینک شامل ہیں، نے اعتراف کیاہے کہ ان کے خلاف بھی چین میں عملے کی بھرتیوں اور دیگر غلط کاریوں کے الزام میں 2013 سے تفتیش ہورہی ہے۔
سیکورٹی اور ایکسچینج کمیشن کے قوانین پر عملدرآمد کے ذمہ دار شعبے کے سربراہ اینڈریو جے کیریس نے کا کہنا ہے کہ ہم نہیں سمجھتے کہ یہ اس حوالے سے کمیشن کی جانب سے کی جانے والی اپنی نوعیت کی آخری کارروائی ہوگی تاہم جرمانے کی تازہ ترین سزا اپنی نوعیت کی سب سے بڑی سزا ہے ،اس کے علاوہ لندن وہیل ٹریڈنگ اسکینڈل میں بھی بینک کو 6 بلین ڈالر جرمانے کی سزا دی جاچکی ہے جبکہ بینک کو اپنی مارگیج سیکورٹیز میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے جو 2008 کے مالیاتی بحران کا سبب ثابت ہواتھا وزارت انصاف کے ساتھ تصفیے کے نتیجے میں 13 بلین ڈالر ادا کرنا پڑے تھے۔ان کا کہناہے کہ ہمارے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بینکوں کی ان غلط کاریوں کے انکشافات اور بھاری جرمانوں کے باوجود بینک کے کسی اعلیٰ عہدیدار کو جیل نہیں بھیجا گیا۔جس کی وجہ سے ان بینکاروں کو اپنی غلط کاریاں جاری رکھنے اور لوگوں کوگمراہ کرنے کا عمل جاری رکھنے اورانھیں لوٹنے کی کھلی چھوٹ ملی رہی،جس کے نتیجے میں انھیں جیل بھیجے جانے سے کم کوئی سزا نہیں ہونی چاہئے۔


متعلقہ خبریں


وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان وجود - هفته 25 اپریل 2026

ایران اب کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکتا،یہ امریکی جنگ نہیں، آبنائے ہرمز سے بڑا فائدہ ایشیا اور یورپی ممالک کو ہے،بحری جہاز اب ہماری شرائط پر ہی گزریں گے،امریکی وزیر دفاع ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں جلد بازی نہیں، معاہدہ نہیں کیا تو اس کے خلاف فوری طور پر دوبارہ جنگ شروع کرنے ...

ایران کی مزید ناکہ بندی،نیا بحری بیڑا پہنچنے والا ہے،امریکاکا اعلان

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم وجود - هفته 25 اپریل 2026

دہشت گردی کے ناسور کیخلاف سکیورٹی فورسز کیقربانیاں قابلِ فخر ہیں، وزیر داخلہ ضلع خیبر میںخوارج کی ہلاکتوں اور اسلحے کی برآمدگی پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ضلع خیبر میں مشترکہ انٹیلی جنس آپریشن میں22 دہشت گردوں کی ہلاکت اور اسلحے کی برآمدگی...

دہشت گرد ہماری امن کوششوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں،صدرمملکت، وزیراعظم

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 25 اپریل 2026

پاکستان کو امن اور مذاکرات کے کردار پر عالمی پذیرائی ملی، عمران خان 24 سال سے اسی پالیسی کے داعی رہے ہیں قومی مفاد کو مقدم رکھا ، ذمہ دار سیاسی رویے کا مظاہرہ کیاوفاقی حکومت کے اجلاس میں شرکت کی، اجلاس سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ملک ک...

پی ٹی آئی کے ساتھ امتیازی سلوک جاری رہا تو ہر قسم کی مصالحت ختم کردیں گے، سہیل آفریدی

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع وجود - هفته 25 اپریل 2026

عالمی مالیاتی ادارہ نے 4 مئی کیلئے اپنے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کا شیڈول جاری کر دیا پاکستان کیلئے 1۔2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جائے گی،وزارت خزانہ حکام وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) بورڈ سے مئی کے پہلے ہفتے میں پاکستان کے لیے قرض کی ا...

آئی ایم ایف بورڈ سے قرض کیلئے اگلی قسط کی منظوری متوقع

مضامین
معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ وجود پیر 27 اپریل 2026
اختلافِ رائے ۔۔رحمت یا زحمت؟ ایک فکری جائزہ

چلو !! آج ہنستے ہیں! وجود پیر 27 اپریل 2026
چلو !! آج ہنستے ہیں!

دوڑتا ہوا سایہ وجود اتوار 26 اپریل 2026
دوڑتا ہوا سایہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر