وجود

... loading ...

وجود

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

پیر 11 مئی 2026 کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

ریاض احمدچودھری

کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے زیر اہتمام ممتاز حریت رہنما اور تحریک حریت جموں و کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی کو انکی شہادت کی پانچویں برسی پرشاندار خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے اسلام آباد میں ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔حریت کونوینرغلام محمد صفی کے زیر صدارت کانفرنس کے مقررین نے کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد آزادی کیلئے شہید ممتاز رہنما کی گرانقدر خدمات کو اجاگرکرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے محمد اشرف صحرائی کی غیر قانونی نظربندی کے دوران ان کے ساتھ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا لیکن حریت رہنما عزم کا پیکر بنے رہے اور کشمیر کاز کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اشرف صحرائی کا حراست قتل ایک ناقابل تلافی نقصان ہے اور ان کی قربانیوں کو ہرگزفراموش نہیں ہونے دیا جائے گا اور ان کے مشن کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔ ان کے دوران حراست قتل کے ذمہ داروں کو ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ اشرف صحرائی کے حراستی قتل کی براہ راست ذمہ دار بھارتی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس واقعہ کی شفاف اور فوری تحقیقات پرزوردیا۔ اشرف صحرائی کے بیٹے جنید صحرائی نے بھی مئی 2020میں بھارتی قبضے کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا تھااور محمد اشرف صحرائی کے خاندان کی قربانیاں کشمیر کی تاریخ کا سنہرا باب ہیں۔کانفرنس کے شرکا نے شہدا کے مشن کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔
25 جنوری 1990 کو ہندواڑا میں بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ کشمیر میں سال 1990 کا آغاز ہی کشمیریوں کے قتل عام سے ہوا،انتہا پسند بھارتی فوجیوں نے ہندواڑا کے مقام پر 21 سے زائد کشمیریوں کو بے دردی سے قتل جبکہ 200 کو شدید زخمی کر دیا، بھارتی فوج کے ہاتھوں قتل ہونے والے مظلوم کشمیری پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ہندواڑا کے افسوسناک واقعے سے محض چار روز قبل گاوکدل کا اندوہناک واقعہ پیش آیا تھا، کشمیری ابھی گاو کدل کا سانحہ نہیں بھولے تھے کہ ہندواڑا میں بھارتی فورسز نے ظلم کی انتہا کر دی۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے زخمی کشمیریوں کو طبی امداد پہنچانے کی بھی اجازت نہ دی، بھارتی حکومت نے ہندواڑا واقعے میں شہید اور زخمی ہونے والے کشمیریوں کی اصل تعداد کو بھی مخفی رکھا۔بھارتی سپریم کورٹ 35 سال بعد بھی ہنواڑہ قتل عام کے متاثرین کو انصاف نہ دلا سکی، قتل عام کا مقصد غاصب بھارتی فوج کا اپنی بربریت پر پردہ ڈالنا اور پرامن کشمیری مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا تھا۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ ہندوستانی حکومت نے ہندواڑا قتل عام سے بچنے کیلئے بھونڈی کوشش کرتے ہوئے ایف آئی آر تک درج نہ کرائی۔الجزیرہ نے کہا کہ بھارتی فوجیوں نے گزشتہ 35 برس میں 1 لاکھ سے زائد نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔
ہندواڑا قتل عام کے متاثرین گزشتہ 35 سال سے انصاف کے منتظر ہیں، ہندواڑہ قتل عام بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے پر طمانچہ ہے۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے مختلف رہنماؤں نے1990ء میں شروع ہونے والی مسلح تحریک کی پہلی شہید خاتون جلہ بانوکو ان کی برسی پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔جلہ بانو بی ایس سی کی طالبہ تھی اور 1990ء میں نواکدل سرینگر میں قابض بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید ہوئی تھیں۔ جلہ بانو 04 مئی 1990کو نواکدل سرینگر میں نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد ایک بزرگ شخص کو قابض فوجیوں کے تشدد سے بچانے کی کوشش کررہی تھیں جب فوجیوں نے فائرنگ کرکے انہیںشہید کردیا۔ اگلے دن نمازجنازہ کے بعد ان کے بھائی کوبھی لاپتہ کردیا گیا۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے جلہ بانو کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدائے کشمیر کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیاجائے ۔ بھارتی مظالم سے تحریک آزادی کشمیرکو دبایا نہیں جاسکتا۔انہوں نے حصول مقصد تک جدوجہد آزاد ی جاری رکھنے کے کشمیریوں کے عزم کا اعادہ کیا۔
برصغیر کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو جدوجہد آزادی کیلئے مسلمانوں کی بے مثال قربانیاں تاریخ کا حصہ ہیں۔انگریزوں اور ہندوؤں کے تسلط کیخلاف کشمیر میں جدوجہد آزادی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، ایسی ہی ایک جانباز اور دلیر خاتون کشمیر سے تعلق رکھنے والی سپاہی خانوان بی بی ہیں۔ 48۔1947 کی جنگ میں سپاہی خانوان بی بی نے آزادی کشمیر کیلئے عزم و ہمت اور دلیری کی نئی داستان رقم کی، اکتوبر 1947ء میں اپنے شوہر سردار عنایت اللہ خان کی شہادت کے بعد سپاہی خانوان بی بی نے مجاہدین گروپ ”حسین فورس” میں شمولیت اختیار کرلی۔ بعد ازاں خانوان بی بی نے کپیٹن حسین خان کی زیر کمان 3 آزاد کشمیر رجمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔سپاہی خانوان بی بی کے فرائض میں جنگ کے دوران خواتین اور بچوں کا تحفظ کرنا شامل تھا،ان کی بہادی اور دلیری کو دیکھتے ہوئے دیگر خواتین بھی آزادی کشمیر کی جنگ میں شامل ہو گئیں۔ سپاہی خانوان بی بی نے ڈوگرہ فوج کیخلاف گھات لگا کر حملے کئے اور ایک حملے میں شدید زخمی بھی ہوئیں، سپاہی خانوان بی بی نے راولاکوٹ کی جنگ اور فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
سیاسی تماشا وجود پیر 11 مئی 2026
سیاسی تماشا

ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر وجود پیر 11 مئی 2026
ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا وجود پیر 11 مئی 2026
اے وارثِ قرآن تو قرآن نہ سمجھا

کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت وجود پیر 11 مئی 2026
کشمیری رہنما اشرف صحرائی شہیدکوخراج عقیدت

دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر