وجود

... loading ...

وجود

ایم کیوایم نے میدان مار لیا، کراچی اور حیدرآباد سے میئر، ڈپٹی میئر منتخب کرانے میں کامیاب!

جمعرات 25 اگست 2016 ایم کیوایم نے میدان مار لیا، کراچی اور حیدرآباد سے میئر، ڈپٹی میئر منتخب کرانے میں کامیاب!

مسلسل بحرانوں کے نرغے میں رہنے کے باوجود ایم کیوایم نے بآلاخر کراچی اور حیدرآباد کا میدان مارتے ہوئےاپنے میئر اور ڈپٹی میئر منتخب کرالیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کراچی سمیت اندرون سندھ میئر و ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چئیرمین کے چناؤ کے لئے ووٹنگ کا عمل صبح نوبجے شروع ہوا، اور بلاتعطل شام پانچ بجے تک جاری رہا۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم کیو ایم کے وسیم اختر 186 ووٹ لے کر کراچی کے میئر اور ارشد وہرہ 205 ووٹ لے کر ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے جبکہ حیدرآباد سے بھی ایم کیو ایم کے سید طیب حسین میئر اور سہیل محمود مشہدی ڈپٹی میئر منتخب ہوگئے۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر و ڈپٹی میئر، 4 ضلعی چیئرمین، 5 ضلعی وائس چئرمین، ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین و وائس چیئرمین کے انتخابات کے لیے پولنگ ہوئی جبکہ ضلع وسطی میں ایم کیو ایم کے نامزد امیدوار برائے چیئرمین وائس چیئرمین، اورضلع ملیر میں پیپلزپارٹی کے امیدوار چیئرمین کی نشست پر بلامقابلہ کامیاب ہوچکے تھے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے میئر کے انتخابات میں 4 امیدواروں نے حصہ لیا جن میں ایم کیوایم کے وسیم اختر، پیپلزپارٹی کے کرم اللہ وقاصی، آزاد امیدوار محمد رفیق خان اور ارشد حسن کے درمیان مقابلہ تھا جبکہ ڈپٹی میئر کے لئے ایم کیوایم کے ارشد عبداللہ وہرہ، مسلم لیگ (ن) کے امان اللہ آفریدی اور آزاد امیدوار نوید جاوید مدمقابل تھے۔

حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات کے لئے پولنگ کا عمل ایک گھنٹہ دس منٹ تاخیر سے شروع ہوا، بلدیہ اعلی حیدرآباد کے میئر اور ڈپٹی میئر کے لیے ایم کیو ایم کی جانب سے طیب حسین اور ڈپٹی میئر کے لیے سہیل محمود مشہدی امیدوار تھے اورپیپلز پارٹی نے پاشا قاضی کو میئر اور حسن علی جتوئی کو ڈپٹی میئرکے لیے میدان میں اتارا تھا۔

کراچی میں میئر و ڈپٹی میئر کے انتخابات کے بعد وسیم اختر نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری جیت کراچی کے لوگوں کی جیت ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، کراچی والوں نے اتنے مشکل حالات میں ہمارا ساتھ دیا، جس طرح شہر میں میئر کے الیکشن ہوئے اس طرح کبھی نہیں ہوئے، یہ تاریخ میں لکھا جائے گا، اس کامیابی پر کراچی کے عوام کے صبرو استقامت کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن پر حکومت وقت کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آج کراچی کا مینڈیٹ تسلیم کیا گیا، مانتے ہیں اس نظام میں بہت تلخیاں ہیں جن کا ابھی ذکر نہیں کرنا چاہتا۔وسیم اختر نے کہا کہ جو ماضی میں ہوا اس کو بھول کر آگے بڑھا جائے، ایم کیوایم قائد کی ہدایت اور فلسفہ عوامی خدمت ہے جسے آگے لے کر چلوں گا، میرے ساتھ ڈپٹی میئر ارشد وہرہ موجود ہیں اور پوری ٹیم ہے، ہم تمام اضلاع میں کام کریں گے، ساری سیاسی جماعتوں کو لے کر چلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات پر سندھ کے وزیراعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ہمیں ان سے بہت توقعات ہیں، وزیراعلیٰ حالات دیکھتے ہوئے کچھ ایسے فیصلے کریں جن کی وجہ سے لوکل گورنمنٹ کو اختیارات دیئے جائیں، اگر ہمیں اختیارات دیں گے تو کراچی ترقی کرے گا جس سے سندھ اور پاکستان ترقی کرے گا۔

نو منتخب میئر کا کہنا تھا کہ کراچی ریونیو دیتا ہے جس سے پورا ملک چلتا ہے اس لیے مجھ سے زیادہ فرض وزیراعلیٰ کا بنتا ہے وہ اس منتخب حکومت کو اپنی سربراہی میں آگے لے کر چلیں گے۔کراچی میں بہت کام ہونا ہے جو وزیراعلیٰ خود بھی تسلیم کرتے ہیں، ہمیں مل کر کام کرنا ہوگا تو مسائل حل ہوں گے۔ وسیم اختر نے کہا کہ میں ایم کیوایم کا میئر نہیں بلکہ کراچی کا میئر ہوں، کراچی کے میئر کے ناطے ہم مل کر کام کریں گے، کراچی سے تعلق رکھنے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لوگ اور ڈی جی رینجرز سے درخواست کروں گا کہ ہمیں مل کر ملک کے لیے کام کرنا ہے، جانتا ہوں کہ آپ لوگ جانوں کا نذرانہ دے رہے ہیں تاکہ شہر میں امن قائم ہو، ہم میجر جنرل بلال اکبر کے ساتھ ہیں، ہم کراچی میں امن چاہتے ہیں اس لیے مل کر امن قائم کریں گے۔

وسیم اختر نے کہا کہ جو مقدمات مجھ پر ہیں وہ سب جانتے ہیں، ملک کی بدقسمتی ہے کہ آج بھی سیاسی مقدمات بنائے جارہے ہیں، اپنے مقدمات سے متعلق جواب وزیراعلیٰ سندھ سے لینا چاہتا ہوں جبکہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کے بیان ریکارڈ پر ہیں کہ کوئی سیاسی قیدی نہیں لیکن میں اور رؤف صدیقی سیاسی قیدی ہیں، ہمیں جھوٹے کیسوں میں بند کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جسے پابند سلاسل کیا جارہا ہے اس کی نیت باہر نکل کر کام کرنے کی ہے، مجھ پر سب جھوٹے کیس ہیں، اگر میں اپنے کیس عدالت میں لے جاؤں تو 5 منٹ میں یہ ختم ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 12 مئی 9 سال بعد یاد آرہاہے یہ کیا مذاق ہے، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی وجہ سے 12 مئی کا واقعہ ہوا وہ چارسال چیف جسٹس رہے انہوں نے اس کیس کو نہیں کھولا، ہائیکورٹ نے اس کیس کو ختم کرنے کا کہا جو فیصلہ ہمارے پاس ہے، 12 مئی کے بہانے سے غلط مقدمات بنائے جارہے ہیں، مجھے پابند کرکے کیا ملے گا، مجھے پابند رکھا گیا لیکن عوام نے مجھے ہی ووٹ ڈالا۔

ایم کیوایم رہنما کا کہنا تھا کہ اگر مرد کے بچے ہو تو 12 مئی کا کیس مشرف پر چلاؤ اور آرٹیکل 6 لگاؤ، یہ کیسز بنائے جائیں میں عدالت میں ان کا سامنا کرتا رہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ کیسز میں اگر عدلیہ انصاف کرتی ہے تو اس کا پیشگی شکریہ ادا کرتے ہیں ورنہ عدلیہ کے سامنے جاؤں گا، میرے تمام کیسز قابل ضمانت ہیں، ہم ماضی میں بھی عدالت کے سامنے گئے، ہم آئین و قانون میں رہ کر کام کرنا چاہتے ہیں اورعدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔ وسیم اختر نے کہا کہ اگر مجھے ضمانت نہ ملی تو وزیراعلیٰ سے درخواست کروں گا کہ سینٹرل جیل میں دفتر دیا جائے اور ایسے رولز بنائے جائیں یا ترمیم کی جائے جس کی وجہ سے عوام کا مجھ سے رابطہ ہوسکے۔ میں عوام کے مسائل جیل میں بیٹھ کر حل کروں گا۔

ایک سوال کے جواب میں وسیم اختر نے کہا کہ میئر کے اختیارات میرے علم میں ہیں اب سیٹ پر بیٹھ کر ہی پتا چلے گا کہ کتنے اختیارات اور کتنا بجٹ ہے جس میں ہمیں شہر کے مسائل کس طرح حل کرنا ہیں لیکن وزیراعلیٰ سے امید ہےکہ وہ مسائل حل کرنے میں ہماری مدد کریں گے۔

ایم کیوایم کے میئر وسیم اختر کا انتخاب ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب وہ خود جیل میں ہیں۔ اور ایم کیوایم اپنی تاریخ کے چند بدترین ادوار سے گزر رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کراچی کا میئر کب تک جیل میں مقید رہتا ہے؟


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر