... loading ...

افغان طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور نے عید الاضحیٰ کے موقع پر اپنے ایک اہم پیغام میں کہا ہے کہ کابل انتظامیہ امریکا سے تمام معاہدے منسوخ کرےاورامریکا لوگوں کو مار کر اپنے تحفظ کا خواب نہ دیکھے۔ ملا اختر منصور نے اپنے اب تک جاری کیے گیے تمام پیغامات میں سے سب سے اہم پیغام میں کابل انتظامیہ کو کہا ہے کہ
“کابل انتظامیہ اگر چاہتی ہے کہ ملک میں جنگ کا خاتمہ ہو اور امن قائم ہوجائے تو جارحیت کے مکمل خاتمہ اور جارحیت پسندوں سے ہونے والے تمام معاہدے فسخ کرکے ہی ایسا ممکن ہوگا۔”
اُنہوں نے کابل انتظامیہ کی طرف سے امن کی کوششوں کو ایک مزاق قرار دیتے ہوئے اس کی حقیقت کو یوں بیان کیا ہے کہ
“یہ جو زبانی کلامی مصالحت اور امن کے نعرے لگتے ہیں مگرعملی طورپرجنگ کےمحاذعلاقائی، قومی، مذہبی اورتنظیمی جھگڑوں سےگرم رکھےجاتےہیں۔خودسراوربدنام زمانہ جنگجووں کوبےمہار چھوڑکرانہیں اختیارات اوروسائل دیئےجاتےہیں ، جومظلوم عوام کومظالم کا نشانابناتے ہیں یہ مصالحت اورامن کا مذاق اڑانے سے زیادہ کچھ نہیں ۔”
ملا اختر منصور کے اس پیغام کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذکرات کے مستقبل پر کئی سوالیہ نشانات لگ گیے ہیں۔ کیونکہ اُنہوں نے اپنے اس پیغام میں یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ” امارت اسلامیہ اپنی دیگرسرگرمیوں کےساتھ سیاسی کوششیں بھی کررہی ہے ۔ اور اس راہ میں عملی اقدامات بھی کرچکی ہے۔اس مقصدکی خاطر امارت اسلامیہ کا خصوصی سیاسی دفتر بھی ہے جو گزشتہ چند سالوں سے سرگرم عمل ہے ۔ مختلف جہات سے روابط اور مذاکرات کا اختیار انہیں سونپ دیا گیا ہے ۔ ۔۔۔۔۔ ہم مذاکرات کے حوالے سے وقت کے تقاضے کے مطابق وہ پالیسی آگے بنائیں گے جو شریعت مقدسہ کے اصولوں ، جہادی آرزؤں اور قومی مفادات کے مطابق ہو۔”
ملا اختر منصور کے اس پیغام سے دو باتیں واضح ہیں ۔سب سے پہلے تو یہ کہ مذکرات کا اختیار قطر دفتر کو تفویض کیا گیا ہے۔ قطر دفتر کےکردار پر پاکستان ہمیشہ شکوک کا شکار رہا ہے اور مری میں ہونے والے حالیہ مزاکرات میں بھی قطر دفتر کا کردار نہایت منفی رہا تھا۔ یہ اعلان پاکستان کے لیے کچھ زیادہ خوشی کا باعث نہیں بنے گا۔ دوسرے یہ کہ مذاکرات کے حوالے سے ابھی پالیسی وضع کی جانی ہے جو جہادی آرزؤں اور قومی مفادات کے مطابق ہوگی۔ طالبان کے نزدیک ان دونوں باتوں کی تفہیم کا مطلب ایک ہی ہے اور وہ محاذوں پر سبقت ہے۔ اس طرح مستقبل میں مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کا معاملہ یقیناً کوئی زیادہ امیدا افزا ثابت نہیں ہو سکےگا۔
ملا اختر منصور کا پیغام امریکا کے لیے بھی نہایت سخت ہے۔ اُنہوں نے اپنے تازہ پیغام میں امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ
” ہم امریکا سے کہتے ہیں کہ ستمبر کے واقعے کے بہانے تم نے افغانستان پر جارحیت کی ۔ آج اس کو چودہ سال گزرے ہیں ۔ افغانستان پرجارحیت کرکےبجائےاس کے کہ تم مزید گیارہ ستمبرجیسے واقعات کی روک تھام کرتے، اُلٹا زندگی کا ہر لمحہ دنیا کے ہر کونے میں تمھارے لیے گیارہ ستمبر کا خوفناک حادثہ بن چکا ہے ۔ ہر جگہ تم حملے کا نشانا ہو اور تمھاری زندگی کو خطرات لاحق ہیں ۔ آپ کو چاہیے کہ اس طرح کے حوادث کی روک تھام اور اپنے تحفظ کی خاطر اپنی استعمارانہ پالیسی پر پھر سے نظرثانی کریں ۔ نہ یہ کہ مزید عوام کو مار کر اور جارحیت کرکے اپنے تحفظ کے خواب دیکھنے لگو۔”
یہ پیغام واضح کرتا ہے کہ طالبان امیر نے امریکا کے”عالمی کردار “کو پہلی بار تنقید کا نشانا بنایا ہے۔ اور وہ افغانستان میں امریکی جارحیت پر اپنے قومی اور شرعی موقف کو ایک عالمی نقطہ نگاہ کے تناظر سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ان سطور کے درمیان میں خاصی باتیں نہایت معنی خیز طور پر اُبھرتی ہیں۔
طالبان کے نئے زعیم نے طالبان تحریک کی نوعیت پر بھی بات کی ہے اور پہلی مرتبہ اس کے کردار کو معنی خیز طور پر وسعت دے دی ہے۔ اُن کے بیان کے مطابق
“امارت اسلامیہ نہ صرف ایک جہادی اور سیاسی تحریک ہے بلکہ مسلمان عوام کی بیداری ، تربیت اور ہمہ پہلو ترقی کا ضامن ایک نظام ہے ۔”
طالبان عالم اسلام میں امریکا کے خلاف مزاحمت کی سب سے ولولہ انگیز تحریک کے طور پر حمایت یا مخالفت کا موضوع رہی ہے مگر یہ ایک نظام کے طور پر کبھی بھی زیادہ موضوع بحث نہیں رہی۔ اور اِسے کچھ قبائلی روایات کے ساتھ اسلام کی ایک من پسند اور سخت گیر تشریح قرار دیا گیا ہے۔ اس کے صحیح و غلط ہونے سے قطع نظر طالبان کے نئے زعیم نے اپنے تازہ بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ ایک نظام کی وسعت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلی بار اُنہوں نے دینی علوم کے ساتھ عصری علوم کے حصول پر زور دیا ہے اور طالبان مجاہدین کو مخاطب کرتے ہوئے یہ ہدایت کی ہے کہ
” ملک کی نئی نسل کے لیے دینی اور عصری تعلیم بڑی اور اہم ترین ضرورت ہے ۔ میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین سے کہتا ہوں کہ اپنے اپنے علاقوں میں دینی اور عصری تعلیم کے لیے حالات سازگار بنائیں اور ان سے تعاون کریں ۔”
طالبان امیر کے تازہ پیغام میں افغانستان میں جاری خوں ریزی میں عام لوگوں کے شکار ہونے پر خاصی فکر مندی کا اظہار ہے اورایک مرتبہ پھر طالبان کی صف میں اتحاد برقرار رکھنے کی تلقین موجود ہے۔
طالبان کے نئے امیر ملا اختر منصور کا عیدالاضحیٰ پر یہ تازہ پیغام مختلف النوع جہات کا حامل ہے اور اس سے واضح ہوتا ہےکہ وہ مذاکرات سے کہیں زیادہ محاذوں پر نبرد آزمائی کا ذہن رکھتے ہیں اس کے علاوہ وہ افغانستان میں محض کابل انتظامیہ کو شکست دینے کا ہی نہیں بلکہ ایک نئے نظام کا خاکہ اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔
دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...
31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...
حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...
سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...
تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...
انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...
شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...
حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر خدشات،طبی معاملے میں کسی بھی غفلت یا تاخیر کو برداشت نہیں کیا جائے گا، طبی حالت فورا فیملی کے سامنے لائی جائے ، قائد حزب اختلاف محمود اچکزئی فیملی اور ذاتی معالجین کے علم کے بغیر اسپتال منتقل کرنا مجرمانہ غفلت ، صحت سے متعلق تمام حقائق فوری طور پر سامنے...
پاک فوج بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے، جدید جنگ کی نوعیت میں نمایاں تبدیلی آ چکی ہیں،مستقبل کے میدانِ جنگ کے تقاضوں کیلئے ہر سطح پر اعلیٰ درجے کی تیاری ناگزیر ، چیف آف ڈیفنس فورس سید عاصم منیر کی بہاولپور گیریژن آمد، کور کمانڈرنے استقبال کیا، جوانوں کے بلند حوصلے، پیشہ وران...
عدالتی تحقیقات کیلئے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط لکھ رہے ہیں،شرجیل میمن کسی سیاسی جماعت کے دبائو میں نہیں آئیں گے، سینئر صوبائی وزیر کی پریس کانفرنس حکومت سندھ نے کراچی میں پیش آئے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا اعلان کردیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سن...