وجود

... loading ...

وجود

عبدالستار ایدھی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ علماء کی آراء کا غلط استعمال

منگل 12 جولائی 2016 عبدالستار ایدھی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کچھ علماء کی آراء کا غلط استعمال

edhi-naik

پاکستان میں سطحیت کے غلبے نے ایک ایسا رجحان پیدا کردیا ہے کہ ہر جگہ مختلف آراء رکھنے والے باہم دست وگریبان نظر آتے ہیں ۔ اور کوئی بھی واقعہ ہو جائے، اُس واقعے کے اپنے تناظر پر نگاہ رکھنے کے بجائے اُسے اپنے حریفوں کے خلاف استعمال کرنے کا ایک موقع بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کا لبرل اور سیکولر طبقہ ایک غیر جانب دار رویے کے بجائے دراصل سب سے زیادہ انتہاپسندانہ اور متعصبانہ نقطہ نظر کا علمبردار بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پوری قوم عبدالستار ایدھی کی موت پر غم زدہ تھی، لبرل اور سیکولر طبقے کے انتہا پسند علمبردار میدان میں آکر مختلف علمائے کرام کی کئی سال پُرانی آراء کو اُ نہیں نشانہ تنقید بنانے کے لیے سامنے لا رہے ہیں۔ عبدالستار ایدھی ایک انتہائی سادہ آدمی تھے، اُن کی پوری زندگی محض ایک ڈگر پر عملیت پسندی کی آئینہ دار تھی۔ جس میں موجود کوئی فلسفہ زندگی تھا، تو وہ خود اُنہیں بھی پتہ نہیں تھا۔ وہ صرف اور صرف ایک سادہ زندگی کے ساتھ جو بات صحیح طور پر سمجھ چکے تھے، اُس کے نام اپنی زندگی کر چکے تھے۔ مگر اِسے ایک مفکرانہ شان دینے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ عناصر نے اِسے علماء کے خلاف تنقید کا جواز اور موقع بنانے کی کوشش کی۔ حیرت انگیز طور پر یہ وہ طبقہ ہے جو مذہب ، توہین رسالت یہاں تک کہ خدا کے وجود پر بھی کھلی گفتگو کا حق مانگتا ہے۔ مگر اُسے علمائے کرام کی عبدالستارایدھی پر رائے زنی (صحیح و غلط سے بے نیاز) گوارا نہیں۔ وہ اِسے انسانیت کے نام پر ایک ایسی تقدیس میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں بات کرنا دشوار ترین بن جائے، مگر وہ خدا، توہین رسالت ،مذہب اور اس نوع کے دیگر موضوعات کی تقدیس کو اس قدر نیچے گرادینا چاہتے ہیں کہ جس پر ہر قسم کے شرابی دانشوراورمحفلوں کی شمعیں بن کر جینے والی مخلوق پست سے پست سطح کی گفتگو بھی کرنے میں آزاد رہیں۔

ماضی میں ذاکر نائیک کے حوالے سے جو فتوے جاری کیے گیےتھے ، اُنہیں اب ذاکر نائیک پر دہشت گردی کے الزامات سے جوڑ کر پیش کرنا غلط اور قابل اعتراض ہے۔(دارالعلوم دیوبند)

بعض علماء کی جانب سے گزشتہ برسوں میں عبدالستار ایدھی کے بعض خیالات پر رائے زنی کی جاتی رہی ہے۔ مگر وہ عبدالستار ایدھی کی زندگی کی باتیں تھیں جسے سیکولر اور لبرل طبقے نے اپنے مخصوص اہداف کے تحت عبدالستار ایدھی کی موت کے بعد بننے والے ماحول میں پورے مذہبی طبقے کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔

پڑوسی ملک بھارت کے مسلمان بھی کچھ اس سے ملتے جُلتے حالات سے گزررہے ہیں۔ جہاں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف بھارت کے ہندو ذرائع ابلاغ وہی کچھ کر رہے ہیں جو پاکستان میں سیکولر اور لبرل انتہا پسند ” دانشور”کر رہے ہیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ سے وابستہ ہندو انتہاپسند دانشور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف دارالعلوم دیوبند کے کچھ پرانے فتووں کو موجودہ حالات میں استعمال کررہا ہے۔ جس پر دارالعلوم دیوبند کے ترجمان نے ایک زبردست وضاحت جاری کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق دارالعلوم دیوبند نے بھارتی اخبارات میں جاری ایسی رپورٹوں کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے کہ جس میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ایک پرانے فتوے کا حوالہ دے کریہ تاثر دیا گیا تھا کہ دارالعلوم دیوبند بھی یہ سمجھتا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقریروں سے متاثر ہو کر ہی ڈھاکا میں دہشت گردانہ حملہ کیا گیا تھا۔ اس ضمن میں دارالعلوم کے ترجمان اشرف عثمانی نے دوٹوک طور پر وضاحت کی ہے کہ “کچھ معاملات پر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے متعلق چند مخالف فقہی آراء ماضی میں ضرور دی گئی تھی، مگر انہیں چند اخبارات اور نیوز چینلز ذاکر نائیک کے خلاف خبروں اور رپورٹوں میں اب استعمال کرر ہے ہیں۔ ماضی میں ذاکر نائیک کے حوالے سے جو فتوے جاری کیے گیےتھے ، اُنہیں اب ذاکر نائیک پر دہشت گردی کے الزامات سے جوڑ کر پیش کرنا غلط اور قابل اعتراض ہے۔ ”

بھارت میں بی جے پی کے ہندو انتہاپسندانہ عزائم سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے مختلف افراد جو کچھ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف کر رہے ہیں عین وہی طرزِ عمل پاکستان میں لبرل اور سیکولر انتہا پسنددانشوروں نے عبدالستار ایدھی کے حوالے سے مذہبی طبقے کی پرانی آراء کو استعمال کرکے اختیار کر رکھا ہے

دار العلوم دیوبند کی اس ادارہ جاتی وضاحت کے علاوہ بھی اکثر علمائے کرام نے اپنی الگ سے جاری کی گئی وضاحتوں میں کہا ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ایک وسیع تر سازش کے تحت پھنسایا جارہا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محل نے کہا ہے کہ “ایک ایسے شخص کو جس کے دیڑھ کروڑ کے قریب مداح ہوں، کسی ایک یا چند مداحوں کی غلط حرکتوں کے لیے کیسے موردِ الزام ٹہرایا جاسکتا ہے۔ یہ صریح ناانصافی ہے۔”

مذکورہ تناظر میں دیکھا جائے تو دارالعلوم دیوبند کا ڈاکٹر ذاکر نائیک کے حوالے سے طرزِعمل پاکستان کے مذہبی طبقے کے لئے بھی رہنما ہے۔ مگر اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت میں بی جے پی کے ہندو انتہاپسندانہ عزائم سے وابستہ ذرائع ابلاغ کے مختلف افراد جو کچھ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف کر رہے ہیں اور اس ضمن میں مسلمانوں کے مختلف طبقات کی پرانی آراء کو جس طرح گرد جھاڑ جھاڑ کر استعمال کررہے ہیں عین وہی طرزِ عمل پاکستان میں لبرل اور سیکولر انتہا پسنددانشوروں نے عبدالستار ایدھی کے حوالے سے مذہبی طبقے کی پرانی آراء کو استعمال کرکے اختیار کر رکھا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر