... loading ...

قطر اولمپک کے عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر لی گئی تصویر جس میں نجم سیٹھی کے ساتھ سابق سینیٹر کے بھائی مجیب الرحمان، عثمان واہلہ اور سپر لیگ کے سی ای او سلمان سرور بٹ بھی نمایاں ہیں۔
اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان سپر لیگ ، پاکستان پر ایک بہت بڑا بوجھ بنتی جارہی ہے اور یہ اس کے لئے ہزیمت کا سامان کر رہی ہے۔ اس کا انداز ا پاکستان سپر لیگ کے شارجہ میں انعقاد کے پسِ پردہ حالات سے بھی ہوتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق جب پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی ٹیموں کے انتخاب اور مختلف سرمایہ داروں سے رابطے کرکے اُن پر ٹیموں کو خریدنے کے لئے دباؤ ڈال رہے تھے، تب تک اُنہوں نے یہ طے ہی نہیں کیا تھا کہ سپر لیگ کا انعقاد دراصل کہاں ہوگا؟نجم سیٹھی نے میدان، جگہ اور ملک کے تعین کے بغیر ہی ٹیموں کی خرید وفروخت بھی مکمل کر لی۔ جب پی سی بی حکام غفلت کی طویل نیند کے بعد تساہل کی انگڑائیاں لے رہے تھے تو اُنہیں معلوم ہوا کہ یواے ای کے میدان تو پہلے سے ہی ماسٹر چیمپئن لیگ کے لئے بُک ہو چکے ہیں۔
جو صرف ایک روز بعد 28 جنوری سے دبئی میں شروع ہو رہی ہے۔ پی سی بی حکام نے تب امارت کرکٹ بورڈ کو بھاگم بھاگ ایک خط لکھا مگر اُنہیں کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ جس پر نجم سیٹھی نے متبادل جگہ کی تلاش شروع کی۔ اس دوران میں اُن کی مدد کو سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ مجیب الرحمان آئے۔ جو نوازشریف کی سابق حکومت میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان کے بھائی ہیں۔ سابق سینیٹر سیف الرحمان چونکہ قطر میں رہتے ہیں جس کے باعث قطر حکومت میں اُن کے اثرورسوخ کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ اور مجیب الرحمان نے نجم سیٹھی کی قطر اولمپک کمیٹی سے ملاقات کا انتظام کیا۔

۔قطر گراونڈ کا معائنہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی کے ہمراہ سلما ن سرور بٹ اور عثمان واہلہ
چونکہ قطر 2020ء میں عالمی فٹبال کپ کی میزبانی کرنے والا ہے۔ اس لئے قطر کی یہ خواہش تھی کہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھی قطر میں ممکن بنایا جائے تاکہ اُن کا ملک کھیل کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک مثبت تاثر کا نقش گہرا کر سکے۔ صرف اس مقصد کے لئے قطر حکومت نے خود پاکستان سپر لیگ کے انعقاد میں دلچسپی لینا شروع کی۔ اور پاکستان سپر لیگ کے لئے قطر ائیرویز کو سرکاری اسپانسر(کفیل) بنانے کی پیشکش کی ۔ تمام کھلاڑیوں اور کھیل کے ذمہ داروں کے ٹکٹ مفت کردیئے گیے۔قطر میں موجود وجود ڈاٹ کام کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق قطر حکومت نے نجم سیٹھی کو اس کے علاوہ بھی ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ اور قطر اولمپک کی ہدایت پر اُنہیں فوری گراؤنڈ بھی مہیا کردیا گیا۔ جس کے بعد پی سی بی کے کیوریٹر صوفی بشیر نے جا کر میدان کا معائنہ بھی مکمل کر لیا۔
بعد ازاں ایک بارپھر نجم سیٹھی حرکت میں آئے اور قطر تشریف لے گیے۔ اس دفعہ وہ اپنے ساتھ عثمان واہلہ کوبھی لے گیے۔ جنہیں نجم سیٹھی نے جنرل منیجر انٹر نیشنل کرکٹ بنادیا ہے۔ کیونکہ وہ تہمینہ دولتانہ کے قریبی رشتے دار بتائے جاتے ہیں۔ اُن کا کرکٹ کے بارے میں فقط تجربہ یہ ہے کہ وہ لاہور پولو کلب میں گھوڑوں پر بیٹھ کر کھیلے جانے والے پولو میچز کی کمنٹری کرتے تھے۔ نجم سیٹھی اور قطر حکام کے درمیان اس طرح یہ تقریباً طے ہو گیا کہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد قطر میں ہو گا۔ یہاں تک کہ 20ستمبر 2015ء میں لاہور کے ایکسپو سینٹر میں پاکستان سپر لیگ کی لانچنگ میں بھی اس کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ تقریب بجائے خود پی سی بی کے لئے ایک بہت بڑی شرمندگی کا باعث بن گئی۔ کیونکہ اس میں اداکاراؤں اور فنکاروں کو بُلا کر اول صف میں بٹھا یا گیا اور یہ تقریب جس کھیل کے کھلاڑیوں کے لئے منفقد کی گئی تھی، اُنہیں دوسری صف میں دھکیل دیا گیا۔ اس بے توقیری پر شاہد آفریدی تقریب سے قبل ازوقت اُٹھ کر چلے گیے۔ یہ تقریب پی سی بی حکام کے لئے اپنے خلاف ایک نیا سوال پیدا کرنے کا باعث بھی بنی۔کیونکہ پی سی بی نے سپر لیگ کی اس لانچنگ تقریب پر ہی ڈھائی کروڑ کی خطیر رقم پھونک دی تھی۔ جس میں صرف علی ظفر کو ایک گانے کے نام پر ایک کروڑ کی رقم تھما دی گئی ۔ پی سی بی کی طرف سے ان شاہانہ اخراجات پر سوال اُٹھا کہ جب مارچ 2009ء سے پاکستان میں کرکٹ نہیں ہو رہی، پی سی بی آئے روز رقم نہ ہونے کا دکھڑا سناتی رہتی ہے تو پھر وہ ان اللوں تللوں پر اتنی رقم کہاں سے خرچ کرلیتی ہے؟ان ہی مسائل کے باعث پی سی بی حکام اور نجم سیٹھی کے فیصلوں کا درست اندازا کسی کو ہو نہیں پاتا۔ چنانچہ سپر لیگ کے انعقاد کا معاملہ بھی ایسا ہی ثابت ہوا۔ لاہور ایکسپو کی تقریب میں قطر میں سپر لیگ کے انعقاد کا اعلان صرف ایک ہفتے کے بعد واپس لے لیا گیا اور پھر کہا گیا کہ سپر لیگ قطر سے شارجہ اور دبئی منتقل کر دی گئی ہے۔جس پر قطرحکومت نے شدید ناراضی کا بھی اظہار کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قطر حکومت کے پورے تعاون ، بہترین اسپانسر شپ، بروقت پیسوں کی فراہمی اور دیگر سہولتوں کے باوجود قطرکے بجائے عرب امارات میں سپر لیگ کو منتقل کرنے کے پیچھے آخر کیا مقاصد تھے؟
کیا نجم سیٹھی کا قطر کا دورہ، قطر حکام سے گفتگو، شرائط پر مکمل بات چیت ، کھیل کے میدان کے معائنے اور لانچنگ تقریب میں اعلان کا مقصد صرف یہ تھا کہ امارات کرکٹ بورڈ کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے گراونڈ پی سی بی کو سپر لیگ کے لئے مہیا کرے ورنہ وہ یہ کھیل قطر منتقل کردے گا؟ یا اس کے پیچھے کچھ اور مقاصد بھی تھے؟پاکستان کر کٹ اور کرکٹ کی اس نئی نوع پر نگاہ رکھنے والے بہت اندرونی ذرائع نے وجود ڈاٹ کام کو اس فیصلے کے پس پردہ مقاصد کے بارے میں یہ بتا یا ہے کہ دراصل شارجہ سٹے کے لئے ایک آسان اور آزمودہ جگہ ہے۔ یہ وہی کھیل کے میدان ہیں جس پر انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے سٹے کے باعث پابندی بھی لگائی تھی۔جس کے باعث اب تک دنیا کے سب سے زیادہ 224 ایک روزہ میچ کی میزبانی کرنے والا یہ میدان اپریل 2003 ء سے فروری 2010ء تک سونا پڑا رہا۔تب امارات کرکٹ بورڈ نے شارجہ پر پابندی کے باعث کرکٹ میچز دبئی اور ابوظہبی میں کرائے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق قطر میں بُکیز کے لئے وہ آسانیاں نہیں تھیں جو شارجہ ، دبئی اور ابوظہبی کے کھیل کے میدانوں کے لئے وہاں میسر ہیں۔ کرکٹ کے انتظامی اور مالیاتی امور سے آگاہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سابق سربراہ نے پوری ذمہ داری کے ساتھ وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس طرح کی لیگ اور کرکٹ کے عالمی میلے بغیر سٹے کے منافع بخش کاروبار ہو ہی نہیں سکتے۔ چنانچہ نجم سیٹھی خود بھی تاحال اس کا جواب نہیں دے سکے کہ جن کاروباری گروپوں نے کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباداور کوئٹہ کی ٹیمیں خریدی ہیں، وہ آخر اس میں اپنے پیسے واپس کس کاروباری ماڈل سے نکالیں گے؟ واضح رہے کہ ان ٹیموں میں سب سے مہنگی ٹیم کراچی کی فروخت ہوئی ہے جسے اے آر وائی نے 26کروڑ روپے میں خریدا ہے۔ اسی طرح لاہور قلندر کو قطر آئل نے 25 کروڑ ، پشاور کی ٹیم کو ہیئر گروپ نے 16کروڑ ، اسلام آباد کی ٹیم کو لیونائن گلوبل اسپورٹس نے15 کروڑ جبکہ کوئٹہ کی ٹیم کو عمر ایسوسی ایٹس نے 11کروڑ روپے میں خریدا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر 93کروڑ روپے میں خریدی گئی یہ ٹیمیں کس کاروباری ماڈل سے رقم کی واپسی کو یقینی بناسکیں گی؟ ظاہر ہے کہ سٹے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اس رقم کی واپسی کے لئے ممکن نہیں۔ وجود ڈاٹ کام کو انتہائی ذمہ دار ذرائع نے اس حوالے سے سٹے کا ایک فارمولہ بھی بتایا ہے جو کھیل میں ایک پیٹرن کے طور پر کام کرے گا۔ مگر یہ سنسنی خیز معلومات ابھی پردۂ اخفا میں رکھنا مناسب ہوگا تاکہ اس فارمولے کے مطابق میچوں کی شناخت کو ممکن بنایا جا سکے۔ تاہم یہ پہلو کسی بھی شک وشبہے سے بالا ہے کہ پاکستان سپر لیگ سٹے بازی کے ایک بہت بڑے بکھیڑے کے طور پر ابھی سے ایک بڑے اسکینڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔
دوسری طرف پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے پی سی بی اور نجم سیٹھی کی بدانتظامیاں بھی اب زباں زدِ عام وخاص ہورہی ہیں۔ اور سپر لیگ کے ماسٹر چیمپیئن لیگ کے ساتھ ساتھ انعقاد نے بھی بہت سے مسائل پید اکردیئے ہیں۔ اوپر واضح کیا جا چکا ہے کہ شارجہ، دبئی اور ابوظہبی کے یہی میدان پہلے سے ہی ماسٹر چیمیئن لیگ کے لئے بُک ہو چکے ہیں۔ جو دبئی میں ایک شاندار ہوٹلز کے معروف سلسلے کے مالک پاکستانی نژاد ظفر علی شاہ کی بدولت ہو رہی ہے۔ یہ ماسٹر چیمیئن لیگ ایک روز بعد 28جنوری سے شروع ہو کر 14 فروری تک جاری رہے گی۔ اسی دوران پاکستان سپر لیگ 4فروری سے ان ہی میدانوں میں شروع ہوگی۔ اور یہ 23فروری تک جاری رہے گی۔ گویا 4فروری سے 14فروری کے درمیان دس روز تک پاکستان سپر لیگ ماسٹر چیمیئن لیگ کے ساتھ سینڈوچ بنی رہے گی۔ پھر اس دوران میں ماسٹر چیمیئن لیگ کو یہ سبقت بھی حاصل ہے کہ وہ بہت پہلے سے اپنی پبلسٹی کا آغاز کرنے کے باعث زیادہ بڑی سطح پر اسپانسرز کو اپنی جانب متوجہ کرچکے ہیں۔ اس طرح سپر لیگ کو اس بیچ میں اپنا کہیں لچ تلنا اور کامیابی کا ڈھندوڑا بھی پیٹنا ہے۔ مگر اس میں کامیابی کے امکانات کتنے ہیں، اس کا اندازا اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ایمبسیڈر وسیم اکرم مقرر کئے گیے ہیں۔ مگر جب ماسٹر چیمپیئن لیگ کے انعقاد کے حوالے سے پریس کانفرنس ہو رہی تھی تو اس میں یہ ایمبسیڈر صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ پاکستان سپر لیگ کی اندرونی بد انتظامیوں سے آگاہ اور اسکینڈلز پر اسکینڈلز بننے کے اس عمل کا براہِ راست مشاہدہ کرنے والے ایک انتہائی ذمہ دار ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ پاکستان سپر لیگ ایک سفید ہاتھی بن کر بدنامی کا ایک طوق بننے والی ہے اسی لئے پی سی بی کے سیانے چیئرمین شہریار خان نے اس معاملے میں خود کو حتی المقدور دوررکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نجم سیٹھی کی وہ چڑیا جو دوسروں کی خبر لاکر دیتی ہے ، خود نجم سیٹھی کی اپنی خبروں کو اُنہیں کب لا کر دیتی ہے۔ اور یہ چڑیا کی خبر نجم سیٹھی کی ’’آپس کی بات‘‘ میں سامنے بھی آتی ہیں یا خود اُن کے اپنے اندر ہی آپس آپس میں رہ جاتی ہے!!!
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...
عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...
بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...
مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...
غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...