... loading ...

لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما ندیم نصرت کو بانی تحریک نے جو ٹاسک سونپا ہے وہ اس میں کس قدر کامیاب رہیں گے اور کئی دھڑوں میں تقسیم ایم کیو ایم کا مستقبل کیا ہے ؟ سیاسی مبصرین و تجزیہ کاروں کے ایک بڑے گروہ کی رائے یہ ہے کہ ندیم نصرت اپنے ٹاسک کو اس وقت تک پورا نہیں کرسکیں گے جب تک کراچی و حیدرآباد میں فعال افراد کی بڑی تعداد میسر نہیں آجاتی ۔ایم کیو ایم کی گزشتہ عشروں میں مقبولیت کا جائزہ لیا جائے تو اس کے مختلف عوامل ہیں جن میں ’’مہاجر کارڈ‘‘ ’’مضبوط تنظیم ‘‘ اور ’’مینڈیٹ‘‘ جبکہ مصطفیٰ کمال اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایک اور عامل کا ذکر کرتے ہیں‘سوائے ایم کیو ایم لندن کے باقی دھڑے بھی اسکے وجود کا اعتراف کرتے ہیں ،وہ ہے ’’عسکری ونگ ‘‘۔اس ونگ کے بارے میں اب تمام فریق یہی کہتے ہیں کہ اسکی کمر ٹوٹ چکی ہے البتہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کہتے ہیں کہ جنوبی افریقہ سے آپریٹ کرنے والا یہ عسکری ونگ ازسر نو منظم ہو چکا ہے ۔چونکہ راؤ انوار اپنے بعض اقدامات کی وجہ سے متنازع ہوچکے ہیں اس لیے انکی بات کو اہمیت نہیں دی جارہی۔
عسکری ونگ سے قطع نظر باقی عوامل پر نگاہ ڈالی جائے تو اس وقت ’’مہاجر کارڈ‘‘ بانی ایم کیو ایم کے حامی گروہ کے پاس ہے، تنظیمی نیٹ ورک کا بڑا حصہ مصطفیٰ کمال لے گئے جبکہ مینڈیٹ اور باقی تنظیم فاروق ستار کی زیر قیادت ہے ۔ندیم نصرت کی پاکستان میں فی الحال حمایت سفیان یوسف اور حال ہی میں پی ٹی آئی سے شمولیت اختیار کرنے والے امجد اﷲ خان نے کی ہے ،انہیں ابھی مزید افراد درکار ہوں گے۔ایسی صورت میں بانی ایم کیو ایم ،ندیم نصرت اور ان کے بہت سے حامی اس سطح ِزمین پر موجود نہیں ہیں جہاں انہیں تنظیم سازی کرنی ہے۔ فی الحال ان کیلیے آزادانہ کام کرنا بھی مشکل ہی ہے۔ اس لیے اکثر تجزیہ نگار متفق ہیں کہ ندیم نصرت کیلئے یہ ٹاسک بہت ہی مشکل ہوگا۔
ایم کیو ایم پاکستان ہو یا پاک سرزمین پارٹی ،دونوں کا ہدف دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات ہیں ،ان کے لیے اپنی علیحدہ حیثیتوں میں مہاجر مینڈیٹ حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا مگر ان انتخابات میں ایم کیو ایم لندن بھی قانونی پوزیشن کلیئر ہونے کے بعد وہ میدان میں آتی ہے تو مہاجر مینڈیٹ تقسیم ہونے کا خدشہ ہے ،کوئی اور سیاسی جماعت اس کا فائدہ اٹھاسکتی ہے ۔ اس لیے کوشش کی جارہی ہے کہ مصطفیٰ کمال ،فاروق ستار اور آفاق احمد کو کسی ایسی شخصیت کی قیادت میں متفق کیا جائے جو بانی ایم کیو ایم جیسی نہ سہی،اس سے کچھ کم قائدانہ صلاحیت رکھتی ہو،مگر مہاجر ہو۔اس سلسلے میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور سابق صدر پرویز مشرف کے نام لیے جارہے ہیں۔مگر فی الحال پرویز مشرف جس قسم کی قانونی جکڑ بندیوں کا شکار ہیں انہیں اس سے کلیئر کراناہوگا ،اس پر قانونی ماہرین سے رائے طلب کی جارہی ہے۔مہاجر مینڈیٹ کسی ایک سمت جانے کی صورت میں ہی بانی ایم کیو ایم اور ان کے حامی دھڑے کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔
بعض مبصرین کی رائے یہ بھی ہے کہ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی بانی ایم کیو ایم کی مقتدر اداروں کے ساتھ بات چیت کا راستہ کھل جائے تو بات بن سکتی ہے اور عامر خان کیس کی طرح باقی لوگوں کو بھی وہ قبول کرنے پر تیار ہوجائیں گے۔ مگر دوسرے حلقے کی رائے میں اب بانی ایم کیو ایم سے بات چیت کا دروازہ ہمیشہ کیلیے بند کیا جاچکا ہے ۔ان سے کسی بھی صورت بات نہیں ہوسکے گی ،اب جو فیصلہ ہوگا وہ پاکستان میں موجود دھڑوں کے اتفاق سے ہی کیا جائے گا۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفی کمال فی الحال ملنے پر تیار نہیں ہیں،نہ ہی حالات اس کیلیے سازگار ہیں۔بعض نکات پر ان کا اتفاق ہوسکتا ہے مکمل نہیں ۔آفاق احمد کی جانب سے بھی ایم کیو ایم سے ملنے کی بات کی گئی تھی لیکن مصطفیٰ کمال کے متعلق انکے دل میں بھی کوئی نرم گوشہ نہیں ہے ۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اُن جہازوں کو نہیں روکا جائے گا جو ایرانی بندرگاہوں کے بجائے دیگر ممالک کی جانب جا رہے ہوں، ٹرمپ کا 158 جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ ناکہ بندی کے دوران مزاحمت ایران کیلئے دانشمندانہ اقدام ثابت نہیں ہوگا، فضائی حدود ہماری مکمل گرفت میں ہے، ٹرمپ ایران کو مکمل ...
مردان ریلوے گراؤنڈ میں سہ پہر 3 بجے جلسہ ہوگا، مخالفین خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ٹاؤٹس جلسے کو ناکام بنانے کیلئے منفی پروپیگنڈا کر رہے ہیں،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا قوم آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے، دنیا کو دکھائیں گے بانی جیل میں ہونے کے باوجود بڑی سیاسی سرگرمی کر سکتے ہیں،...
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کردیے ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات کے کیس کی سماعتسینئر سول جج عباس شاہ نے کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پرگمراہ کن الزامات اور ساکھ متاثر کرنے کے...
دونوں فریقین کے درمیان اٹکے ہوئے معاملات حل کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم کا کابینہ اراکین سے خطاب، فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کو شاندار خراج تحسین پیش کیا وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے جنگ کروانے اور امن قائم کرنے میں کئی سال لگتے ہیں، پا...
واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی حل کیلئے رابطے جاری ہیں، امریکی عہدیدار مستقبل میں امریکی اور ایرانی وفود کی ملاقات کا امکان تاحال غیر واضح ہے، بیان امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے مذاکرات جاری ہیں۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیا...
ایران کے ساتھ ملاقات اچھی رہی ، جوہری معاملے کے علاوہ اکثر نکات پر اتفاق ہوا،امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے آنے جانیوالے بحری جہازوں کو روکنے کا عمل فوری شروع کر دے گی یہ عالمی بھتا خوری ہے امریکا کبھی بھتا نہیں دے گاجو کوئی غیر قانونی ٹول دے گا اسے محفوظ بحری راستا نہیں ملے گا، ای...
اسلام آباد میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں بھارت کی سفارتی ناکامی پر کانگریس نے نام نہاد وشوا گرو مودی کو آڑے ہاتھوں لے لیا پاکستان میں ایران امریکا جنگ بندی مذاکرات بھارت پر بجلی بن کرگرے ہیں۔ مودی کو ہرطرف سے تنقید کا سامنا ہے۔خلیجی جنگ کے تناظر...
مذاکرات ناکام ہوئے توہم اسرائیل میں ایسے ہی گھُس سکتے ہیں جیسے لیبیا اور کاراباخ میں داخل ہوئے تھے، اسرائیل نے سیزفائر کے دن بھی سیکڑوں لبنانی قتل کیے اسرائیل کو اس کی جگہ دکھائیں گے، فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کا اسرائیلی فیصلہ اور ہٹلر کی یہودی مخالف پالیسیوں میں کوئی فر...
اسلام آباد میں تاریخ ساز بیٹھک، امریکا اور ایران میں مذاکرات کے 2 ادوار مکمل،فریقین محتاط،پرامید،کاغزات کا تبادلہ ،ٹیکنیکی گفتگو آج مذاکرات کے پہلے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں، دوسرے مرحلے میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان براہِ ر...
سعودی وزیر خزانہ کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے بڑھتے ہوئے بیرونی دباؤ اور اخراجات کے پیش نظر پاکستان کو مالی مدد کا یقین دلایا پاکستان کی سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست ، نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت کی مدت میں توسیع شا...
علاقائی کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی کوششیں مثبت پیشرفت ہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اسلام آباد مذاکرات پائیدار امن علاقائی استحکام کیلئے تعمیری کردار ہے، اجلاس سے خطاب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے حالیہ سفارتی کوششوں کو علاقائی کشیدگی میں کمی، پائیدار امن اور ع...
اسرائیل نے گزشتہ 40دنوں میں سے 36دن غزہ پر بمباری کی،عرب میڈیا 23ہزار 400امدادی ٹرکوں میں سے 4ہزار 999ٹرکوں کو داخلے کی اجازت ایران جنگ کے دوران اسرائیل نے گزشتہ 40 دنوں میں سے 36 دن غزہ پر بمباری کی۔عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 107 فلسطینی شہید او...