وجود

... loading ...

وجود

اگلے مالی سال کا وفاقی میزانیہ پیش :زراعت کا شعبہ سیراب، کیا یہ انتخابی میزانیہ ہے؟

هفته 04 جون 2016 اگلے مالی سال کا وفاقی میزانیہ پیش :زراعت کا شعبہ سیراب، کیا یہ انتخابی میزانیہ ہے؟

ishaq  dar 1

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے اگلے مالی سال برائے 17-2016 کے لیے 10 کھرب 64 ارب خسارے پر مبنی 49 کھرب کا وفاقی میزانیہ پیش کردیا ہے۔ میزانیے کا بیشتر حصہ سود اور قرضوں کی ادائی پر خرچ ہوگا۔ جس میں دفاعی میزانیے کو بڑھا دیا گیا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں بھی دس فیصد اضافہ کردیا گیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس 3 جون کو اسپیکر ایاز صادق کی زیرصدارت شروع ہوا جس میں وفاقی ویزخزانہ اسحاق ڈارنے آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معیشت مستحکم کی اور معاشی ترقی بھی ہوئی اور مہنگائی کو روکا گیا۔ اقتصادی اعشاریئے ہماری کارکردگی کےعکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر بجٹ میں ہماری کارکردگی پچھلے سال سے بہتر رہی ہے، رواں سال معاشی ترقی کی شرح 4.7 فیصد ہے اور یہ مزید بہتر ہوتی اگر کپاس کی فصل کو نقصان نہ ہوتا جس کی وجہ سے قومی پیداوار میں کمی واقع ہوئی۔اس طرح اسحاق ڈار نے معاشی ترقی کے گزشتہ سال کے طےشدہ ہدف کے حصول میں ناکامی کو ایک جواز دینے کی کوشش کی۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق معاشی ترقی کی شرح 8 سال کی بلند ترین سطح پر ہے، ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر21.6 ارب ڈالر ہوچکے ہیں، گزشتہ تین سال میں ٹیکسوں کی وصولی میں 60 فیصد اضافہ ہوا، رواں مالی سال 3104 ارب کی ٹیکس وصولی کاہدف حاصل کر لیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مالیاتی خسارہ 4.3 فیصد کی شرح پر آگیا ہے جو آئندہ مالی سال 3.8 فی صد تک لائیں گے، برآمدات 11 فیصد کمی کے ساتھ 18.2 ارب ڈالر اور درآمدات 32.7 ارب ڈالر رہیں، پالیسی ریٹ 5.75 فیصد کی کم ترین سطح پر آگیا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ شرح سود 40 سال کی کم ترین سطح پر ہے، مشینری کی درآمد میں 40 فیصد اضافہ ہوا، تیل کے درآمدی بل میں 40 فیصد کمی ہوئی جب کہ ملک کی تینوں اسٹاک ایکسچینج ایک بن چکی ہیں، قرضےکو جی ڈی پی کے 50 فیصد تک لایا جائے گا۔

تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافہ

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی ملازمین کو یکم جولائی 2016 سے رننگ بیسک پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے گا۔ 2012 اور 13 کے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں شامل کردیا گیا ہے، وفاقی ملازمین کی پنشن میں بھی 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، جبکہ وفاق کے 85 سال سے زائد عمر کے پنشنرز کی پنشن میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، وفاقی ملازمین کے لیے ایم فل الاؤنس 2500 روپےماہانہ کردیا گیا ہے اور ایڈیشنل چارج اور ڈیپورٹیشن الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 12 ہزار روپے کردیا گیا ہے، گریڈ 1 سے 15 کے وفاقی ملازمین،کنونس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا، اس کے علاوہ مزدور طبقے کی کم سے کم اجرت 13 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ اسحاق ڈار نے اعلان کیا کہ وفاق کےخطیب کی پوسٹ گریڈ 12 سے 15، مؤذن کی پوسٹ گریڈ 7 اور خادم کی گریڈ 6 کردی گئی جب کہ یوڈی سی کی پوسٹ گریڈ 9 سے 11، ایل ڈی سی کی پوسٹ گریڈ 7 سے اپ گریڈ کرکے 9، اسسٹنٹ کی پوسٹ گریڈ 14 سے 16 اور اسسٹنٹ انچارج گریڈ 15 سے 16 کردیا گیا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ بجٹ میں بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے لیے 115 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ معذور افراد کا اسپیشل کنونس الاؤنس 1 ہزار روپے ماہانہ کیا جارہا ہے۔

مختلف منصوبوں کے لیے مختص رقمیں

وزیرخزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع کے لیے بجٹ میں 860 ارب روپے، ہائرایجوکیشن کے لیے 21.5 ارب ، ریلوے کے لیے 78 ارب ، متاثرین فاٹا کے لئے 100 ارب، سرحدی امورکے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 22 ارب، پانی کے منصوبوں میں 32 ارب، پاکستان بیت المال کے فنڈزکو 4 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی کی تجویز ہے اور کارپوریٹ ٹیکس 31 فیصد کردیا گیا ہے، وزیراعظم کے انٹرن شپ پروگرام ، دیگرمنصوبوں پر 1 ارب روپے خرچ ہوں گے، موبائل فونزکی درآمد پرسیلز ٹیکس میں 500 روپے اضافہ کیا گیا اور مواصلاتی نظام کے لیے 188 ارب روپے رکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مارچ 2018 تک 10 ہزارمیگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ سسٹم میں شامل ہوجائے گی جب کہ دیامر، بھاشا اور دیگرمنصوبوں سے 15 ہزارمیگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ گوادرکی معاشی ترقی کے لیے خصوصی رقم مختص کی جائے گی جب کہ داسو ڈیم کے لیے 42 ارب، بھاشا دیامر ٹیم کے لیے 32 ارب، وزارت کیڈ کے شعبہ تعلیم کے لیے 1 ارب 9 کروڑ 38 لاکھ 13 ہزار روپے اور توانائی کے شعبے کے لیے سب سے زیادہ رقم 130 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے کاشت کاروں کے لیے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یکم جولائی 2016 سے کھاد کی فی بوری کی قیمت 1400 روپے کی جارہی ہے اور ڈی اے پی کھاد یکم جولائی سے 2500 روپے کی جارہی ہے جب کہ ڈیری اور لائیو اسٹاک درآمد ڈیوٹی کو 5 فیصد سے کم کرکے 2 فیصد کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعت نے 6.8 فیصد کی شرح ترقی سے موجودہ سال میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ لہٰذا صنعتی سرمایہ کاری کے عمل میں مزید اضافہ بہت ضروری ہے، صنعتی یونٹس پرڈیوٹی کی شرح 5 سے کم کر کے3 فیصد کردی گئی جبکہ 3 ٹیکسٹائل کے شعبے میں ٹیکنالوجی اسکیم یکم جولائی سے نافذ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 3 سال میں زرعی قرضوں کا حجم 336 ارب روپے سے 600 ارب روپے رہا، زرعی صارفین کے لئے بجلی کی فی یونٹ قیمت 5 روپے 35 پیسے ہوگی، سرمایہ کاری کے 10 فیصد شرح پرٹیکس میں 2 سال کے لیے ٹیکس کریڈٹ دیا جارہا ہے اور آیندہ مالی سال کے لیے اس اسکیم میں ایک ارب روپے مختص کررہے ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ چھوٹے کسانوں کے قرضوں کی عدم واپسی، مالیاتی اداروں کو 50 فیصد تک مالی ضمانت دے گی جب کہ ٹیکس کریڈٹ کی مدت کو بھی بڑھا کر30 جون 2019 تک توسیع کرنے کی تجویز دی گئی ہے، استعمال شدہ ملبوسات پرعائد سیلز ٹیکس کی مجموعی شرح میں 2 فیصد کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبے کی 2 ہزار اشیا، مشینری، خام مال پر کسٹم ڈیوٹی 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے جس سے صنعتی شعبے کو 18 ارب روپے کا فائدہ ہوگا جبکہ خام مال اور مشینری پر عائد کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی تجویز ہے، اجناس کو ذخیرہ کرنے والی مشینری اور آلات، کیڑے مار ادویات اور اجزا پر سیلز ٹیکس ختم کیا جارہا ہے، خصوصی رعایت کی مد میں حکومت تقریباً 27 ارب روپے کے اخراجات اٹھائے گی۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سگریٹ پر ایکسائز ٹیکس 2 فیصد کرنے کی تجویز ہے، سیمنٹ پر ایک روپیہ فی کلو ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز اور ڈیوٹی کی شرح دگنی کردی گئی جب کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ودہولڈنگ ٹیکس، گھریلو صنعت کےٹرن اوورکی حد، مقامی طورپرتیارشدہ ڈراموں اورسیریلز کو ترویج دینے، مقامی چینلز پرغیرملکی ڈرامے اور سیریلز دکھانے پرودہولڈنگ ٹیکس، بیرون ملک بنائے گئے اشتہارات پر20فیصد ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹائربنانے والی صنعت بیڈ وائر پر 10 فیصد کسٹم اور 30 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہے جب کہ میوچل فنڈزکے منافع پرنان فائلر کے لیے 15 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح بڑھائی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مضر صحت اشیا کی حوصلہ شکنی کے لیے سگریٹ پر 2 مرحلوں میں ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت نچلے درجے کے سگریٹ کے ریٹ میں تقریبا 23 پیسے اضافے اور اعلیٰ درجے کے سگریٹ پر تقریبا 55 پیسہ فی سگریٹ اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا، ایل ای ڈی لائٹس پر ڈیوٹی 5 فیصد کم کردی گئی اور سولر پینل اور توانائی کے متبادل آئٹمز پر ڈیوٹی ایک سال کے لیے ختم کردگئی ہے جب کہ اعلیٰ اور درمیانے درجے کے موبائل فون پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے جس کے تحت اعلیٰ درجے کے موبائل پر سیلز ٹیکس 1500 روپے، درمیانے درجے کے موبائل فون پر سیلز ٹیکس ایک ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے، نچلے درجے کے موبائل فون پر ٹیکس کی شرح 500 روپے رہے گی۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ملک پاؤڈر پر 20 فیصد کسٹم ڈیوٹی اور 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے جس کے باعث ذائقہ دار ڈبہ بند دودھ، مکھن اور پولٹری فیڈ بھی مہنگی ہوجائے گی جب کہ اسٹیشنری، مشروبات، میک اپ کا سامان اور شیمپو مہنگے کردیئے گئے، اس کے علاوہ امپورٹڈ مرغی اور گارمنٹس بھی مہنگی کردی گئی ہیں۔ آئندہ بجٹ میں پلاسٹک کے کھلونے، برتن شاپنگ بیگ سستے کردیئے گئے جب کہ پینٹس، وارنش، انجن آئل، گیئر آئل، ایئرکنڈیشنز مہنگے ہوگئے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ڈیری، لائیو اسٹاک پر ڈیوٹی 5 فیصد سے کم کرکے 2 کردی گئی تاہم 30 لاکھ روپے سے زائد کی جائیداد فروخت کرنے پر ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں نوازشریف کی حکومت نے زراعت کے شعبے کو مکمل نظرانداز کر رکھا تھا۔ مگر یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ اچانک زراعت کے شعبے کو بے اندازاہ مراعات دے دی گئی ہے۔ ایسے بعض ماہر ین نوازحکومت کے اس اندیشے سے تعبیر کر رہے ہیں کہ وہ سیاسی حالات کی نئی کروٹوں میں کسی بھی وقت انتخابات کے خیال کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ اسی لیے نوازحکومت پنجاب میں اپنے ووٹ بینک کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی تین سالہ روش سے ہٹ کر زراعت کے شعبے پر خاص طور پر متوجہ ہوئے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین نے اسے الیکش بجٹ سے بھی تعبیر کر دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر