... loading ...
ریاض احمدچودھری
پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی کے لیے ثالثی کی پیشکش پر انڈین وزیر خارجہ جے شنکر کا ایک بیان سرحد کے دونوں جانب بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔جے شنکر نے کہا کہ ‘انڈیا پاکستان کی طرح بروکر ملک نہیں بننا چاہتا۔’انڈین وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر پاکستانی وزارتِ خارجہ کا ردِعمل بھی سامنے آیا ہے جس میں ترجمان ظاہر اندرابی نے کہا کہ ‘ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بھڑکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے نہ کہ محض بیان بازی پر۔’
خیال رہے کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے دوران بعض انڈین رہنماؤں نے مودی حکومت پر تنقید کی تھی۔پاکستان کے وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایکس پر اپنے ایک بیان جے شنکر پر تنقید کی اور کہا کہ ‘جے شنکر خود کو ایک ‘ہائی فائی دلال’ سمجھتے ہیں، اور اْن کا یہ بیان اْن کی ذاتی جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔’بھارتی سیاستدان اور انڈین نیشنل کانگریس کے رکن ششی تھرور نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران میں پاکستان کا ایک اہم ثالث کے طور پر سامنے آنا نئی دہلی کے لیے ایک سنجیدہ اور مثبت ردِعمل کا متقاضی ہے۔ بھارت کو ایران جنگ کے تناظر میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، چاہے مذاکرات میں سہولت کاری کوئی بھی کرے۔ششی تھرور نے پاکستان کی عسکری قیادت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلق کو ایک عملی حقیقت قرار دیا جو روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر کام کر رہی ہے۔ اگر پاکستان اس عمل میں کامیاب ہوتا ہے تو بھارت کو سب سے پہلے اس کامیابی کا خیر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل خطے میں استحکام سب کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے بھارتی پالیسی سازوں کو خبردار کیا کہ وہ اس پیش رفت پر اسٹریٹیجک بے چینی یا تنقید سے گریز کریں، کیونکہ کسی بھی ناکام ثالثی کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑے گا۔ کیونکہ بھارت بھی امن کا خواہاں ہے، دنیا میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں اور بھارت کو محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔
امریکا ایران جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس کا احترام کیا جانا چاہیے، پاکستان اور ایران کے درمیان تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے، اس لیے کسی بھی علاقائی جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں، اس لیے پاکستان کا اس تنازع کو ختم کرنے میں دلچسپی لینا فطری ہے۔ جنگل کا قانون کسی کے مفاد میں نہیں کیونکہ اس سے تمام ممالک طاقت ور قوتوں کے رحم و کرم پر آ سکتے ہیں۔مودی سرکار نے بھارتی معیشت اور انتظامی مشینری کا بھٹہ بٹھانے کے بعد عالمی سطح پر بھی اپنی نااہلی اور ناکامی ثابت کر دی۔ بھارتی حکومت نے اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس (COP33) 2028 کی میزبانی کی پیشکش واپس لے لی بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق یہ فیصلہ ایک یوٹرن ثابت ہوا کیونکہ مودی نے 2023 میں دبئی میں منعقدہ کانفرنس میں 2028 کانفرنس کی میزبانی کیلئے پیشکش کی تھی۔یہ فیصلہ صرف ایک ایونٹ کی منسوخی تک محدود نہیں بلکہ بھارت کی ساکھ کیلئے بھی بڑا دھچکا ہے، بھارت پہلے ہی 2035 کے لئے بھی اپنے قومی ماحولیاتی اہداف جمع کرانے کی 2 ڈیڈلائنز کو نظر انداز کر چکا ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق کانفرنس کی میزبانی سے دستبردار ہونا موسمیاتی بہتری کے اقدامات اور گلوبل ساوتھ کے بھارتی دعوؤں پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
فسطائی مودی کے دور حکومت میں بھارت کو سفارتی اور دفاعی ناکامیوں کے بعد تجارتی میدان میں بھی ذلت آمیز شکست کا سامنا ہے۔خودمختاری اور گلوبل ساؤتھ کی قیادت کا نام نہاد دعویدار بھارت معاشی ترجیحات پس پشت ڈال کر بڑی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے ڈھیر ہوگیاہے۔بھارتی جریدے ”دی وائر” نے مودی حکومت کے ڈبلیو ٹی او کانفرنس سے خالی ہاتھ لوٹنے کو بھارت کی ناکامیوں سے تعبیر کیاہے۔جریدے نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کانفرنس میں گھٹنے ٹیکنے پر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت نے ڈیجیٹل مواد کی ترسیل پر کسٹم ڈیوٹی نہ لگانے کی امریکی شرط قبول کرنے کا واضح اشارہ دیاہے۔ ڈبلیو ٹی او کانفرنس میں بھارت نے سرمایہ کاری سہولت معاہدہ کسی مزاحمت کے بغیر ہی قبول کر لیا۔ بھارت نے اپنے کسانوں سے غداری اور امریکہ کی وفاداری کرتے ہوئے خوراک کی عوامی ذخیرہ اندوزی پر بھی شکست قبول کی۔ خلیجی جنگ کے تناظر میں بھی مودی کو ملکی مفادات اسرائیل سے دوستی کی بھینٹ چڑھانے پر تنقید کا سامنا ہے۔ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی کے باعث بھارتی معیشت کو توانائی بحران، کرنسی پر دباؤ اور ترسیلاتِ زر میں کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ بھارت کا اقتصادی قوت بننے کا مضحکہ خیز خواب نااہل مودی کی ناکام اور تباہ کن پالیسیوں کے باعث خاک میں مل چکا ہے۔بھارتی میگزین نے اعتراف کیا ہے کہ بھارت سفارتی محاذ پر ناک آؤٹ ہو چکا ہے، پاکستان کا ایران امریکا جنگ میں ثالث بن کر ابھرنا بھارت کے لیے بڑا دھچکا ہے۔پالیسی میگزین میں بھارتی صحافی و تجزیہ کار سوشانت سنگھ نے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ مودی نہیں بلکہ پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سفارتکاری کے مرکز ہیں، خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا ہے، پاکستان نے سفارتکاری سے اپنا کردار بڑھایا ہے۔آرٹیکل میں لکھا گیا ہے کہ چین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی سفارتی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا، بھارت کو بڑا سفارتی دھچکا لگا ہے کیونکہ نئی دہلی اہم مشرقِ وسطیٰ مذاکرات سے باہر ہو گیا، مودی حکومت کے لیے سبکی، امریکہ کے ساتھ بھارت کا اثر و رسوخ کمزور پڑ گیا۔
پاکستان کو تنہا کرنے کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے، عالمی طاقتیں اب پاکستان کو نظر انداز نہیں کر سکتیں، پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن کا بڑا کھلاڑی بن کر سامنے آیا، مودی کی خارجہ پالیسی ہر محاذ پر ناکام ہوئی۔پاکستان نے ایک بار پھر 1971 جیسا سفارتی کردار حاصل کر لیا، پاکستان امریکا، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان پل بن گیا، ٹرمپ نے مودی کے بجائے پاکستان پر اعتماد کیا۔ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے بھارت کا بیانیہ ختم کر دیا، بھارت صرف بیانات تک محدود، پاکستان عملی سفارتکاری کر رہا ہے۔
٭٭٭