... loading ...
ب نقاب /ایم آر ملک
کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ عدلیہ کا ریموٹ کنٹرول ان ہاتھوں نے تھام رکھا ہو جو من چاہے فیصلے چاہتے ہیں ،استحقاق مجروح ہورہا ہے، عدلیہ کی جانبداری پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ عدلیہ کی راہداریوں میں رُل رہا ہے ،فائلوں میں دب گیا ہے۔
عوام ایک ایسے نظام کے نیچے سسک رہے ہیں جس کے اثرات اب ریاست کو گھائل کر رہے ہیں جو سامراجی قرضوں کی ادائیگی کے بھنور میں زندگی کے سانسیں گن رہی ہے، کیا موجودہ دورِ حکومت میں ڈالر کی قیمت میں اچانک تیزی اس بات کا عندیہ نہیں کہ اس نظام سے جس
ا قلیت کا مفاد وابستہ ہے اُس کی تجوریوں کے منہ ”عمرو عیار کی زنبیل ”کی طرح بھرنے میں نہیں آرہے ؟ایران امریکہ جنگ کی آڑ میں اچانک تیل کی قیمتیں بڑھا کرآئل کمپنیوں کے منافعوں کو دوام بخشا گیا ۔
تحریک انصاف کی چھتری تلے کھڑی نوجوان نسل جعلی مینڈیٹ والی سول آمریت کی طاقت ،جاہ و جلال پر مضطرب ،ششدر و جامد ہے۔ یہ درست سہی کہ لوگوں کی زبان پر ایک ہی سوال نعرے کی شکل میں ہے ”میرا ووٹ کہاں گیا”لیکن لوگوں کے دلوں میں در حقیقت یہ سوال ہے ”میرا انقلاب کدھر گیا ”۔اب یہ سوال لبوں پر آنے کیلئے بے تاب ہے وہ انتخابات جنہیں ذرائع ابلاغ پر چیخ چیخ کر جمہوریت کی بہت بڑی فتح قراردیا جارہا تھا اور عوا م کے شعور پراس ”سفید جھوٹ ”کو مسلط کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی تھی ذرائع ابلاغ کے زر خرید دانشور ووٹ ڈالنے کی تلقین کر رہے تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر یہ فقرہ مسلط کیا جارہا تھا کہ کائنات میں جمہوریت سے بہتر کوئی شے نہیں آزادی رائے کا جمہوریت کے نام پر وہ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ ،فراڈ اور ڈھونگ ثابت ہوا سرمایہ دارانہ جمہوریت میں اگر انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں تب بھی عوام کو صرف اتنا حق ملتا ہے کہ وہ اپنے پر حکمرانی کرنے کیلئے لٹیروں ،ڈاکوئو ں ،قاتلوں ،رسہ گیروں اور بدمعاشوں کے مختلف جتھوںاورگروہوں میں سے کسی ایک کو چن لیں ۔
کالے دھن کی معیشت صنعتکار حکمرانوں کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو سماجی جمود کے عہد میں پارٹی مینی فیسٹو اور پالیسیوں کا تعین کرتی ہے اور اس کالے دھن سے سیاسی اقتدار ،مرتبہ ،میڈیا کے ذریعے مقبولیت ،ریاستی عہدے ،منافع بخش ٹھیکے ،سودے ،وفاداریاں ،وابستگیاں ،قانون ،انصاف خریدا جا رہا ہے مگر ن لیگ کی سیڑھی پیپلز پارٹی کا شوروغوغا چہ معنی دارد ؟کیا زرداری کی پیپلز پارٹی اُس انقلاب کی داعی ہے جو 1968-69میں انقلاب بنا اور اُسے اصلاحات کے ناکام رستے پر موڑ دیا گیا، وہ انقلاب جو رائج الوقت نظام اور سماج کے ہر رشتے ،ہر بندھن ،ہر جکڑ ،ہراستحصال ،ہر جبر کو مٹانے کیلئے اُبھرا ،ا مریکیت کے نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ ہالبروک نے 5مئی2009ء کو امریکی کانگرس کے اجلاس میں دوران خطاب یہ واضح کیا کہ ”صدر زرداری کو اس لیڈر کے طور پر مدد کرنے کی ضرورت ہے جس کو ہماری حمایت کی شدت سے ضرورت ہے اور جس کی کامیابی ہم امریکی مفادات سے منسلک ہے ”
تاریخ کے ہر سامراج کی طرح امریکی سامراج کے مفادات یہاں کے انسانوں کی محنت اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ، امریکیت نے ہر دور میں اپنے ان ”اہم مفادات ” کیلئے کسی نہ کسی کو استعمال کیا، استعمال ہونے والوں نے پھر ان مفادات میں سے اپنی وفاداری کے صلہ میں اپنی حصہ داری اور کمیشن وصول کیا اور بڑھتے بڑھتے یہ کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ اس کی شرح منافع کو قائم رکھنے کیلئے خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں ،انسانیت کا قتل عام کرنا پڑ رہا ہے ۔امریکیت کے یہ مفادات اُس کالی دیوی کی مانند ہیں جس پر خون کی جتنی بھی بلی چڑھائی جائے اُس کی ہوس اور بڑھ جاتی ہے امریکیت نے فوجی آمروں سے لیکر مذہبی ملائوں تک سیاست دانوں سے لیکر یہاں کی ریاست اور صحافت کے اعلیٰ اہلکاروں تک کس کس کو اور کب کب ان ”مفادات ”کے حصول کیلئے استعمال نہیں کیا امریکیت مقامی ایجنٹ ضرور بدلتی ہے لیکن اس کا کام اور کردار نہیں بدلتا ”گریٹ گیم ”اب افغانستان سے نکل کر ایران میں داخل ہو چکی ہے ،ٹرمپ اپنی خفت مٹانے کیلئے روزانہ اپنا بیانہ بدلتا ہے اور اس کے کاسہ لیس اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔
اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک مولوی ایم ایم اے کی چالبازیوں سے لیکر ایک آمر کو سترھویں ترمیم کے ذریعے اپنے ہی ہم وطنوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے بعد زرداری کی چوکھٹ پر سجدہ ریزی،رجیم چینج کے اہم کردار کے استعمال کے بعد اب مقتدر حلقوںکے در پر بھیک کیلئے جھولی پسارے کھڑا ہے ۔
٭٭٭