وجود

... loading ...

وجود

نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں انخلاء کے منصوبے کو موخر کرنے پر غور

منگل 10 جنوری 2017 نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے افغانستان میں انخلاء کے منصوبے کو موخر کرنے پر غور

امریکا نے پاکستان اور افغانستان کی جاسوسی کیلئے ایک نیا حربہ اختیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ،اس منصوبے کے تحت پاکستان ،افغانستان اور بعض دوسرے ممالک میں دہشت گردوں کی نگرانی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی روک تھام کے نام پر آپریشن سینٹر قائم کیے جائیں گے ،امریکی وزیر خا رجہ جان کیری نے گزشتہ دنوںاس منصوبے کابرملا اعلان کرتے ہوئے کہاتھاکہ پاکستان اور افغانستان ان ممالک میں شامل ہیں جہاں امریکا ‘اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکٹیکل سیکورٹی آپریشن سینٹرز تعمیر کرے گا۔
21 صفات پر مشتمل ایک دستاویز کے مطابق امریکا کے اعلیٰ عہدیدار نے افغانستان اور عراق کا نام بھی ان ممالک میں شامل کیا ہے جہاں بارک اوباما کی انتظامیہ اس طرح کے سینٹرز قائم کررہی ہے۔اس دستاویز میںپراسرار بات یہ ہے کہ اس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ سینٹرز کہاں قائم کیے جائیں گے، انھیں کون چلائے گا اور انھیں کیسے چلایا جائے گا؟اس میں کہا گیا ہے کہ ‘ہم اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکٹیکل سیکورٹی آپریشن سینٹرز اہم ممالک میں تعمیر کررہے ہیں، جن میں افغانستان، عراق اور پاکستان شامل ہیں۔خیال رہے کہ بارک اوباما کی انتظامیہ اپنی دوسری اور حتمی مدت 20 جنوری کو مکمل کررہی ہے جس کے بعد بارک اوباما صدارت کا منصب نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے کردیں گے۔وزیر خارجہ جان کیری نے دستاویز میں کہا ہے کہ جس وقت بارک اوباما نے امریکا کے صدر کا عہدہ سنبھالا تھا اس وقت القاعدہ پاکستان اور افغانستان میں مضبوط تھی تاہم گزشتہ 8 سال کے دوران گروپ کی اہم اور اعلیٰ قیادت کو تہس نہس کردیا گیا اور اس کے چیف اُساما بن لادن کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی خبردار بھی کیا کہ افغانستان بہتر نہیں ہوا ہے اور اس کی بہتری کیلئے ہماری جاری پیش رفت کا تحفظ ضروری ہے جس کے لیے کئی سال کی مسلسل مصروفیت اور کوششیں درکار ہوں گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں افغان عوام کی حمایت جاری رکھنی چاہیے جیسا کہ وہ کچھ ماہ یا سال میں اپنا محفوظ اور پرامن مستقبل قائم کرنا چاہتے ہیں۔مذکورہ دستاویز، جس میں بارک اوباما کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی حاصل ہونے والی کامیابیوں کو شامل کیا گیا ہے، آنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کیلئے کچھ تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں جن میں ایران کے جوہری پروگرام، مشرق وسطیٰ میں دو ریاستی حل اور داعش کے خلاف جاری جنگ میں مصروف رہنے کی تجاویز شامل ہیں۔
ادھر امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی ان کے نامزدسیاسی امور کے معاون وزیر خارجہ نامس شینن نے مختلف ممالک کے ساتھ امریکا کے مستقبل کے تعلقات کو حتمی شکل دینے کیلئے ابتدائی تیاریاں شروع کردی ہیں ۔اس حوالے سے گزشتہ روز وہ اچانک کابل کے دورے پر پہنچے اورافغان صدر اشرف غنی ، چیف ایگزیکٹیو عبد اللہ عبداللہ اور دوسرے سرکاری عہدے داروں سے ملاقات کی۔
نئے امریکی وزیر دفاع، ایشٹن کارٹر نے بھی عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی اپنی مجوزہ پالیسیوں کابرملا اظہار شروع کردیاہے گزشتہ روزوہ بھی افغانستان کے دورے پر پہنچے جہاں ایک بیان میں انھوںنے کہا ہے کہ’’ امریکا افغانستان میں انسداد دہشت گردی کے مشن کی تفصیل ‘‘پر از سر نو غور کر رہا ہے، جس میں یہ معاملہ بھی شامل ہوگاکہ آیا امریکی فوج کے انخلامیں تیزی نہ دکھائی جائے؛ ایسے میں جب مشن کا کردار لڑاکا سے تبدیل ہوکر تربیت فراہم کرنے میں تبدیل ہو رہا ہے، اور طالبان کے خلاف لڑائی کی ذمہ داری افغان فوج کے ذمے کی جارہی ہے۔عہدے پر نامزدگی کے بعد، پینٹاگون کے سربراہ کا بیرون ملک یہ پہلا دورہ ہے۔ ایشٹن نے ہفتے کو افغانستان کا غیر اعلانیہ دورہ کیا، جہاں اُنھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ امریکا انسدادِ دہشت گردی سے متعلق افغانستان کی ضروریات کا از سرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔ اُنھوں نے بتایا کہ آئندہ ماہ جب افغان صدر اشرف غنی امریکا کے دورے پر آئیں گے، تو یہ معاملہ ایجنڈے پر سرِ فہرست ہوگا۔ایشٹن کارٹر نے کہا کہ وہ اپنے موجودہ دورہ افغانستان میں امریکی مشن کی طویل مدتی کامیابی کو یقینی بنانے کے سلسلے میں درکار ضروریات کا جائزہ لیں گے۔اْنھوں نے کہا ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما اس بات کے خواہاں ہیں کہ افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے بارے میں تجزیہ وزیر دفاع خود کریں، جب کہ بقول اْن کے، ضروری سمجھا گیا تو امریکی فوج کے متوقع انخلا میں تاخیر کے معاملے کو مسترد نہیں کیا جاتا۔ایشٹن کارٹر نے صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جس میںدونوں کے درمیان فوجی انخلا اور طالبان سے نبردآزما ہونے کے سلسلے میں افغان کوششوں پر گفتگو ہوئی۔صدر غنی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ3 عشروں کے مقابلے میںاب طالبان کے ساتھ امن کے امکانات پہلے سے زیادہ ہیں۔ حالانکہ اْنھوں نے اس بات کی کچھ ہی تفصیل بیان کیں۔اْن کے بقول ’’سمت مثبت ہے‘‘۔ تاہم، اْنھوں نے مزید کہا کہ وہ ’قبل از وقت اعلانات نہیں کریں گے‘۔اپنے دورہ افغانستان کے دوران، کارٹر امریکی فوج سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔اس وقت افغانسان میں تقریبا ً 10ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔عہدہ سنبھالنے سے پہلے، کارٹر نے امریکی سینیٹ کو بتایا کہ وہ سال کے آخر تک افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے پروگرام پر دوبارہ غور کر سکتے ہیں۔تاہم، اْنھوں نے کہا کہ اس بات کا انحصار سلامتی کی صورت حال پر ہوگا۔اْنھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکا اپنے اتحادیوں سے مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ داعش کا شدت پسند گروہ مشرق وسطیٰ سے افغانستان کی جانب نہ پھیل جائے۔امریکا کے ایک سینئرسفارت کار نے افغان رہنمائوں کو یقین دلایا ہے کہ اس جنگ زدہ ملک کے امن ، خوشحالی اور سلامتی سے واشنگٹن کی وابستگی آنے والی ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں گہری ہی ہو گی۔ سیاسی امور سے متعلق معاون امریکی وزیر خارجہ ٹامس شینن نے ہفتے کے روز کابل کا دورہ کیا جہاں انہوں نے صدر اشرف غنی ، چیف ایگزیکٹو عبد اللہ عبداللہ اور دوسرے سرکاری عہدے داروں سے ملاقات کی۔مسٹر شینن نے بعد میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ان کے دورے کا مقصد دونوں ملکوں کے درمیان اس مضبوط شراکت داری کو اجاگر کرنا تھا جو سبکدوش ہونیوالے امریکی صدر بارک اوباما کے آٹھ سالہ دور صدارت میں قائم ہو سکی ہے۔انہوں نے کہا کہ’ افغانستان کے ساتھ ہماری وابستگی 20 جنوری کو ختم نہیں ہو جائے گی جب مسٹر ٹرمپ اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ، بلکہ اس کے بالکل برعکس اس میں مزید گہرائی آئے گی اور دونوں ملکوں کے اس تعلق کی اسٹریٹیجک اہمیت سب پر عیاں ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ یہاں ہمارا مقصد اورارادہ دیر پا اور طویل المیعاد ہے۔‘یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ منتخب صدر ٹرمپ افغانستان میں ہونے والی کارروائیوں سے نمٹنے کے کیا منصوبے رکھتے ہیں جو امریکا کی طویل ترین جنگ بن چکی ہیں۔امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر نے جمعہ کو کہا ہے کہ امریکا افغانستان کے اقتداراعلیٰ اور اس کے استحکام کے عہد سے وابستہ ہے اور رہے گا۔کارٹر نے ان خیالات کا اظہار کابل میں صدر اشرف غنی کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میںکیا۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس پندرہ سالہ جنگ کے مسئلے سے کس طرح نمٹیں گے۔مسڑ ٹرمپ اپنی خارجہ پالیسی کے منصوبوں کی جانب تھوڑے بہت اشارے کرتے رہے ہیں لیکن ان کی انتخابی مہم کے دوران افغان جنگ پر کوئی زیادہ بات نہیں ہوئی۔مسٹرٹرمپ اور افغان صدر اشرف غنی کے درمیان پچھلے ہفتے ٹیلی فون پر بات چیت ہوئی تھی اور ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملک دہشت گردی کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔امریکا کے وزیر دفاع ایش کارٹر جمعہ کو افغانستان کے دورے پر پہنچے تھے جس کا پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ اس دورے کا مقصد اس ملک میں تعینات امریکی فوجیوں کی اس ملک کے لیے خدمات کا شکریہ ادا کرنا تھا۔افغانستان میں اس وقت تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ وہ القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں اور معاونت سے متعلق نیٹو کے ایک بڑے پروگرام کے تحت افغان فورسز کو تربیت اور مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔
تازہ ترین سرکاری اندازوںکے مطابق گزشتہ ایک سال کے دورا ن میں بڑی تعداد میں امریکی فوجوں کی افغانستان میں کارروائیوں کے نتیجے میں تقریباً 30،ہزار افراد ہلاک جب کہ متعدد زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تعداد باغیوں کی ہے۔ دفاع اور وزارت داخلہ کے اہل کاروں کے مطابق، اتوار تک، ملک بھر میں افغان پولیس اور دفاعی افواج کی جانب سے انسداد بغاوت کی جاری کارروائیوں میں 18500 سے زائد دشمن جنگجو ہلاک جب کہ 12000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔محمد ردمانیش وزارتِ دفاع کے معاون ترجمان ہیں۔ اْنھوں نے وائس آف امریکا کو بتایا کہ حکام نے سیکڑوں باغیوں کو پکڑ لیا ہے۔اْنھوں نے افغان قومی سلامتی اور دفاعی افواج کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں تفصیلات بیان کرنے سے احتراز کیا۔ تاہم، اِس بات کو تسلیم کیا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اِن کی تعداد میں 10 فی صد سے زیادہ کا اضافہ ہوا۔امریکی فوج کے مطابق 2015 میں، افغان قومی سلامتی اور دفاعی افواج کے تقریباً 20000 اہل کار زخمی ہوئے، جن میں سے 5ہزار ہلاک ہوگئے۔ افغانستان کی تعمیر ِنو سے متعلق خصوصی انسپکٹر جنرل نے، جو حکومتِ امریکا کا ایک نگران ادارہ ہے، اکتوبر میں رپورٹ دی تھی کہ 2016ء کے پہلے8 ماہ کے دوران 5500 سے زائد افغان فوجی ہلاک ہوئے، جب کہ تقریباً 10 ہزارزخمی ہوئے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر