... loading ...
انٹرویو :۔ انوار حسین حقی
“فلک ناز چترالی کا تعلق صوبہ خیبر پختونخوا کی مالاکنڈ ڈویژن کی خوبصورت اور دل نشیں وادی چترال سے ہے ۔ وہ گزشتہ پندرہ سالوں سے پاکستان تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سیاست میں سرگرم ہیں ۔ قبائلی طرز معاشرت کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے فلک ناز چترالی نے سیاست کے شعبے میں اپنے لیے احترام حاصل کیا ہے۔ دو نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں ’’ بنی گالہ ‘‘ آمد کے موقع پر ’’ جرأت ‘‘ کے لیے ان سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر کی جا رہی ہے۔”
جرأت : عمران خان کی جانب سے دو نومبر کے احتجاج کی کال پر جس انداز میں آپ کے صوبے کے لوگوں نے لبیک کہا اُسے دیکھتے ہوئے یہ محسوس ہوتاہے کہ عمران خان کی جانب سے دھرنا ملتوی کرنے کے اعلان سے آپ کے ہاں مایوسی پائی جاتی ہے ؟
فلک ناز : ہماری پارٹی کے ورکرز خصوصاً نوجوانوں کو عمران خان کا جو سب سے پہلا سبق از بر ہوا ہے وہ یہی ہے کہ زندگی میں کبھی مایوس نہیں ہونا اور ہمت نہیں ہارنی ۔ عمران خان کے فیصلے سے پی ٹی آئی کے کارکن کبھی مایوس نہیں ہوئے ، ہم اپنے قائد کی حکمت عملی کو سمجھتے ہیں ۔ قائد کاہر فیصلہ مجھ سمیت ہر کارکن کو قبول ہوتا ہے ۔ وفاق اور پنجاب حکومت کی ہٹ دھرمی سے وفاق کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ،ان لوگوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ساتھ 31 اکتوبر کو جو بہیمانہ سلوک کیا ،اُس پر ہمارے قائد عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کا ردِ عمل ہر لحاظ سے قابلِ تحسین ہے ۔ ان دونوں قائدین نے کسی ایسے ردِ عمل کا اظہار نہیں کیاجس سے وفاق یا پاکستان کی سالمیت کو کسی قسم کا دھچکا پہنچے ۔ میں یقین سے کہ سکتی ہوں کہ موجودہ حالات میں عمران خان کی وجہ سے وفاق اور ریاست خطرات سے محفوظ ہے ۔ عمران خان نے ملک کو شورش سے محفوظ رکھا ہوا ہے ۔
جرأت : عمران خان نے ملک کو شورش سے کیسے محفوظ رکھا ہوا ہے جبکہ ان کی جانب سے آئے روز احتجاج کی کال دی جاتی ہے ۔ جلسے کیے جاتے ہیں ،جُلوس نکالے جاتے ہیں ؟
فلک ناز : ملک میں ہماری حکومتوں کی65 سالہ نااہلی اور کوتاہی کی وجہ سے حالات بہت زیادہ مایوس کن ہیں ۔ امن و امان کی صورتحال آپ کے سامنے ہیں ۔ معاشی حوالوں سے ہم کنگال ہو چُکے ہیں ۔ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں اور کرپشن نے ہمارے قومی ادارے تباہ کر دیے ہیں ۔ پاکستان اسٹیل ملز ، پاکستان ریلوے ، پی آئی اے اور دیگر اہم قومی اداروں کی حالت آ پ کے سامنے ہیں ۔ تعلیمی شعبہ حتیٰ کہ صحت کا شعبہ بھی بگاڑ کا شکار ہے ۔ ملک میں مایوسی دن بدن بڑھ رہی ہے ،غربت اپنی انتہاء کو پہنچ چُکی ہے، لوگوں کا ایک وقت کا کھا نا بھی مشکل ہو رہا ہے ۔ ایسے میں ہمارے نوجوانوں میں فرسٹریشن بڑھ رہی ہے ،میں سمجھتی ہوں کہ عمران خان کی قیادت اور شخصیت نے ملک کو خونی انقلاب اور تباہ کن ایجی ٹیشن سے محفوظ رکھا ہوا ہے ۔ عوام خصوصاً نوجوان نسل نے عمران خان سے اُمیدیں وابستہ کر لیں ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جو ملک میں تبدیلی لا سکتا ہے ۔اسی اُمید نے نوجوان نسل کو فرسٹریشن سے بچا کر ایک سماجی دھارے میں رکھا ہوا ہے ۔
جرأت:31 اکتوبر کو صوابی انٹر چینج پر صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو اسلام آباد میں داخلے سے جس انداز میں روکا گیا اُس کا خیبر پختونخوا میں کیا ردِ عمل ہے ؟ اور خصوصاً پاکستان تحریک انصاف اس کو کس نظر سے دیکھتی ہے ؟
فلک ناز: صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگ محبِ وطن اور وفاق پاکستان کی سلامتی اور مضبوطی کے داعی ہیں ۔ لیکن وفاق اور پنجاب کے موجودہ حکمرانوں نے اپنی گرتی ہوئی حکومت کو بچانے کے لیے وفاق کی ایک اہم اکائی خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کے ساتھ جو سلوک کیا، اُس نے ان کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا ہے ۔ پرویز خٹک اور ان کے قافلے کے صبر اور برداشت نے وفاقی حکومت کے ان تمام دعووں اور الزامات کو جھوٹا ثابت کر دیا ہے جن کو بنیاد بنا کر یا جن کا وا ویلا کر کے انہوں نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے قافلے کو بربریت کا نشانہ بنایا ۔ لیکن میں سلام پیش کرتی ہوں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو ان کی جانب سے کسی ایسے ردِ عمل کا اظہار سامنے نہیں آیا جس سے صوبائی تعصب کے اُبھرنے کی بو آتی ہو ۔ وزیر اعلیٰ کی جانب سے بھی پنجاب سے محبت کی بات ہوئی ہے، عمران خان نے بھی قومی یکجہتی کے فروغ اور وفاق کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ اس سب کچھ کے باوجود پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت کے اقدامات کے منفی اثرات سامنے آئیں گے ۔ ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف وفاق کی مضبوطی کی داعی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے ۔ مسلم لیگ ن کی قیادت ماضی میں ’’ جاگ پنجابی جاگ ‘‘ کے نعرے لگا چُکی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی بھی سندھ کارڈ استعمال کرتی چلی آئی ہے ۔ ہماری بہت سی جماعتیں علاقائیت کا پرچار کرتی ہیں ، کچھ لسانیت کا سہارہ لیتی ہیں ۔ دینی سیاسی جماعتوں کا بھی اپنا ایک انداز ہے ۔ میری نظر میں پاکستان تحریک انصاف ایک ایسی جماعت ہے جو ہر قسم کے تحفظات سے پاک ہے ، جو ہر قسم کی عصبیتوں سے بالا تر ہے ۔
جرأت : خیبر پختونخوا میں پاک چین راہداری منصوبے پر آپ کی جماعت کو کیا تحفظات ہیں ؟
* فلک ناز چترالی :۔ میاں نواز شریف کی حکومت نے سی پیک پر چھوٹے صوبوں کو نظر انداز کیا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں اس حوالے سے بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے ۔کے پی کے کی منتخب حکومت کو بائی پاس کر کے وفاق نے اپنے سیاسی حلیف مولانا فضل الرحمن کی مرضی اور منشاء کے مطابق روٹ بنایا ہے ۔ اس نام نہاد روٹ کو مغربی روٹ کا نام دیا گیا ۔ اس نئے روٹ کو خیبر پختونخوا میں تمام جماعتوں نے مسترد کیا ہے۔ افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ وفاقی حکومت سی پیک پر تحفظات کے اظہار کو اس عظیم منصوبے کی مخالفت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ہماری پارٹی کے چیئر مین اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ہر سطح پر آواز اُٹھائی ۔ عمران خان نے عوامی جمہوریہ چین کے سفیر سے ملاقات میں واضح کیا ہے کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت اس عظیم منصوبے کی حامی ہے وہ ان تمام منصوبوں کی بھر پور حمایت کر تی ہے جو پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے تعاون سے جاری ہیں یا زیر تکمیل میں ہیں ۔ ہمارے صوبے میں موجودہ مغربی روٹ کی وجہ سے سی پیک کو پاک چین کاریڈور کی بجائے پنجاب چین کاریڈور کہا جانے لگا ہے ۔ وفاق کی شریف حکومت کی وجہ سے صوبوں میں فاصلے بڑھ رہے ہیں ۔ ملک میں ایک خاندان کی بادشاہت اور ان کے مصاحبوں کی حکومت کے مضمرات سے وفاق کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔
جرأت : عمران خان کے اندازِ سیاست میں ایسی کون سی خوبی ہے جو آپ کی نظر میں اُسے دوسرے سیاستدانوں سے منفرد کر تی ہے ۔
فلک ناز :عمران خان نے پاکستان کی سیاست میں روایت سے بغاوت کی ہے ۔ ہماری ماضی کی سیاست پر نظر دوڑائیں تو سیاست میں لگی لپٹی کہنے اور عیاری و مکاری کا راج تھا ۔ عمران خان ایک کھرا اور سچا انسان ہے، اُس نے لگی لپٹی کے بغیر دل کی بات زبان پر لانے کی رسم ڈالی ہے ۔ ہماری قوم عمران خان کی سیاست کی عادی نہیں ہے یہی وجہ ہے ہم میں سے بہت سوں کو عمران خان کی باتیں اور ان کا اندازِ سیاست عجیب لگتا ہے ۔ وہ خفیہ سیاسی ڈیل اور سازشوں کا عادی نہیں ہے ۔ اس کی سیاست ذاتی اور کاروباری مفاد سے پاک ہے ۔ یہی باتیں لوگوں کو اچھی لگتی ہیں ۔ ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا کے لوگوں نے مولانا مفتی محمود ؒ کی حکومت بھی دیکھی ۔ اے این پی کا دور بھی دیکھا اور مجلسِ عمل کی حکومت بھی ہمارے سامنے رہی ۔ لیکن کے پی کے عوام کی ایک بہت بڑی اکثریت کے دل عمران خان کے لیے دھڑکتے ہیں ۔ ہمارے ہاں سماجی روایات بہت مضبوط ہیں، خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ خیبر پختونخوا سے خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد تحریک انصاف کے لیے سر گرمِ عمل ہے ۔ کے پی کے کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں اپنے صوبے اور مُلک کے روشن مستقبل کی خاطر عمران خان کے مشن نئے پاکستان کے لیے میدانِ عمل میں ہیں ۔ یہ عمران خان کے اندر کی سچائی ہے جس نے ایک عالم کو اُس کا دیوانہ بنایا ہوا ہے ۔
جرأت :خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی میں شدید قسم کے اختلافات کی اطلاعات ہیں ۔ اس حوالے سے حقائق کیا ہیں ؟
فلک ناز : ہماری پارٹی ایک بہت بڑی پارٹی ہے ۔ عمران خان کی بیس سالہ بے مثال جد وجہد نے تحریک انصاف کو پاکستان کی قومی سیاست کا ناگزیر حصہ بنا دیا ہے ۔ چاروں صوبوں میں پارٹی کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے ۔ پی ٹی آئی سے تمام جماعتیں خوفزدہ ہیں یہی وجہ ہے کہ آپس کے اختلافات کے باوجود یہ تما م جماعتیں عمران خان کی مخالفت میں متحد ہیں ۔ یہ انہی کے منظم پروپیگنڈے کا حصہ کہ خیبر پختونخوا میں پارٹی میں سنجیدہ نوعیت کے اختلافات ہیں ۔ دیکھیں اختلاف رائے تو جمہوریت کی روح اور حُسن ہے ،اس سے فکر اور سوچ کے نئے نئے زاویے سامنے آتے ہیں ۔ کے پی کے کی سطح پر بھی اور مرکز میں بھی ہماری پارٹی متحد ہے ۔
جرأت :صوبہ کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف اپنے نعرے ’’ نئے پاکستان ‘‘ کی تکمیل میں کس حد تک کامیاب ہوئی ہے ؟؟
فلک ناز :صوبہ خیبر پختونخوا کے جرأت مند عوام نے روایتی سیاست سے بغاوت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو کامیاب کروایا ہے ۔ اس سے پہلے کوئی قومیت کے نام پر اور کوئی مذہب کے نام پر صوبے کے عوام کو بے وقوف بنا رہا تھا ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے صوبے میں بنیادی نوعیت کی اہم تبدیلیاں کی ہیں ۔ تعلیم اور صحت کے شعبے میں دور رس نتائج کی حامل تبدیلیاں کی گئی ہیں ۔ آپ صوبے کے کسی ہسپتال میں بھی چلے جائیں ،آپ کو واضح تبدیلی محسوس ہو گی ۔ اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بنیادی نوعیت کے اقدامات سامنے آئے ہیں ۔ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو فعال ، مؤثر بنایا گیا ہے ۔ عوام کو پٹواریوں اور تحصیلداروں کے رحم وکرم سے آزاد کیا گیا ہے ۔ پولیس ڈیپارٹمنٹ میں عمران خان کی ہدایت کے مطابق اصلاحات کی گئی ہیں ۔ پولیس کو سیاست سے پاک کرکے قانون اور عوام کے سامنے جواب دہ بنایا گیا ہے ۔ ہم آپ کو میڈیا کے دیگر نمائندوں اور سول سوسائٹی کے نمائندہ افراد اور اداروں کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ لوگ آئیں اور خیبر پختونخوا میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں ۔
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...