وجود

... loading ...

وجود

سیاسی تماشا

پیر 11 مئی 2026 سیاسی تماشا

بے لگام / ستار چوہدری

پاکستان عجیب موڑ پرکھڑا ہے۔اوپرایک ایسی خوشی ہے جو اصل نہیں۔اورنیچے ایک ایسا درد ہے جو بیان سے باہر ہے ،ایوانوں میں تالیاں بج رہی ہیں۔اورگلیوں میں بچے بھوکے سو رہے ہیں، تقریروں میں ترقی کے دعوے ہیں۔اورحقیقت میں لوگوں کے گھروں میں خاموشی کا جنازہ ہے ۔کتنا بڑا المیہ ہے ،لوگ چیخ رہے ، رو رہے ،ٹوٹ رہے ۔ مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ امریکی تعریفوں پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں،پاکستان کی گلیوں میں اس وقت خوشی نہیں،بے بسی گھوم رہی ہے۔خاموش،تلخ اور بے رحم سوال،ٹرمپ کی تعریفوں سے پاکستان کے عوام کوآخرملا کیا ہے؟ امریکی صدر نے پاکستانی حکمرانوں کی تعریف کیا کردی،ایوانوں میں خوشی ہے ، جیسے ملک نے غربت پر فتح حاصل کرلی ،ٹی وی اسکرینوں پرمسکراہٹیں ،وزرا کے چہروں پرچمک ۔اور سوشل میڈیا پر درباری لشکر تالیاں پیٹ رہا۔ مگر کوئی ان حکمرانوں سے پوچھے ،یہ تعریفیں آخرعوام کے کس زخم پر مرہم رکھ رہی ہیں؟کیا ٹرمپ کی تعریف کے بعد آٹے کا تھیلا سستا ہوگیا؟ کیا بجلی کے بل آدھے ہوگئے ؟ کیا پیٹرول غریب کی پہنچ میں آگیا؟ کیا نوجوانوں کو نوکریاں مل گئیں؟ کیا فیکٹریوں کے بند دروازے کھل گئے ؟ کیا ماں نے بچوں کو آدھا پیٹ سلانے کے بجائے بھرپور کھانا کھلادیا؟ نہیں۔ ہرگز نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کا عام آدمی اس وقت چیخ رہا ہے ، رو رہا ہے ،ٹوٹ رہا ہے ،مگر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ امریکی تعریفوں پر بھنگڑے ڈال رہے ہیں،جیسے قوم نہیں، صرف اقتدار اہم ہو،جیسے عوام کا کام صرف ٹیکس دینا،بل بھرنا اورمہنگائی کے نیچے مرنا رہ گیا ہو،پاکستان کی گلیوں میں اس وقت خوشی نہیں، بے بسی گھوم رہی ہے ، باپ جیب میں چند سو روپے لے کر بازار جاتا ہے اور واپسی پر اس کی آنکھوں میں شکست ہوتی ہے ،مزدور پورا دن ہڈیاں توڑتا ہے مگر شام کو بچوں کیلئے دودھ تک نہیں لاپاتا،سفید پوش طبقہ خاموشی سے مررہا ہے ، وہ نہ بھیک مانگ سکتا ہے ،نہ بل بھرسکتا ہے ۔ اوراوپر بیٹھے لوگ قوم کو بتارہے ہیں،دیکھو !! امریکا ہم سے خوش ہے ۔ مگر سوال یہ ہے ،اگر امریکا خوش ہے تو پاکستان کے عوام کیوں رو رہے ہیں؟
یہ پہلا موقع نہیں کہ اس ملک کے حکمران بیرونی تعریفوں پرخوش ہورہے ہوں،ہماری تاریخ ایسے مناظرسے بھری پڑی ہے ،جہاں اقتدارکے ایوانوں میں غیرملکی سرٹیفکیٹس کو قومی کامیابی بناکر پیش کیا گیا،مگر عوام کے حصے میں صرف مہنگائی،قرضے اورمحرومیاں آئیں۔ کبھی کہا گیا۔دنیا پاکستان کی تعریف کررہی ہے ، کبھی کہا گیا۔۔ عالمی ادارے حکومت پراعتماد کررہے ہیں۔اور کبھی کہا گیا۔امریکا ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ مگران تمام تعریفوں کے باوجود عوام آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں دہائیاں پہلے تھے ،بلکہ شاید اس سے بھی پیچھے ۔ آج ایک غریب آدمی کیلئے بیمار ہونا سب سے بڑا خوف بن چکا ہے ۔ بچے اسکول سے زیادہ فیسوں سے ڈرنے لگے ہیں۔ نوجوان ڈگری لینے کے بعد نوکری نہیں،صرف مایوسی حاصل کررہے ہیں۔ چھوٹے تاجربجلی کے بل دیکھ کر دکان بند کررہے ہیں، صنعتکار فیکٹری چلانے کے بجائے ملک چھوڑکر جارہے ہیں۔ اورانہی حالات میں جب عوام چیخ رہے ہوتے ہیں،تب حکمران قوم کو تصویریں دکھاتے ہیں۔دیکھیں !! دنیا میں ہماری تعریفیں ہورہیں، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی بھوکے انسان کے سامنے روٹی رکھنے کے بجائے اس کی تعریف کردی جائے کہ ” آپ بہت اچھے انسان ہیں ”۔۔ تعریفیں کبھی معیشت نہیں چلاتیں، داد و تحسین کبھی چولہا نہیں جلاتی، غیرملکی تعریفیں کبھی قوموں کو خوشحال نہیں کرتیں۔ قومیں اس وقت خوشحال ہوتی ہیں جب بازار آباد ہوں،فیکٹریاں چل رہی ہوں،نوجوان روزگار میں ہوں،اورعوام کے چہروں پر سکون ہو۔ نہ کہ حکمرانوں کے چہروں پرامریکی مسکراہٹیں۔
اصل المیہ یہ نہیں کہ امریکی صدر پاکستانی حکمرانوں کی تعریف کرتا ہے ۔اصل المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران ان تعریفوں کو عوامی کامیابی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جیسے واشنگٹن کی ایک مسکراہٹ اسلام آباد کے کروڑوں دکھ ختم کردے گی۔۔ قوم اب الفاظ سے نہیں،حقیقتوں سے تھک چکی ہے ۔لوگوں کے صبر کا پیمانہ بھرچکا ہے ۔ایک طرف حکمران کہتے ہیں،ملک ترقی کررہا ہے ،دوسری طرف قبرستان پھیل رہے ہیں،بازارسکڑ رہے ہیں،گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہورہے ہیں۔آپ ذرا کسی مزدور کے گھر چلے جائیں ،وہ آپ کوعالمی سفارت کاری نہیں سنائے گا،وہ آپ کوٹرمپ کی تعریفیں نہیں سنائے گا، وہ صرف یہ پوچھے گا،میرے بچوں کا پیٹ کب بھرے گا؟ کسی سفید پوش باپ کے پاس بیٹھ جائیں، وہ آپ کو خارجہ پالیسی کے قصیدے نہیں سنائے گا، وہ صرف یہ بتائے گا کہ مہینے کے آخری دنوں میں اس کے گھر میں خاموشی کیوں بڑھ جاتی ہے ۔ اس ملک کا سب سے بڑا سانحہ شاید یہی ہے کہ یہاں حکمرانوں کی خوشیاں اورعوام کے دکھ الگ الگ دنیاؤں میں رہتے ہیں ،اوپر ایوانوں میں قہقہے گونجتے ہیں،نیچے گلیوں میں آہیں۔ اوپر تصویریں بنائی جاتی ہیں،نیچے لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے عزت بیچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور پھر قوم سے کہا جاتا ہے ،خوش ہوجاؤ !! دنیا ہمارے لیڈروں کی تعریف کررہی ہے ۔ مگر بھوک کبھی تعریفوں سے نہیں مرتی، غربت کبھی سفارتی جملوں سے ختم نہیں ہوتی۔ اورقومیں صرف اس وقت مضبوط بنتی ہیں،جب ان کے عوام مضبوط ہوں، نہ کہ صرف ان کے حکمران عالمی محفلوں میں مقبول۔
یہ کیسا نظام ہے جہاں حکمرانوں کی کامیابی کا معیارعوام کی خوشحالی نہیں،بلکہ بیرونی طاقتوں کی خوشنودی بن چکا ہے ؟جہاں ایک طرف سرکاری بیانات میں ترقی کے ترانے بجتے ہیں۔اور دوسری طرف عوام اپنی زندگی کی بنیادی ضرورتوں کیلئے ذلیل ہورہے ہوتے ہیں۔آج پاکستان میں غریب صرف غریب نہیں رہا،وہ خوف زدہ بھی ہوچکا ہے ،اسے خوف ہے کہ اگلا بجلی کا بل شاید اس کی پوری تنخواہ نگل جائے گا، اسے خوف ہے کہ بچے بیمار ہوگئے تو دوا کہاں سے آئے گی،اسے خوف ہے کہ نوکری گئی تو گھر کا چولہا کیسے جلے گا،یہ وہ خوف ہے جوخاموشی سے قوموں کواندر سے کھوکھلا کردیتا ہے ،مگراقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ چیخیں سننے کی صلاحیت کھوچکے ہیں،وہ اب صرف وہ آوازیں سنتے ہیں جو واشنگٹن،لندن یا عالمی اداروں سے آتی ہیں۔ایک سوال ہے ،اگر سب کچھ ٹھیک جارہا ہے تو پھر فیکٹریاں بند کیوں ہورہیں؟ نوجوان ملک چھوڑنے کیلئے قطاروں میں کیوں کھڑے ہیں؟ خودکشیاں اور ذہنی دباؤ کیوں بڑھ رہا ہے ؟ مائیں بچوں کی فرمائشوں پر خاموش کیوں ہوجاتی ہیں؟ یہ سوال صرف معاشی نہیں،اخلاقی بھی ہیں۔کیونکہ جب ریاست اپنے عوام کو بنیادی سکون بھی نہ دے سکے ،تو پھر بیرونی تعریفیں صرف ایک سیاسی تماشا محسوس ہوتی ہیں۔
آخرمیں ایک ہی سوال بچتا ہے ،اوروہ سوال اب کسی تجزیے یا بحث کا محتاج نہیں رہا، وہ سیدھا عوام کے چہروں پر لکھا ہوا ہے ۔اگرملک کی کامیابی کا پیمانہ امریکی صدر کی تعریف ہے ،تو پھر اس قوم کی بھوک،اس کی چیخیں،اور اس کی ٹوٹی ہوئی سانسوں کا پیمانہ کون طے کرے گا؟ کیاعالمی رہنما جب کسی حکمران کی تعریف کرتے ہیں تو ساتھ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اس کے ملک میں آٹا کتنے کا ہے ؟ بجلی کے بل کتنے ہیں؟ اسپتالوں میں دوائیں ہیں یا صرف لائنیں ہیں؟ نوجوانوں کے پاس مستقبل ہے یا صرف پاسپورٹ کی درخواستیں؟یہ ملک عجیب موڑ پر آکھڑا ہوا ہے ۔اوپرایک ایسی خوشی ہے جو اصل نہیں۔اورنیچے ایک ایسا درد ہے جو بیان سے باہر ہے ۔ایوانوں میں تالیاں بج رہی ہیں۔ اورگلیوں میں بچے بھوکے سو رہے ہیں۔ تقریروں میں ترقی کے دعوے ہیں۔ اور حقیقت میں لوگوں کے گھروں میں خاموشی کا جنازہ ہے ۔ یہ وہ ریاستی بیانیہ ہے جہاں الفاظ حقیقت سے بڑے ہوگئے ہیں۔اورحقیقت عوام کی برداشت سے باہر ہوچکی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ امریکی صدر کی تعریف سے نہ مہنگائی رکی ہے ،نہ غربت کم ہوئی ہے ،نہ بے روزگاری ختم ہوئی ہے ۔ لیکن ایک چیز ضرور بڑھی ہے ۔ اقتدار کے نشے میں ڈوبی ہوئی خود فریبی۔ اور شاید تاریخ کا سب سے کڑوا سچ یہی ہے کہ جب حکمران اپنی اصل ذمہ داری بھول جائیں،تو پھر قومیں بیرونی تعریفوں سے نہیں،اندرونی زخموں سے پہچانی جاتی ہیں۔ اورآج یہ زخم اتنے گہرے ہیں کہ ان پرکوئی سفارتی مسکراہٹ،کوئی عالمی جملہ،اورکوئی تعریفی بیان مرہم نہیں بن سکتا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر