وجود

... loading ...

وجود

ایم کیوایم کے اراکین اسمبلی کے قاتل ایم کیو ایم سے ہی نکلے!

هفته 03 اکتوبر 2015 ایم کیوایم کے اراکین اسمبلی کے قاتل ایم کیو ایم سے ہی نکلے!

MQM-workers-funeral

سندھ رینجرز کی جانب سے جاری کیے گئے تازہ اعلامیے نے کراچی پولیس کے اب تک کے تمام دعوووں اور کارکردگی پر نہایت سنگین اور سنجیدہ قسم کے سوالات اُٹھا دیے ہیں۔ نیز پاکستانی طالبان کے حوالے سے مختلف کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے عمل کو بھی مکمل مشکوک بنا دیا ہے۔

سندھ رینجرز کے تازہ اعلامیے کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن معمار میں کارروائی کے دوران اکبر حسین عرف کالا اور کونین حیدر رضوی کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے۔ رینجرز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکبر حسین عرف کالا نامی اہدافی قاتل (ٹارگٹ کلر) نے ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی رضا حیدر اور ساجد قریشی کے قتل سمیت اہدافی قتل ( ٹارگٹ کلنگ) کی دس وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

رینجرز کے اس چونکا دینے والے دعوے کے بعد اب یہ کچھ زیادہ تحقیق طلب کام نہیں رہا کہ پھر رضاحیدر کے قتل کا دعویٰ کرنے والے “اصل طالبان “کون تھے ؟ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی رضا حیدر کو کراچی کے معروف علاقے ناظم آباد میں 2 اگست 2010 کو اُس وقت سر میں گولی مار کر قتل کیا گیا تھا جب وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے۔ تب پولیس نے رضا حیدر کو قتل کرنے والے ملزمان کے متعلق زیادہ گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ اگر چہ اُن کے پاس اس کی ایک ویڈیو فوٹیج (بصری فیتہ) موجود تھی جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا تھا کہ جائے واردات سے ذرا دور ایک موٹر سائیکل اور سفید کار میں سوار کچھ ملزمان گاڑیاں چھوڑ کر ویگنوں میں فرار ہورہے ہیں۔ بعد ازاں پولیس نے دعویٰ بھی کیا کہ رضا حیدر کے قاتل ایک موٹر سائیکل اور سفید کار میں ہی سوار تھے ۔ رضاحیدر کے قتل سے پہلے حملہ آوروں نے اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا تھا، یہ دراصل قتل کی واردات کو ایک مخصوص خانے میں ڈالنے اور اس کی تفتیش کو غلط سمت پر موڑنے کے لیے قاتلوں کی جانب سے ایک زبردست چال تھی۔ چنانچہ پولیس بھی اس شبہے میں مبتلا رہی کہ واردات میں کالعدم لشکر جھنگوی نامی تنظیم ملوث ہو سکتی ہے۔ رضا حیدر کے قتل کے وقت ایم کیو ایم سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھے شریکِ اقتدار تھی۔ مگر اس واردات کے بعد کراچی تین روز تک ہنگاموں کا شکار رہا۔ اوران ہنگاموں میں 50 کے قریب افراد قتل کر دیے گئے تھے۔ یہ ہنگامے ایک خاص فرقہ وارانہ رنگ بھی رکھتے تھے۔ لطف کی بات یہ تھی کہ اس قتل کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کر لی تھی۔ بالکل ایسے ہی جیسے بعد ازاں جنوری 2013 ءمیں کورنگی میں قتل ہونے والے منظر امام کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کر لی تھی۔مگر دس روز قبل منظر امام کے قاتل کو بھی رینجرز نے گرفتارکیا ہے ، رینجرز کے دعوے کے مطابق اس کا تعلق بھی طالبان سے نہیں ایم کیوا یم سے ہے۔

ایم کیو ایم کے ایک اور رکن سندھ اسمبلی ساجد قریشی کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح شکوک کے گرداب میں رہا ہے۔ ساجد قریشی کو ان کے 25 سالہ بیٹے کے ہمراہ گزشتہ عام انتخابات میں رکن اسمبلی منتخب ہونے کے صرف ایک ماہ بعد 21 جون 2013 کو نارتھ ناظم آباد میں ہی قتل کر دیا گیا تھا۔ ساجد قریشی تب اپنے بیٹے کے ہمراہ جمعہ کی نماز پڑھ کر مسجد سے باہر آئے تھے۔ حیرت انگیز طور پر ان کے قتل کی ذمہ داری بھی کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔ کراچی کی کامیاب اور لاجواب پولیس نے اپنے ایک اور کارنامے کے طور پرساجد قریشی کے قتل کے ایک ماہ بعد ہی پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن (سی آئی ڈی) محکمے کی حراست میں کالعدم تنظیم کے ایک مبینہ کارکن کی ہلاکت پر اس کی جواب دہی کرنے کے بجائے یہ دعویٰ کر دیا تھا کہ ملزم ایم کیوایم کے رکن اسمبلی کے قتل میں ملوث تھا۔ رینجرز کے تازہ اعلامیے کے بعد اب یہ جواب دہی کراچی پولیس کے ذمہ ہے کہ اُس کے ایک محکمے کی حراست میں موجود ہلاک ہونے والا ملزم دراصل کون تھا؟

دوسری طرف ایم کیوایم کے طرزِسیاست کا یہ پہلو بھی محلِ نظر رہے کہ ساجد قریشی کی ہلاکت کے بعد متحدہ قومی موومنٹ نے کراچی سمیت سندھ بھر میں ایک کامیاب ہڑتال کی تھی جس میں ہر قسم کے کاروبار مکمل طور پر بند رہے تھے۔ ایم کیوایم نے اُس زمانے میں سیکولرزم کے حوالے سے اپنی سیاست کو ملک بھر میں ایک مرکزی نکتہ گفتگو بنا دیا تھا اور وہ طالبان کے ایک حریف کے طور پر اُن کے نشانے پر خود کو باور کراتے تھے۔ اُسی ماحول میں 2013ء کے عام انتخابات سے قبل ایم کیو ایم کے 8 انتخابی کیمپوں پر بم حملے ہوئے تھے جن میں متحدہ کے کئی کارکن ہلاک و زخمی ہوئے تھے، ان حملوں کی ذمہ داری بھی طالبان قبول کرتے رہے۔ اور ایم کیوایم یہ موقف اختیار کرتی رہی کہ اُنہیں اپنے سیکولرنظریات کی وجہ سے دہشت گردی کے ذریعے آزادانہ انتخابی مہم چلانے سے روکا جارہا ہے۔

اب رینجرز کے تازہ اعلامیے میں یہ پورا تناظر بھی تبدیل ہو گیا ہے اور اکبر حسین کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم 2013ء کے عام انتخابات سے قبل کراچی کے حالات خراب کرنے میں ملوث رہا اور وہ یہ سب اپنی اعلیٰ قیادت کے احکامات پر کرتا رہا۔ رینجرز نے اپنے اعلامیے میں متعین طور پر واضح کیا ہے کہ اکبر حسین نے عزیز آباد، ناظم آباد، مکا چوک اور یوسف پلازہ کے علاقوں میں خود متحدہ کے ہی انتخابی کیمپوں پر دستی بموں سے حملے کیے۔ رینجرز کے اعلامیے کے مطابق ایم کیو ایم کے کارکن اکبر حسین عرف کالا نے ایم کیوایم کی اعلیٰ قیادت کی ہدایت پر یہ تمام جرائم کیے جن کا مقصد عوامی ہمدردی حاصل کرنا تھا۔ دوسرے ملزم کے حوالے سے رینجرز نے بتایا ہے کہ کونین حیدر رضا رضوی ٹارگٹ کلنگ کی 7 وارداتوں کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری اور ہڑتالوں کے دوران جلاؤ گھیراو میں بھی ملوث رہا ہے۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر