... loading ...
دوبارہ تفتیش کے اعلان سے ہلیری کلنٹن کی مقبولیت میں کمی، ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچا،ایک دوسرے پر حملوں میں تیزی
اوباما بھی ہلیری کیلیے سرگرم،سیاہ فاموں، خواتین اور ہسپانوی نڑاد باشندوں کے ووٹ نتائج میں اہم کردار ادا کریں گے
8نومبر کو امریکا کے صدارتی انتخاب میں دونوں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے جائزوں کے ساتھ ہی ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں ایک دوسرے کے خلاف حملے تیز کر دیے ہیں۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن، جن کی حالیہ دنوں میں مقبولیت کم ہوتی دیکھی گئی ہے، نے ایک بار پھر سے اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کے مزاج اور خواتین کے ساتھ ان کے سلوک کے حوالے سے ان پر سخت تنقید کی ہے۔جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کلٹن کی ای میلز اور ایف بی آئی کی تفتیش کے حوالے سے ان پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ صدر بن جاتی ہیں تو وہائٹ ہاؤس پہنچتے ہی ان کے خلاف جرائم کی تفتیش شروع ہو جائے گی۔
اگرچہ ایف بی آئی کی جانب سے ہلیری کے خلاف ای میلز کی تحقیقات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان نے ہلیری کو خاصا دھچکا پہنچایا ہے اوربعض حالیہ جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا اور نارتھ کیرولائنا جیسی کئی سوئنگ ریاستوں میں کافی اچھی حمایت حاصل کرلی ہے۔ بعض پول جائزوں میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ دونوں امیدواروں کے درمیان برابری کا مقابلہ ہے۔کہا جا رہا ہے کہ حال ہی میں ایف بی آئی نے ہلیری کلنٹن کی ای میلز کی تفتیش کے متعلق جو باتیں کہی تھیں اس سے ڈونلڈ ٹرمپ کو فائدہ پہنچا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں انتخابی مہم سے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘ایک بار پھر سے کلنٹنز کا سامنا ہے، آپ کو مواخذے اور اس سے ہونی والی پریشانی یاد ہے۔ دوستوں ہمیں اپنے ملک میں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ نارتھ کیرولائنا میں ایک دوسری ریلی سے خطاب کے دوران ٹرمپ نے دفاعی امور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہلیری کلنٹن کے کمانڈر ان چیف کی حیثیت سے وہ تصور بھی نہیں کر سکتے۔دوسری جانب ہلیری کلنٹن نے اپنی مہم میں ٹرمپ کے کردار پر توجہ مرکوز کی اور نارتھ کیرولائنا میں ایک ریلی سے خطاب میں کہا کہ وہ اپنی پوری انتخابی مہم کے دوران اپنے نفرت انگیز حامیوں سے مبہم انداز کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ اس سے پہلے کبھی بھی کسی بڑی پارٹی کے امیدوار نے اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کیا تھا۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر ان انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت ہوتی ہے تو پھر ایک شخص کمانڈر ان چیف ہوگا جس میں گہرائی اور گیرائی نام کی چیز نہیں ہے اور جس کے خیالات بہت خطرناک ہیں۔
ایک جائزے کے مطابق اس مرتبہ امریکا کے صدارتی انتخابات میں ہسپانوی اور سیاہ فاموں کے ووٹ کلیدی کردار ادا کریں گے،صدر بارک اوباما نے بھی ہلیری کلنٹن کی ہی طرح ان کے لیے سخت انتخابی مہم شروع کی ہے تاکہ وہ نوجوان ووٹرز اور سیاہ فام رائے دہندگان کو یکجا کرسکیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے اندازہ ہوتاہے کہ اگرچہ امریکی سیاہ فام صدر بارک اوباما سے زیادہ خوش نہیں ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بارک اوباما ان کی توقعات پر پورے اترنے میں ناکام رہے ہیں ،لیکن بعض جائزوں کے مطابق سیاہ فام ووٹرز ڈونلڈ ٹرمپ کے انتہاپسندانہ اور نسل پرستانہ خیالات کی وجہ سے ان کے مقابلے میں ہلیری کو ہی ووٹ دینے کوترجیح دیں گے۔حال ہی میں جاری اعداد و شمار کے مطابق امریکا کے 89 فیصد سیاہ فام ووٹروں کا کہنا ہے کہ وہ ہلیری کلنٹن کو ووٹ دیں گے جبکہ 84 فیصد کا خیال ہے کہ رپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نسل پرست ہیں۔ لیکن بہت سی رپورٹس میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سیاہ فام ووٹرز اس جوش و خروش کے ساتھ باہر نہیں نکل رہے ہیں جس طرح وہ بارک اوباما کے لیے 2008 اور 2012 میں نکلے تھے۔
امریکا میں صدارتی انتخابی مہم میں تیزی کے ساتھ ہی ایک بار پھر سے نسلی امتیازات پر بحث گرم ہوگئی ہے۔گزشتہ دو سال کے دوران پولیس والوں کے ہاتھوں بہت سے سیاہ نوجوانوں کی موت نے بھی نسل پرستی کی بحث کو انتخابی مسئلہ بنایا ہے۔
برطانوی خبررساں ادارے کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق امریکا میں بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اوباما کے ابتدائی دنوں میں ان کے امریکی ہونے پر سوال اٹھایا اور پھر اس انتخابی مہم کے دوران بھی ان باتوں کو ہوا دے کر اس خلیج کو مزید وسیع کیا ہے۔افریقی نژاد کرس براؤن کلیولینڈ کی ایک لانڈری میں کام کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ ٹرمپ کو نسل پرست مانتے ہیں اور یہ طے کر چکے ہیں کہ انھیں ووٹ نہیں دیں گے، لیکن یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ ہلیری کے لیے ووٹ ڈالنے نکلیں بھی یا نہیں۔
ہلیری کلنٹن کے لیے یہ ووٹ اہم ہیں اوریہی وجہ ہے کہ وہ کبھی اوباما تو کبھی مشیل اوباما کو ان علاقوں میں بھیج کر جوش پیدا کروانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ تازہ جائزوں کے مطابق اب بھی 90 فیصد سیاہ فام ووٹرز اوباما کے لیے بہتر رائے رکھتے ہیں۔
ہلیری کلنٹن کے شوہر بل کلنٹن کی حکومت کے دوران سیاہ فام لوگوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوئے تھے اور ہیلری اسی دور کو واپس لانے کا وعدہ کر رہی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی ریاستوں میں سیاہ فام ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاہ فام ووٹرز اگر ووٹ ڈالنے نہیں نکلتے ہیں تو اس کا سیدھا فائدہ ٹرمپ کو ہوگا اور ہیلری کلنٹن کی ٹیم یہ پیغام ان ووٹروں تک پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔آٹھ سال پہلے وائٹ ہاؤس میں پہلے سیاہ فام صدر کے پہنچنے کے بعد کچھ لوگوں نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ امریکا نے شاید نسل پرستی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے لیکن 2016 کے امریکا کی تصویر اس امید سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ٹرمپ نے خود کو ‘لااینڈ آرڈر امیدوار کے طور پر پیش کرتے ہوئے پولیس کو اپنا مکمل تعاون دینے کا وعدہ کیا ہے۔ساتھ ہی ٹرمپ اب سیاہ فاموں سے کہہ رہے ہیں سیاہ فام ووٹروں کو ان کی طرف آنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس ‘کھونے کو کچھ بھی نہیں ہے اور ٹرمپ کے راج میں حالات بہتر ہی ہو سکتے ہیں، بدتر نہیں۔
ادھر ٹرمپ کی اہلیہ میلینا ٹرمپ نے بھی اپنے شوہر کی انتخابی مہم میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے جس سے انھیں کافی مدد مل رہی ہے۔میلینا نے ایک انتخابی مہم میں بتایا کہ وہ خود ایک مہاجر اور ماں ہیں اور کہا کہ ان کے شوہر امریکا کو بہتر بنا دیں گے۔فلڈیلفیا میں ایک انتخابی مہم سے خطاب کے دوران میلینا نے کہا کہ اگر وہ خاتون اول بنتی ہیں تو سائبر غنڈہ گردی اور موجودہ سخت اور بھدّی تہذیب کے خلاف وہ بذات خود مہم چلائیں گی۔لیکن انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنے شوہر کی نازیبا اور گالی گلوج والی زبان کے متعلق کچھ بھی نہیں کہا۔
امریکا کے صدارتی انتخابات میں سیاہ فاموں اور ہسپانوی نژاد باشندوں کے ساتھ ہی خواتین کے ووٹ بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔یہ ہے وہ صورتحال جس کا امریکا کے دونوں صدارتی امیدواروں کو سامنا ہے ،اب ان دونوں کی کوششوں کاکیا نتیجہ نکلتاہے اس کو دیکھنے کیلئے انتظار کی گھڑیاں ختم ہورہی ہیں۔
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...
ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...
بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...
شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...
گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...