وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

جمعرات 14 مئی 2026 کشمیریوں کی آزادی اظہار رائے سلب

ریاض احمدچودھری

صحافیوں کے حقوق اور صحافتی آزادی کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیم ” رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز” (آر ایس ایف )نے کہا ہے کہ بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموںوکشمیر میں صحافی مسلسل دباؤ، دھمکی اور پر خطرماحول میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ مقبوضہ جموںو کشمیر اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ فوجی تعیناتی والے خطوں میں سے ایک ہے ، اگست 2019 کے بعد سے علاقے میں آظہار رائے کی آزادی کے حق کو سلب کر لیا گیا، مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے دوران صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ اس دوران میر گل نامی صحافی کو سوشل میڈیا پوسٹ پوسٹ پر گرفتار کیا گیا۔انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور فوجی کارروائیوں جیسے حساس موضوعات کو کور کرنے والے صحافیوں کو نگرانی، گرفتاریوں اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ 2019 کے بعد سے کم از کم 20 صحافیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں ”کشمیر والا ”کے ایڈیٹر فہد شاہ بھی شامل ہیں، فہد شاہ کو تقریبا دو برس قید رکھا گیا۔ ایک اور صحافی عرفان معراج کو بھی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے” کے تحت 2023 میں گرفتار کیا گیا۔
آر ایس ایف کے ساؤتھ ایشیا ڈیسک کی سربراہ نے کہاجموں و کشمیر میں میڈیا کے پیشہ ور افراد مستقل دھمکیوں کے ماحول میں کام کر رہے ہیں،انہیں شدید پابندیوں اور مسلسل نفسیاتی دباؤ کا سامناہے۔ بھارت پریس کی آزادی کا احترام کرے۔ 2022 میں کشمیر پریس کلب کی بندش نے مقامی رپورٹرز کو پیشہ ورانہ جگہ سے محروم کردیااور انہیں مزید مشکلات کا شکار کر دیا۔ کشمیر میں انٹرنیٹ کی پابندیاں ایک مستقل رکاوٹ بنی ہوئی ہیں، خدمات کو 2G تک محدود کر دیا گیا۔ فوجی کارروائیوں کے انٹرسروس معطل کر دی جاتی ہے۔آر ایس ایف نے پاسپورٹ کی منسوخی، پریس کارڈ کی فراہمی سے انکار اور بھارتی حکام کے دیگر ناروا اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری فوٹو جرنلسٹ ثنا ارشاد متو کو سفری دستاویزات کے باوجود 2022 میں بیرون ملک جانے نہیں دیا گیا۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت سے انکار نہ صرف صحافیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے بلکہ اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ متنازعہ اور بھارت کے زیر قبضہ علاقے میں لاکھوں لوگوں کو آزادانہ اور قابل اعتماد معلومات کے حق سے بھی محروم کر دیتا ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے بھارتی حکومت پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کی کوریج کرنے والے صحافیوںکی گرفتاریوںا ور انہیں ہراساں کرنے کا سلسلہ فوری بند کرے۔اظہار رائے کی آزادی کے فروغ اور تحفظ کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ ایرین خان اور جبری گرفتاریوں کے بارے میں ورکنگ گروپ کی نائب چیئرپرسن نے بھارتی حکومت پر زور دیا تھاکہ وہ عالمی ادارے میںاس سلسلے میں اپناجواب پیش کرنے تک مبینہ خلاف ورزیوں اور ان کے دوبارہ ارتکاب کا سلسلہ روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے۔خصوصی نمائندوںکی طرف سے جن صحافیوں کا ذکر کیاگیاتھا ان میں” کشمیر والہ” کے ایڈیٹر فہد شاہ ، سرینگر سے تعلق رکھنے والے آزاد صحافی عاقب جاوید، سجاد گل اورنیوز میگزین دی کشمیریت کے ایڈیٹر قاضی شبلی شامل ہیں۔ انہوں نے روزنامہ کشمیر ٹائمز کا بھی ذکر کیا تھا جس کے سرینگر کے دفتر کو قابض انتظامیہ نے گزشتہ سال اکتوبرمیں سربمہر کر دیاتھا۔ انسانی حقوق کونسل نے مراسلے میں مذکورہ بالا صحافیوں کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال کے بارے میں اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی پر جبری گرفتاریوں ، فوجداری مقدمات اور انہیں ہراساں کئے جانے اور کشمیر ٹائمز کے دفتر کو بند کئے جانے کی اطلاعات پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اظہاررائے کی آزادی ، رازداری اور مقدمات کی منصفانہ سماعت اور اپنے دفاع کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیاں مقبوضہ جموں و کشمیر میں آزادی صحافت پر قدغن کی وسیع تر کوششوںکا حصہ ہوسکتی ہیںتاکہ خطے میں دیگر صحافیوںکو عوامی مفاد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی رپورٹنگ سے روکا جاسکے۔ ہمیں اس حقیقت سے سخت پریشان ہے کہ بعض صحافیوں نے بتایا ہے کہ انہیںتشددکا نشانہ بنانے کے علاوہ دھمکی دی گئی کہ وہ اپنی رپورٹنگ کا فوکس تبدیل کریں اورقومی سلامتی سے متعلق امور پر رپورٹنگ نہ کریں۔
خصوصی نمائندںنے بھارتی حکومت پرزوردیا کہ وہ ان الزامات کے بارے میںصحافیوں کے خلاف لگائے گئے الزامات اور گرفتاریوں کے قانونی حقائق پر مبنی تفصیلی معلومات فراہم کرے۔یہ تمام اقدامات شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی کنونشن کے تحت حکومتوںکی انسانی حقوق کی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے کیسے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ انہوںنے دوران حراست صحافیوں کی قانونی امداد تک رسائی اور کشمیر ٹائمز کے دفتر کی الاٹمنٹ منسوخی کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے فیصلے کی قانونی بنیاد کے بارے میں سوال اٹھاتے ہوئے کہاکہ بھارت کے یہ اقدامات کیسے انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون سے کیسے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔ انہوںنے بھارتی حکومت سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کیلئے آزادانہ طورپر اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے کئے گئے اقدامات کے بارے میں بھی سوال کیاتاکہ وہ محفوظ اور سازگار ماحول میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرسکیں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر