... loading ...

پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد میں2 نومبر کو مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے خیبر پختونخوا سے آنے والے مرکزی جلوس میں شامل افراد اور پولیس کے درمیان صوابی کے قریب اس وقت شدید جھڑپیں ہوئیں جب پیر کی شام ہارون آباد پل پر پولیس کی جانب سے رکھے گئے کنٹینر ہٹانے کی کوشش کی گئی جس میں مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور جواب میں پولیس آنسو گیس نے استعمال کی۔ سینکڑوں شیل فائر کیے گیے ‘مظاہرین نے بھی جھاڑیوں کو آگ لگادی جو پھیلتے پھیلتے گاڑیوں تک پہنچی اور دو گاڑیاں جل گئیں۔اس جلوس کی قیادت صوبے کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک کر رہے تھے۔ قافلے کے ارکان موٹر وے پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں ہٹانے کے لیے کرینیں ساتھ لائے تھے۔2 کنٹینرز کارکنوں نے اٹک پل سے دریائے سندھ میں گرا دیے۔
قافلے میں شامل خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کا قافلہ پرامن تھا اور جیسے ہی ہم موٹروے پر چھچھ انٹرچینج پر پہنچے تو پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ شروع کر دی۔انھوں نے بتایا کہ تصادم کے بعد پولیس پیچھے ہٹ گئی ہے اور کارکنان کنٹینر ہٹا رہے ہیں اور راستہ تقریباً صاف ہو چکا ہے۔مشتاق غنی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان کے کارکنوں پر ربر کی گولیاں بھی چلائیں جن سے 15 کے قریب کارکن زخمی ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تحریکِ انصاف کی قیادت اور کارکن دونوں پیچھے نہیں ہٹیں گے اور منزل پر پہنچ کر ہی دم لیں گے۔پرویز خٹک نے کارکنوں کے ہمراہ پیر کو اسلام آباد کے علاقے بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ تک پہنچنے کا اعلان کیا تھا۔اس پر وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ کسی مسلح جتھے کے ساتھ آتے ہیں تو انھیں اس گروہ کا حصہ تصور کیا جائے گا جسکے بعد لاہور سے پشاور تک موٹر وے مکمل طور پر بند کر دی گئی ۔پی ٹی آئی کے کارکنوں کو اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کو اسلام آباد اور ملک کے دیگر حصوں سے ملانے والی موٹر وے اور جی ٹی روڑ سمیت تمام زمینی راستوں کو بند کر دیا ہے حضرو کے مقام پر موٹر وے کی دونوں اطراف کو کنٹینرز اور ریت کے ڈھیروں سے بند کیا گیا تھا۔اس اقدام پر صوبے کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے احتجاج کیا تھا کہ جبکہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ان اقدامات کو ملک میں سب سے بڑا سکیورٹی رسک قرار دیا تھا۔
دوسری جانب اسلام آباد میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بنی گالہ میں رہائش گاہ کی طرف جانے والے تمام راستوں کو پولیس نے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور کسی بھی رہنما کو بنی گالہ جانے کی اجازت نہیں ہے اطلاعات کے مطابق بعض سرگرم کارکن جنگلوں کے راستے رہائش گاہ تک پہنچنے میں کامیاب رہے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔سڑک سے عمران خان کی رہائش گاہ کا فاصلہ پانچ کلومیٹر سے زیادہ ہے اور وہاں تک پیدل پہنچنا کارکنوں کے لیے مشکل دکھائی دیتا ہے۔اس کے علاوہ اسلام آباد کی طرف آنے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا گیااور جابجا پولیس کے ساتھ ساتھ ایف سی بھی تعینات کردی گئی ہے۔اسلام آباد میں پولیس بنی گالہ جانے والے کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے جبکہادھر صوبہ پنجاب میں پولیس کا تحریکِ انصاف کے کارکنوں کے خلاف ’کریک ڈاؤن‘ جاری ہے۔پولیس نے صوبے کے مختلف اضلاع میں دو دنوں سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسلام آباد روانگی سے روکنے کے لیے پکڑ دھکڑ شروع کر رکھی ہے۔
پنجاب پولیس کی اسپیشل برانچ کا کہنا ہے کہ اب تک لاہور، ملتان، فیصل آباد، سرگودہا اور گوجرانوالہ سمیت مختلف شہروں سے 1900 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔حراست میں لیے گئے کارکنوں کی اکثریت کا تعلق پاکستان تحریک انصاف کے یوتھ ونگ سے ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ راولپنڈی اور اٹک سے بڑی تعداد میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں پاکستان تحریک انصاف کے مقامی رہنماؤں کے مکانوں پر چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔پی ٹی آئی کے کارکن پولیس سے بچنے کے لیے روپوش ہو گئے ہیں جبکہ کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد پہچنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان نے کارکنوں کو 31 نومبر کو تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے بنی گالہ پہنچنے کی ہدایت کی تھی۔پنجاب بھر میں مختلف شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں پر ناکے لگائے گئے ہیں جن پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
خیال رہے کہ اسلام آباد اور پنجاب میں دفعہ 144 نافذ کی جا چکی ہے جس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کے اجتماع اور لاؤڈسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا بنی گالا میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جس ملک کا سربراہ کرپٹ ہو وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ ہم ملک کو قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون پرامن احتجاج کو روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں، امید ہے انصاف ہوگا۔ 2 نومبر کو 10 لاکھ لوگ پرامن طریقے سے نکلیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ بنی گالا کے راستے غیر قانونی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ پولیس شریف خاندان کی نوکر بنی ہوئی ہے۔ کارکنوں کے رشتہ داروں کو بھی پکڑا جا رہا ہے۔ کنٹرولڈ ادارے انصاف نہیں دے رہے، عوام کو طاقت سے حق لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی گالا پہنچنے والے مجاہد ہیں۔ پی ٹی آئی کی خواتین کارکنوں کے جذبے کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔
ادھر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کا راستہ روک کر خطرناک کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
یہ ملک چار اکائیوں پر مشتمل ہے اور ہر اکائی کو برابری کے حقوق حاصل ہیں، جبکہ حکومت تمام ضابطوں کو بالائے طاق رکھ کر دھونس اور ہٹ دھرمی سے کام لے رہی ہے۔سید خورشید شاہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر یا چیئرمین سینیٹ کی اجازت ضروری ہوتی ہے، بغیر اجازت ارکان پارلیمنٹ کی گرفتاری غیر قانونی ہے لہٰذا انہیں فوری رہا کیا جائے۔
خورشید شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ ہمیشہ اپنے آپ کو اصول پسندی اور ایمانداری کا چمپئن گردانتے ہیں، ان کی یہ اصول پسندی اب کہاں ہے جب خواتین کی سرعام تذلیل کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں کنٹینر رکھ کر عوام کی آمد و رفت کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے، بتایا جائے کہ یہ سب کس قانون کے تحت ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر اس عمل کی مخالفت کریں گے جو قانون کی بجائے ہٹ دھرمی پر مبنی ہو، ایسے اقدامات سے جمہوریت کو نقصان پہنچتا ہے۔
خبریں یہ بھی ہیں کہ گورنر خیبرپختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ گورنر کی تجویز ملنے پر صدر پاکستان آئین کے آرٹیکل 234کے تحت کے پی کے میں گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں ۔آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹھارویں ترمیم کے نفاذ کے بعد صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد متعلقہ صوبائی اسمبلی کی جانب سے توثیق ضروری ہے‘ پاکستان میں آخری مرتبہ جنوری دو ہزار تیرہ کے واقعات کے نتیجے میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت صوبہ بلوچستان کی حکومت برطرف کرکے 2ماہ کے لیے صوبائی اسمبلی معطل کی گئی تھی مگر اس وقت اٹھارویں آئینی ترمیم کی مذکورہ شق کا نفاذ نہیں ہوا تھا۔ اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت اسمبلی کی معطلی اور گورنر راج کے نفاذ کے متعلق ممکنہ اقدامات کا ہر پہلو سے جائزہ لے رہی ہے مگرگورنر راج کی بازگشت پر کے پی حکومت میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعت اسلامی نے مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج کی مخالفت کردی ہے ۔ صوبائی امیر مشتاق احمد کی سربراہی میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں جماعت اسلامی کے تینوں وزرا عنایت اللہ خان ،مظفر سید اور حاجی حبیب الرحمن سمیت ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔جس میں فیصلہ کیا گیا کہ گورنر راج نافذ کیا گیا تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی ۔مشتاق احمد کا یہ بھی کہنا تھا کہ تشدد اور شہروں کی بندش فسطائی نظام کی علامتیں ہیں۔جمہوریت میں اداروں کو کام کرنے دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ پاناما لیکس کے مسئلے پر اپنا کردار ادا کرتی تو ملک میں موجودہ بحران پیدا نہ ہوتا ۔کرپشن ملک کیلیے وہ ناسور ہے جو پاکستان کی جڑون کو کھوکھلا کر رہا ہے ۔ جماعت اسلامی کرپشن کے خاتمے کیلیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی ۔
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...