وجود

... loading ...

وجود

بھارتی آبدوز کے بعد ڈرون ناکام زمینی وبحری کے بعد اب فضائی چھیڑچھاڑ ہندو بنیے کو بھرپور سبق سکھانا ضروری

اتوار 20 نومبر 2016 بھارتی آبدوز کے بعد ڈرون ناکام زمینی وبحری کے بعد اب فضائی چھیڑچھاڑ ہندو بنیے کو بھرپور سبق سکھانا ضروری

انڈین فوج کی گولہ باری سے ایک بھائی، دو بہنیں اور ایک کزن شہید،ضلع بھمبر میں چھمب اور سماہنی سیکٹرز جبکہ وادی جہلم میں چکوٹھی سیکٹر میں بھی انڈیا اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ
ڈرون پاکستانی حدود میں 60 میٹر اندر آگیا تھا، پاک فوج کی آگاہی پوسٹ نے نشانہ بنا کر ملبہ تحویل میں لے لیا، گزشتہ سال بھی پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب بھارتی جاسوس طیارہ مار گرایا تھا

pakistan-india

پاک فوج نے کشمیری علاقے رکھ چکری سیکٹر میں بھارتی کواڈ کاپٹر (ڈرون) مار گرایا۔ بھارتی ڈرون لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر پاکستانی حدود میں 60 میٹر اندر آگیا تھا، جسے پاک فوج کی آگاہی پوسٹ نے نشانہ بنایا۔ مار گرائے جانے کے بعد پاک فوج نے بھارتی ڈرون کا ملبہ اپنی تحویل میں لے لیا۔واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی پاک فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب پاکستانی حدود میں موجود بھارتی جاسوس طیارے کو مار گرایا تھا۔آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا تھا کہ جاسوس طیارے کو فوج نے لائن آف کنٹرول کے قریب بھمبر سیکٹر میں گرایا۔اطلاعات کے مطابق ہفتے کو لائن آف کنٹرول پر گرایا گیا ڈرون ویڈیو بنانے والا کواڈ کوپٹر تھا اور پاکستان کے دفاعی ماہرین کے مطابق یہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان کی فوجی چوکیوں اور فوجی پوزیشن کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔
اس سے قبل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حکام نے الزام لگایا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سے انڈین فوج نے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک بھائی اور دو بہنیں اور ایک کزن شہید ہوگئی ہیں۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کی فائرنگ کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا۔
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر ہندوستانی افواج کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزیاں حالیہ کچھ عرصے سے ایک معمول بن چکی ہیں۔
مظفر آباد سے صحافی اورنگزیب جرال نے بتایا کہ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ہفتہ کو بعد دوپہر ضلع کوٹلی کے کھوئی رٹہ سیکٹر میں شہری آبادی پر گولہ باری شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈین فوج مارٹر اور آرٹلری کا استعمال کررہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے ضلع بھمبر میں چھمب اور سماہنی سیکٹرز جبکہ وادی جہلم میں چکوٹھی سیکٹر میں بھی انڈیا اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ ہورہا ہے۔ اس کے نتیجے میں سماہنی سیکٹر میں اب تک چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ چکوٹھی سیکٹر میں لائن آف کنٹرول کے قریب واقعے کے بعدا سکول بند کردیے گے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کے دوران بھارتی فوج کی گولہ باری سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور ورکنگ باؤنڈری پر اب تک 28 عام شہری، دس فوجی اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ایک سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز بھارتی بحریہ کی جانب سے بھی پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی، تاہم پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔
ان حالات میں کہ جب نئی دہلی کی جانب سے اس خبر کی تردید کی جاچکی ہے پاکستانی دفاعی تجزیہ کار خیال ظاہر کرتے ہیں کہ یہ آبدوز خفیہ معلومات اکھٹا کرنے کے مقصد سے پاکستانی سمندری علاقے میں اور اس کے آس پاس موجود تھی، واضح رہے کہ اس آبدوز کے سامنے آنے کا وقت اور پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے گوادر کی بندرگاہ سے پہلے بیڑے کے روانہ ہونے کا وقت تقریباً ایک ہی ہے۔ماہر اینٹی سب میرین، ریٹائرڈ کموڈر ظفر اقبال خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ آبدوز شاید ساحل کے نزدیک پہنچ کر دہشت گرد گروہوں تک تخریب کاری کے لیے اسلحہ فراہم کرنے کی کوشش میں ہو۔
خصوصی آپریشنل پیرامیٹرز کی وجہ سے آبدوزوں کو اس قسم کی کارروائیوں کے لیے بہترین سمجھا جاتا ہے۔یہ مشن ان 15 میں سے کوئی ایک آبدوز انجام دے رہی تھی جو بھارتی بحریہ کی زیر سمندر بیڑے کا حصہ ہے۔
تاہم ان 15میں بھی چند آبدوزوں کے خراب یا مرمت کے لیے بھیجے جانے کے باعث بھارتی بحریہ کی موجودہ آپریشنل صلاحیت 15 آبدوزورں سے کم ہے، جبکہ بیڑے میں موجود چند آبدوزیں اپنی آپریشنل لائف کا 75 فیصد گزار چکی ہیں۔بھارتی بحریہ کی آبدوزوں کا یہ بیڑہ ممبئی کے مغربی حصے اور وساکھاپتنم کے مشرقی ساحل پر موجود ہوتا ہے۔
1980 میں لانچ کی جانے والی بھارتی بحریہ کے آبدوزوں کا بیڑہ 10 ڈیزل الیکٹرک کلو کلاس پر مشتمل ہے جسے بھارتی بحریہ میں ’سندھوگوش کلاس‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
بھارتی نیوی میں ایٹمی توانائی سے لیس ایکولا کلاس کشتی بھی شامل ہے، جسے روسی فیڈریشن سے 10 سال کی لیز پر بھارتی بحریہ کے بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔کارروائی کیلیے آنے والی بھارتی آبدوز کے بارے میں بھی یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ سندھو گوش کلاس کی آبدوز تھی، اس آبدوز کی زیادہ سے زیادہ رفتار 18 ناٹس کے قریب ہے اور یہ 800 فیٹ گہرائی تک جانے کی صلاحیت رکھتی ہے، رپورٹ کے مطابق، 53 افسروں اور ملاحوں سے لیس یہ آبدوز تقریباً 45 دن تک زیر سمندر رہ سکتی ہے۔
ان آبدوزوں کو معمول کے مطابق سطح پر آنا پڑتا ہے یا بیٹریز کو چارج کرنے کے لیے آبدوز کو اسنارکلنگ کی گہرائی تک لانا پڑتا ہے۔
آبدوزوں کے کمانڈر، وائس ایڈمرل ریٹائرڈ تسنیم کہتے ہیں کہ ’انڈین آبدوز کے پیری اسکوپ سطح تک آنے کی وجہ شاید اس کی بیٹریز کا خشک ہوجانا تھا اور اس کے پاس کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ سطح پر آکر بیٹریز کو چارج کرے۔
اس مخصوص معاملے میں امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آبدوز اسنارکلنگ کے دوران پکڑ میں آئی، جس کے بعد پاکستان بحریہ کے اینٹی سب میرین وارفیئر (اے ایس ڈبلیو) نے اس کی کھوج لگائی یا ریڈار اور سونار( آواز کی لہروں ) سے اس کی اطلاع حاصل کی۔
اگرچہ بھارتی آبدوز اسنارکلنگ کے بعد پانی میں واپس چلی بھی گئی تھی تو پاک بحریہ اے ایس ڈبلیو کو اس کی موجودگی کا اندازہ ہوچکا تھا اور یہ معلومات سرفیس یونٹس کو فراہم کرنے کے بعد آبدوز کی تلاش اور مقام کی نشاندہی کا آغاز کردیا گیا۔
حاصل ہونے والی معلومات کا استعمال کرتے ہوئے اے ایس ڈبلیو کے ہیلی کاپٹرز اور جہاز جن میں پی 3سی اوریون اور اٹلانٹک شامل ہیں، ان کی جانب سے سونوبوائز گرا کر آبدوز کو گھیرے میں لیا گیا ہوگا جبکہ ہیلی کاپٹروں سے بھیجے گئے سونارز کی مدد سے بھی سونار پنگس کی معلومات حاصل کی گئی ہوگی۔پاک بحریہ کی جانب سے کی جانے والی اس ساری کارروائی کا اندازہ بھارتی آبدوز نے بھی لگالیا ہوگا جس سے انہیں اپنے پکڑے جانے کی تصدیق ہوگئی۔پاک بحریہ کے علم میں آجانے کے بعد آبدوز کے عملے کے پاس اور کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ پلٹ کر اپنی بندرگاہوں کی جانب لوٹ جائیں اور پاکستانی اے ایس ڈبلیو نے بھی اپنا گھیرا اس وقت تک برقرار رکھا ہوگا جب تک آبدوز کا پاکستانی علاقے سے نکل جانے کا یقین نہیں ہوگیا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر