... loading ...

پاکستان پیپلز پارٹی نے بآلاخر سندھ میں وزیراعلیٰ سمیت کابینہ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیاہے۔ پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ دبئی میں پارٹی قیادت کے اجلاس میں سندھ میں نیا وزیراعلیٰ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔فرحت اللہ بابر کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری اور پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذکورہ اجلاس طلب کیا تھا۔جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ خود بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ کے استعفے کے ساتھ ہی سندھ کابینہ بهی تحلیل ہو جائے گی، جس کے بعد کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کے علاوہ کچھ نئے چہروں کوبهی سامنے لانے کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں۔
قائم علی شاہ گزشتہ آٹھ برسوں سے سندھ کی وزارت اعلی کے منصب پر براجمان ہیں ۔ اس دوران میں سندھ کے حالات مسلسل خرابی سے دوچار رہے جس پر پیپلزپارٹی مسلسل تنقید کی زد میں رہی ہے۔ وزیرا علیٰ قائم علی شاہ کو سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف علی زرداری اپنی نجی محفلوں میں اپنے “پُرکھوں کی نشانی” کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ وہ ابتدا میں خیر پور کی ضلعی کونسل کے چیئرمین منتخب ہوئے۔قائم علی شاہ نے 1967 میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اور 1970 کے انتخابات میں خیرپور سے غوث علی شاہ کو شکست دے کر نمایاں ہوئے تھے۔ذوالفقار علی بھٹو نے اس کامیابی کے بعد اُنہیں اپنی کابینہ میں لے لیا تھا۔ ضیاء الحق کی طرف سے ملک میں اقتدار پر قبضے کے بعد غوث علی شاہ بھی اُن لوگوں میں شامل تھے جنہیں گرفتار کیا گیا۔ مگر اُنہوں نے پیپلز پارٹی سے اپنی وفاداری کبھی تبدیل نہیں کی۔قائم علی شاہ 1990 ، 1993، 2002 اور2008 کے تمام انتخابات میں کامیاب رہے۔ قائم علی شاہ کو تین مرتبہ وزیر اعلیٰ سندھ رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔ وہ سندھ اسمبلی کے سترہویں وزیراعلیٰ کے طور پر 2 دسمبر 1988 سے 25 فروری 1990 تک اس منصب پر فائز رہے۔ اس دوران میں صدر مملکت غلام اسحاق خان تھے جبکہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں۔ بعد ازاں اُنہیں دوسری مرتبہ سندھ کے وزیراعلیٰ کے طور پر اس منصب پر رونق افروز ہونے کاموقع تب ملا جب پیپلز پارٹی میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد آصف علی زرداری جملہ امور کے مالک ومختار بن گئے۔ وہ 6 اپریل 2008 سے 20 مارچ 2013 تک سندھ کے 26 ویں وزیراعلیٰ کے طور پر مسند نشیں رہے۔ اس دوران میں صدر مملکت آصف علی زرداری تھے۔ بعد ازاں نیے انتخابات کے بعد نگراں عرصے کو چھوڑ کر وہ ایک مرتبہ پھر 28 ویں وزیراعلیٰ بن گیے۔ قائم علی شاہ کے 28 ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر نیا دور 30 مئی 2013 سے جاری تھا۔ جوجولائی 2016 میں اختتام پزیر ہونے کے قریب ہے۔ دبئی میں پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے 24 جولائی کو مل بیٹھ کر سندھ کے تیزی سے بدلتے حالات میں اب وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کوبھی بدلنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو قائم علی شاہ نے پیپلز پارٹی کی قیادت کے تمام ادوار میں ایک فعال کردار ادا کیا۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کی کابینہ میں وزیر رہے۔ وہ بے نظیر بھٹو کے دور میں وزیر اعلیٰ رہے۔ اور قائم علی شاہ زرداری کی قیادت میں بھی مسلسل آٹھ سال تک سندھ کی وزارت اعلیٰ کے منصب پر فروکش رہے۔
وجود ڈاٹ کام کو انتہائی مستند ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلی سندھ کے منصب سے قائم علی شاہ کو ہٹانے کی ایک بڑی وجہ عسکری اداروں سے معاملات طے کرنے میں اُن کی سست روی ہے۔ جبکہ دوسری وجہ بدلتے سیاسی حالات میں اگلے انتخابات کی سنائی دیتی چاپ میں پیپلز پارٹی کی اعلی قیادت یہ چاہتی ہے کہ سندھ کو نیا وزیراعلیٰ دے کر کچھ فعالیت کا مظاہرہ کیا جائے تاکہ اگلے انتخابات میں پیپلز پارٹی عوام میں کوئی کارکردگی دکھانے کے قابل ہو۔
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...