وجود

... loading ...

وجود

بھارت ہتھیاروں کے انبار، احساس کمتری کا شکار

هفته 31 دسمبر 2016 بھارت ہتھیاروں کے انبار، احساس کمتری کا شکار

بھارتی حکمرانوں کے جنگی جنون میں اضافے کے نتیجے میں اب بھارت ایک بار پھر دنیا بھر میں اسلحے کے سب سے بڑے خریدار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ، سوئیڈش ماہرین کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ5 سال میں اپنے قریب ترین حریفوں چین اور پاکستان کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ اسلحہ خریدا۔اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق-13 2009کے درمیان گزشتہ5 سال کے مقابلے میں اسلحے کی خریداری میں 14 فیصد اضافہ دیکھا گیا 09-2008 کی نسبت گزشتہ5سال میں بھارت کی جانب سے اسلحے کی درآمدات میں 111 فیصد اضافہ ہوا اور اسلحے کی عالمی درآمدات میں اس کے حصے میں7 سے 14 فیصد اضافہ ہوا۔بھارت 2010 میں اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بن گیا تھا جہاں اس نے چین کو اس منصب سے ہٹادیا تھا۔
2013 تک بھارت کو اسلحے کا سب سے بڑا سپلایئر روس رہا جس نے کل درآمدات کا 75 فیصد اسلحہ اپنے دوست ملک بھارت کو فراہم کیا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون کی تسکین کے لیے اسلحہ کے ذخائر جمع کرنے اور اسلحہ کے نظام کو بہتر اور جدید بنانے لیے کوشاں ہے تاہم اب بھارت نے اسلحہ کی خریداری کے لیے مزید ملکوں خصوصاً امریکا کی طرف بھی دیکھنا شروع کر دیا ہے۔آئی ایچ ایس جینز کی جانب سے فروری میں جاری اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ سال بھارت اسلحے کا سب سے بڑا خریدار تھا اور اس کی اسلحہ کی کل درآمدات کی لاگت 1.9 ارب ڈالر تھی اور اس کے علاوہ بوئنگ سی 17 اے کا ایئر کرافٹ اور P-81 میری ٹائم پیٹرول ایئر کرافٹ جیسی بھاری مالیت کے جنگی سازوسامان کی خریداری بھی کی گئی۔
جہاں تک دنیا بھر میں اسلحہ کی فروخت کامعاملہ ہے تو امریکی محققین کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کی فروخت کے حوالے سے سب سے بڑا ملک امریکا رہا۔ اس کے بعد روس اور فرانس کا نمبر آتا ہے۔ جبکہ اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے سعودی عرب امریکا کے ساتھ29.4 ارب ڈالر کا فوجی معاہدہ کرکے سرفہرست رہا جبکہ دوسرے نمبر پر مشرق وسطیٰ کاکوئی تیل کی دولت سے مالامال ملک نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے غریب ملکوں میں شمار ہونے والا بھارت رہا جس نے امریکا سے13ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسلحے کی خریداری اور دنیا کے دیگر ممالک سے مجموعی طورپر 34ارب ڈالر کے معاہدے کئے،امریکی محققین کی رپورٹ کے مطابق2011 کے دوران مختلف ممالک کو اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کی فروخت سے امریکا کو 63.3 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی۔ اس وقت اسلحہ کی عالمی منڈی میں امریکی حصہ 80 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔امریکا کے بعددنیا بھر میں اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک میں روس دوسرے نمبر پر ہے۔ اس نے گزشتہ سال 4.8 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔ فرانس اس فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے اس نے4.4 ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا۔امریکی کانگریس کی ریسرچ سروس کے مطابق امریکی اسلحہ اور دفاعی سازو سامان سے حاصل شدہ آمدنی کے حوالے سے 2011 کے اعداد و شمار نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے پہلے صرف ایک سال میں ملک کو اس ضمن میں اتنی زیادہ آمدنی کبھی حاصل نہیں ہوئی تھی۔
امریکا کی جانب سے سعودی عرب کو فروخت کیے گئے دفاعی سازو سامان اور اسلحے میں 84 ایف15لڑاکا طیارے اور178 ہیلی کاپٹروں کی فروخت بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق عالمی معیشت میں سست روی کے رجحان کے باوجود مجموعی طور پر2011میں ہتھیاروں اور دفاعی سازو سامان کی عالمی فروخت تقریباً دگنی ہو کر 85.3ارب ڈالر تک پہنچی ہے۔سعودی عرب اور بھارت کے علاوہ امریکی اسلحہ اور دفاعی سازو سامان کے بڑے خریدار ممالک میں متحدہ عرب امارات، عراق، اومان اور تھائی لینڈ شامل ہیں۔
امریکی کانگریس کی ایک رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں سب سے زیادہ ہتھیار خریدنے والے ممالک میں بھارت دوسرا بڑا ملک ہے جب کہ بھارتی فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ آروپ راہا کے تازہ بیان کو اس رپورٹ کی تصدیق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ سبکدوش ہونے والے بھارتی فضائیہ کے سربراہ آروپ راہا نے گزشتہ روز کہا تھا کہ بھارت کو رافیل طیارے کی طرز کے 200 جنگی جہازوں کی ضرورت ہے اور بھارت اب تک ایسے 35 طیارے فرانس سے خرید چکا ہے۔بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی)کے مطابق امریکی کانگریشنل ریسرچ سروسز (سی آر ایس)کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ترقی پذیر ممالک میں ہتھیاروں کی خریداری میں سرفہرست ہے، سعودی عرب نے سال 2008 سے سال 2015 کے دوران ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مجموعی طور پر93 ارب 50 کروڑ ڈالرز کے معاہدے کیے۔
رپورٹ کے مطابق 2008 سے 2015 تک بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے34 ارب ڈالرز کے معاہدے کیے، جس سے وہ اسلحہ خریدنے والا دنیا میں دوسرا بڑا ترقی پذیرملک بنا۔ترقی پذیر ممالک کو روایتی ہتھیاروں کی منتقلی برائے 2008 سے 2015‘ کے نام سے جاری کردہ سی آر ایس کی یہ رپورٹ بھارتی رہنمائوں کے جنگی جنون کی عکاسی کرتی ہے۔یہ رپورٹ بھارت کیجانب سے زیادہ سے زیادہ جدید ہتھیاروں کی خریداری کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کی تازہ کوششوں کی بھی عکاسی کرتی ہے جن کے ذریعے وہ ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے اپنے مرکز کو تبدیل کررہا ہے اور اس کاسب سے زیادہ فائدہ امریکا کو پہنچ رہا ہے۔کیونکہ اس سے قبل بھارت روسی ساختہ ہتھیاروںکی خریداری کو ترجیح دیتا رہا ہے ،اگرچہ اس سے قبل بھی بھارت امریکا سے اسلحہ خریدتارہاہے لیکن حالیہ برسوں میں بھارت نے ہتھیاروں کی خریداری کے لیے اپنی ترجیحات تبدیل کی ہیں۔
بھارت نے 2004 میں ہوائی جہازوں میں نصب ہونے والے ’فالکن‘ نامی جدید ڈیفنس سسٹم اسرائیل سے خریدا تھا جب کہ 2005 میں ڈیزل پر چلنے والی 6 ‘اسکورپین جنگی آبدوزوں سمیت فرانس سے بے شمار آلات خریدے تھے۔سی آر ایس کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2008 میں 6 سی 130 کے کارگو طیارے امریکا سے خریدے، جب کہ 2010 میں برطانیہ نے بھی بھارت کو ایک ارب ڈالر کے 57 ہاک ٹرینر طیارے اور اٹلی نے بھارت کو 12 اگسٹا ویسٹ لینڈ(اے ڈبلیو)101 ہیلی کاپٹر فروخت کیے۔رپورٹ کے مطابق 2011 میں فرانس اور بھارت کے درمیان 51 فرانسیسی ساختہ میراج 2000 جنگی طیاروں کو اپ گریڈ کرنے کا معاہدہ ہوا اورامریکا، بھارت کو 4 ارب 10 کروڑ ڈالر کے 10 سی 17 گلوب ماسٹر 3 کے طیارے فروخت کرنے پر راضی ہوا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری کا یہ طرز عمل اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اب روس کو بھارت میں اسلحہ فروخت کرنے کیلیے دیگر ممالک سے سخت مقابلہ کرنا پڑے گا اور بھارت اپنے جنگی نظام کو بڑھانے کے لیے ہتھیاروں کی خریداری کا عمل جاری رکھے گا۔
رپورٹ کے مطابق 2011 میں بھارت کی جانب سے جدید لڑاکا طیاروں کی فرانس سے خریداری میں ہتھیاروں کے اس عالمی مقابلے میں روس کا خاتمہ ہوا، مگر گزشتہ برس 2015 میں بھارت اور روس کے درمیان ہونے والے معاہدے میں دونوں ممالک نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی کہ بھارت روس سے کم سے کم 200 کاموو کا(کے اے) 226 جنگی جہاز خریدے گا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے روس سے اسلحے کی خریداری کم کیے جانے کے بعد ماسکو دوسرے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
دوسری جانب رپورٹ اور شواہد سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ بھارتی رہنمائو ں کی جانب سے اتنی بھاری تعداد میں اسلحہ کی خریداری کے باوجود بھارتی مسلح افواج کے سربراہان مطمئن نہیں ہیں جس کا اندازہ بھارتی فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ آروپ راہا کی گزشتہ روزکی ایک میڈیا بریفنگ سے لگایاجاسکتاہے جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ بھارت نے فرانس کو 8 ارب 70 کروڑ ڈالر کے 36رافیل طیاروں کا آرڈر دے دیا ہے ، مگر یہ کافی نہیں ہے، بھارت کو اپنی فوجی برتری کے لیے کم سے کم 200 رافیل طیاروں کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ آروپ راہا 31 دسمبر 2016 کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔آروپ راہا کے مطابق بھارت کی فضائیہ روسی ساختہ الیوشن 78 ٹینکرز کی مرمت سے متعلق مسائل سے دوچار ہے جب کہ جنگی طیاروں کی تعداد میں اضافے کے لیے فضا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کی بھی ضرورت تھی۔انہوں نے بتایا کہ اگلے 5 سے 10 سال کے درمیان بھارت کی فضائیہ کو 200 میڈیم ویٹ فائٹر جہازوں کی ضرورت پڑے گی، جس کے لیے انہوں نے ملک میں نئی پیداواری صنعت کے قیام پر بھی زوردیا۔بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے مطابق آروپ راہا نے رافیل جنگی طیاروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ طیارے کسی بھی مہم میں مثالی ثابت ہوں گے مگر بھارت نے صرف 36 طیاروں کا آرڈر دیا ہے، ہمیں میڈیم ویٹ جنگی طیاروں کی زیادہ ضرورت ہے۔واضح رہے کہ رافیل طیاروں کے معاہدے کا اعلان بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2015 میں پیرس کے دورے کے دوران کیا تھا، جس کے بعد بھارت اور فرانس کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ رواں برس 23 ستمبر کو طے ہوا تھا۔معاہدے کے مطابق فرانس رافیل طیاروں کو جدید ہتھیاروں اور دیگر موزوں آلات سے لیس کرکے ستمبر 2019 سے اپریل 2022 تک بھارت کے حوالے کردے گا۔بھارتی فضائیہ اس بات پر اصرار کررہی ہے کہ پاکستان اور چین کی جانب سے درپیش مشترکہ خطرات سے نمٹنے کے لیے یہ جنگی طیارے کافی نہیں ہوں گے، ان کے پاس صرف 33 جنگی طیارے ہیں جب کہ منظور کیے گئے طیاروں کی تعداد 42 ہے۔

 


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر