وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

سپر لیگ: قطر سے شارجہ کیوں منتقل ہوئی؟گندا ہے پر دھندا ہے!!!

بدھ 27 جنوری 2016 سپر لیگ: قطر سے شارجہ کیوں منتقل ہوئی؟گندا ہے پر دھندا ہے!!!

قطر اولمپک کے عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر لی گئی تصویر جس میں نجم سیٹھی کے ساتھ  سابق سینیٹر کے بھائی مجیب الرحمان، عثمان واہلہ اور سپر لیگ کے سی ای او سلمان سرور بٹ بھی نمایاں ہیں۔

قطر اولمپک کے عہدیداروں سے ملاقات کے موقع پر لی گئی تصویر جس میں نجم سیٹھی کے ساتھ سابق سینیٹر کے بھائی مجیب الرحمان، عثمان واہلہ اور سپر لیگ کے سی ای او سلمان سرور بٹ بھی نمایاں ہیں۔

اب اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ پاکستان سپر لیگ ، پاکستان پر ایک بہت بڑا بوجھ بنتی جارہی ہے اور یہ اس کے لئے ہزیمت کا سامان کر رہی ہے۔ اس کا انداز ا پاکستان سپر لیگ کے شارجہ میں انعقاد کے پسِ پردہ حالات سے بھی ہوتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق جب پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی ٹیموں کے انتخاب اور مختلف سرمایہ داروں سے رابطے کرکے اُن پر ٹیموں کو خریدنے کے لئے دباؤ ڈال رہے تھے، تب تک اُنہوں نے یہ طے ہی نہیں کیا تھا کہ سپر لیگ کا انعقاد دراصل کہاں ہوگا؟نجم سیٹھی نے میدان، جگہ اور ملک کے تعین کے بغیر ہی ٹیموں کی خرید وفروخت بھی مکمل کر لی۔ جب پی سی بی حکام غفلت کی طویل نیند کے بعد تساہل کی انگڑائیاں لے رہے تھے تو اُنہیں معلوم ہوا کہ یواے ای کے میدان تو پہلے سے ہی ماسٹر چیمپئن لیگ کے لئے بُک ہو چکے ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے پی سی بی اور نجم سیٹھی کی بدانتظامیاں بھی اب زباں زدِ عام وخاص ہورہی ہیں۔ اور سپر لیگ کے ماسٹر چیمپیئن لیگ کے ساتھ ساتھ انعقاد نے بھی بہت سے مسائل پید اکردیئے ہیں۔

جو صرف ایک روز بعد 28 جنوری سے دبئی میں شروع ہو رہی ہے۔ پی سی بی حکام نے تب امارت کرکٹ بورڈ کو بھاگم بھاگ ایک خط لکھا مگر اُنہیں کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ جس پر نجم سیٹھی نے متبادل جگہ کی تلاش شروع کی۔ اس دوران میں اُن کی مدد کو سابق چیئرمین کرکٹ بورڈ مجیب الرحمان آئے۔ جو نوازشریف کی سابق حکومت میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان کے بھائی ہیں۔ سابق سینیٹر سیف الرحمان چونکہ قطر میں رہتے ہیں جس کے باعث قطر حکومت میں اُن کے اثرورسوخ کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہوا ۔ اور مجیب الرحمان نے نجم سیٹھی کی قطر اولمپک کمیٹی سے ملاقات کا انتظام کیا۔

۔قطر گراونڈ کا معائنہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی کے ہمراہ سلما ن سرور بٹ اور عثمان واہلہ

۔قطر گراونڈ کا معائنہ کرتے ہوئے نجم سیٹھی کے ہمراہ سلما ن سرور بٹ اور عثمان واہلہ

چونکہ قطر 2020ء میں عالمی فٹبال کپ کی میزبانی کرنے والا ہے۔ اس لئے قطر کی یہ خواہش تھی کہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد بھی قطر میں ممکن بنایا جائے تاکہ اُن کا ملک کھیل کی سرگرمیوں کے حوالے سے ایک مثبت تاثر کا نقش گہرا کر سکے۔ صرف اس مقصد کے لئے قطر حکومت نے خود پاکستان سپر لیگ کے انعقاد میں دلچسپی لینا شروع کی۔ اور پاکستان سپر لیگ کے لئے قطر ائیرویز کو سرکاری اسپانسر(کفیل) بنانے کی پیشکش کی ۔ تمام کھلاڑیوں اور کھیل کے ذمہ داروں کے ٹکٹ مفت کردیئے گیے۔قطر میں موجود وجود ڈاٹ کام کے انتہائی ذمہ دار ذرائع کے مطابق قطر حکومت نے نجم سیٹھی کو اس کے علاوہ بھی ہر قسم کی معاونت فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ اور قطر اولمپک کی ہدایت پر اُنہیں فوری گراؤنڈ بھی مہیا کردیا گیا۔ جس کے بعد پی سی بی کے کیوریٹر صوفی بشیر نے جا کر میدان کا معائنہ بھی مکمل کر لیا۔

پی سی بی نے ایکسپو سینٹر لاہورمیں سپر لیگ کی لانچنگ تقریب پر ہی ڈھائی کروڑ کی خطیر رقم پھونک دی تھی۔ جس میں صرف علی ظفر کو ایک گانے کے نام پر ایک کروڑ کی رقم تھما دی گئی۔

بعد ازاں ایک بارپھر نجم سیٹھی حرکت میں آئے اور قطر تشریف لے گیے۔ اس دفعہ وہ اپنے ساتھ عثمان واہلہ کوبھی لے گیے۔ جنہیں نجم سیٹھی نے جنرل منیجر انٹر نیشنل کرکٹ بنادیا ہے۔ کیونکہ وہ تہمینہ دولتانہ کے قریبی رشتے دار بتائے جاتے ہیں۔ اُن کا کرکٹ کے بارے میں فقط تجربہ یہ ہے کہ وہ لاہور پولو کلب میں گھوڑوں پر بیٹھ کر کھیلے جانے والے پولو میچز کی کمنٹری کرتے تھے۔ نجم سیٹھی اور قطر حکام کے درمیان اس طرح یہ تقریباً طے ہو گیا کہ پاکستان سپر لیگ کا انعقاد قطر میں ہو گا۔ یہاں تک کہ 20ستمبر 2015ء میں لاہور کے ایکسپو سینٹر میں پاکستان سپر لیگ کی لانچنگ میں بھی اس کا اعلان کر دیا گیا۔ یہ تقریب بجائے خود پی سی بی کے لئے ایک بہت بڑی شرمندگی کا باعث بن گئی۔ کیونکہ اس میں اداکاراؤں اور فنکاروں کو بُلا کر اول صف میں بٹھا یا گیا اور یہ تقریب جس کھیل کے کھلاڑیوں کے لئے منفقد کی گئی تھی، اُنہیں دوسری صف میں دھکیل دیا گیا۔ اس بے توقیری پر شاہد آفریدی تقریب سے قبل ازوقت اُٹھ کر چلے گیے۔ یہ تقریب پی سی بی حکام کے لئے اپنے خلاف ایک نیا سوال پیدا کرنے کا باعث بھی بنی۔کیونکہ پی سی بی نے سپر لیگ کی اس لانچنگ تقریب پر ہی ڈھائی کروڑ کی خطیر رقم پھونک دی تھی۔ جس میں صرف علی ظفر کو ایک گانے کے نام پر ایک کروڑ کی رقم تھما دی گئی ۔ پی سی بی کی طرف سے ان شاہانہ اخراجات پر سوال اُٹھا کہ جب مارچ 2009ء سے پاکستان میں کرکٹ نہیں ہو رہی، پی سی بی آئے روز رقم نہ ہونے کا دکھڑا سناتی رہتی ہے تو پھر وہ ان اللوں تللوں پر اتنی رقم کہاں سے خرچ کرلیتی ہے؟ان ہی مسائل کے باعث پی سی بی حکام اور نجم سیٹھی کے فیصلوں کا درست اندازا کسی کو ہو نہیں پاتا۔ چنانچہ سپر لیگ کے انعقاد کا معاملہ بھی ایسا ہی ثابت ہوا۔ لاہور ایکسپو کی تقریب میں قطر میں سپر لیگ کے انعقاد کا اعلان صرف ایک ہفتے کے بعد واپس لے لیا گیا اور پھر کہا گیا کہ سپر لیگ قطر سے شارجہ اور دبئی منتقل کر دی گئی ہے۔جس پر قطرحکومت نے شدید ناراضی کا بھی اظہار کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قطر حکومت کے پورے تعاون ، بہترین اسپانسر شپ، بروقت پیسوں کی فراہمی اور دیگر سہولتوں کے باوجود قطرکے بجائے عرب امارات میں سپر لیگ کو منتقل کرنے کے پیچھے آخر کیا مقاصد تھے؟

کیا نجم سیٹھی کا قطر کا دورہ، قطر حکام سے گفتگو، شرائط پر مکمل بات چیت ، کھیل کے میدان کے معائنے اور لانچنگ تقریب میں اعلان کا مقصد صرف یہ تھا کہ امارات کرکٹ بورڈ کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے گراونڈ پی سی بی کو سپر لیگ کے لئے مہیا کرے ورنہ وہ یہ کھیل قطر منتقل کردے گا؟ یا اس کے پیچھے کچھ اور مقاصد بھی تھے؟پاکستان کر کٹ اور کرکٹ کی اس نئی نوع پر نگاہ رکھنے والے بہت اندرونی ذرائع نے وجود ڈاٹ کام کو اس فیصلے کے پس پردہ مقاصد کے بارے میں یہ بتا یا ہے کہ دراصل شارجہ سٹے کے لئے ایک آسان اور آزمودہ جگہ ہے۔ یہ وہی کھیل کے میدان ہیں جس پر انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے سٹے کے باعث پابندی بھی لگائی تھی۔جس کے باعث اب تک دنیا کے سب سے زیادہ 224 ایک روزہ میچ کی میزبانی کرنے والا یہ میدان اپریل 2003 ء سے فروری 2010ء تک سونا پڑا رہا۔تب امارات کرکٹ بورڈ نے شارجہ پر پابندی کے باعث کرکٹ میچز دبئی اور ابوظہبی میں کرائے تھے۔ باخبر ذرائع کے مطابق قطر میں بُکیز کے لئے وہ آسانیاں نہیں تھیں جو شارجہ ، دبئی اور ابوظہبی کے کھیل کے میدانوں کے لئے وہاں میسر ہیں۔ کرکٹ کے انتظامی اور مالیاتی امور سے آگاہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک سابق سربراہ نے پوری ذمہ داری کے ساتھ وجود ڈاٹ کام کو بتایا کہ اس طرح کی لیگ اور کرکٹ کے عالمی میلے بغیر سٹے کے منافع بخش کاروبار ہو ہی نہیں سکتے۔ چنانچہ نجم سیٹھی خود بھی تاحال اس کا جواب نہیں دے سکے کہ جن کاروباری گروپوں نے کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباداور کوئٹہ کی ٹیمیں خریدی ہیں، وہ آخر اس میں اپنے پیسے واپس کس کاروباری ماڈل سے نکالیں گے؟ واضح رہے کہ ان ٹیموں میں سب سے مہنگی ٹیم کراچی کی فروخت ہوئی ہے جسے اے آر وائی نے 26کروڑ روپے میں خریدا ہے۔ اسی طرح لاہور قلندر کو قطر آئل نے 25 کروڑ ، پشاور کی ٹیم کو ہیئر گروپ نے 16کروڑ ، اسلام آباد کی ٹیم کو لیونائن گلوبل اسپورٹس نے15 کروڑ جبکہ کوئٹہ کی ٹیم کو عمر ایسوسی ایٹس نے 11کروڑ روپے میں خریدا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر 93کروڑ روپے میں خریدی گئی یہ ٹیمیں کس کاروباری ماڈل سے رقم کی واپسی کو یقینی بناسکیں گی؟ ظاہر ہے کہ سٹے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اس رقم کی واپسی کے لئے ممکن نہیں۔ وجود ڈاٹ کام کو انتہائی ذمہ دار ذرائع نے اس حوالے سے سٹے کا ایک فارمولہ بھی بتایا ہے جو کھیل میں ایک پیٹرن کے طور پر کام کرے گا۔ مگر یہ سنسنی خیز معلومات ابھی پردۂ اخفا میں رکھنا مناسب ہوگا تاکہ اس فارمولے کے مطابق میچوں کی شناخت کو ممکن بنایا جا سکے۔ تاہم یہ پہلو کسی بھی شک وشبہے سے بالا ہے کہ پاکستان سپر لیگ سٹے بازی کے ایک بہت بڑے بکھیڑے کے طور پر ابھی سے ایک بڑے اسکینڈل کی طرف بڑھ رہی ہے۔

دوسری طرف پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے پی سی بی اور نجم سیٹھی کی بدانتظامیاں بھی اب زباں زدِ عام وخاص ہورہی ہیں۔ اور سپر لیگ کے ماسٹر چیمپیئن لیگ کے ساتھ ساتھ انعقاد نے بھی بہت سے مسائل پید اکردیئے ہیں۔ اوپر واضح کیا جا چکا ہے کہ شارجہ، دبئی اور ابوظہبی کے یہی میدان پہلے سے ہی ماسٹر چیمیئن لیگ کے لئے بُک ہو چکے ہیں۔ جو دبئی میں ایک شاندار ہوٹلز کے معروف سلسلے کے مالک پاکستانی نژاد ظفر علی شاہ کی بدولت ہو رہی ہے۔ یہ ماسٹر چیمیئن لیگ ایک روز بعد 28جنوری سے شروع ہو کر 14 فروری تک جاری رہے گی۔ اسی دوران پاکستان سپر لیگ 4فروری سے ان ہی میدانوں میں شروع ہوگی۔ اور یہ 23فروری تک جاری رہے گی۔ گویا 4فروری سے 14فروری کے درمیان دس روز تک پاکستان سپر لیگ ماسٹر چیمیئن لیگ کے ساتھ سینڈوچ بنی رہے گی۔ پھر اس دوران میں ماسٹر چیمیئن لیگ کو یہ سبقت بھی حاصل ہے کہ وہ بہت پہلے سے اپنی پبلسٹی کا آغاز کرنے کے باعث زیادہ بڑی سطح پر اسپانسرز کو اپنی جانب متوجہ کرچکے ہیں۔ اس طرح سپر لیگ کو اس بیچ میں اپنا کہیں لچ تلنا اور کامیابی کا ڈھندوڑا بھی پیٹنا ہے۔ مگر اس میں کامیابی کے امکانات کتنے ہیں، اس کا اندازا اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کے ایمبسیڈر وسیم اکرم مقرر کئے گیے ہیں۔ مگر جب ماسٹر چیمپیئن لیگ کے انعقاد کے حوالے سے پریس کانفرنس ہو رہی تھی تو اس میں یہ ایمبسیڈر صاحب بھی تشریف فرما تھے۔ پاکستان سپر لیگ کی اندرونی بد انتظامیوں سے آگاہ اور اسکینڈلز پر اسکینڈلز بننے کے اس عمل کا براہِ راست مشاہدہ کرنے والے ایک انتہائی ذمہ دار ذریعے نے وجود ڈاٹ کام کو بتایا ہے کہ پاکستان سپر لیگ ایک سفید ہاتھی بن کر بدنامی کا ایک طوق بننے والی ہے اسی لئے پی سی بی کے سیانے چیئرمین شہریار خان نے اس معاملے میں خود کو حتی المقدور دوررکھا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ نجم سیٹھی کی وہ چڑیا جو دوسروں کی خبر لاکر دیتی ہے ، خود نجم سیٹھی کی اپنی خبروں کو اُنہیں کب لا کر دیتی ہے۔ اور یہ چڑیا کی خبر نجم سیٹھی کی ’’آپس کی بات‘‘ میں سامنے بھی آتی ہیں یا خود اُن کے اپنے اندر ہی آپس آپس میں رہ جاتی ہے!!!


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر