وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی زمینوں سے2ماہ میں ریکارڈ توڑ تعداد میں ہتھیار برآمد

پیر 14 نومبر 2016 کراچی کی زمینوں سے2ماہ میں ریکارڈ توڑ تعداد میں ہتھیار برآمد

رینجرز اور پولیس نے دوماہ میں جتنی بھاری مقدار میں گولہ باروداوراسلحہ برآمد کیا اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی،مالیت کروڑوں روپے میں ہے ،ذرائع57f5126749015کراچی میں گزشتہ دو ماہ کے عرصے کے دوران رینجرز اور پولیس نے کارروائیوں کے دوران جتنی بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا اس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی ۔دو ماہ کی قلیل مدت میں ملنے والا یہ اسلحہ کروڑوں روپے مالیت کا ہے، برآمد ہونےوالے ہتھیاروں میں انتہائی جدید اور قیمتی ہتھیار بھی شامل ہیں ۔عسکری ذرائع کے مطابق برآمد ہونےوالے ہتھیار گوریلا جنگ لڑنے کے لئے مہینوں کام آسکتے ہیں، اس حوالے سے حیرت انگیز امر یہ ہے کہ یہ ہتھیار کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں کس ذریعے سے پہنچے ؟یہ واقعتا غور طلب بات ہے ۔کیوں کہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نہ صرف تعینات ہے بلکہ اپنے فرائض بھی بڑے احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے،26ستمبرکوکراچی میں رینجرزنے قصبہ علی گڑھ کالونی میں کارروائی کرتے ہوئے دوملزمان کوگرفتارکیا،ترجمان رینجرزکے مطابق گرفتارملزم محمدعلی اورحسن رضاکاتعلق ایم کیوایم سے تھا،ترجمان کے مطابق برآمداسلحے میںایل ایم جی اور7ایس ایم جیزشامل ہیں،اسلحہ اوردھماکاخیزموادایک مکان میںچھپایاگیاتھا۔رینجرزترجمان کے مطابق رینجرزنے کارروائی مصدقہ اطلاعات پرکی۔27ستمبر کراچی میں پولیس کے ہاتھوں گرفتار کالعدم تنظیم کے دہشت گرد کی نشاندہی پر پولیس اور حساس ادارے نے غازی گوٹھ میں قبرستان میں دفن بڑی تعداد میں اسلحہ اور بارود برآمد کرلیا۔ پولیس نے حساس ادارے کے ہمراہ گرفتار کالعدم تنظیم کے ملزم عالمگیر کی نشاندہی پر اورنگی ٹاون غازی گوٹھ میں آپریشن کیا اور قبرستان میں کھدائی کے بعد چھ ایس ایم جیز ، چار رپیٹر ، چھ راکٹ لانچر ، آوان بم ، ہینڈ گرینیڈ ، ڈیٹونیٹر اور ہزاروں گولیاں برآمد کر لیں۔ ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق اسلحہ محرم الحرام میں دہشت گردی کے لیے چھپایاگیا تھا۔ بم ڈسپوزل سکواڈ کے اہلکار عابد فاروقی کے مطابق برآمد کیا گیا بارودی مواد انتہائی مہلک تھا جو کافی تباہی پھیلا سکتا تھا۔ 20ستمبر 2016 کراچی کے علاقے اورنگی ٹاو¿ن میں رینجرز نے کارروائی کر کے بھاری تعداد میں تخریب کاری کا سامان برآمد کر لیا۔ اورنگی ٹان قصبہ کالونی میں رینجرز نے گرفتار ملزم کی نشاندہی پر چھاپہ مارا۔ کارروائی کے دوران زیر زمین چھپایا گیا اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔رینجرز ذرائع کے مطابق برآمد کیے گئے اسلحہ میں کلاشنکوف، رائفل، نائن ایم ایم پستول، بولٹ پروف جیکٹس، بارودی مواد اور سیکڑوں کی تعداد میں گولیاں شامل ہیں۔5اکتوبر کوکراچی پولیس نے حساس اداروں کی نشاندہی پر عزیز آباد کے علاقے بلاک ایٹ میں لال قلعہ کے قریب مکان پر چھاپا مارا جس دوران زیر زمین پانی کے ٹینک میں چھپایا گیا بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر لیا ۔اسلحہ دہشت گردی کیلیے استعمال کیا جانا تھا۔پولیس کا کہنا تھا کہ اسلحے میں اینٹی ایئر کرافٹ گنز، اسنائپر رائفلیں، بلٹ پروف جیکٹس، ایس ایم جی ، ایل ایم جی، دستی بم، رائفلیں ، ہیلمٹ ، بڑی مقدار میں گولیاں اور راکٹ لانچر سمیت دیگر اسلحہ برآمد کیا ۔پولیس کے مطابق اسلحہ اتنی بڑی تعداد میں تھا کہ اس کی منتقلی کے لیئے چار ٹرک منگوائے گئے تھے،بعدازاں یہ اسلحہ فرانزک کے لیئے پاک فوج کے حوالے کردیا گیا۔ 20اکتوبرکورینجرز اور حساس ادارے نے سخی حسن قبرستان کو گھیرے میں لیکر کارروائی کی اور زیر زمین چھپایا گیا اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔رینجرز نے 15گاڑیوں کی مدد سے سخی حسن قبرستان کو گھیرے میں لے لیااور کارروائی کے دوران قبرستان سے زیر زمین چھپایا گیا اسلحہ برآمد کر لیا گیا۔29اکتوبرکوپاکستان رینجرز سندھ نے کراچی کے علاقے مشرف کالونی میں زیر زمین چھپایا گیا اسلحہ برآمد کیا ۔ترجمان رینجرز کے مطابق کراچی کے علاقے مشرف کالونی میں رینجرز نے کارروائی کرکے ایک گھر پر چھاپہ مارا اور زمین کے نیچے چھپایا گیا اسلحہ برآمد کرلیا ہے ۔برآمد ہونے والے اسلحہ میں جی تھری ،5ایس ایم جیز ،2عدد 8ایم ایم رائفلز اور ہزاروں گولیاں شامل ہیں ۔ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ شہر میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔2نومبرکوپولیس پارٹی اور وفاقی حساس ادارے نے مشترکہ طور پر پہلے سے گرفتار ملزم اسدللہ ولد عبدالباسط کی نشاندہی پر پاک کالونی تھانے کے علاقے پرانا گولیمار عثمانیہ مسجد، سینٹرل مسلم آباد، غلام محمد ولیج شیرین بیکری کے قریب ایک مکان پر چھاپہ مارا ۔پولیس اہلکاروں کے وہاں پہنچنے پر پہلے سے موجود ملزمان نے پولیس پارٹی پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کردی جس پر پولیس پارٹی کی جانب سے بھی جوابی فائرنگ کی گئی۔کچھ دیر دوطرفہ فائرنگ کے بعد مسلح ملزمان تنگ گلیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موقع پر سے فرار ہوگئے۔موقع سے دہشتگردوں کے فرار ہونے کے بعد مذکورہ مکان کی تلاشی لی گئی تو وہاں سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد ہوا جسے پولیس تحویل میں لے لیا گیا۔ڈی آئی جی ویسٹ کے مطابق اسلحے میں 70عدد آوان شیل، 11عدد آر جی پی راکٹ، 11عدد بڑے آوان شیل، 3عدد مشین گنیں، 3عدد پستول بمعہ میگزین، ایک 7 MMرائفل، 8عدد گرانڈ شیپ میگزین، رپیٹرز، 70عدد ایس ایم جی کے میگزین، ایک راکٹ لانچر،7عدد رائفلوں سمیت دیگر بھاری اسلحہ اور گولیاں بھی برآمد کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ مکان لیاری گینگ وار اور بدنام زمانہ منشیات فروش ریاست کے کارندوں کے زیر استعمال تھا۔9نومبرکو کراچی کے علاقے فیڈرل بی ایریا میں رینجرز نے عزیز آباد کے قریب واقع ایک گھر سے 190بلٹ پروف جیکٹیں برآمد کرلیں۔ترجمان رینجرز کے مطابق مصدقہ اطلاع پر یہ کارروائی کی گئی، مذکورہ جیکٹیں گھر میں بنائے گئے خفیہ خانوں میں چھپائی گئی تھیں۔رینجرز کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ جیکٹیں ایم کیو ایم عسکری ونگ کے زیر استعمال تھیں جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں بطور ڈھال استعمال کی جاتی تھیں،10نومبرکوکراچی میں قانون نافذ کرنے والے ادارے نے اولڈ کلفٹن میں چھاپہ مار کر بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کر لیا۔ اسلحہ میں 23رائفلز اور بڑی تعداد میں گولیاں اور میگزین برآمد کی گئیں ہیں۔ کراچی پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر اولڈ کلفٹن کے علاقے میں کچرا کنڈی سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا۔ اسلحے میں 7ایم فور رائفلز، 6سب مشین گن، 2سیون ایم ایم رائفلز ہیں۔ اسلحے کی برآمدگی کے دوران 2 پولیس کیپ اور 2خنجر بھی برآمد ہوئے ہیں۔ 2نائن ایم ایم پستول سمیت 4 پستول بھی ملے ہیں جبکہ دیگر اسلحے میں 2پوائنٹ 22رائفلز، 4بارہ بور، ایک جی 3، ایک 222رائفل بھی شامل ہے۔ اسلحے کی برآمدگی کا مقدمہ بوٹ بیسن تھانے میں دہشت گردی کی ایکٹ کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ 11نومبر کو کراچی کے علاقے بہادر آباد کے مکان سے حساس اداروں اور سی ٹی ڈی نے کارروائی کرکے مدفون اسلحہ بڑی تعداد میں برآمد کرلیا ہے۔گزشتہ دو دنوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بڑی تعداد میں کراچی سے اسلحہ برآمد کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے سے گرفتار سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ملزمان کی نشاندہی پر بہادرآباد میں حساس اداروں اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ کارروائی کی اورمکان سے مدفون اسلحہ برآمد کرلیا۔برآمد شدہ اسلحے میں چالیس رائفلز، نائن ایم ایم پسٹلز، رپیٹر، کلاشنکوف، تیس بور پسٹلز اور ہزارروں گولیاں برآمد ہوئیں ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں عزیز آباد، کلفٹن ، فیڈرل بی ایریا اور دیگر علاقوں سے اس قبل بھی بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد ہوچکا ہے۔حساس اداروں نے ایک بار پھر شہر میں کشیدگی کے بعد جرائم پیشہ افراد کی گرفتاری کے لئے اپنا نیٹ ورک بڑے پیمانے پر پھیلادیا، دوران تفتیش حراست میں لیئے گئے ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد مذکورہ اسلحہ مکان میں چھپایا گیا تھا۔


متعلقہ خبریں


حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات وجود - بدھ 17 جون 2026

ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...

منشیات کیس ،پنکی کیخلاف بڑے نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب وجود - بدھ 17 جون 2026

منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...

کراچی میں پنکی کے بعد ایک اور منشیات گینگ بے نقاب

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان وجود - بدھ 17 جون 2026

رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...

سندھ حکومت کا مزید ڈبل ڈیکر اور ای وی بسیں لانے کا اعلان

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

مضامین
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش وجود بدھ 17 جون 2026
مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی بھارتی سازش

علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب وجود بدھ 17 جون 2026
علم، اعتدال اور اصلاحِ معاشرہ کا روشن باب

ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر