وجود

... loading ...

وجود

پیرو: 5300 سال قدیم نہروں کی دریافت

جمعرات 06 اکتوبر 2016 پیرو: 5300 سال قدیم نہروں کی دریافت

ancient-canals

ماہرین آثار قدیمہ نے پیرو کے اینڈیئن پہاڑوں کے دامن میں دنیا کے قدیم ترین آبپاشی کے نظام کا پتا چلانے کا دعویٰ کیا ہے، ماہرین آثار قدیمہ کا خیال ہے کہ اس دریافت سے جنوبی امریکہ کی قدیم آبادی کی طرز رہائش کا پتا چلانا آسان ہوجائے گا کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوجائے گا کہ ہزاروں سال قبل بھی اس علاقے میں آباد لوگ نہ صرف یہ کہ زراعت سے وابستہ تھے بلکہ وہ زرعی تیکنیک سے بھی واقف تھے، پیرو کے پہاڑی علاقوں میں آثار قدیمہ کی تلاش میں مصروف ٹیم کے قائدنیشوائل یونیورسٹی وینڈر بلٹ کے پروفیسر ٹوم ڈی ڈیلے کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس علاقے میں 4 ایسے مقامات کا پتا چلایا ہے جہاں قدیم دور میں نہروں کی موجودگی کے آثار موجود ہیں، اور یہ آثار 5300 سال بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ قدیم معلوم ہوتے ہیں۔

پروفیسر ڈی ڈیلے نے بحرالکاہل سے 60 کیلومیٹر کے فاصلے پر اورلیما سے 620 کیلومیٹر شمال مغرب کے علاقے میں کم وبیش 30 سال قبل وادی زانا میں تحقیق شروع کی تھی۔ پروفیسر ڈی ڈیلے نے اپنی تحقیق کے بارے میں یہ انکشافات نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے حالیہ جریدے میں کیے ہیں۔ اس جریدے میں شائع ہونے والے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ اس تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس دور کا آبپاشی کا نظام بہت ہی پیچیدہ تھااور اس نظام کے تحت پیرو میں قدیم دور کی تہذیب کا پتاچلتا ہے۔

جریدے میں شائع ہونے والے مضمون میں ماہرین کے حوالے سے کہا گیاہے کہ وادی زانا میں برآمد ہونے والی نہریں جنوبی امریکا میں دریافت ہونے والی اپنی نوعیت کی پہلی نہریں ہیں۔ پیرو کی سان مارکوز یونیورسٹی کے آرکیالوجی اسکول کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈینیل مورالز کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس ضمن میں شائع ہونے والا مضمون نہیں دیکھا ہے لیکن میں ڈاکٹر ڈی ڈیلے کے کام سے واقف ہوں۔ انھوں نے کہا کہ زانا کینال کے بارے میں دریافت بڑی اہمیت کی حامل ہے اور اس سے پیرو میں آبپاشی کے نظام کے ذریعے زراعت کے نظام کا پتا چلتا ہے۔ ڈی ڈیلے نے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں بتایا کہ ہماری ٹیم نے سب سے پہلے 1985 میں کینالز اور زراعت کے بعض منصوبوں کا پتا چلایا تھا، اس کے بعد 1989 میں پہلی مرتبہ اس کی نشاندہی کی۔ لیکن ہماری ٹیم نے شکاریوں اور جمع ہونے والوں کے لیے کیے گئے انتظام اور ہائیڈرالک انجینئرنگ کو سمجھنے کے لیے توقف کیا اور سب چیزوں کو سمجھنے اور سابقہ دور میں لگائے گئے باغیچوں کا جائزہ لینے کے بعد اپنی تجزیاتی رپورٹ شائع کرائی۔

اس علا قے میں دریافت ہونے والی چار نہروں میں مٹی بھر چکی تھی لیکن اس کے نیچے دبے ہوئے کاربن سے پتہ چلا کہ یہ لوگ کھیتوں میں کاشت کے بعد اسی زمین پر دوبارہ کاشت کرتے تھے، ان میں سے ایک نہر 6700 سال قدیم ہے، یہاں جو دریافتیں کی گئی ہیں ان سے پتاچلتا ہے کہ اس دور میں بھی پیرو کے لوگ کپاس، مٹر اور دوسری اشیا کاشت کرتے تھے۔

ماہرین آثار قدیمہ کاکہنا ہے کہ پیرو میں ایک اچھا اور منظم معاشرہ موجود تھا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین کو اس دریافت کے دوران وہاں سے پتھر کے بنے ہوئے زرعی اوزار بھی برآمد ہوئے تھے۔ پیرو وہ علاقہ ہے جہاں نہ صرف یہ کہ زرعی اعتبار سے بڑی ترقی ہوئی تھی بلکہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں مصر کے بعد احرام بنائے گئے تھے۔

حالیہ برسوں کے دوران پیرو کے ماہر آثار قدیمہ رتھ شیڈی نے زانا کے 480 کیلومیٹر کے فاصلے پر نہر کے آثار کا پتا چلایا تھا۔ شکاگو کے علاقے میں کام کرنے والی آثار قدیمہ کی ایک ٹیم جوناتھن ہیس اور ونی فریڈ کریمر نامی جوڑے پر مشتمل تھی، نے بعد میں اس علاقے کے 20 سے زیادہ دوسرے رہائشی مراکز کی دستاویزی فلمیں تیار کیں، جس میں رہائشی مراکز پیرو کے ساحل پر تعمیر کردہ احرام اور دوسری تعمیرات بھی موجود تھیں، یہ تعمیرات نورٹے چیکو کے علاقے میں تھیں۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ تمام تعمیرات 800 سے ایک ہزار سال پہلے تعمیر کی گئی تھیں۔ ڈیلے کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے جن علاقوں کی دستاویزی فلمیں بنائی ہیں ان میں سماجی سرگرمیوں کے علاوہ سماجی رہن سہن، اور روایات جو اس علاقے میں ہزاروں سال سے رائج تھیں وغیرہ شامل ہیں۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور کے لوگ انتہائی سخت سماجی اقدار اور روایات کی پاسداری کرتے تھے اور ان پر سختی سے عمل کرتے تھے۔ اس علاقے میں جن نہروں کا پتا چلایا گیا ہے ان سے اوپر کی جانب چھوٹی جھگیاں اور بڑے رہائشی مکان تعمیر کیے گئے تھے جس سے اس دور میں بھی موجود طبقاتی نظام کا پتا چلتا ہے۔ تاہم اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اس علاقے میں مقیم تمام لوگ ان نہروں سے استفادہ کرتے تھے۔

ان آثار سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ وہ لوگ ان نہروں کی صفائی بھی کیا کرتے تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں کمیونٹی کی بنیاد پر مزدور طبقہ بھی موجود تھا اور وہ مل جل کر اجتماعی مفاد کے کاموں میں حصہ لیتے تھے۔ ان کی آبادیاں کم وبیش 2 کیلومیٹر کے فاصلے پر تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر دور دور اور الگ تھلگ رہتے تھے لیکن تہواروں کے موقع پر ایک دوسرے سے ملتے ضرور تھے، اور ان میں باہم اچھے روابط قائم تھے۔


متعلقہ خبریں


پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک وجود - جمعه 01 مئی 2026

سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...

پاک-افغان سرحد پر دراندازی کی 2کوششیں ناکام، 13 دہشت گرد ہلاک

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی وجود - جمعه 01 مئی 2026

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ،پیٹرول کی فی لیٹر نئی قیمت 399 روپے 86 پیسے ہو گئی

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی وجود - جمعه 01 مئی 2026

سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...

پی ٹی آئی سینیٹ گروپ میں اختلافات ،شدیدتلخ کلامی

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم وجود - جمعه 01 مئی 2026

متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...

امریکا آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...

ملک ریاض،علی ریاض کے انٹرپول سے ریڈ وارنٹ جاری

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...

امریکی فوج کا ایران کیخلاف مختصر، طاقتورحملوں کا منصوبہ تیار

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...

پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال فائرنگ،پاک فوج کا بھرپورجواب

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم) وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...

امن مشن جاری، معاشی چیلنجز پر قابو پانے کا عزم( وزیراعظم)

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو وجود - جمعرات 30 اپریل 2026

جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...

سندھ پولیس پروفیشنل فورس ،بد نامی برداشت نہیں کرینگے ،جاوید عالم اوڈھو

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری وجود - بدھ 29 اپریل 2026

جسٹس محسن اختر کیانی لاہور،جسٹس بابر ستار پشاور ہائیکورٹ ،جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا سندھ ہائیکورٹ تبادلہ 9 ارکان نے حق میں ووٹ دیاجبکہ تبادلے کیخلاف 3 ووٹ سامنے آئے،ذرائع چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے اجلاس میں ہائیکورٹ کورٹ ججوں ک...

جوڈیشل کمیشن کا اجلاس،تین ججوں کے تبادلوں کی منظوری

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار وجود - بدھ 29 اپریل 2026

آزاد عدلیہ کیلئے افسوس ناک دن ، ججوں کے تبادلے کی کوئی وجہ ہونا چاہیے(سینیٹر علی ظفر) عدلیہ پر تیز وارکیا گیا، ججز کا تبادلہ کسی فرد کا کام نہیں، فیصلہ عدلیہ کو تقسیم کرنے کے مترادف ، بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے چیٔرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور رہنما بیرسٹر علی ظفر نے ...

ججز تبادلے ،پی ٹی آئی کی شدید تنقید، آزاد عدلیہ پر حملہ قرار

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان وجود - بدھ 29 اپریل 2026

امارات کا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ رکن ملکوں اور سعودی عرب کیلئے بڑا دھچکا، پالیسی فیصلہ تیل کی پیداوار کی موجودہ اور مستقبل کی ضرورتوں کو مدنظر رکھ کر کیا،اماراتی وزیرتوانائی کا جاری بیان یکم مئی سے اوپیک اور اوپیک پلس جس میں روس جیسے اتحادی شامل ہیں دونوں کو چھوڑ دے گا، یو اے ا...

متحدہ عرب امارات کا تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک سے علیحدگی کا اعلان

مضامین
گمشدہ مسافر وجود جمعه 01 مئی 2026
گمشدہ مسافر

دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے ! وجود جمعه 01 مئی 2026
دنیا کا نظام پلٹ رہا ہے !

سوگ وجود جمعه 01 مئی 2026
سوگ

مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف وجود جمعه 01 مئی 2026
مزدور کے حقوق اور سماجی انصاف

پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے! وجود جمعرات 30 اپریل 2026
پاکستانی سماج کا بڑا لمیہ احساس کا مرجانا ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر