وجود

... loading ...

وجود

دنیائے بینکاری کا بدنام، نام سید علی رضا

بدھ 30 ستمبر 2015 دنیائے بینکاری کا بدنام، نام سید علی رضا

syed Ali raza

سید علی رضا کاشمار اُن بینکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے بینکنگ کی دنیا میں نمایاں کارنامے انجام دیئے ۔ نیشنل بینک میں کئی صدور آئے اور اپنا مقام پیدا کیا۔مگر جو کام سید علی رضا نے کیا، وہ سب سے مختلف تھا۔سید علی رضا کی تعیناتی کسی معیار (criteria)کے تحت نہیں ہوئی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ انہیں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت یہان متعین لایا گیا۔ جس کے پیچھے پاکستان کا مفاد نہیں بلکہ عالمی بینک کی معرفت ان قوتوں کا مفاد تھا جو ملک کے واحد مالیاتی ادارے کے تجارتی و کاروباری چیلینجز( Business Threat) سے نمٹنا چاہتے تھے۔ تاکہ بین القومی بینک اپنے کاروبار کو وسعت دے سکیں۔ علی رضا کے ذریعے ایسے اقدامات کئے گئے جس سے ان مقاصد کے حصول میں آسانی پیدا ہوسکے۔ دوسرے لفظوں میں ان قوتوں کا اصل مقصد پاکستان کی معیشت کو اپنے قابو میں رکھنا تھا۔ سید علی رضا کو یہی ایجنڈا دیکر بھیجا گیا۔ جنہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ اسے نبھایا ۔ وہ نیشنل بینک کو بند تو نہیں کرسکے مگر اسکی بنیادوں کو اتنا کمزور کردیا کہ اس کا ڈھانچہ کسی وقت بھی ڈھ سکتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے وہ عناصر بھی مستعدہوگئے جو ایسے حالات میں بینک کو بیچنے کے مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے نادہندہ سابق منصف اعلیٰ عبدالحمید ڈوگرکو نیشنل بینک
سے 8.9 ؍ملین کا قرضہ اس نوٹ کے ساتھ دیا گیا کہ ’’کیونکہ درخواست گزار چیف جسٹس
آف پاکستان ہیں ،لہذا قرضہ منظور کیا جاتا ہے

علی رضا نے ایک حکمت عملی کے تحت اپنی خوش اخلاقی کو بڑی خوش اسلوبی سے استعمال کیا اور ان قوتوں کو خرید لیا جو ان کے ایجنڈے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ انہوں نے جدت پسندی کے نام پر نیشنل بینک کو جدید لٹیروں کے ہاتھوں یرغمال بنائے رکھا۔ان اعلیٰ افسران نے لوٹ مار کی وارداتوں میں اپنے حصہ وصولی کے لئے بینک کی حدود میں برسر عام ہاتھا پائی سے بھی گریز نہیں کیا۔ اس طرح کے کئی واقعات اُن کے دور کاکے حصہ بنے۔ انتظامیہ نام کی کوئی شے اُن کے دور میں نہیں تھی۔ وہ تنظیمی تقاضوں اور اصولی ضروریات کو مدنظر رکھ کر احکامات نہیں دیتے تھے بلکہ اُن کا موڈ ان کے احکامات پر حاوی ہوتا تھا۔ابتدا اس طرح کی گئی کہ نمائندہ تنظیموں کو یقین دلایا گیا کہ 18 مشیر بھرتی کئے جائیں گے مگربعد ازاں یہ تعداد 35 اور پھر 70 تک پہنچ گئی۔ پھر تجربہ کار افسران کو تبدیل کرکے ان کی جگہ نااہل مشیروں کو لگادیا گیا۔جنہوں نے اپنی کارروائی ڈالتے ہوئے گولڈن ہینڈ شیک کی کارروائی کو بڑھاوا دیا ۔ جوازگھڑا گھڑایا تیار تھا کہ اخراجات کم کرنے ہیں۔ اس طرح تقریباً آٹھ ہزار ملازمین فارغ کردئے گئے۔2500 برانچیں بند کردی گئیں یا انہیں ایک دوسرے میں ضم کردیا گیا۔( حیرت کی بات ہے کہ بچت کے نام پر آٹھ ہزار ملازمین نکال کر سولہ ہزار ملازمین بھرتی بھی کرلئے گیے) مقصدصرف یہ تھا کہ نیشنل بینک کے کاروبار کو محدود کیا جائے تاکہ غیر ملکی بینکوں کو کاروبار بڑھانے کا موقع ملے۔ ایجنڈے کے اس مرحلے کی کامیابی کے بعد اب اصل مرحلہ شروع ہوتا ہے یعنی لوٹ مار اور کرپشن ۔جسے علی رضا کی فیاضی اور نیشنل بینک کی بربادی کا عنوان دیا جاسکتا ہے۔قرضوں کی اندھا دھند معافی کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کے دور میں صرف نیشنل بینک سے 21 ارب کے قرضے معاف کئے گئے۔ (جس کی فہرست علیحدہ شائع کی جائے گی )

بینک کے نادہندگان میں سے علیم انٹرنیشنل کو 5؍ کروڑ ، ضراب ٹیکسٹائل کو 46؍ کروڑ
اور انور ٹیکسٹائل کو 56؍ کروڑ روپے کے قرضے جاری کر دیے گیے۔بدنام زمانہ بوسیکار کیس
میں دو ارب روپے کا قرضہ ایک معمولی اور متنازع پلاٹ کے عوض دے دیا گیا۔

اکتوبر 2014ء کی آڈٹ کے مطابق صرف کارپوریٹ سیکٹر میں غیر فعال قرضوں کی حد 89 بلین تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے نادہندگان کی اکثریت کو دوبارہ قرضے جاری کردئے گئے۔اس ملک کے اس وقت کے منصف اعلیٰ عبدالحمید ڈوگرکو( جو اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک کے نادہندہ تھے)، نیشنل بینک سے 8.9 ملین کا قرضہ اس نوٹ کے ساتھ دیا گیا کہ ’’کیونکہ درخواست گزار چیف جسٹس آف پاکستان ہیں ،لہذا قرضہ منظور کیا جاتا ہے۔‘‘ اس طرح کی اور بھی کئی مثالیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ مثلّا نیشنل بینک آف پاکستان پی آئی ڈی سی برانچ میں علیم انٹر نیشنل کو 5؍کروڑ روپے کا قرضہ جاری کیا گیاجبکہ یہ پارٹی نادہندگان کے زمرے میں آتی تھی۔ نادہندگان میں شامل ضراب ٹیکسٹائل کو مین برانچ کراچی سے 46 کروڑ روپے کا قرضہ دیا گیا۔اسی برانچ سے ایک اور نادہندہ انورٹیکسٹائل کو بھی 56 ؍کروڑ جاری کیے گیے۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ 56 کروڑ کا نقصان پہنچانے والی اس پارٹی کا یہ قرضہ معاف کردیا گیا ۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس قرضہ کے اجراء میں کوئی جائیداد رہن رکھوانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی گئی اور محض مفروضوں پر یہ قرضہ جاری کردیا گیا۔اسی مشہور دور کا مشہور بوسیکار کا کیس اپنی مثال آپ ہے ،جسے دوارب روپے کا قرضہ جاری کیا گیا اور رہن کے لئے وہ پلاٹ قبول کرلیا گیا جو متنازع تھا۔ غرض نادہندگان کی اکثریت کو اندھیر نگری چوپٹ راج میں قوم کی دولت کو باپ کا مال سمجھ کر بے رحمی سے لٹایا گیا ۔ نیشنل بینک کی پروڈکٹس پر نظر ڈالیں تو “کیش اینڈ گولڈ،این بی پی کارساز، کسان دوست، ایڈوانس سیلری، اور سائبان جیسے خوشنما نام سامنے آتے ہیں۔ ان تمام پروڈکٹس کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے۔ نا اہل مشیروں نے اپنی جعلی ڈگریوں کا بھرم ایسے برقرار رکھنے کی کوشش کی کہ ہر پروڈکٹ کو پیچ در پییچ کاغذی کارروائیوں میں اتنا پیچیدہ بنادیا گیا کہ لوگ مایوس ہوکر پرائیوٹ بینکوں کا رخ کرنے لگے۔ بلکہ یہاں تک ہوا کہ بینک کے درآمدی مشیروں نے درخواست کنندگان کو دوسرے بینکوں سے رجوع کرنے کی تلقین کی۔

قومی اداروں کی جانب سے احتساب کے دعوے اُس وقت تک عوام کی نظروں میں آبرو نہیں پاسکیں گے جب اُسے ملکی دولت لوٹنے والے اصل ہاتھوں تک پھیلایا نہیں جاتا۔ علی رضا اصل میں ایک ایسا ہی نام ہے۔ جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مکمل نظر انداز کر رکھا ہے۔ مگر صرف اُن کے دور میں نیشنل بینک میں ہونے والی ڈکیٹیوں پر توجہ مرکوز کی جائے تو سیاسی جماعتوں کی لوٹ مار کی تمام داستانیں ہیچ محسوس ہونے لگیں گی۔جس کی محض ایک جھلک اوپر دکھائی گئی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر