... loading ...

پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے نجم سیٹھی کے تمام دعوے دھوکے اور ریت کے گھروندے ثابت ہورہے ہیں۔ ٹیمیں تحفظات سے دوچار ہیں۔ اسپانسرر مسلسل اعتراضات اُٹھا رہے ہیں اور نشریات کے حقوق کے معاملات بھی غیر شفافیت کے باعث سوالات کے نرغے میں ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی سب کی ہتھیلیوں پر سرسوں جما رہے ہیں اور اِسے ’’آپس کی بات‘‘ بنا کر ٹالنے میں لگے ہیں۔
وجود ڈاٹ کام ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے لئے پی سی بی کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں۔ پی سی بی نے اس کے لئے 93کروڑ روپے کا ہدف رکھا تھا۔ جو اُسے ٹیموں اور اسپانسرز سے ملنے تھے۔ اس ضمن میں حبیب بینک اس کا مرکزی اسپانسر (کفیل) تھا ۔ جس سے 23 کروڑ روپے ملنا تھے۔ باقی ملنے والے پیسوں کے تمام معاملات بدعنوانیوں کے گہرے ا ندھیرے میں ہیں۔
اے آر وائی کی جانب سے پیسے تو نہیں دیئے جا رہے۔ مگر وہاں سے پی سی بی کو مسلسل اعتراضات ضرور بھیجے جارہے ہیں۔ اے آر وائی کے دو مرکزی اعتراضات یہ سامنے آئے ہیں کہ لاہور قلندر کی ٹیم کے ساتھ جیو کا نام کیوں چپکا ہوا ہے؟اور پی سی ایل کی میچوں کو دکھانے کے حقوق جیو سوپر کو کیوں اور کیسے مل گیے؟یہ دونوں سوالات بدعنوانیوں کی بدنام تفصیلات رکھتے ہیں۔
لاہور قلندر کے سی ای او دراصل رانا فواد ہیں۔ جو جیو نیوز کے ڈائریکٹر نیوز رانا جواد کے بھائی ہیں۔ وہ کاروباری معاملات کا ایسا کیا پس منظر رکھتے ہیں یا پھر وہ کون سی مالیاتی پوزیشن کے حامل ہیں کہ ایک پوری ٹیم کو خرید سکیں؟ ظاہر ہے کہ اُن کی یہ پوزیشن اُن کے سالانہ ٹیکس کی تفصیلات میں بھی جھلکنی چاہئے۔ مگر وہاں تو مکمل سناٹاطاری ہے۔ چنانچہ چاروں طرف سے یہ آواز سنائی دے رہی ہے کہ اس کے پیچھے کوئی اور نہیں خود ’’جیو‘‘ کے میر شکیل الرحمان ہیں۔ اور اُنہوں نے ایک فرنٹ مین کے طور پر رانا فواد کو آگے رکھا ہے۔ اے آر وائی کی طرف سے یہ اعتراض باربار آرہا ہے کہ اگر جیو ، لاہور قلندر کا میڈیا پارٹنر ہے تو وہاں تک محدود رہنے کے بجائے ٹیم کے ساتھ اپنا نام کیسے چپکا بیٹھا ہے؟ظاہر ہے کہ نجم سیٹھی یہ چاہتے ہیں کہ ’’آپس کی بات ‘‘ بس آپس میں ہی رہے۔
اس ضمن میں دوسرا بڑا اعتراض جیو سوپر کو پاکستان سپر لیگ کے تمام میچ دکھانے کے حقوق پر سامنے آرہا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کے نشریاتی حقوق کے لئے واحد بولی ٹین اسپورٹس کی طرف سے آئی تھی۔ یہ بات بجائے خود اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سپر لیگ کرکٹ کی دنیا میں کتنی متاثرکن یا کشش کا باعث بن سکی ہے؟ مگر سپر لیگ کے واحد کرتا دھرتا نجم سیٹھی نے اس معاملے کو بھی آلود ہ کردیا ہے۔ عام طور پر ٹین اسپورٹس کو ملنے والے حقوق پر پی ٹی وی اسپورٹس کو سرکاری حیثیت ملنے کے باعث میچ دکھانے کے اجازت دے دی جاتی ہے۔ جسے ٹین اسپورٹس گوارا کرتا ہے۔ مگرایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ سپر لیگ کے میچ ٹین اسپورٹس اور پی ٹی وی اسپورٹس کے علاوہ جیو سوپر بھی دکھائے گا۔ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ تین چینل ایک میچ دکھا رہے ہوں!یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نجم سیٹھی نے جیو سوپر کو اس کی اجازت کیسے دی؟ نجم سیٹھی جیو کے ملازم بھی ہیں اور ایک پروگرام ـ’’آپس کی بات‘‘ میں دانشوری بگھارنے کے ساتھ طوطے سے فال نکالنے کی طرز پر چڑیا اڑاتے پھرتے ہیں۔ ایک ادارے کے ساتھ اپنی منفعت بخش وابستگی کے ساتھ وہ اُس ادارے کو اب تک کے نامعلوم طریقے سے میچ دکھانے کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ یہ معاملہ کچھ اور وجوہات کی وجہ سے بھی حساس ہے۔
جیو سوپر ، جیو نیٹ ورک کا ایک ناکام منصوبہ ثابت ہوا ہے۔ وہ ماضی میں دوسال قبل کے ڈومیسٹک سیزن کے طے شدہ پیسے پی سی بی کو نہ دے کر ڈیفالٹ ہو چکا ہے۔ اسی باعث جیو سوپر کسی بھی میچ کو دکھانے کے حقوق کے حوالے سے اپنی کسی صلاحیت کا مظاہرہ بھی نہیں کر پارہا تھا۔ مثلاً گزشتہ برس جیو سوپر ڈومیسٹک میچز دکھانے کے نشریاتی حقوق بھی لینے میں ناکام رہا ۔ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل نے اگلے پانچ برسوں کے لئے کرکٹ دکھانے کے جونشریاتی حقوق فروخت کئے ہیں، اُن میں سے کسی ایک میچ کے بھی حقوق خریدنے میں جیو سوپر ناکام رہا ہے۔ چنانچہ ان مسلسل ناکامیوں کے باعث خود جیو سوپر کے ملازمین کا حال بہت پتلاہے۔ پرانے ملازمین کو تنخواہیں نہیں دی جارہیں۔ ادارے کے اندر چھانٹی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ان بدتر حالات کے باعث میر شکیل الرحمان نے جیو سوپر کو جیو انٹرٹینمنٹ اور فلمز میں تبدیل کرنے کی ٹھان لی تھی۔ مگر نجم سیٹھی نے جیو سوپر کو پاکستان سپر لیگ کے میچز دکھانے کی اجازت دے کر ایک نئی زندگی دے دی ہے۔ کرکٹ ماہرین کا خیال ہے کہ سوپر لیگ پاکستان کرکٹ کے تن مردہ میں تو جان نہیں ڈال سکے گی مگر آخری سانسیں لیتے جیو سوپر کی زندگی کا سامان کر جائے گی۔ یہ ایک عجیب گورکھ دھندہ بن چکا ہے کہ سپر لیگ کے ’’پروڈکشن ‘‘ کے حقوق سن سیٹ پلس وائن کو ملے ہیں، براڈ کاسٹنگ کے حقوق ٹین اسپورٹس کو ملے ہیں۔ مگر سرکاری چینل کے باعث پی ٹی وی اسپورٹس بھی میچ دکھا سکے گا۔ اور نجم سیٹھی کے باعث جیو سوپر بھی میچ دکھانے کا حق رکھے گا۔ ملکی فیصلے ذاتی وابستگیوں کی جس بدبودار سطح سے ہور ہے ہیں ، اس پر کسی کو دھیان دینے کی فرصت ہی نہیں ہے۔ یہ سب کچھ نجم سیٹھی کی بدولت ہو رہا ہے اور دولت کے ہیر پھیر کے ساتھ ’’آپس کی بات‘‘ میں دفن ہورہا ہے۔
پاکستان سپر لیگ کرکٹ کے کسی بڑے اور مثالی واقعے کے بجائے بہت بڑے اسکینڈل میں تبدیل ہو رہی ہے۔ کیونکہ اس میں کہیں پر بھی شفافیت نظر نہیں آرہی۔ اور مالیاتی بے قاعدگیوں کے بہت سے قصے ابھی سے گردش کرنے لگے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ سپر لیگ میں حصہ لینے والی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے بھی تحفظات سامنے آرہے ہیں۔ پی سی بی نے کھلاڑیوں کی آمدنی پر 36 فیصد ٹیکس لگا دیا ہے۔ جس پر کھلاڑیوں نے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے۔ اس ضمن میں دو کرکٹ ٹیموں کے کھلاڑیوں نے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں پہلے یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اُنہیں اپنی آمدنی میں سے 36فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جو بہت زیادہ ہے۔
یہ اور ایسے بہت سے مسائل ہیں جس کے باعث ابھی تک پاکستان سپر لیگ کی مہم ہی شروع نہیں کی جاسکی۔ پاکستان سپر لیگ کا آغاز 4 فروری سے ہونا ہے مگر ابھی تک اس کے آثار ہی کسی مہم سے نہیں دکھا رہے ہیں ۔ سپر لیگ کا کھڑاگ اس سے پہلے بھی دو بار ڈالاجا چکا ہے مگر یہ روبہ عمل نہیں آسکی۔ اب کی بار اس کا بیڑہ نجم سیٹھی نے اُٹھا یا اور وہ خود پاکستان سپر لیگ کے چیئرمین بن گیے۔ پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان نے خود کو اس پورے کھیل سے الگ کر لیا ۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ معاملہ ایک بڑے اسکینڈل میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اور یہ کھیل نہیں بلکہ ایک کھلواڑ ہورہا ہے۔ جس میں رشوت ، پیسے اور آمدنی کے گھن چکر سب کو چکراکر رکھ دیں گے۔ مالیاتی بے قاعدگیوں کے بڑے پیمانے پر ابھی سے اُبھرنے والے آثار کے باعث کرکٹ کے ماہرین یہ رائے زنی کررہے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ ایک سفید ہاتھی ثابت ہونے والا ہے۔ نجم سیٹھی پاکستان سپر لیگ کے اس پورے دائرے کو پیسوں کے جس مرکز پر گھما رہے ہیں ، اور اِسے جس طرح جیوسوپر کو زندگی دینے اور میر شکیل الرحمان کو خوش کرنے کے لئے وسعت دیتے جارہے ہیں ، وہ کرکٹ کو تو کوڑا کرکٹ بنا دے گی۔ مگر کچھ لوگوں کی جیبوں کو بہت گرم کردے گی۔ اور یہ آپس کی بات نہیں۔ سب کی زبانوں پر چلنے والی بات ہے۔
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...
خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...
طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...
تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...
حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...
گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...
یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...
ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...
اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...
سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...
جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...