... loading ...
کراچی آپریشن میں بہت سے افسران نے نام کمایا مگر سب سے زیادہ فائدے میں رائو انوار ہی رہے۔ وہ کئی خصوصیات کے مالک بھی ہیں۔ کراچی آپریشن میں ایم کیو ایم کے کئی جرائم پیشہ کارکن گرفتار کیے یا پھر مقابلوں میں مار دیئے‘ پھر انہوں نے مقتدر حلقوں میں بھی اپنے تعلقات استوار کیے اور اب وہ تعلقات میں بہت اونچی مچان پر بیٹھ کر شکار کرتے ہیں۔ تیسری جانب اُنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سے تعلقات اُستوار کرلیے‘ سابق صدر آصف علی زرداری زیادہ وقت جیل میں گزارچکے ہیں۔ اس لئے ان کے مقدمات اور عدالتی پیشیوں میں رائو انوار ان کے آگے پیچھے ہوتے تھے ۔یہ بھی ایک اتفاق ہی ہے کہ جس ٹیم نے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کے بھائی اور بھتیجے کو پکڑکر پھر مقابلے میں مار ا تھا، اس کے سربراہ بھی رائو انوار ہی تھے۔
راؤ انوار پر پی پی قیادت کی زمینوں پر قبضوں اور دیگر کاروبار میں بھی معاونت کیے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ راؤ انوار آئوٹ آف ٹرن پروموشن لیتے لیتے ایس ایس پی بن گئے پچھلی حکومت میں یعنی 2008 میں ان کا آئوٹ آف ٹرن پروموشن ختم کرکے ڈی ایس پی بنادیا گیا تھا لیکن پھر حکومت سندھ نے چند ماہ بعد ان کو ایس پر ترقی دیدی رائو انوار زیادہ تر ملیر اور ایسٹ میں رہے ہیں۔ وہ ضلع وسطی میں اپنی تعیناتی کے دوران میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں سرگرم تھے ملیر اور شرقی میں پوسٹنگ کی وجہ سے وہ زمینوں پر قبضوں اور پانی کے کاروبار میں بے تاج بادشاہ بن گئے ہیں انہوں نے سینکڑوں ایکڑ زمین پر آبادیاں قائم کرائیں اور اب وہ تیسری بار ایس ایس پی ملیر بنے ہیں آخر راؤ انوار کی ملیر ضلع میں اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ ابراہیم حیدری سے لیکر سپر ہائی وے اور منگھوپیر تک ضلع ملیر کی حدود ہیں اور وہ زمینوں کی ایسی تفصیل یاد رکھتے ہیں جیسے وہ خود ریونیو افسر ہوں۔ ان کو جب خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری کے وقت ہٹایا گیا تھا تو اس وقت ضلع ملیر اور ضلع شرقی کے تھانوں میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ سچل تھانہ‘ سہراب گوٹھ اب وہ ضلع ایسٹ کو دے دیے گئے جب رائو انوار واپس آئے تو سب سے پہلے انہوں نے آرڈر نکلتے ہی چارج لیا دوسرے روز انہوں نے تمام ایس ایچ اوز کو تبدیل کردیا اور ان ایس ایچ اوز کو لگوایا جو تھانوں کو خوشحال رکھنے میں زیادہ تگڑے سمجھے جاتے ہیں۔ اب وہ ان تھانوں کی واپسی کیلئے سرگرم ہیں جو منفعت کے اعتبار سے زیادہ بیش قیمت سمجھے جاتے ہیں۔
رائو انوار اتنے طاقتور ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ‘ چیف سیکریٹری‘ آئی جی‘ ایڈیشنل آئی جی کراچی کو خاطر میں نہیں لاتے وہ صرف سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے دو اسٹاف افسران کرنل (ر) بابر اور نیوی کے سابق لیفٹیننٹ کمانڈر (ر) جلال کے علاوہ کسی چوتھے بندے سے بات نہیں کرتے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ماڈل ایان علی کو مکمل پروٹوکول دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ اب جب وہ تیسری مرتبہ ایس ایس پی ملیر بنے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ اور اتنی جلد بازی میں وہ سارے نامکمل کام کیوں مکمل کرانا چاہتے ہیں؟ اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ وہ رواں سال دسمبر میں ملازمت سے 60 سال عمر پوری کرکے ریٹائرڈ ہورہے ہیں اور وہ آخری سال کو اپنے لیے بہت کارآمد بنانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے انہوں نے پوری لینڈ مافیا اور ریتی بجری مافیا کو ملیر میں جمع کیا ہے اور ان سے کہا ہے کہ وہ کسی کی بھی پرواہ نہ کریں اپنا کام جاری رکھیں۔ اس کے بعد اب کیا ہوا کہ لینڈ مافیا نے جن کے کھاتے ہیں ریونیو ریکارڈ سے ان کی زمینوں پر بھی قبضے شروع ہوگئے ہیں۔ رائو انوار کو بس دن رات یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ وہ اس سال ریٹائرڈ ہوجائیں گے اس کے بعد ان کا رعب ودبدبہ بھی ختم ہوجائے گا اور وہ سابق پولیس افسر بن کر رہ جائیں گے۔ بس اس بات نے ان کو اتنا پریشان کردیا ہے کہ شاید اس کی مثال بھی نہ مل سکے‘ رائو انوار کو تو اب حکومت سندھ اور سندھ پولیس نے بھی کہنا چھوڑ دیا ہے اور وہ اب مکمل طورپر خود مختار ہیں اور جیسے چاہیں اپنی مرضی سے راج کریں۔ ایک پولیس افسر کے دفتر میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ وہاں باقاعدہ زمینوں کو سمجھنے والے ایجنٹ بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ ایجنٹ پر اُلٹے کام کو سیدھے کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔ اگر وزیراعلیٰ اور آئی جی سندھ تک شکایت جاتی ہے تو وہ اس پر رائو انوار سے پوچھنے کے بجائے خاموشی اختیار کرلیتے ہیں اب وہ دسمبر 2017 میں 60 سال عمر پوری کرکے ریٹائرڈ ہوجائیں گے۔ انہیں ملازمت کے آخری سال میں 24 گھنٹے اپنا ’’کام ‘‘جاری رکھنے کا جنون ہے ۔ رائو انوار کو سابق صدر آصف علی زرداری کی حمایت حاصل ہے اس کو اس طاقت نے مطلق العنان بنادیا ہے لیکن ایک قانونِ مکافات عمل بھی تو ہے۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...