وجود

... loading ...

وجود

بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات۔امریکہ خوش

جمعه 11 دسمبر 2015 بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات۔امریکہ خوش

sirtaj aziz

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج اور پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے درمیان ملاقات کے بعد جواعلامیہ جاری کیا گیا اس کے مطابق طرفین نے جامع مذاکرات کی بحالی پر اتفاق کر لیا ہے۔خارجہ سیکریٹریوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مذاکرات کے تحت آنے والے امور،جن میں امن و سلامتی ،اعتماد سازی کے اقدامات،تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ، تجارتی اشتراک ،سیاچن ،سرکریک ،وولر بیراج ،جموں وکشمیر،انسداد دہشت گردی ،نارکو ٹیکس کنٹرول، انسانی مسائل،عوامی رابطوں و فود کے تبالوں اور مذہبی سیاحت جیسے معاملات شامل ہیں،کیلئے شیڈول اور طریقہ کار ترتیب دیں گے۔

  • پاک بھارت جب تک اقوام متحدہ کی قراردادیں عمل میں لانے پر متفق نہیں ہوتے مذاکرات فضول ہیں
    ( حریت سربراہ سید علی گیلانی)
  • بھارت مذاکرات کی آڑ میں روز بروز ریاست پر اپنا قبضہ مستحکم کررہا ہے ، عسکری مزاحمت ہی اس مسئلے کا حل ہے
    (سید صلاح الدین)
  • جموں و کشمیر کی مسلمہ قیادت کو ایک فریق کی حیثیت سے شامل کئے بغیر مذاکرات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں(یٰسین ملک)
  • ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر کی اہمیت وولر بیراج کے قضیے کی سطح پر آگئی ہے (کشمیری صحافی)

عالمی برادری نے جامع مذاکرات کی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ہم چاہتے کہ پاکستان اور بھارت اپنے تنازعات مل کر حل کریں اور ان مسائل کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے بات چیت جاری رکھیں جن کا انھیں تاحال سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکا تو بس چاہتا ہے کہ بات چیت جاری رہے اور اس لئے وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ بات چیت کو حوصلہ افزا سمجھتا ہے کیونکہ یہ بالکل وہی چیز ہے جس کی ہم حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا امریکا پاکستانی فوج کی سفارت کاری کے عمل میں شمولیت کو قبول کرتا ہے، ان کاکہنا تھا کہ یہ فیصلہ کرنا دونوں ممالک کا کام ہے کہ کون شامل ہوتا ہے یا نہیں۔اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کی جانب سے مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے کو خوش آئندقرار دیا ہے ۔

اُدھر بھارت کے اندر ابھی تک سیاسی پارٹیاں اور بھارتی میڈیا محتاط رد عمل کا مظاہرہ کررہا ہے ۔کا نگریس کے ترجمان ٹام وڈاکنTom Vadakkan نے ان مذاکرات پر خوشی کا اظہار کیا تاہم مودی حکومت سے انہوں نے یہ سوال کیا کہ مذاکرات کی بحالی کی وجہ کیا بنی۔مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے بی جے پی حمایت یا فتہ وزیر اعلیٰ نے ہندو پاک بات چیت عمل کے آغاز کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے کشمیری عوام کی جیت سے تعبیر کیا ہے۔اُنہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ہندوستان پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کیلئے کوئی دباؤ تھا۔

syed ali geelani

بزرگ رہنما سید علی گیلانی نے ان مذاکرات کو فضول مشق قرار دیتے کہا کہ ہندوپاک نے گزشتہ68سال سے کشمیر پر بات چیت کی ہے لیکن صرف یہ طے پایا کہ اگلی بات چیت کب ہوگی۔دونوں ممالک ہمیشہ ان مذاکرات کے دوران میں کشمیر کی زمینی صورتحال بدلنے میں ناکام رہے۔سید علی گیلانی جمعرات کو حریت کا نفرنس کے صدر دفتر پر’’جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں اوراقوام متحدہ‘ ‘کے عنوان پر سمینار سے خطاب کررہے تھے۔ حریت سربراہ نے کہا کہ ایک طرف مذاکراتی عمل جاری تھاتو دوسری طرف مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں کشمیری عوام کے عزم کو دبانے کیلئے بھارتی فورسز اور پولیس کی طرف سے بلا روک ٹوک انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بزرگ مزاحمتی رہنمانے کہا کہ 1947سے ہندوستان اور پاکستان کے مابین150مرتبہ مذاکرات ہوچکے ہیں اور پھر بھی کشمیری مسلسل سزا بھگت رہے ہیں، کشمیری، مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق ہیں۔یہ مذاکرا ت تب تک ایک فضول مشق ہے جب تک ہندوپاک اقوام متحدہ کی قراردادیں عمل میں لانے پر متفق نہیں ہوجاتے۔

syed salahhudin

حزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین نے’’ وجود ڈاٹ کام ‘‘سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ کوئی سرحدی تنازع نہیں بلکہ ایک کروڑ 40لاکھ لوگوں کے مستقبل کا معا ملہ ہے۔اس مسئلے کو یا تو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے عین مطا بق حل کیا جا سکتا ہے یا پھر انہی قرادادوں کی روشنی میں سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔سید صلاح الدین نے کہا کہ ہماری خواہش بھی یہی ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے سے ہی حل ہوجائے لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بھارت مذاکرات برائے مذاکرات کا قائل ہے اور ان مذاکرات کی آڑ میں وہ روز بروز ریاست پر اپنا قبضہ مستحکم کررہا ہے ۔اس لئے عسکری مزاحمت ہی اس مسئلے کا حل ہے اور یہ مزاحمت تاحصول آزادی پوری قوت سے جاری رہیگی۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یا سین ملک نے ان مذاکرات کو تب تک وقت کا ضیاع قرار دیا جب تک بنیادی فریق جموں و کشمیر کی مسلمہ قیادت کو ایک فریق کی حیثیت میں مذاکرات میں شامل نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر متنازع مسئلہ کشمیر کے بنیادی فریق کی مرضی کے خلاف کشمیریوں پر کوئی منصوبہ تھونپا گیا تو حساس کشمیری قوم2 199ء کی طرح آر پار کشمیر کے مابین دیوار کو توڑ کر خونی لکیر کو روندکر ایک دوسرے سے آ ملیں گے۔جمعرات کو سری نگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین کوئی سرحدی تنازع نہیں ہے جس میں ہندوپاک بیٹھ کر فیصلہ سنائیں گے ۔مسئلہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور یہ کوئی بے زبان جانوروں کا مسئلہ نہیں ہے جس میں ان سے پوچھے بغیر ان کے مستقبل کے فیصلے لئے جائیں۔

mirwaiz-umar-farooq

تاہم حریت کا نفرنس میر واعظ گروپ کے چیئرمین میر واعظ عمر فارق نے بھارت اور پاکستان کے درمیان معطل شدہ مذاکراتی عمل کی بحالی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے مذاکراتی عمل تب تک ادھورا ہے جب تک ان مذاکرات میں کشمیری عوام کو شامل نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کشمیر ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے اور حکومت ہندوستان کو چاہیے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کے ضمن میں طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی جرأت مندی سے عبارت اقدامات اٹھائے۔معروف کشمیری رائٹر اور صحافی گو ہر گیلانی نیان نے مذاکرات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک طرف بھارتی میڈیا کی زبان نہیں تھکتی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ،وہیں دوسری طرف یہی کشمیر دو طرفہ مذاکرات میں شا مل ہے۔،تو اس کا صاف مطلب ہے کہ بھارت نے اسے متنا زع تسلیم کیا ہے ۔ممتاز کشمیری صحافی احمد علی فیاض نے وزراء خارجہ کے مشتر کہ اعلامئے کو کشمیری عوام اور شہداء کی توہین قرار دیا ہے۔لکھتے ہیں امن و سلامتی ،اعتماد سازی کے اقدامات،تلبل نیوی گیشن پروجیکٹ، تجارتی اشتراک ،سیاچن ،سرکریک ،ولر بیراج ،جموں وکشمیر،انسداد دہشت گردی ،نارکو ٹیکس کنٹرول، انسانی مسائل،عوامی رابطوں ،و فود کے تبادلوں کے موضوعات میں 26سالہ خونریزی اور ایک لاکھ کشمیریوں کی شہادت کے بعد مسئلہ کشمیر کی اہمیت وولر بیراج کے قضیے کی سطح پر آگئی ہے۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر