وجود

... loading ...

وجود

ایم کیو ایم کے مطالبے پر ”شکایت ازالہ کمیٹی“ کا قیام

هفته 17 اکتوبر 2015 ایم کیو ایم کے مطالبے پر ”شکایت ازالہ کمیٹی“ کا قیام

farooq sattar and ishaaq dar

وفاقی حکومت نے بآلاخر ایم کیوایم سے طے پانے والے معاہدے کے آٹھ روز بعد شکایت ازالہ کمیٹی قائم کرنے کا اطلاع نامہ (نوٹیفیکشن ) جاری کر دیا ہے۔پانچ ارکان پر مشتمل ازالہ کمیٹی کے ارکان میں جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ر) خلیل الرحمان ، جسٹس (ر)اجمل میاں اور فروغ نسیم شامل ہوں گے۔ ان کے علاوہ وفاقی سیکریٹری داخلہ کمیٹی کے رکن اور سیکریٹری کی حیثیت سے اس میں شامل ہوں گے۔ اطلاع نامے کے تحت مذکورہ کمیٹی کسی بھی شکایت کا نوے دنوں میں فیصلہ کرنے کی پابند ہوں گی۔ وفاقی حکومت شکایت ازالہ کمیٹی کو ایک سیکریٹریٹ کی سہولت بھی فراہم کرے گی۔ جبکہ کمیٹی اپنے کام کا طریقہ کار اور ضابطہ کار بھی خود ہی طے کرے گی۔

وزرات قانون کی طرف سے 16 اکتوبر کو جاری کردہ اس اطلاع نامے پرسیکشن افسر سادات اقتدار عالم کے دستخط ہے۔ مگر یہ سوالات اپنی جگہ اب بھی اہم ہیں کہ مذکورہ کمیٹی ایم کیوایم کی شکایتوں کو کس حد تک دورکرنے میں کامیاب ہو گی اور مذکورہ کمیٹی کے تمام ارکان کب تک اس کمیٹی کا خوش دلی سے حصہ رہ پائیں گے؟

شکایت ازالہ کمیٹی کے پاس ایسا کیا طریقہ کار ہوگا کہ وہ ایم کیوایم کی شکایتوں کو جائز سمجھتے ہوئے اسے عسکری حلقوں سے منوائے گی۔

اگر چہ ایم کیو ایم کے پاس پہلے کی طرح حکومت پر مستقل دباؤ قائم رکھنے کے لیے کچھ زیادہ مواقع نہیں ہیں ،مگر ایم کے پاس یہ انتخاب بھی نہیں تھا کہ وہ چپ چاپ بغیر کچھ حاصل کیے اپنے استعفوں کی واپسی کا اعلان کردیں ۔ چنانچہ 22 اگست کو کراچی میں جاری آپریشن پر احتجاجاً استعفے دیے جانے کے بعد سے وہ مسلسل ایک آبرومندانہ راستے کی تلاش میں تھی۔ اس دوران میں مولانا فضل الرحمان کی مدد سے شروع کیے گئے مذکرات میں متعد د مرتبہ تعطل بھی آیا ۔یہاں تک کہ خود مولانا کی اپنی جماعت جمعیت علمائے اسلام میں بھی اس پر احتجاج ہوا کہ وہ آخر کیوں نائن زیرو گئے اور مذاکرات کا حصہ بنے۔ مگر مولانا نے اس احتجاج کے بعد اپنی کوششیں پس پردہ جاری رکھیں۔

بآلاخر 9 اکتوبر کو وہ لمحہ آیا جب اچانک وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور ایم کیوایم کے رہنماڈاکٹر فاروق ستار ایک پریس کانفرنس میں نمودار ہوئے جس میں ایک شکایت ازالہ کمیٹی کے قیام کی شرط پر ایم کیوایم نے استعفوں کی واپسی کا اعلان کیا ۔ مگر اس دوران میں ایم کیوایم نے استعفے واپس لیے اور نہ کسی قسم کا کوئی بھی تبصرہ ذرایع ابلاغ میں کیا ،یہاں تک کہ 16 اکتوبر کو شکایت ازالہ کمیٹی کے قیام کا ایک اطلاع نامہ جاری ہوگیا۔

ایم کیوایم بنیادی طور پر جو شکایات رکھتی ہیں اُن میں کارکنوں کی گرفتاری کے بعد اُن کے لاپتہ ہونے کا معاملہ بھی شامل ہے، اُن کی دوسری بڑی شکایت یہ ہے کہ اُن کی فلاحی سرگرمیوں پر بھی ایک طرح سے غیر اعلانیہ پابندی ہے۔ جبکہ وہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے خطاب کو نشر کرنے پر عائد پابندی کا بھی خاتمہ چاہتی ہے۔ ان میں سے دینے کے لیے کچھ بھی وفاقی حکومت کے پاس نہیں ہے۔ یہ بات ایم کیوایم بھی خوب اچھی طرح سمجھتی ہے۔مگر ایم کیو ایم کے پاس بھی سوائے وفاقی حکومت سے شکایت کرنے کے اورکوئی راستا نہیں ہے۔ چنانچہ ایم کیوایم نے وہی کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ شکایت ازالہ کمیٹی کے پاس ایسا کیا طریقہ کار ہوگا کہ وہ ایم کیوایم کی شکایتوں کو جائز سمجھتے ہوئے اسے عسکری حلقوں سے منوائے گی یا ایم کیو ایم کی شکایتوں کو ناجائز سمجھتے ہوئے خود ایم کیوا یم کو منوا سکے گی۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہوگا ۔ جو بجائے خود شکایتوں سے بھرپور ہوگا اور جسے جاری رکھتے ہوئے خود شکایت ازالہ کمیٹی کے ارکان بھی شکایتوں کے شکار ہوں گے ۔اس لیے مبصرین کے نزدیک یہ ایک ایسی کوشش تو ہے جو ایم کیوایم کو پارلیمنٹ میں واپسی کا ایک آبرومندانہ راستا دیتی ہے جسے ایم کیوایم بنیاد بنا کر کسی بھی وقت استعفے واپس لیے جانے کا اعلان بھی کرنے والی ہے مگر تجزیہ کار اِسے ایک ایسی کوشش کے طور پر نہیں دیکھ رہے جو بالاخر ایم کیوایم کی تمام شکایتوں کے خاتمے پر بھی منتج ہو۔اور نظام کی اصل قوتوں کے لیے بھی باعثِ اطمینان ہو۔


متعلقہ خبریں


مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن وجود - جمعه 23 جنوری 2026

لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے...

مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی وجود - جمعه 23 جنوری 2026

وفاق ٹی ڈی پیز کیلئے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، 7۔5 ارب اپنی جیب سے خرچ کر چکے ہیں، وزیراعلیٰ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت ،کابینہ سے خطاب خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی ا...

خیبرپختونخوا میں اجازت کے بغیر فوجی آپریشن مسلط کیے جا رہے ہیں،سہیل آفریدی

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار وجود - جمعه 23 جنوری 2026

بڑی تعداد میںفلسطینی شہری عارضی اور پلاسٹک کی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور اسرائیلی فوج کی بربریت جاری، 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید،دو بچے بھی شامل غزہ میں ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈر کے منصوبوں کے کوآرڈینیٹر ہانٹر میک گورن نے شدید الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ غزہ کی...

غزہ پٹی کڑی سردی اور سخت موسم کی لپیٹ میں،شہری اذیت سے دوچار

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود - جمعه 23 جنوری 2026

محمد آصف پاکستان کا عالمی سیاست میں مقام ہمیشہ اس کی جغرافیائی اہمیت، پیچیدہ سیاسی تاریخ اور بدلتے ہوئے معاشی و سلامتی کے چیلنجز سے جڑا رہا ہے ۔ اندرونی عدم استحکام، معاشی دباؤ اور سفارتی مشکلات کے کئی برسوں کے بعد پاکستان ایک بار پھر خود کو ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر منو...

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

  لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...

گل پلازہ کی ایک ہی دُکان سے 30 لاشیں برآمد،اموات کی تعداد 61 ہوگئی

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...

آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی عبدالقادر پٹیل کا لہجہ بدل گیا

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...

مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں،وزیراعظم

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...

ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت مسترد ،حافظ نعیم

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...

سپریم کورٹ، سزائے موت کی زیر التوا ء اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم وجود - جمعرات 22 جنوری 2026

جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...

اسرائیل کا جنوبی غزہ میں فلسطینیوں کو انخلاء کا حکم

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات) وجود - بدھ 21 جنوری 2026

18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...

سانحہ گل پلازہ پر حکمران اتحاد آمنے سامنے(نون لیگ ، پیپلزپارٹی ،ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں ایک دوسرے پر الزامات)

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری وجود - بدھ 21 جنوری 2026

27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...

گل پلازہ کے دو فلور کلیئر، 28 افرادجاں بحق، 85 لاپتا،ملبہ ہٹانے، لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری

مضامین
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور وجود جمعه 23 جنوری 2026
جاہلیت اور جبر کے مد مقابل مزاحمتی شعور

پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا وجود جمعه 23 جنوری 2026
پاکستان کا بطور عالمی کھلاڑی دوبارہ ابھرنا

عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ وجود جمعرات 22 جنوری 2026
عوام میں دولت تقسیم کرنے کا آسان نسخہ

ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ وجود بدھ 21 جنوری 2026
ملک مبشر احمد خان اورتاریخ کا استثنیٰ

انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے ! وجود بدھ 21 جنوری 2026
انسان اپنے اندر کے خوف، گناہ اور خو اہشات کا قید ی ہے !

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر