وجود

... loading ...

وجود

روشن امریکا کی 50فیصد آبادی غربت کی تاریکی کا شکار

بدھ 21 دسمبر 2016 روشن امریکا کی 50فیصد آبادی غربت کی تاریکی کا شکار

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
امریکا کے حالیہ انتخابات سے دنیا کو پتا چلا کہ اب تک کیتمام صدارتی امیدوارنہ صرف یہ کہ اپنی صدارتی مہم کے دوران امریکا میں غربت کو نظر انداز کرتے رہے ہیں بلکہ انھوں نے کامیاب ہونے کے بعد یعنی صدارتی منصب سنبھالنے کے بعد بھی امریکا سے غربت کا خاتمہ کرنے اور غربت کے شکار امریکی شہریوں کی اشک شوئی کے لیے کچھ نہیں کیا۔حالیہ صدارتی الیکشن میں بھی منتخب صدر اور امریکی سیاستدانوں نے غربت کے عنصر کو نظر انداز کئے رکھا اور کسی نے کھل کر اس بات کااعتراف نہیں کیا کہ غربت امریکا کی سماجی اور اقتصادی زندگی کی ایک حقیقت ہے۔
امریکا کے نومنتخب صدر نے اپنی کابینہ کے لیے اب تک جن لوگوں کاانتخاب کیاہے یعنی مختلف وزارتوں اورمحکموں کے لیے جن لوگوں کے نام سامنے آئے ان سب کاہی تعلق امریکا کے امیر ترین طبقے سے ہے اس لیے ان سے توقع کرنا کہ وہ امریکا سے غربت کے خاتمے یا غربت کے شکار لوگوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے کچھ کریں گے یا اس حوالے سے پالیسی سازی کے لیے سوچیں گے عبث معلوم ہوتاہے کیونکہ وہ ذہنی طورپر غربت کے مفہوم ہی سے نا آشنا ہیں اور جنھیں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ غربت ہوتی کیاہے ان سے کسی اصلاح کی امید رکھنا لاحاصل ہے۔
غربت دراصل محرومی کی ایک شکل ہوتی ہے جس میں انسان کے پاس وقار اور عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کاکوئی وسیلہ نہیں ہوتاہے نہ ان کے پاس اتنی رقم ہوتی ہے کہ وہ آسانی اور عزت ووقار کے ساتھ زندگی گزارسکیں اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جس کے ذریعہ وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکیں۔غربت کی اس تعریف کی بنیاد پر 2015 میں کئے گئے ایک سروے کی رپورٹ سے یہ انکشاف ہواتھا کہ 4 کروڑ 31 لاکھ امریکی غربت سے دوچار ہیں یعنی امریکا کی 13.5 فیصد آبادی ایسی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے کہ ان کے پاس نہ تو کھانے کے لیے روٹی ہے اور نہ تن ڈھانپنے کے لیے مناسب لباس اورنہ ہی خود کو سخت سردی سے محفوظ رکھنے کاکوئی سامان۔
امریکا کی آبادی میں بچوں کا تناسب23.1 فیصد ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکا میں 33.3 فیصد بچے یعنی ہر تیسرا بچہ غربت کے ماحول میں زندگی گزار رہاہے جہاں اسے زندگی گزارنے کے لیے نہ تو مناسب خوراک میسر ہے اور نہ لباس اور نہ ہی تعلیم اور علاج معالجے کی مناسب سہولتیں ۔
2013 میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے امریکا میں بچوں کی صورتحال پر ایک سروے کے بعد جو رپورٹ شائع کی تھی اس میں انکشاف کیاگیاتھا کہ امریکا کے بچوں میں غربت کی شرح پوری ترقیاتی دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔2013 میں امریکا میں کئے گئے ایک سروے رپورٹ سے ظاہرہواتھا کہ امریکا میں ایک کروڑ67لاکھ بچے ایسے گھرانوں میں پرورش پارہے ہیں جن کے پاس خوراک کی فراہمی کا کوئی معقول اور مناسب ذریعہ موجود نہیں ہے اوران بچوں کو وہ غذائیت میسر نہیں ہے جو ایک صحت مند بچے کے لیے ضروری ہوتی ہے۔
واشنگٹن ڈی سی کی ایک ریسرچ سے متعلق ادارے نے رواں سال یعنی 2016 کے دوران ہی ایک سروے کیاتھا جس میں اس بات کاتجزیہ کیاگیاتھا کہ امریکا کی پالیسیوں میں اصلاحات سے امریکی عوام کس طرح متاثر ہوتے ہیں یاان پر اس کے کیااثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیاتھا کہ غربت پر قابو پانے کی موثر اور جامع پالیسیاں نہ ہونے کے سبب کم عمر بچے اور نوعمر نوجوان دووقت کی روٹی اور دیگر ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے مناسب ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ گروہوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور وہ اسٹریٹ کرائمز ، چھین جھپٹ ، منشیات کی فروخت یہاں تک کہ دوسروں کی جنسی ضروریات کی تکمیل کے ذریعے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرنے کی جستجو کرتے ہیں اور اسی جستجو کے دوران عام طورپر جیل پہنچ جاتے ہیں جہاں پہلے سے موجود جرائم پیشہ گروہوں کے ارکان ان کو اپنے گروہوں میں شامل کرلیتے ہیں اس طرح امریکا میں جرائم کی دنیا مضبوط سے مضبوط ہوتی چلی جاتی ہے۔
ایک دوسرے سروے رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی کہ بے گھری یعنی سرچھپانے کی جگہ نہ ہونے کی وجہ سے غربت کی شدت میں اور زیادہ اضافہ ہوتاہے،2014 میں امریکا میں بے گھر لوگوں کے حوالے سے کئے گئے ایک سروے رپورٹ کے مطابق امریکا میں25 لاکھ بچے سرچھپانے کی کسی معقول جگہ سے محروم ہیں اور سڑکوں ، فٹ پاتھوں ،پارکوں اور ایسے ہی دیگر مقامات پر زندگی کے دن گزارنے پر مجبور تھے ۔رپورٹ میں کہاگیاتھا کہ قابل برداشت کرائے کے مکانوں کی عدم دستیابی اور گھریلو تشدد بچوں کی اس بے گھری کا اصل سبب ہے۔
امریکا میں مردم شماری کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ امریکا کی 50 فیصد آبادی کا تعلق غریبوںا ورکم آمدنی والے طبقے سے ہے۔یعنی امریکا کا ہر دوسرا فرد کسی نہ کسی حد تک غربت اور کم مائیگی کا شکار ہے۔امریکا میں غربت کے حوالے سے رائو ڈیج ہینڈ بک کی رپورٹ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ امریکا کے نیو لبرل ایڈجسٹمنٹ اور عالمگیریت پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں غربت کی ایک نئی شکل ابھر کر سامنے آئی ہے۔
رواں سال یعنی جون 2016 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے امریکی حکام کو متنبہ کیاتھا کہ اسے امریکا میں بڑھتی ہوئی غربت پر قابو پانے کے لیے لوگوں کی کم از کم اجرتوں میں اضافہ کرنا چاہئے اور خواتین کے لیے تنخواہ کے ساتھ زچگی کی چھٹیوں کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین لیبر فورس میں شامل ہوسکیں اور اس طرح خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ ہو اور غربت کی شرح کم ہوسکے۔آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کہاتھا کہ مناسب پالیسیاں نہ ہونے کے سبب عام طورپر خواتین کم عمری ہی میں حاملہ ہوجاتی ہیں اور پھر اپنے بچوں کی اچھی طرح دیکھ بھال نہیں کرپاتیں اور غربت کی وجہ سے ان کی پرورش کے لیے ان کو مناسب غذائیت اور دوسری سہولتوں کی فراہمی سے قاصر رہتی ہیںجس کی وجہ سے ان کے بچے یاتو اسکول جاہی نہیں پاتے یا درمیان ہی میں اسکول چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے بچے معیاری تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں۔کیونکہ امریکا میں تعلیمی نظام کا خرچ کمیونٹیز کو اٹھانا پڑتاہے جس کی وجہ سے معیاری تعلیم متمول طبقے کی میراث بن کر رہ گئی ہے۔نامناسب تعلیم کی وجہ سے بچوں کی ذہنی نشوونما نہیں ہوپاتی، انھیں ان کی صلاحیتوں کے مطابق ملازمتیں نہیں مل پاتیں جس سے عدم مساوات کی شرح میں اضافہ ہوتاہے۔
امریکا میں غربت کے حوالے سے ان اعدادوشمار کی موجودگی کے باوجود یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکا کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اب تک غربت کے خاتمے یا اس میں کمی کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک غربت کے خاتمے اوراس پر موثر کنٹرول کے لیے اقدامات نہیں کئے جاتے امریکا حقیقی معنوں میں دنیا کی عظیم طاقت کہلانے کے قابل نہیں بن سکتا۔لہٰذا اب بھی وقت ہے کہ امریکا کے نو منتخب صدر حقائق کاادراک کرتے ہوئے امریکا سے غربت کے خاتمے کے لیے موثر اور قابل عمل پالیسیوں کااعلان کریں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے قابل عمل حکمت عملی وضع کریں ۔ کیا نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ایسا کریں گے اس کا جواب بہت جلدی سامنے آجائے گا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر