وجود

... loading ...

وجود

’’اسدی حکومت شہریوں کو بھی دہشت گردسمجھتی ہے‘‘شامی استاد

جمعرات 15 دسمبر 2016 ’’اسدی حکومت شہریوں کو بھی دہشت گردسمجھتی ہے‘‘شامی استاد


ہمیں آزادی اور سماجی انصاف چاہیے،مرتے دم تک حلب نہیں چھوڑیں گے ، محصورشہریوں کی گفتگو
حکومت نے انسانی بنیادوں پر راستوں کے بارے میں جھوٹ بولا،انگریزی کے لیکچرار عبدالکافی

بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جارہا تھا کہ لوگ اب بھی یہاں کیوں قیام پذیر ہیں، چنانچہ بعض میڈیاذرائع نے حلب کے رہائشیوں سے فیس بک اور وٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ۔
حلب شام کا صنعتی مرکز تھا اور جنگ سے قبل اس کی آبادی تقریبا 20 لاکھ تھی۔10 لاکھ کے قریب افراد مغربی حصے میں رہتے جو نسبتا محفوظ علاقہ ہے۔
محمد کا کہنا تھا کہ ‘کچھ لوگ محاصرے سے پہلے نکل گئے تھے۔ اب کوئی بھی نہیں نکل سکتا۔جو افراد مشرقی حصے میں پھنسے ہوئے ہیں وہ تشویش ناک حالات میں رہ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے انسانی حقوق کے ادارے کے سربراہ سٹیفن او برین نے حال ہی میں اس علاقے کو ‘وحشت کا عروج قرار دیا تھا۔خوراک اور ایندھن ختم ہورہا ہے اور بنیادی انفراسٹرکچر اور صحت کی سہولیات معدوم ہوچکی ہیں۔باغیوں نے جوابی کارروائی کے طور پر مغربی حصے پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں وہاں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں، لیکن کم پیمانے پر۔حلب میں پھنسے شہریوں نے علاقہ نہ چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ ہمیں یہ بتائی کہ وہ یہاں پھنس چکے ہیں۔حلب میں یونیورسٹی کے 31 سالہ استاد محمد کا کہنا تھا کہ ‘کچھ لوگ محاصرے سے پہلے نکل گئے تھے۔ اب کوئی بھی نہیں نکل سکتا۔ڈاکٹر اسامہ ان 30 ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جو مشرقی حلب میں ڈھائی لاکھ افراد کا علاج معالجہ کرتے ہیں۔لوگ اپنے فون کا استعمال انتہائی احتیاط کے ساتھ کرتے ہیں کیونکہ فون کی بیٹری چارج کرنے کے لیے صرف چند گھنٹے کے لیے بجلی آتی ہے تاہم وہ باہر کی دنیا کے ساتھ رابطے میں ہیں۔32 سالہ ڈاکٹر اسامہ ان 30 ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جو مشرقی حلب میں ڈھائی لاکھ افراد کا علاج معالجہ کرتے ہیں۔ وہ صورتحال کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ‘شہر مکمل طور پر محاصرے میں ہے۔نہ خوراک، نہ بجلی، نہ صاف پانی، نہ حلب سے باہر جانے کا راستہ۔ عمومی صورتحال بہت خطرناک ہے۔ کسی بھی لمحے آپ بمباری یاا سنائپرز کا نشانہ بن سکتے ہیں۔
26 سالہ فاطمہ ایک استانی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں بالکل توقع نہیں تھی کہ محاصرہ ہوجائے گا۔وہ کہتی ہیں: ‘میرا تمام خاندان تین سال پہلے یہاں سے نکل گیا اور مصر اور ترکی چلا گیا۔ میں یہیں رکی رہی کیونکہ میں حلب یونیورسٹی میں اپنی قانون کی تعلیم مکمل کرنا چاہتی تھی۔ہم تصور نہیں کرسکتے تھے کہ ہم محصور ہوجائیں گے۔ ہم نے سوچا نہیںتھا کہ حکومت ایسا کرے گی۔ محاصرے سے پہلے یہاں خوراک اور ادویات تھیں اور ہم بمباری کے عادی ہوچکے تھے۔ بمباری اب مزید خطرناک ہے۔
خیال رہے کہ شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے شہریوں کے انخلا کے لیے مختصر مدت کے ‘انسانی بنیادوں پر راستے کھولے تھے۔ تاہم مشرقی حصے کے شہری محفوظ انخلا کے بارے میں بھی سوال اٹھاتے ہیں۔یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد عبدالکافی کہتے ہیں: ‘حکومت نے انسانی بنیادوں پر راستوں کے بارے میں جھوٹ بولا ہے۔وہ کہتے ہیںاگرآپ اپنے خاندان کے ساتھ ہیں، اور ایک ڈاکو آتا ہے اور آپ کے بیٹے اور بیٹی کا قتل کر دیتا ہے اور پھر دس دن کے بعد وہ کہتا ہے ‘آئو اور ہمارے گھر مہمان بنو ‘، تو کیا آپ اس کا اعتبار کریں گے؟ان کاکہنا ہے کہ صدر اسد اور روسیوں نے عام شہریوں کا ہلاک کیا اور اب وہ کہتے ہیں’ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ہم واپس جانے کے بجائے پتے کھانے کو ترجیح دیں گے۔ عبدالکافی حلب میں تین سال سے قیام پذیر ہیں۔ حکومت کی مخالفت سے قبل وہ کسی دوسرے شہر میں لیکچرار تھے۔ وہ صدر اسد کے خلاف مظاہروں میں بھی شریک رہے تھے۔وہ کہتے ہیں: ‘مجھ پر الزام عائد کیا گیا اور میں بھاگ کر حلب آگیا۔ اسد کی حکومت ہم سب کو دہشت گرد سمجھتی ہے۔ ہم اپنا دفاع کرتے ہوئے مر جائیں گے۔ میں جنگجو نہیں ہوں لیکن میں لڑتے ہوئے مروں گا۔
فاطمہ کا کہنا ہے کہ لوگوں کے علاقہ نہ چھوڑنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت غریب ہیں۔وہ کہتی ہیں ان کے پاس کسی دوسری جگہ گھر کے کرائے کے لیے یا خوراک خریدنے کے لیے یا پھر شام چھوڑ کر ترکی یا کسی دوسرے ملک جانے کے لیے پیسے نہیں ہیں۔
ہم نے جس سے بھی بات کی انھوں نے حلب چھوڑنے سے انکار کیا۔فاطمہ کہتی ہیں: ’’حلب میری زندگی اور میرا ملک ہے۔ میں اسے کیسے چھوڑ سکتی ہوں۔یہاں کے لوگ عام شہری ہیں۔ وہ جنگجو نہیں ہیں۔ وہ حکومت سے آزادی چاہتے ہیں۔‘‘
اسماعیل امدادی تنظیم وائٹ ہیلمٹس کے رضا کار ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی حلب نہیں چھوڑیں گے۔وہ کہتے ہیں ’’میں اس لیے رکا ہوا ہوں کیونکہ یہ میری سرزمین ہے اور میرا شہر ہے۔ یہ میرا گھر ہے۔ ‘اسماعیل کا کہنا ہے کہ ‘ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں۔ ایک ماہ میں روٹی اور ایندھن ختم ہوجائے گا۔ ہمیں امید ہے کہ محاصرے کا خاتمہ ہوگا۔ لیکن ہم روٹی یا خوراک نہیں مانگ رہے ہمیں آزادی اور سماجی انصاف چاہیے۔ڈاکٹر اسامہ کہتے ہیں: ‘بہت سارے لوگ حلب چھوڑنے کے بجائے مرنے کو ترجیح دیں گے۔اگر ہم حلب سے باہر گئے تو ہم اپنا گھر کھو دیں گے اور ہمارا گھر ہماری زندگی ہے اور حکومت اور روسی جیت جائیں گے۔ہم نے عبدالکافی کا اس وقت انٹرویو کیا جب وہ بچوں کو انگریزی پڑھا رہے تھے۔ انھوں نے اپنی کلاس کے ایک بچے حماد سے پوچھا کہ کیا وہ حلب چھوڑ کر جائیں گے۔حماد نے جواب دیانہیں، میں بالکل نہیں جائوں گا۔میں یہیں رہتا ہوں اور میں یہیں رہوں گا۔ یہ میری سرزمین ہے۔عبدالکافی کی آٹھ ماہ کی بیٹی ہے اور دوسرے لوگوں کی طرح عبدالکافی کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ حلب میں ہی رہیں گے۔وہ کہتے ہیں: ‘خطرہ ہر جگہ ہے لیکن آزادی ہر جگہ نہیں ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ‘وہ بچے جو ہلاک ہوئے ان کا خون ہمیں معاف نہیں کرے گا۔ جو لوگ تکالیف کا سامنا کر رہے ہیں وہ ہمیں معاف نہیں کریں گے۔ آزاد ہونا زمین پر کسی بھی چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر