وجود

... loading ...

وجود

نیشنل بینک کی تباہی نادیدہ قوتوں کا منصوبہ

پیر 14 ستمبر 2015 نیشنل بینک کی تباہی نادیدہ قوتوں کا منصوبہ

national-bank-of-pakistan

نیشنل بینک کی تباہی کا پس منظر سمجھنے سے قبل ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت کس طرح مرحلہ وار اس قومی ادارے کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے؟

واقعہ کچھ یوں ہے کہ روس کی خفیہ ایجنسی کو پتہ چلا کہ ان کے ملک کی ایک بہت بڑی کمپنی جو امریکہ کے لئے کاروباری چیلنج بن چکی تھی کا ڈائریکٹر امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا ہے۔ چنانچہ وہ حرکت میں آگئے اور ایک منصوبہ کے تحت اس کمپنی میں اپنے کئی افراد بطور ملازم داخل کردئیے۔جنہوں نے اس ڈائریکٹر کی کڑی نگرانی شروع کردی۔لیکن دو سال گزرجانے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی ثبوت حاصل نہ ہو سکا۔سی آئی اے نے مزید اپنے ایجنٹ ملازمین کے روپ میں بھرتی کروالئے مگر نتیجہ صفررہا۔ حتیٰ کہ وہ ڈائریکٹر ریٹائرہوگیا۔ اس کے فوری بعد مذکورہ کمپنی بھی بند ہوگئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ ڈائریکٹر امریکا چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کرلی۔ روسی خفیہ ایجنسی کے چیف کو بڑا ملال تھا کہ وہ اس کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہ کرسکا۔ جبکہ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہے لیکن یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کہ اس کامشن کیا تھا؟ کچھ عرصہ کے بعد روسی ایجنسی کا چیف بھی ریٹائر ہوگیا۔ اس نے اپنی ناکامی کی و جہ اور حقائق جاننے کے لئے امریکہ جاکر اس ڈائریکٹر سے ملنے کا پروگرام بنایا۔چنانچہ وہ امریکا پہنچ گیا اور اُس ڈائریکٹر سے ملاقات کی۔ جو ایک پُرتعیش بنگلہ میں تمام آسائشوں کے ساتھ رہائش پزیر تھا۔ بات چیت کرتے ہوئے چیف نے اُسے بتایا کہ آپ سی آئی اے کے ایجنٹ ہو۔ اس نے کہا آپ میری طرز زندگی دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یعنی اقرار کرلیا۔ تب روسی چیف نے اس سے استفسار کیا کہ آخر اس کا مشن کیا تھا۔ تو اس نے دلچسپ انکشافات کئے ۔ اُس نے کہا کہ وہ جانتا تھا کہ آپ کو میرے سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا علم تھا اورمیری نگرانی ہورہی ہے۔ تاہم آپ نے ساری قوت مجھے اور میری کرپشن کوٹٹولنے میں ضائع کر دیں۔ جبکہ میرا مشن کمپنی کو بند کرنا تھا اور اس مقصد کے لئے میں نے خو د کچھ کرنے کے بجائے اپنی کمپنی میں نااہل اور نکمے افسران بھرتی کرلئے او ر سینئر تجربہ کار و مخلص افسران کو یا تو اسکیم کے تحت فارغ کردیا یا انہیں ان کی ذمہ داریوں سے ہٹادیااور ان کی جگہ اُن نااہل افسران کو متعین کردیا۔ جنہوں نے اپنی نااہلی کی وجہ سے ایسی خراب کارکردگی دکھائی کہ کمپنی کی بنیادیں ہل گئیں۔ اس عمل میں گو دو سال سے زائد کا عرصہ تولگ گیا مگر مشن پورا ہوگیا۔ بالکل یہی عمل نیشنل بینک میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔

ایک ایسے اعلیٰ افسر کو بینک کی صدارت کے منصب پر فائز کر دیا گیا جو بینکنگ انڈسڑی کے سب سے بڑے یورو/ڈالربھد نامے کا بنیادی کردار تھے

قومی اثاثے کو ٹھکانے لگانے کا عمل گزشتہ پندرہ برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ اس ادارے کی تباہی میں رکاؤٹ بینک کے مخلص اور اس سے جذباتی لگاؤ رکھنے والے ملازمین اور ان کی نمائندہ یونینیں تھیں۔ جو چیک اینڈ بیلنس کا بہترین ذریعہ تھیں ۔ چنانچہ جب سازش کو ناکام ہوتا دیکھا تو کلیریکل اور نان کلیریکل اسٹاف کو ترقی کے نام پر افسر بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ چونکہ افسران قانونی طور پر یونین کی رکنیت نہیں لے سکتے۔ اس طرح ان کے ممبران کی تعداد ہزاروں سے کم ہوکر چند سو رہ گئیں۔ یوں افرادی قوت سے محروم نمائندے انتظامیہ کی گرفت میں آگئے۔ دھن کی چمک اور مراعات کی بھرمار سے ان کی قائدانہ صلاحیتیوں کو مفلوج کردیا گیا۔ پھر وہ اقدامات شروع ہوگئے جس کے مطابق نااہل افسران کو آگے لایا جانے لگا۔ مشیروں کے نام پر نااہل لوگوں کو اہم ذمہ داریاں دینے کا عمل شروع ہوگیا۔ ایک ایسے اعلیٰ افسر کو بینک کی صدارت کے منصب پر فائزکردیا گیا جو بینکنگ انڈسڑی کے سب سے بڑے یورو/ڈالربھدنامے( اسکینڈل) کا بنیادی کردار تھے۔ ان کی یہ کمزوری منصوبہ سازوں کے لئے بڑی کاآمد ثابت ہوئی۔ انہوں نے تجربہ کار اور مخلص افسران کو ہٹانے کے لئے ٹرانسفر پوسٹنگ کا بیدردی سے استعمال کیااور وہ مقاصد پورے کئے جس کے تحت اہل افسران سے گلو خلاصی حاصل کرنا تھی۔ ادارے میں اہلیت کی بنیاد پر کم سیاسی بنیادوں پر دھڑا دھڑ ہزاروں بھرتیاں کرلی گئیں۔گولڈن ہینڈ شیک کے نام پر جتنے ملازمین نکالے گئے اس سے کئی گنازیادہ بھرتی ہوچکے ہیں۔حیرت انگیز طور پر گنجائش نہ ہونے کے باوجود 76 ایس وی پی بھرتی ہوئے جن کی اکثریت بینک کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ بدعنوانیوں کا جمعہ بازار اپنی جگہ مگر منصوبہ سازوں نے آئی ٹی کے محکمے کو نشانے پر لیا ہوا ہے۔ گورنمنٹ اکاؤنٹس بالخصوص دفاعی مالیاتی اسٹیٹمنٹ غیروں کے ہاتھوں میں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ اے ٹی ایم سے نیشنل بینک سرور کا رابطہ آئے روز منقطع رہتا ہے ۔مجبورا ًبینک کے کارڈ ہولڈر دوسرے بینکوں سے کیش ڈرا کرتے ہیں ۔ اس طرح فیس کی مد میں نیشنل بینک کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔آئی ٹی کا پورا نظام درآمدی مشیروں کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ سینئرافسران جو اس ڈیپارٹمنٹ میں عرصہ دراز سے کام کر رہے تھے انہیں مختلف بہانوں سے وہاں سے ٹرانسفر کردیا گیا ہے جبکہ ان کی مہارت ناقابل چیلنج ہے۔وہ نئے ڈگری یافتہ جوآئی ٹی کی اہلیت نہیں رکھتے، انہیں اہم اور حساس پورٹ فولیو دے دیے گیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جو ادارے کی اہم معلومات بینک سے باہر دوسرے اداروں کو منتقل کررہے ہیں۔ آج بھی اگر بینک میں نئے بھرتی ہونے والے افسران کی ڈگریوں کی چھان بین کرائی جائے تو ان کی اکثریت جعلی ڈگری یافتہ نکلیں گی۔ صورتحال یہ ہے کہ نیشنل بینک کو سکیڑ کر ادارے سے کمپنی بنانے کا عمل بڑی خاموشی سے جاری ہے۔ نااہل افسران نے بینک کا حال وہ کردیا ہے جو بندر ادرک ہاتھ لگ جانے کے بعد کرتا ہے۔ مقصد صاف نظر آتا ہے کہ اس ادارے کو بھی ٹی اینڈ ٹی کی طرح کسی سیٹھ کے ہاتھوں فرخت کردیا جائے۔اسلامی بینکنگ، نیشنل انشورنس ، انجینئرنگ پبلک ریلیشنز کی آڑ میں اشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے کی لوٹ مار اور بینک کے اثاثوں کو اونے پونے بیچنے کی سازش اور کرپشن کے کئی ہوشربا انکشافات آئندہ احاطۂ تحریر میں لائے جائیں گے۔یہاں صرف یہ نشاندہی مقصود تھی کہ بینک کو ایک منظم منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے۔ جس کے تحت نئے بھرتی کیے گیے افسران کی نااہلیت کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ روس کی سب سے بڑی کمپنی کی تباہی سے ملتا جُلتا ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر