وجود

... loading ...

وجود

کامیابی کے لیے 10 اصول

جمعه 02 اکتوبر 2015 کامیابی کے لیے 10 اصول

andrew-carnegie

اینڈریو کارنیگی جب 1848ء میں امریکا پہنچے تھے تو پھوٹی کوڑی بھی ان کی جیب میں نہ تھی لیکن 1901ء میں وہ فولاد سازی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے اور دنیا کے امیر ترین آدمی بھی۔

زمانہ عروج میں کارنیگی کی ملاقات ایک نوجوان صحافی نپولین ہل سے ہوئی، جو کامیاب افراد کی زندگی کی داستانوں میں بہت دلچسپی رکھتے تھے۔ انہیں ہل میں کچھ دلچسپ دکھائی دیا اور 1908ء میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جن حکمت عملیوں نے انہیں ایک عظیم کاروباری و انسان دوست شخصیت بنایا ہے، وہ سب کو دستاویزی شکل دیں گے اور پھر دونوں نے مل کر کام کیا۔ 1937ء میں ہل کی کتاب “Think and Grow Rich” اپنے وقت کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سے ایک بنی۔

جب ہل نے کامیابی کے موضوع پر اپنا قلم اٹھایا تھا تو کارنیگی نے انہیں “کامیابی کے 10 اصول” تھے اور ہل نے اپنے تمام تر ادبی کام کی بنیاد انہی اصولوں پر رکھی۔ مجموعہ “The Science of Success” میں پیش کیے گئے ان اصولوں کا خلاصہ ہم آپ کے لیے یہاں پیش کررہے ہیں۔ آپ بھی اسے پلے، یہ پلو، سے باندھ لیں۔

1۔ اپنا مقصد متعین کریں

ایک عملی منصوبہ بنائیں اور فوری طور پر اس سمت میں کام کرنا شروع کریں۔

2۔ ایک “ماہرانہ اتحاد” تشکیل دیں

ہل کہتے ہیں کہ ایسے افراد کے ساتھ رابطہ رکھیں اور کام کریں “جن کے پاس وہ سب کچھ ہے، جو آپ کے پاس نہیں ہے۔”

3۔ ستاروں سے آگے

ہل لکھتے ہیں کہ “جو آپ کو کرنا چاہیے ہمیشہ اس سے زیادہ کریں، یہی آپ کو آگے لے جانے اور ترقی دینے کا اہل ثابت کرے گا، اور لوگوں کو آپ کا احسان مند بنائے گا۔”

4۔ “عملی یقین” کی مشق

خود اور اپنے مقصد پر اتنا زیادہ یقین رکھیں کہ آپ مکمل اعتماد کے ساتھ کام کرسکیں۔

5۔ ذاتی مقصد

بغیر بتائے وہ کریں جو آپ کو کرنا چاہیے۔

6۔ اپنے تخیل کو مہمیز دیں

جو کام آپ پہلے کرچکے ہیں اس سے آگے سوچنے کی ہمت کریں۔

7۔ جوش و جذبے کی سعی

ایک مثبت رویہ آپ کو کامیابی کے لیے تیار کرتا ہے اور دوسروں کی نظروں میں آپ کو عزت بھی دیتا ہے۔

8۔ درست سوچیں

ہل کے الفاظ میں، درست سوچ “حقائق کو تصورات سے الگ کرنے کی صلاحیت اور انہیں اپنے کام اور مسائل کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال کرنا” ہے۔

9۔ اپنی کوشش کو مرتکز کریں

جو سب سے اہم کام درپیش ہو، اس سے بدحواس نہ ہوں۔

10۔ مصیبت سے منافع

ہل لکھتے ہیں، یاد رکھیں “ہر ناکامی کے لیے ایک یکساں فائدہ ہے۔”


متعلقہ خبریں


مضامین
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر