... loading ...
2010 سے 2015 کے درمیان سیلابوں ، بارشوں اور آندھیوں سے پاکستان میں انفرااسٹرکچر کو 35 ارب ڈالر کا نقصان پہنچا
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آنے والی آفت سماوی سے جہاں بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان ہوتاہے، کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچتاہے، وہیں اس ملک کے تعلیمی اداروں کو ان کی وجہ سے دُہرا نقصان برداشت کرنا پڑتاہے اول یہ کہ سیلاب وطوفان،بارشوں اور زلزلوں کی صورت میں عام عمارتوں کی طرح تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچتاہے جبکہ جو عمارتیں تباہی سے بچ جاتی ہیں، آفت زدگان کو ان میں عارضی پناہ دی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان عمارتوں کو بعض اوقات ناقابل تلافی نقصان پہنچتاہے ۔اس کے ساتھ ہی ماحولیات کی تباہ کاریوں میں اضافے سے بھی تعلیمی ادارے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے بڑی اور قابل غور بات یہ ہے کہ آفات سماوی کے گزرجانے کے بعد دیگر شعبوں کو پہنچنے والے نقصان کی جلد از جلد تلافی کرنے ،گر جانے والی عمارتوں کی تعمیر اور نقصان زدہ املاک کی مرمت کرائی جاتی ہے لیکن اسکولوں کو قطعی نظر انداز کردیاجاتاہے جس کی وجہ سے یا توبچوں کو کھلے آسمان تلے تعلیم کاسلسلہ جاری رکھنے پر مجبور ہونا پڑتاہے یا پھر سرے سے اسکول کاخاتمہ ہی ہوجاتاہے ،اس صورت حال کے پیش نظر اب ایک ایسی پالیسی کی ضرورت محسوس کی جانے لگی ہے جس کے تحت اسکولوں اور دیگر تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو آفات سماوی سے حتی الامکان محفوظ رکھا جاسکے اورجن عمارتوں کونقصان پہنچے دیگر عمارتوں اوراملاک کی طرح ان کی بھی فوری طورپر مرمت اور تعمیر کویقینی بنایاجاسکے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ 2010سے2015کے دوران پورے ملک میں سیلابوں، بارشوں اور آندھیوں کے نتیجے میں ہزاروں سرکاری اسکولوں کی عمارتیں یاتو مکمل طورپر تباہ ہوگئیں یا انھیں جزوی طورپر نقصان پہنچا ۔اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے تخمینے کے مطابق اس دوران آفت سماوی کی وجہ سے پاکستان میں انفرااسٹرکچرز کی تباہی کی وجہ سے کم وبیش25بلین ڈالر یعنی 25 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ اس دوران میں ہونے والی تباہ کاریوں کے بعد مرمت اور تعمیر کے کام کیلئے کم وبیش35بلین یعنی35ارب ڈالر کی ضرورت پڑی جس سے ملکی معیشت کونقصان پہنچا اورمعاشی شعبے میں حاصل کی گئی کامیابیاں دھندلاکر رہ گئیں۔
اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے لگائے گئے تخمینوں اور ترتیب دی گئی رپورٹوں سے ظاہر ہوتاہے کہ گزشتہ 60برسوں کے دوران میں سیلابوں، طوفانوں، دریائوں کی بند ٹوٹنے، گلیشیئرز پگھلنے ،زمین سرکنے اورپہاڑی تودے گرنے سے پاکستان کو مجموعی طورپر جتنا نقصان اٹھانا پڑا ہے اس کا 80فیصد نقصان گزشتہ 5سال کے دوران میں ہوا ہے۔ان آفات سماوی سے ہونے والے نقصانات کاتفصیلی جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ گزشتہ 5سال کے دوران میں ان آفات کے نتیجے میں ملک میں تعلیمی انفرااسٹرکچر کو شدید نقصان کاسامنا کرناپڑاہے اور ان کے نتیجے میں دیہی علاقوں میں قائم بیشتر اسکولوں کی عمارتوں کی تعمیر ومرمت اب تک ممکن نہیں ہوسکی ہے۔جس کی وجہ سے ان تباہ شدہ اسکولوں کے طلبہ وطالبات کھلے آسمان تلے اور درختوں کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے اور اسی حالت میں امتحانات کی تیاری کرکے امتحانات دینے پر مجبور ہیں۔
2010سے2015کے دوران میں ملک بھر میں آنے والے سیلابوں اور طوفانوں سے تعلیمی اداروں کوجس بری طرح نقصان پہنچا ہے اس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ ہمارے ملک کے اسکولوں اور دیگر سرکاری تعلیمی اداروں میں آفات سماوی کی سختیاں برداشت کرنے کی صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ دنیا بھر میں آنے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر اب یہ واضح ہوچکاہے کہ دنیا اور اس خطے کے دیگر ممالک کی طرح اب پاکستان کو بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ بارشوں، آندھیوں، طوفانوں،زلزلوں اور سیلابوںکا سامنا کرناپڑے گا۔جس کااندازاحال ہی میں ملک کے مختلف علاقوں میںمختلف شدت کے آنے والے زلزلوں سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے۔
آفات سماوی سے ہمارے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان اور ا س کی وجہ سے ہلاک وزخمی ہونے والوں کا تفصیلی جائزہ لیاجائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ 2005کے دوران میں پاکستان میںآنے والے زلزلے کے نتیجے میں 18ہزار بچے ہلاک ہوئے جبکہ اس کی وجہ سے اسکولوں کی58ہزار سے زیادہ عمارتیں منہدم ہوجانے کی وجہ سے ان سے بہت زیادہ بچے زخمی ہوئے۔آفات سماوی کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی بڑے پیمانے پر تباہ کاریوں کے پیش نظر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی شعبے کیلئے ایسی پالیسی وضع کی جائے کہ جس کے تحت تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی تعمیر پر خصوصی توجہ دے کر ان عمارتوں میںآفات سماوی برداشت کرنے کی زیادہ سے زیادہ صلاحیت ہو اورغیر متوقع بارشوں، سیلاب یا زلزلوں کی صورت میں یہ پہلے ہی دھچکے میں زمین بوس نہ ہوں۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ سرکاری اسکولوں خاص طورپر دیہی علاقوں کے اسکولوں کے طلبہ اور اساتذہ کو آفات سماوی کی صورت میں متوقع تباہ کاریوں سے بچنے اور ان کامقابلہ کرنے کی تربیت دی جائے تاکہ اس طرح کی آفات کی صورت میںانسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایاجاسکے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیںہے کہ اگر ملک پر آنے والی متوقع آفات سماوی کو مدنظر رکھ کر پالیسیاں ترتیب دی جائیں تو ان آفات کے نتیجے میں ملک کو معاشی طورپر ہونے والے بھاری نقصان سے بھی بچایاجاسکتا ہے اور بے شمار لوگوںکوموت کے منہ میں جانے سے بھی محفوظ رکھاجاسکتاہے۔اس طرح کی پالیسیوں کی تیاری اوران پر پوری طرح عملدرآمدکے نتیجے میں تعلیمی اداروں کو آفات جھیلنے کے قابل بنایاجاسکتاہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ رواں سال اگست میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے یونیسیف کے تعاون اور اشتراک سے اس حوالے سے ’’پاکستان کے اسکولوں کیلئے ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فریم ورک ‘‘ کے نام سے ایک منصوبہ پیش کیاہے، جس کامقصد تعلیمی شعبے کو تباہ کاریاںجھیلنے یا برداشت کرنے ،تعلیمی اداروں کو ماحولیات کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے اور کسی بھی تباہ کاری کی صورت میں اسکولوں کے طلباء اور اساتذہ کی حفاظت کویقینی بنانا ہے۔اس منصوبے میں اسکولوں کو حفاظتی اقدامات سے آگاہ کرنا، اسکولوں کی عمارتوں کو تعمیر کے دوران تباہ کاری جھیلنے یا برداشت کرنے کے قابل بنانے پر خصوصی توجہ دینا اوراسکول ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے منصوبے تیار کرنا ،ممکنہ تباہکاری کی صورت میںاسکولوں کو فوری خالی کرانے کی مصنوعی مشقیں کرانا ،نصاب میں تباہ کاری کے خطرات کوکم کرنے کے اقدامات کوشامل کرنااور ایسی غیر نصابی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا جس میں تقریری مقابلے اور پینٹنگز کی نمائشوں کا انعقاد اوراسکولوں کے بچوںاو راساتذہ کی حساس صورتحال کے مدنظر ان کی اس بات کی رہنمائی کرنا کہ ان کی جانیں کس طرح بچائی جاسکتی ہیں ،شامل ہیں۔اس امر میںکوئی شبہ نہیں
کہ ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ فریم ورک ‘‘ کے نام سے پیش کیاجانے والا یہ منصوبہ اپنی جگہ قابل قدر ہے۔
یہ منصوبہ اور تجاویز قومی سطح پرحکومت اورنجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورتی اجلاسوں میں غور کے بعد پیش کیاگیاہے۔این ڈی ایم اے کے چیئرمین میجر جنرل اصغر نواز کے مطابق بین الاقوامی کنسلٹنٹس نے بھی اس کا جائزہ لیاہے۔
اتھارٹی نے پی ایس بی ڈی آر ایم کے تیار کردہ منصوبے پر آزمائشی طورپ 68سرکاری اور نجی اسکولوں میں عمل شروع کردیاہے۔ آزمائشی منصوبے کی کامیابی کے بعد اس کو ملک کے دیگر علاقوں تک وسعت دینے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے،منصوبے پر آزمائشی بنیادوں پر عملدرآمد کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور مسائل کاجائزہ لیاجائے گا اور انھیںدورکرنے کیلئے اس میں مناسب ترامیم کی جائیں گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سلیم شیخ
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...