... loading ...
بنیادی شہری سہولیات،اداروں میں رابطے کا فقدان ،کرپشن شہر کی زبوں حالی کا سبب،پنج سالہ منصوبہ تیار کرکے اسٹرکچرل خامیاں دور کی جائیں تاکہ 2020 تک اقتصادی ترقی کا مرکز بن جائے
عالمی بینک نے گزشتہ دنوں اپنی رپورٹ میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کی رفتار میں تیزی کی تعریف کرتے ہوئے جہاں معاشی نمو کی رفتار برقرار رکھنے کے لیے بعض تجاویز پیش کی تھیں وہیں ملک کے معاشی مرکز کے طورپر کراچی کی سابقہ حیثیت بحال کرنے اوراسے عالمی سطح کاشہر بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کی ضرورت کا اظہاربھی کیاتھا۔عالمی بینک نے کراچی کی ملک کے معاشی حب کی حیثیت بحال کرنے کے لیے اپنی سفارشات میں کہاہے کہ کراچی کو اس کی پہلی جیسی حیثیت میں بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس شہر میں موجود اسٹرکچرل خامیوں کو سنجیدگی سے دور کرنے کے لیے باقاعدہ ایک پنج سالہ منصوبہ ترتیب دیاجائے تاکہ 2020 تک یہ شہر اس ملک کامعاشی اور اقتصادی ترقی کا مرکز اور دنیا کی توجہ کا مرکز بن جائے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی جو برسہا برس اس ملک کا اقتصادی اور صنعتی مرکز رہاہے اور پورے ملک کے بیروزگار ہنر مند اور بے ہنر ،تعلیم یافتہ اور ناخواندہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا بڑا ذریعہ رہا ہے ان دنوں سنگین مسائل سے دوچار ہے اور اس شہر کے لوگوں کی اکثریت بنیادی سہولتوں سے محروم نظر آتی ہے۔ اس شہر کی بیشتر بلکہ 90فیصد سے زیادہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، اس شہر کاٹرانسپورٹ کا نظام حکومت کی عدم توجہی اور ٹریفک پولیس اور ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی لاپروائی اور کرپشن میں ڈوب جانے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ مافیا کے رحم وکرم پر ہے،اس شہر کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں کھٹارا سے بھی ایک درجہ زیادہ خرابی کا شکار ہوچکی ہیں،جن میں اس شہر کے غریب اور کم وسیلہ لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بھر کر سفر کرنے پر مجبور کیاجارہاہے ۔ اس طرح ان بسوں ، ویگنوں اورکوچز کے نام پر چلنے والے کھٹارا ڈبوں میں سفر کے بعد منزل مقصود تک پہنچنے والے لوگ کئی گھنٹے تک اپنے حواس ہی بحال نہیں کرپاتے۔دہشت گردوں اور اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام کے لیے چیکنگ کے نام پر پولیس نے جگہ جگہ ناکے قائم کررکھے ہیں جہاں اسٹریٹ کرائمز کا کوئی ملزم تو آج تک گرفت آتے نظر نہیں آیا لیکن وہاں موجود پولیس اہلکاران ناکوں پر غریب موٹرسائیکل سواروں روک کر ان کی جیبیں باقاعدگی سے خالی کراتے ضرور نظر آتے ہیں ۔واٹر بورڈ عام شہریوں سے بل تو باقاعدگی سے وصول کرتاہے لیکن پانی کی ضرورت کم ہی شہریوں کی پوری ہوتی ہے،صفائی کے نظام کی ابتری کایہ عالم ہے کہ شہر کی گلیاں تو کجا کوئی مین روڈ ایسا نظر نہیں آتاجہاں کچرے کے ڈھیر نہ لگے ہوں ۔شہریوں کو آتشزدگی کے واقعات سے محفوظ رکھنے اور اس طرح کے واقعے کی صورت میں فوری مدد کی فراہمی کا نظام اس قدر ابتر ہوچکاہے کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پانی کے بغیر کھڑی نظر آتی ہیں اور کسی واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پانی کی تلاش شروع کی جاتی ہے۔ہسپتالوں کی صورت اس قدر ناگفتہ بہ اور کرپشن کی وجہ سے ابتری کاشکارہوچکاہے کہ ہسپتال کی اوپی ڈی میں لائے جانے والے مریض تڑپتے رہتے ہیں اور وہاں موجود عملہ گپ شپ میں مصروف رہتاہے اور اگر کوئی توجہ دیتابھی ہے تو معمولی بینڈج تک ہسپتال میں دستیاب نہیں ہوتا اور مریض کے لواحقین کو اس کی خریداری کے لیے بھی ہسپتال کے باہر کی دکانوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔
مذکورہ بالا تمام مسائل کے باوجود اس شہر میں تیزی سے ترقی کرکے عالمی معیار کا شہر بننے کی پوری صلاحیتیں اور خوبیاں موجود ہیں اور ان ہی خوبیوں کو دیکھتے ہوئے عالمی بینک نے پورے ملک میں صرف اسی شہر کو ترقی دینے کے لیے سفارشات پیش کی ہیں۔
عالمی بینک نے اس شہر کو عالمی سطح کاشہر اور ملک کا معاشی اور اقتصادی مرکز بنانے کے لیے جو سفارشات پیش کی ہیں وہ 4 نکات پر مشتمل ہیں ،ان میں پہلا مشورہ یا تجویز یہ ہے کہ اس شہر کے تمام اداروں کو ایک دوسرے سے مربوط بنانے کے ساتھ تمام اداروں کے افسران بالا کے موثر احتساب کا طریقہ کار متعین کیاجائے جس کے تحت کوئی بھی اپنی ذمہ داری کسی اورپر ڈال کراحتساب سے نہ بچ سکے ، اس شہر کے وسائل انتہائی دیانتداری کے ساتھ اس شہر کی ترقی اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور ان کے مسائل حل کرنے پر خرچ کئے جائیں اور وسائل کے غلط استعمال میں ملوث لوگوں کو فوری طورپر احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرکے ان کو کڑی سزائیں دی جائیں۔
عالمی بینک کی سفارشات کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس شہر کو صاف ستھر ا بنا کر اس کو سرسبز شہر بنانے کی توجہ دی جائے تاکہ شہریوں کو بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس کی وجہ سے پھیلنے والی سنگین بیماریوں سے نجات مل سکے ۔انفرااسٹرکچر کے درمیان خلاپر کیاجائے اور اس حوالے سے فنڈز اس شہر کی دیکھ بھال اور ٹوٹ پھوٹ کی مرمت کے لیے محفوظ رکھا جائے۔ماحول کی تبدیلی اور ترقی کی رفتار پر منفی اثر ڈالنے والے عوامل کا خاتمہ کیا جائے۔
عالمی بینک کی جانب سے پیش کردہ تیسری سفارش یہ ہے کہ اس شہر کے اقتصادی ، سماجی اور ماحولیاتی اثاثوں میں توازن پیدا کیاجائے ،شہرمیں انفرااسٹرکچر کی بحالی کے کام میں نجی شعبے کو شریک کیا جائے ،زیادہ بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب ترغیبات فراہم کی جائیں۔اس شہر میں موجود سرکاری اراضی کو صحیح طورپر استعمال کیاجائے تاکہ انفرااسٹرکچر کی درستگی سے وسائل مہیا ہوسکیں۔
عالمی بینک کی چوتھی سفارش یہ ہے کہ اس شہر کواسمارٹ شہر میں تبدیل کیاجائے اور اس شہر کے وسائل کو تخلیقی کاموں کے لیے استعمال میں لایاجائے۔شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مقابلے کا ماحول تیار کرنے اور اس میں اضافہ کرنے،باہمی رابطے بڑھانے اور سرمایہ کار دوست ماحول پیدا کے لیے مناسب اور قابل عمل ایسی پالیسیاں تیار کی جائیں جن کے تحت کرپشن کے دروازے نہ کھولے جاسکیں۔
عالمی بینک نے کراچی کی سڑکوں پر گاڑیوں اورموٹر سائیکلوں کی ضرورت سے زیادہ بھرمار کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل سے نمٹنے کے لیے موثر اور قابل عمل ٹرانسپورٹ پالیسی تیار ،پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی دورکرنے اور اس کو بلا تاخیر عملی شکل دینے کی بھی سفارش کی ہے۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ کراچی میں گزشتہ برسوں کے دوران نہ صرف یہ کہ دنیا کے دوسرے شہروں بلکہ پاکستان کے دوسرے شہروں سے بھی مقابلہ کرنے کی طاقت میں انتہائی کمی واقع ہوئی ہے ۔انفرااسٹرکچر کے عدم وجود ، بجلی کی بار بار بندش اور لوڈ شیڈنگ ،سیاسی عدم استحکام ،بھتہ خوری اور لوٹ مار کے واقعات کی وجہ سے اس شہر کاتجارتی ماحول بری طرح متاثر بلکہ تباہ ہوگیاہے۔جبکہ بے تحاشہ درآمدات کی وجہ سے ملک کے چھوٹے صنعتکاروں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔اس کے نتیجے میں 2015 کی رپورٹ کے مطابق کراچی سکونتی سہولتوں کے اعتبارسے دنیا کے 10 بڑے شہروں کی فہرست میں سب سے نچلی سطح پر پہنچ گیاتھا۔اس کاسبب یہ ہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران شہری منصوبہ بندی اور اس کی مینٹیننس اورسہولتوں کی فراہمی کانظام شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافے کی رفتار کاساتھ نہیں دے سکا نشہر میں موجود کھلے مقامات ،پارک اور کھیل کے میدان بلند وبالا عمارتیں تعمیر کرنے والے بلڈرز کے قبضے میں چلے گئے اور یہ شہر بتدریج ناقابل رہائش ہوتاچلاگیا۔
کراچی کی حالت زار کے بارے میں عالمی بینک کی یہ رپورٹ اور اس شہر کی رونقیں اور اس کی حیثیت بحال کرنے کے بارے میں عالمی بینک کی سفارشات کی اہمیت اور افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے منتخب بلدیاتی ارکان ،اور صوبائی اور وفاقی حکومتیں اس شہر کو حقیقی معنوں میں عالمی معیار کا شہر بنانے کے لیے اس کو کس حد تک وسائل فراہم کرنے پر تیار ہوتی ہیں اور ان وسائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنانے اور انھیں خورد برد سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی بینک کی سفارشات پر عمل کرنے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہیں۔
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...
فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...
یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...