وجود

... loading ...

وجود

نواب ثناءاللہ زہری وزیراعلیٰ بلوچستان کے لئے نامزد

جمعه 11 دسمبر 2015 نواب ثناءاللہ زہری وزیراعلیٰ بلوچستان کے لئے نامزد

Sanaullah-Zehri-Abdul-Malik

بلوچستان میں وزارت اعلیٰ کے مسئلے کو بالاخر حل کر لیا گیا ہے۔ اور وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں نواب ثنااللہ زہری کو بلوچستان کا وزیراعلیٰ نامزد کر دیا گیا ہے۔ بلوچستان کی اتحادی جماعتوں نیشنل پارٹی، مسلم لیگ نون اور پختون خواہ ملی عوامی پارٹی نے 11 مئی 2013ءکے عام انتخابات کے بعد میاں نواز شریف کی موجودگی میں ایک تحریری معاہدہ کیا تھا جس کے تحت نیشنل پارٹی کو نصف مدت اور مسلم لیگ نون کو نصف مدت کے لئے وزارت اعلیٰ کا منصب ملناتھا۔

نیشنل پارٹی کی طرف سے ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ وزارت ِ اعلیٰ کے منصب پر فائز کئے گیے۔ جن کی ڈھائی سال کی مدت 4 دسمبر کو پوری ہو چکی ہے۔ معاہدے کے تحت اب مسلم لیگ نون کی طرف سے اگلی نصف مدت کے لئے نواب ثنااللہ زہری کو وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنا تھا۔ مگر اس دوران میں ایک عجیب وغریب رویہ ذرائع ابلاغ کے کچھ مخصوص عناصر کی طرف سے دیکھنے میں آیا۔ جنہوں نے ڈاکٹر عبدالمالک کے حق میں ایک فضا بناتے ہوئے بلوچستان کے مخصوص حالات میں اُن کی ضرورت کا مضبوط تاثر اُبھارنا شروع کردیا۔

آخر کیوں چند ہفتوں کے بعد مخصوص صحافیوں کی ایک کھیپ کو پنجاب اور اسلام آباد سے بلا کر اُنہیں بلوچستان کے حالات پر بریفنگ دی جاتی ہے۔ یہ کام بلوچستان کے صحافیوں کے ساتھ کیوں نہیں کیا جاتا ؟

دلچسپ طور پر اُن عناصر کے بارے میں یہ مشاہدہ کیا گیا کہ وہ پنجاب اسلام آباد سے اکثر بلوچستان حکومت کی دعوت پر کوئٹہ کے دورے کرتے رہے۔ کوئٹہ کو انتظامیہ کی آنکھوں سے دیکھنے کے شوقین ان عناصر نے ایک مدت سے اس تفریحی میلے کو بلوچستان کے بارے میں مخصوص لوگوں کی لابی کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔ بدقسمتی سے بلوچستان کے سیاست دانوں میں بھی یہ تاثر پیدا ہوچکا ہے کہ ملک کے اصل حکمرانوں تک اقتدار کی جنگ میں شرکت کے لئے اب پنجاب اور اسلام آباد کے اُن بااثر کالم نویسوں ، صحافیوں ، تجزیہ کاروں اور ٹی وی اینکرز سے راہ ورسم رکھی جائے جن کی بات یہ حکمران طبقہ ایک مفروضے کے مطابق سنتا ہے۔ چنانچہ کچھ برسوں سے اس نوع کی سرگرمیاں اسلام آباد اورلاہور میں دیکھی جاتی ہیں جس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سیاست دان مختلف قسم کے پروگرامات یا تو پسِ منظر میں رہ کر منعقد کراتے ہیں یا پھر ایسے کسی بھی پروگرام میں بطور ِ خاص شریک ہوتے ہیں اور اِسے پنجاب میں مراسم استوار کرنے ، لابی بنانے یا اپنے سیاسی عزائم کے لئے راہ ہموار کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

اس پورے عمل کو بھونپو تجزیہ کار یا عاریتاً دستیاب کالم نویس جمہوریت کے ثمرات باور کراتے ہیں جس کے مطابق اب بلوچستان کے رہنما پنجاب میں آکر گفت وشنید کرنے لگے ہیں۔ لاہور میں گزشتہ دنوں ایک کانفرنس میں ممتاز دانشور عطاء الحق قاسمی نے اسٹیج پر آکر صرف ایک جملہ کہا کہ میں یہاں صرف ایک ہی بات کہنے آیا ہوں کہ ڈاکٹر عبدالمالک کو ہی وزیر اعلیٰ رہنے دیا جائے۔ اس پروگرام میں شریک ایک وزیر نے اسٹیج پر موجود ایک اور مقرر کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد دو لوگوں کی مدت میں توسیع بن گیا ہے۔ ایک پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی مدت میں توسیع اور دوسرے وزیر اعلیٰ بلوچستان کے منصب میں تو سیع۔ اس مہم میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق بھی پیش پیش رہے۔

مسلم لیگ نون بلوچستان سے بغاوت کی بُو پاکر بالاخر میاں نوازشریف نے چھ روز کی تاخیر کے بعد یہ فیصلہ کر لیا کہ نواب ثناءاللہ زہری کو معاہدے کے مطابق وزیراعلیٰ نامزد کر دیا جائے

اس پورے عمل کابلوچستان کے صحافی مضحکہ اڑاتے ہیں اور اِسے مقتدر اشرافیہ کے ایک تماشے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے وجود ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آخر وہ کون سی بات ہے جو بلوچ صحافیوں کے ساتھ نہیں کی جاسکتی۔ آخر کیوں چند ہفتوں کے بعد مخصوص صحافیوں کی ایک کھیپ کو پنجاب اور اسلام آباد سے بلا کر اُنہیں بلوچستان کے حالات پر بریفنگ دی جاتی ہے۔ یہ کام بلوچستان کے صحافیوں کے ساتھ کیوں نہیں کیا جاتا ؟ پھر خود ہی اُنہوں نےا س کاجواب دیا کہ کیونکہ ہم اصل صورتِ حال جانتے ہیں۔ اس لئے یہ بریفنگ ہمارے لئے کوئی قابلِ اعتبار نہیں ہوتی۔ دوسرے یہ کہ ہم اسلام آباد اور پنجاب میں لابنگ کے لئے کار آمد نہیں۔

یہ پورا طریقہ واردات دراصل ڈاکٹر عبدالمالک کے معاملے میں بھی استعمال کیا گیا۔ اور ایک موقع پر یہ نوبت بھی آگئی کہ میاں نوازشریف کو اس پر تقریباً قائل کر لیا گیا کہ ابھی وزیراعلیٰ کی تبدیلی شاید مناسب نہ ہو۔ شریف برادران جو پہلے بھی سیاست میں پاسِ عہد کے حوالے سے کوئی اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ اس معاملے میں بھی یہی کچھ کرنے والے تھے۔ مگر بلوچستان کے ذرائع بتاتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں مسلم لیگ نون بلوچستان کے اندر دراڑیں پڑنے کے خطرات پیدا ہو چکے تھے۔ مسلم لیگ نون بلوچستان سے بغاوت کی بُو پاکر بالاخر میاں نوازشریف نے چھ روز کی تاخیر کے بعد یہ فیصلہ کر لیا کہ نواب ثناءاللہ زہری کو معاہدے کے مطابق وزیراعلیٰ نامزد کر دیا جائے۔ اس ضمن میں نہایت مضحکہ خیز بات یہ تھی کہ وہ تمام تجزیہ کار اور دانشور جو اپنی تحریروں میں آصف علی زرداری کے اس جملے کا مزاق اڑاتے رہے کہ معاہدے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہوتے کہ اُسے توڑا نہ جائے وہ ڈاکٹر عبدالمالک کے معاملے میں معاہدے توڑنے کی تائید میں لابنگ کرتے رہے۔


متعلقہ خبریں


نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم وجود - هفته 07 نومبر 2026

قطری حکام نے نئی امریکی فوجی کارروائی روکنے کیلئے سفارتی کوششیں شروع کر دیں، رپورٹ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے دوبارہ حملے شروع کرنے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اس معاملے پر تقسیم ہو گئے ہیں کہ آیا جنگ ختم کی جائ...

نیتن یاہو کا ایران پر دوبارہ حملوں کیلئے دباؤ، ٹرمپ کے مشیر منقسم

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ وجود - هفته 07 نومبر 2026

شاہی خاندان میں صلح کروانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والی کیٹ مڈلٹن نے ہیری سے مطالبہ کردیا برطانوی شاہی خاندان کے منحرف رکن شہزادہ ہیری اپنے ناراض بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی بھابھی کیٹ مڈلٹن سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہ...

شہزادہ ہیری کا بھائی شہزادہ ولیم سے صلح کیلئے بھابھی کیٹ مڈلٹن کی مدد لینے کا فیصلہ

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ وجود - هفته 07 نومبر 2026

ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے نہ روکا ہوتا تو آج اسرائیل ،مشرق وسطی موجود نہ ہوتے، امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈ ٹرم الیکشن کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کینیڈی سپیس سینٹر میں ...

صرف ایک الیکشن کی وجہ سے امریکہ کو 3 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا، ٹرمپ

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عثمان کی جگہ عامر جمال کی شمولیت کا امکان پاکستان ٹیسٹ ٹیم مینجمنٹ وسلیکشن کمیٹی نے اسکواڈ سے 2 کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا۔ ذرائع کے مطابق عبداللہ فضل اورعلی عثمان کو اسکواڈ جوائن کرنے سے قبل ہی ریلیز کردیا گیا، عبداللہ فضل کی جگہ طیب عارف، علی عث...

پاکستان ٹیسٹ اسکواڈ میں تبدیلیاں،2کھلاڑیوں کو ریلیز کردیا گیا

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا وجود - هفته 07 نومبر 2026

آسٹریلوی ٹیم کے تمام کھلاڑی بال ٹیمپرنگ منصوبے سے آگاہ تھے، صرف تین کرکٹرز کو سزا ہوگئی، سابق کرکٹر کا دعویٰ 8 برسوں میں بہت کچھ کہا بہت افواہیں سامنے آئیں، ہم اپنی انٹیگریٹی تحقیقات کے نتائج سے مطمئن ہیں،کرکٹ آسٹریلیا سابق آسٹریلوی کرکٹر عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپ...

عثمان خواجہ کے انکشافات نے بال ٹیمپرنگ سکینڈل کو پھر زندہ کر دیا

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل وجود - هفته 07 نومبر 2026

ہوم سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہترین موقع ہے، اپنی پرفارمنس میں بہتری سے مطمئن ہوں، میڈیا سے گفتگو پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نائب کپتان سعود شکیل نے کہا ہے کہ ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس میں تسلسل نہیں سینئرز کی بھی ذمے داری ہے۔اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں سعود شکیل نے کہا کہ پاک...

ٹیسٹ میچز میں پرفارمنس سینئرز کی بھی ذمے داری ہے، سعود شکیل

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر