وجود

... loading ...

وجود

امریکی صدارت کے لیے جنگ ، ہلیری اور ٹرمپ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع

هفته 05 نومبر 2016 امریکی صدارت کے لیے جنگ ، ہلیری اور ٹرمپ میں کانٹے کا مقابلہ متوقع

دوبارہ تفتیش کے اعلان سے ہلیری کلنٹن کی مقبولیت میں کمی، ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچا،ایک دوسرے پر حملوں میں تیزی
اوباما بھی ہلیری کیلیے سرگرم،سیاہ فاموں، خواتین اور ہسپانوی نڑاد باشندوں کے ووٹ نتائج میں اہم کردار ادا کریں گے
0412trumpclintonmissouri8نومبر کو امریکا کے صدارتی انتخاب میں دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے جائزوں کے ساتھ ہی ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ایک دوسرے کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن، جن کی حالیہ دنوں میں مقبولیت کم ہوتی دیکھی گئی ہے، نے ایک بار پھر سے اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج اور خواتین کے ساتھ ان کے سلوک کے حوالے سے ان پر سخت تنقید کی ہے۔جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلٹن کی ای میلز اور ایف بی آئی کی تفتیش کے حوالے سے ان پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ صدر بن جاتی ہیں تو وہائٹ ہاؤس پہنچتے ہی ان کے خلاف جرائم کی تفتیش شروع ہو جائے گی۔
اگرچہ ایف بی آئی کی جانب سے ہلیری کے خلاف ای میلز کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان نے ہلیری کو خاصا دھچکا پہنچایا ہے اوربعض حالیہ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا اور نارتھ کیرولائنا جیسی کئی سوئنگ ریاستوں میں کافی اچھی حمایت حاصل کرلی ہے۔ بعض پول جائزوں میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ دونوں امیدواروں کے درمیان برابری کا مقابلہ ہے۔کہا جا رہا ہے کہ حال ہی میں ایف بی آئی نے ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تفتیش کے متعلق جو باتیں کہی تھیں اس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں انتخابی مہم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘ایک بار پھر سے کلنٹنز کا سامنا ہے، آپ کو مواخذے اور اس سے ہونی والی پریشانی یاد ہے۔ دوستوں ہمیں اپنے ملک میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ نارتھ کیرولائنا میں ایک دوسری ریلی سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے دفاعی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلیری کلنٹن کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔دوسری جانب ہلیری کلنٹن نے اپنی مہم میں ٹرمپ کے کردار پر توجہ مرکوز کی اور نارتھ کیرولائنا میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ وہ اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران اپنے نفرت انگیز حامیوں سے مبہم انداز کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی بھی کسی بڑی پارٹی کے امیدوار نے اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر ان انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت ہوتی ہے تو پھر ایک شخص کمانڈر ان چیف ہوگا جس میں گہرائی اور گیرائی نام کی چیز نہیں ہے اور جس کے خیالات بہت خطرناک ہیں۔
ایک جائزے کے مطابق اس مرتبہ امریکا کے صدارتی انتخابات میں ہسپانوی اور سیاہ فاموں کے ووٹ کلیدی کردار ادا کریں گے،صدر بارک اوباما نے بھی ہلیری کلنٹن کی ہی طرح ان کے لیے سخت انتخابی مہم شروع کی ہے تاکہ وہ نوجوان ووٹرز اور سیاہ فام رائے دہندگان کو یکجا کرسکیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ ہوتاہے کہ اگرچہ امریکی سیاہ فام صدر بارک اوباما سے زیادہ خوش نہیں ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بارک اوباما ان کی توقعات پر پورے اترنے میں ناکام رہے ہیں ،لیکن بعض جائزوں کے مطابق سیاہ فام ووٹرز ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہاپسندانہ اور نسل پرستانہ خیالات کی وجہ سے ان کے مقابلے میں ہلیری کو ہی ووٹ دینے کوترجیح دیں گے۔حال ہی میں جاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے 89 فیصد سیاہ فام ووٹروں کا کہنا ہے کہ وہ ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیں گے جبکہ 84 فیصد کا خیال ہے کہ رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نسل پرست ہیں۔ لیکن بہت سی رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سیاہ فام ووٹرز اس جوش و خروش کے ساتھ باہر نہیں نکل رہے ہیں جس طرح وہ بارک اوباما کے لیے 2008 اور 2012 میں نکلے تھے۔
امریکا میں صدارتی انتخابی مہم میں تیزی کے ساتھ ہی ایک بار پھر سے نسلی امتیازات پر بحث گرم ہوگئی ہے۔گزشتہ دو سال کے دوران پولیس والوں کے ہاتھوں بہت سے سیاہ نوجوانوں کی موت نے بھی نسل پرستی کی بحث کو انتخابی مسئلہ بنایا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکا میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما کے ابتدائی دنوں میں ان کے امریکی ہونے پر سوال اٹھایا اور پھر اس انتخابی مہم کے دوران بھی ان باتوں کو ہوا دے کر اس خلیج کو مزید وسیع کیا ہے۔افریقی نژاد کرس براؤن کلیولینڈ کی ایک لانڈری میں کام کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ ٹرمپ کو نسل پرست مانتے ہیں اور یہ طے کر چکے ہیں کہ انھیں ووٹ نہیں دیں گے، لیکن یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ ہلیری کے لیے ووٹ ڈالنے نکلیں بھی یا نہیں۔
ہلیری کلنٹن کے لیے یہ ووٹ اہم ہیں اوریہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اوباما تو کبھی مشیل اوباما کو ان علاقوں میں بھیج کر جوش پیدا کروانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تازہ جائزوں کے مطابق اب بھی 90 فیصد سیاہ فام ووٹرز اوباما کے لیے بہتر رائے رکھتے ہیں۔
ہلیری کلنٹن کے شوہر بل کلنٹن کی حکومت کے دوران سیاہ فام لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوئے تھے اور ہیلری اسی دور کو واپس لانے کا وعدہ کر رہی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی ریاستوں میں سیاہ فام ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاہ فام ووٹرز اگر ووٹ ڈالنے نہیں نکلتے ہیں تو اس کا سیدھا فائدہ ٹرمپ کو ہوگا اور ہیلری کلنٹن کی ٹیم یہ پیغام ان ووٹروں تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔آٹھ سال پہلے وائٹ ہاؤس میں پہلے سیاہ فام صدر کے پہنچنے کے بعد کچھ لوگوں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ امریکا نے شاید نسل پرستی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے لیکن 2016 کے امریکا کی تصویر اس امید سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ٹرمپ نے خود کو ‘لااینڈ آرڈر امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہوئے پولیس کو اپنا مکمل تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے۔ساتھ ہی ٹرمپ اب سیاہ فاموں سے کہہ رہے ہیں سیاہ فام ووٹروں کو ان کی طرف آنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس ‘کھونے کو کچھ بھی نہیں ہے اور ٹرمپ کے راج میں حالات بہتر ہی ہو سکتے ہیں، بدتر نہیں۔
ادھر ٹرمپ کی اہلیہ میلینا ٹرمپ نے بھی اپنے شوہر کی انتخابی مہم میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے جس سے انھیں کافی مدد مل رہی ہے۔میلینا نے ایک انتخابی مہم میں بتایا کہ وہ خود ایک مہاجر اور ماں ہیں اور کہا کہ ان کے شوہر امریکا کو بہتر بنا دیں گے۔فلڈیلفیا میں ایک انتخابی مہم سے خطاب کے دوران میلینا نے کہا کہ اگر وہ خاتون اول بنتی ہیں تو سائبر غنڈہ گردی اور موجودہ سخت اور بھدّی تہذیب کے خلاف وہ بذات خود مہم چلائیں گی۔لیکن انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے شوہر کی نازیبا اور گالی گلوج والی زبان کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا۔
امریکا کے صدارتی انتخابات میں سیاہ فاموں اور ہسپانوی نژاد باشندوں کے ساتھ ہی خواتین کے ووٹ بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔یہ ہے وہ صورتحال جس کا امریکا کے دونوں صدارتی امیدواروں کو سامنا ہے ،اب ان دونوں کی کوششوں کاکیا نتیجہ نکلتاہے اس کو دیکھنے کیلئے انتظار کی گھڑیاں ختم ہورہی ہیں۔


متعلقہ خبریں


تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے وجود - هفته 29 نومبر 2025

پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...

تحریک انصاف کا سینیٹ میں شدید احتجاج، عمران خان سے ملاقات کرواؤ کے نعرے

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور وجود - هفته 29 نومبر 2025

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...

اڈیالہ جیل کے باہر منگل کو احتجاج میں کارکنان کو کال دینے پر غور

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان وجود - هفته 29 نومبر 2025

  واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...

امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں ڈرون حملے کی ذمہ دار افغان حکومت ہے ،پاکستان

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط وجود - هفته 29 نومبر 2025

4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...

علیمہ خانم کا محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

مضامین
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا وجود هفته 29 نومبر 2025
تیجس حادثہ نے بھارت کو جھنجھوڑ دیا

وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں وجود هفته 29 نومبر 2025
وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں

منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر