وجود

... loading ...

وجود

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

پیر 11 مئی 2026 اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

محمد آصف

یہ ایک ایسا جملہ ہے جو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری صدا اور ایک اجتماعی احتساب ہے ۔ اس میں ایک پوری تاریخ کی بازگشت بھی
ہے اور حال کی کمزوریوں کا اعتراف بھی۔ وارثِ قرآن ہونا ایک عظیم اعزاز ہے ، مگر اعزاز کے ساتھ ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے ۔ قرآن
محض ایک مقدس کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطئہ حیات ہے ، ایک فکری انقلاب کا منشور ہے ، ایک اخلاقی دستور ہے اور ایک عادلانہ
معاشرے کی بنیاد ہے ۔ جب کوئی قوم اس کتاب کی وارث ہو کر بھی اس کے پیغام کو نہ سمجھے ، اس کی تعلیمات کو زندگی میں نافذ نہ کرے اور
اسے محض رسم و تلاوت تک محدود کر دے تو وہ اپنی اصل شناخت سے دور ہو جاتی ہے ۔
انسان کی اصل حقیقت اس کی بندگی، اس کی اخلاقی عظمت اور اس کے شعور میں پوشیدہ ہے ۔ انسان کے دل میں معرفت اور عرفان کا
ایک خزانہ رکھا گیا ہے ، مگر جب یہ دل تعصب، خود غرضی، دنیا پرستی اور فرقہ واریت سے بھر جائے تو وہ نور ماند پڑ جاتا ہے ۔ قرآن انسان کو
اپنے اندر جھانکنے ، اپنی اصلاح کرنے اور اپنی ذمہ داری کو پہچاننے کی دعوت دیتا ہے ۔ مگر جب یہ دعوت عملی زندگی میں جگہ نہ پائے تو قرآن
کی موجودگی کے باوجود معاشرہ تاریکی میں بھٹکتا رہتا ہے ۔ مسئلہ کتاب کی عدم موجودگی کا نہیں، اس کی عدم فہم اور عدم عمل کا ہے ۔
انسانی معاشرہ مختلف مذاہب، تہذیبوں اور ثقافتوں پر مشتمل ہے ، مگر قرآن کی تعلیم آفاقی ہے ۔ وہ عدل، رحم، دیانت اور امن کی بات کرتا ہے ۔ اگر اس پیغام کا وارث خود ظلم، ناانصافی اور انتشار کا شکار ہو جائے تو یہ ایک المیہ بن جاتا ہے ۔ قرآن نے انسان کو عزت دی، اسے اشرف المخلوقات کا مقام دیا، مگر اس مقام کی شرط ذمہ داری ہے ۔ جب انسان اپنے منصب کو بھول جاتا ہے تو وہ اپنی عظمت کو خود کم کر دیتا ہے ۔ وہ جسے سجدئہ تعظیمی کا اعزاز ملا، اگر وہی اپنی قدر نہ پہچانے تو یہ سب سے بڑی محرومی ہے ۔ انسان کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے اور اسی مٹی میں اس کی سادگی، استقامت اور حقیقت پسندی کا راز پوشیدہ ہے ۔ ابتدائی اسلامی معاشرہ سادہ مگر باکردار تھا، کم وسائل کے باوجود بلند حوصلہ رکھتا تھا۔ آج جب آسائش اور مادہ پرستی غالب آ گئی ہے تو وہی سادگی اور اخلاص کم ہوتا جا رہا ہے ۔ قرآن کی تعلیم انسان کو توازن سکھاتی ہے روح اور مادہ کے درمیان، فرد اور معاشرے کے درمیان، حقوق اور فرائض کے درمیان۔ جب یہ توازن ٹوٹتا ہے تو زوال شروع ہو جاتا ہے ۔
قرآن نے علم کی طرف بلایا، غور و فکر کی دعوت دی، کائنات کی نشانیوں پر تدبر کا حکم دیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے مسلمانوں کو علم و تحقیق میں آگے بڑھایا۔ مگر جب علم کی جگہ جمود نے لے لی، تحقیق کی جگہ تقلید نے اور عمل کی جگہ تماشائی پن نے ، تو ترقی کی رفتار رک گئی۔ انسان کی منزل محض مادی ترقی نہیں بلکہ حقیقت کی معرفت ہے ۔ جب تک وہ اپنے علم کو اخلاق سے اور اپنی طاقت کو انصاف سے نہ جوڑے ، اس کی
پیش رفت ادھوری رہے گی۔ زمین انسان کے لیے امانت ہے اور وہ اس کا نگہبان ہے ۔ فطرت کا تحفظ، وسائل کا درست استعمال اور عدل کا
قیام اسی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔ مگر جب حرص، لالچ اور خود غرضی غالب آ جائے تو فطرت کا توازن بگڑ جاتا ہے اور معاشرہ بھی عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے ۔ قرآن انسان کو فساد سے روکتا ہے اور اصلاح کی طرف بلاتا ہے ۔ اگر اس کے وارث ہی فساد میں مبتلا ہو جائیں تو یہ اس پیغام سے دوری کی علامت ہے ۔
سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ امت کے اندر باہمی اختلاف، تعصب اور دشمنی نے اسے کمزور کر دیا ہے ۔ قرآن اخوت، اتحاد اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے ۔ اگر ایک جسم کے اعضا کی طرح ایک دوسرے کا درد محسوس نہ کیا جائے تو اجتماعی قوت باقی نہیں رہتی۔ اندرونی انتشار بیرونی دباؤ کو بڑھا دیتا ہے ۔ اس لیے اتحاد صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ بقا کی شرط ہے ۔ عملی میدان سے دوری بھی ایک بڑی کمزوری ہے ۔ مشکلات اور چیلنجز زندگی کا حصہ ہیں، مگر ان سے فرار ممکن نہیں۔ تاریخ میں عظمت انہی اقوام کو ملی جنہوں نے طوفانوں کا مقابلہ کیا، نہ کہ ساحل پر کھڑے ہو کر ان کا نظارہ کیا۔ قرآن صبر، استقامت اور جہدِ مسلسل کی تعلیم دیتا ہے ۔ جب تک یہ صفات زندہ نہ ہوں، تبدیلی ممکن
نہیں۔
یہ جملہ دراصل ایک دعوتِ فکر ہے کہ ہم اپنے مقام کو پہچانیں۔ وارث ہونا صرف نسبت کا دعویٰ نہیں بلکہ اس وراثت کو سنبھالنے اور آگے بڑھانے کا عہد ہے ۔ اگر قرآن کو سمجھ لیا جائے ، اس کے پیغام کو دل میں اتار لیا جائے اور اسے اجتماعی زندگی میں نافذ کر دیا جائے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ تبدیلی باہر سے نہیں آئے گی؛ وہ اندر سے شروع ہو گی۔ جب فرد اپنی اصلاح کرے گا، معاشرہ سنورے گا، اور جب معاشرہ سنورے گا تو تاریخ کا رخ بھی بدل سکتا ہے ۔ اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھادراصل ایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنا چہرہ دیکھنا ہے ۔ یہ ملامت نہیں بلکہ بیداری کی صدا ہے ۔ اگر ہم اس صدا کو سن لیں، اپنی کمزوریوں کو تسلیم کر لیں اور قرآن کو محض تلاوت نہیں بلکہ عملی رہنما بنا لیں تو عروج کی راہیں دوبارہ کھل سکتی ہیں۔ وقت ابھی بھی ہے کہ ہم اپنی وراثت کو پہچانیں، اپنی حقیقت کو سمجھیں اور اپنے کردار سے اس پیغام کو زندہ کریں۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر