وجود

... loading ...

وجود

نیشنل بینک کی تباہی نادیدہ قوتوں کا منصوبہ

پیر 14 ستمبر 2015 نیشنل بینک کی تباہی نادیدہ قوتوں کا منصوبہ

national-bank-of-pakistan

نیشنل بینک کی تباہی کا پس منظر سمجھنے سے قبل ایک واقعہ پیشِ خدمت ہے ۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک سازش کے تحت کس طرح مرحلہ وار اس قومی ادارے کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے؟

واقعہ کچھ یوں ہے کہ روس کی خفیہ ایجنسی کو پتہ چلا کہ ان کے ملک کی ایک بہت بڑی کمپنی جو امریکہ کے لئے کاروباری چیلنج بن چکی تھی کا ڈائریکٹر امریکی سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا ہے۔ چنانچہ وہ حرکت میں آگئے اور ایک منصوبہ کے تحت اس کمپنی میں اپنے کئی افراد بطور ملازم داخل کردئیے۔جنہوں نے اس ڈائریکٹر کی کڑی نگرانی شروع کردی۔لیکن دو سال گزرجانے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی ثبوت حاصل نہ ہو سکا۔سی آئی اے نے مزید اپنے ایجنٹ ملازمین کے روپ میں بھرتی کروالئے مگر نتیجہ صفررہا۔ حتیٰ کہ وہ ڈائریکٹر ریٹائرہوگیا۔ اس کے فوری بعد مذکورہ کمپنی بھی بند ہوگئی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد یہ ڈائریکٹر امریکا چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کرلی۔ روسی خفیہ ایجنسی کے چیف کو بڑا ملال تھا کہ وہ اس کے خلاف کوئی ثبوت حاصل نہ کرسکا۔ جبکہ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ وہ سی آئی اے کا ایجنٹ ہے لیکن یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کہ اس کامشن کیا تھا؟ کچھ عرصہ کے بعد روسی ایجنسی کا چیف بھی ریٹائر ہوگیا۔ اس نے اپنی ناکامی کی و جہ اور حقائق جاننے کے لئے امریکہ جاکر اس ڈائریکٹر سے ملنے کا پروگرام بنایا۔چنانچہ وہ امریکا پہنچ گیا اور اُس ڈائریکٹر سے ملاقات کی۔ جو ایک پُرتعیش بنگلہ میں تمام آسائشوں کے ساتھ رہائش پزیر تھا۔ بات چیت کرتے ہوئے چیف نے اُسے بتایا کہ آپ سی آئی اے کے ایجنٹ ہو۔ اس نے کہا آپ میری طرز زندگی دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یعنی اقرار کرلیا۔ تب روسی چیف نے اس سے استفسار کیا کہ آخر اس کا مشن کیا تھا۔ تو اس نے دلچسپ انکشافات کئے ۔ اُس نے کہا کہ وہ جانتا تھا کہ آپ کو میرے سی آئی اے ایجنٹ ہونے کا علم تھا اورمیری نگرانی ہورہی ہے۔ تاہم آپ نے ساری قوت مجھے اور میری کرپشن کوٹٹولنے میں ضائع کر دیں۔ جبکہ میرا مشن کمپنی کو بند کرنا تھا اور اس مقصد کے لئے میں نے خو د کچھ کرنے کے بجائے اپنی کمپنی میں نااہل اور نکمے افسران بھرتی کرلئے او ر سینئر تجربہ کار و مخلص افسران کو یا تو اسکیم کے تحت فارغ کردیا یا انہیں ان کی ذمہ داریوں سے ہٹادیااور ان کی جگہ اُن نااہل افسران کو متعین کردیا۔ جنہوں نے اپنی نااہلی کی وجہ سے ایسی خراب کارکردگی دکھائی کہ کمپنی کی بنیادیں ہل گئیں۔ اس عمل میں گو دو سال سے زائد کا عرصہ تولگ گیا مگر مشن پورا ہوگیا۔ بالکل یہی عمل نیشنل بینک میں بھی دہرایا جا رہا ہے۔

ایک ایسے اعلیٰ افسر کو بینک کی صدارت کے منصب پر فائز کر دیا گیا جو بینکنگ انڈسڑی کے سب سے بڑے یورو/ڈالربھد نامے کا بنیادی کردار تھے

قومی اثاثے کو ٹھکانے لگانے کا عمل گزشتہ پندرہ برسوں سے مسلسل جاری ہے۔ اس ادارے کی تباہی میں رکاؤٹ بینک کے مخلص اور اس سے جذباتی لگاؤ رکھنے والے ملازمین اور ان کی نمائندہ یونینیں تھیں۔ جو چیک اینڈ بیلنس کا بہترین ذریعہ تھیں ۔ چنانچہ جب سازش کو ناکام ہوتا دیکھا تو کلیریکل اور نان کلیریکل اسٹاف کو ترقی کے نام پر افسر بنانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ چونکہ افسران قانونی طور پر یونین کی رکنیت نہیں لے سکتے۔ اس طرح ان کے ممبران کی تعداد ہزاروں سے کم ہوکر چند سو رہ گئیں۔ یوں افرادی قوت سے محروم نمائندے انتظامیہ کی گرفت میں آگئے۔ دھن کی چمک اور مراعات کی بھرمار سے ان کی قائدانہ صلاحیتیوں کو مفلوج کردیا گیا۔ پھر وہ اقدامات شروع ہوگئے جس کے مطابق نااہل افسران کو آگے لایا جانے لگا۔ مشیروں کے نام پر نااہل لوگوں کو اہم ذمہ داریاں دینے کا عمل شروع ہوگیا۔ ایک ایسے اعلیٰ افسر کو بینک کی صدارت کے منصب پر فائزکردیا گیا جو بینکنگ انڈسڑی کے سب سے بڑے یورو/ڈالربھدنامے( اسکینڈل) کا بنیادی کردار تھے۔ ان کی یہ کمزوری منصوبہ سازوں کے لئے بڑی کاآمد ثابت ہوئی۔ انہوں نے تجربہ کار اور مخلص افسران کو ہٹانے کے لئے ٹرانسفر پوسٹنگ کا بیدردی سے استعمال کیااور وہ مقاصد پورے کئے جس کے تحت اہل افسران سے گلو خلاصی حاصل کرنا تھی۔ ادارے میں اہلیت کی بنیاد پر کم سیاسی بنیادوں پر دھڑا دھڑ ہزاروں بھرتیاں کرلی گئیں۔گولڈن ہینڈ شیک کے نام پر جتنے ملازمین نکالے گئے اس سے کئی گنازیادہ بھرتی ہوچکے ہیں۔حیرت انگیز طور پر گنجائش نہ ہونے کے باوجود 76 ایس وی پی بھرتی ہوئے جن کی اکثریت بینک کی ابجد سے بھی واقف نہیں۔ بدعنوانیوں کا جمعہ بازار اپنی جگہ مگر منصوبہ سازوں نے آئی ٹی کے محکمے کو نشانے پر لیا ہوا ہے۔ گورنمنٹ اکاؤنٹس بالخصوص دفاعی مالیاتی اسٹیٹمنٹ غیروں کے ہاتھوں میں پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔بدانتظامی کا یہ عالم ہے کہ اے ٹی ایم سے نیشنل بینک سرور کا رابطہ آئے روز منقطع رہتا ہے ۔مجبورا ًبینک کے کارڈ ہولڈر دوسرے بینکوں سے کیش ڈرا کرتے ہیں ۔ اس طرح فیس کی مد میں نیشنل بینک کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔آئی ٹی کا پورا نظام درآمدی مشیروں کی نااہلی کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ سینئرافسران جو اس ڈیپارٹمنٹ میں عرصہ دراز سے کام کر رہے تھے انہیں مختلف بہانوں سے وہاں سے ٹرانسفر کردیا گیا ہے جبکہ ان کی مہارت ناقابل چیلنج ہے۔وہ نئے ڈگری یافتہ جوآئی ٹی کی اہلیت نہیں رکھتے، انہیں اہم اور حساس پورٹ فولیو دے دیے گیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جو ادارے کی اہم معلومات بینک سے باہر دوسرے اداروں کو منتقل کررہے ہیں۔ آج بھی اگر بینک میں نئے بھرتی ہونے والے افسران کی ڈگریوں کی چھان بین کرائی جائے تو ان کی اکثریت جعلی ڈگری یافتہ نکلیں گی۔ صورتحال یہ ہے کہ نیشنل بینک کو سکیڑ کر ادارے سے کمپنی بنانے کا عمل بڑی خاموشی سے جاری ہے۔ نااہل افسران نے بینک کا حال وہ کردیا ہے جو بندر ادرک ہاتھ لگ جانے کے بعد کرتا ہے۔ مقصد صاف نظر آتا ہے کہ اس ادارے کو بھی ٹی اینڈ ٹی کی طرح کسی سیٹھ کے ہاتھوں فرخت کردیا جائے۔اسلامی بینکنگ، نیشنل انشورنس ، انجینئرنگ پبلک ریلیشنز کی آڑ میں اشتہارات کی مد میں کروڑوں روپے کی لوٹ مار اور بینک کے اثاثوں کو اونے پونے بیچنے کی سازش اور کرپشن کے کئی ہوشربا انکشافات آئندہ احاطۂ تحریر میں لائے جائیں گے۔یہاں صرف یہ نشاندہی مقصود تھی کہ بینک کو ایک منظم منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے۔ جس کے تحت نئے بھرتی کیے گیے افسران کی نااہلیت کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ یہ منصوبہ روس کی سب سے بڑی کمپنی کی تباہی سے ملتا جُلتا ہے۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر