وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

جمعه 24 اپریل 2026 پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ب نقاب /ایم آر ملک

کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ عدلیہ کا ریموٹ کنٹرول ان ہاتھوں نے تھام رکھا ہو جو من چاہے فیصلے چاہتے ہیں ،استحقاق مجروح ہورہا ہے، عدلیہ کی جانبداری پر انگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ عدلیہ کی راہداریوں میں رُل رہا ہے ،فائلوں میں دب گیا ہے۔
عوام ایک ایسے نظام کے نیچے سسک رہے ہیں جس کے اثرات اب ریاست کو گھائل کر رہے ہیں جو سامراجی قرضوں کی ادائیگی کے بھنور میں زندگی کے سانسیں گن رہی ہے، کیا موجودہ دورِ حکومت میں ڈالر کی قیمت میں اچانک تیزی اس بات کا عندیہ نہیں کہ اس نظام سے جس
ا قلیت کا مفاد وابستہ ہے اُس کی تجوریوں کے منہ ”عمرو عیار کی زنبیل ”کی طرح بھرنے میں نہیں آرہے ؟ایران امریکہ جنگ کی آڑ میں اچانک تیل کی قیمتیں بڑھا کرآئل کمپنیوں کے منافعوں کو دوام بخشا گیا ۔
تحریک انصاف کی چھتری تلے کھڑی نوجوان نسل جعلی مینڈیٹ والی سول آمریت کی طاقت ،جاہ و جلال پر مضطرب ،ششدر و جامد ہے۔ یہ درست سہی کہ لوگوں کی زبان پر ایک ہی سوال نعرے کی شکل میں ہے ”میرا ووٹ کہاں گیا”لیکن لوگوں کے دلوں میں در حقیقت یہ سوال ہے ”میرا انقلاب کدھر گیا ”۔اب یہ سوال لبوں پر آنے کیلئے بے تاب ہے وہ انتخابات جنہیں ذرائع ابلاغ پر چیخ چیخ کر جمہوریت کی بہت بڑی فتح قراردیا جارہا تھا اور عوا م کے شعور پراس ”سفید جھوٹ ”کو مسلط کرنے کی سرتوڑ کوشش کی جارہی تھی ذرائع ابلاغ کے زر خرید دانشور ووٹ ڈالنے کی تلقین کر رہے تھے اور لوگوں کے ذہنوں پر یہ فقرہ مسلط کیا جارہا تھا کہ کائنات میں جمہوریت سے بہتر کوئی شے نہیں آزادی رائے کا جمہوریت کے نام پر وہ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ ،فراڈ اور ڈھونگ ثابت ہوا سرمایہ دارانہ جمہوریت میں اگر انتخابات منصفانہ اور شفاف ہوں تب بھی عوام کو صرف اتنا حق ملتا ہے کہ وہ اپنے پر حکمرانی کرنے کیلئے لٹیروں ،ڈاکوئو ں ،قاتلوں ،رسہ گیروں اور بدمعاشوں کے مختلف جتھوںاورگروہوں میں سے کسی ایک کو چن لیں ۔
کالے دھن کی معیشت صنعتکار حکمرانوں کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے جو سماجی جمود کے عہد میں پارٹی مینی فیسٹو اور پالیسیوں کا تعین کرتی ہے اور اس کالے دھن سے سیاسی اقتدار ،مرتبہ ،میڈیا کے ذریعے مقبولیت ،ریاستی عہدے ،منافع بخش ٹھیکے ،سودے ،وفاداریاں ،وابستگیاں ،قانون ،انصاف خریدا جا رہا ہے مگر ن لیگ کی سیڑھی پیپلز پارٹی کا شوروغوغا چہ معنی دارد ؟کیا زرداری کی پیپلز پارٹی اُس انقلاب کی داعی ہے جو 1968-69میں انقلاب بنا اور اُسے اصلاحات کے ناکام رستے پر موڑ دیا گیا، وہ انقلاب جو رائج الوقت نظام اور سماج کے ہر رشتے ،ہر بندھن ،ہر جکڑ ،ہراستحصال ،ہر جبر کو مٹانے کیلئے اُبھرا ،ا مریکیت کے نمائندہ برائے افغانستان و پاکستان رچرڈ ہالبروک نے 5مئی2009ء کو امریکی کانگرس کے اجلاس میں دوران خطاب یہ واضح کیا کہ ”صدر زرداری کو اس لیڈر کے طور پر مدد کرنے کی ضرورت ہے جس کو ہماری حمایت کی شدت سے ضرورت ہے اور جس کی کامیابی ہم امریکی مفادات سے منسلک ہے ”
تاریخ کے ہر سامراج کی طرح امریکی سامراج کے مفادات یہاں کے انسانوں کی محنت اور وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ کچھ نہیں ، امریکیت نے ہر دور میں اپنے ان ”اہم مفادات ” کیلئے کسی نہ کسی کو استعمال کیا، استعمال ہونے والوں نے پھر ان مفادات میں سے اپنی وفاداری کے صلہ میں اپنی حصہ داری اور کمیشن وصول کیا اور بڑھتے بڑھتے یہ کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ اس کی شرح منافع کو قائم رکھنے کیلئے خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہیں ،انسانیت کا قتل عام کرنا پڑ رہا ہے ۔امریکیت کے یہ مفادات اُس کالی دیوی کی مانند ہیں جس پر خون کی جتنی بھی بلی چڑھائی جائے اُس کی ہوس اور بڑھ جاتی ہے امریکیت نے فوجی آمروں سے لیکر مذہبی ملائوں تک سیاست دانوں سے لیکر یہاں کی ریاست اور صحافت کے اعلیٰ اہلکاروں تک کس کس کو اور کب کب ان ”مفادات ”کے حصول کیلئے استعمال نہیں کیا امریکیت مقامی ایجنٹ ضرور بدلتی ہے لیکن اس کا کام اور کردار نہیں بدلتا ”گریٹ گیم ”اب افغانستان سے نکل کر ایران میں داخل ہو چکی ہے ،ٹرمپ اپنی خفت مٹانے کیلئے روزانہ اپنا بیانہ بدلتا ہے اور اس کے کاسہ لیس اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں ۔
اقتدار کی ہوس میں مبتلا ایک مولوی ایم ایم اے کی چالبازیوں سے لیکر ایک آمر کو سترھویں ترمیم کے ذریعے اپنے ہی ہم وطنوں کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے بعد زرداری کی چوکھٹ پر سجدہ ریزی،رجیم چینج کے اہم کردار کے استعمال کے بعد اب مقتدر حلقوںکے در پر بھیک کیلئے جھولی پسارے کھڑا ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں وجود جمعه 24 اپریل 2026
پاکستان میں امریکی مہرے اور ان کی چالبازیاں

ایران جنگ میں بھارتی تنہائی وجود جمعه 24 اپریل 2026
ایران جنگ میں بھارتی تنہائی

کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا وجود جمعه 24 اپریل 2026
کراچی کی قاتل اور زہریلی فضا

انسان خوش فہمیوں کا قید ی! وجود جمعرات 23 اپریل 2026
انسان خوش فہمیوں کا قید ی!

یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری وجود جمعرات 23 اپریل 2026
یورپی یونین ۔۔برطانیہ کی مجبوری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر