... loading ...
عطا محمد تبسم
کراچی جو کبھی کھلی آب و ہوا کا شہر تھا، اب زہریلی اور کثیف ہوا سے بھرا ہوا ہے ۔ میرے ایک عزیز کا 8 سال کا بچہ مسلسل سانس کی
تکلیف میں مبتلا ہے ، مسجد میں کئی بوڑھے افراد کو میں مستقل ماسک میں دیکھتا ہوں، میڈیکل اسٹور پر سانس کو برقرار اور ہموار رکھنے والی
دواؤں کی قلت ہے ۔ کراچی کی زہریلی فضا کو اب محض ایک مبالغہ یا استعارہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ ایک واضح، قابلِ پیمائش ماحولیاتی اور عوامی
صحت کا مسئلہ بن چکی ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت مزید نمایاں ہوتی جا رہی ہے کہ اس شہر کی ہوا میں شامل آلودگی نہ صرف ماحول
بلکہ انسانی زندگی کے معیار کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے ۔ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی اور ساحلی شہر ہونے کی وجہ سے کراچی کو آلودگی
کے کئی پیچیدہ اور باہم جڑے ہوئے ذرائع کا سامنا ہے ، جو اس کے فضائی معیار کو مسلسل گرا رہے ہیں اور لاکھوں شہریوں کی صحت کو خطرے
میں ڈال رہے ہیں۔
موجودہ فضائی معیار کے اعداد و شمار اس صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔کراچی اکثر ایسے درجے میں آتا ہے جسے درمیانی سے لے
کر حساس افراد کے لیے مضر قرار دیا جاتا ہے ۔ ایئر کوالٹی انڈیکس عموماً 90 سے 100 کے درمیان رہتا ہے ، جبکہ PM2.5 کی سطح
تقریباً 30 مائیکروگرام فی مکعب میٹر تک پہنچ جاتی ہے ۔ یہ سطح عالمی ادارئہ صحت کی تجویز کردہ محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے ، جو اس بات
کی نشاندہی کرتی ہے کہ شہری روزمرہ زندگی میں غیر محسوس انداز میں صحت کے خطرات سے دوچار ہیں۔اس آلودگی میں سب سے اہم کردار
باریک ذراتی مادہ یعنی PM2.5 کا ہے ۔ یہ نہایت باریک ذرات ہوتے ہیں جو بآسانی سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو کر
پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں اور وہاں سے خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اس عمل کے نتیجے میں نہ صرف سانس کی بیماریاں جنم لیتی
ہیں بلکہ دل کے امراض، فالج اور دیگر طویل مدتی طبی مسائل کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے ۔ خاص طور پر بچے ، بزرگ اور پہلے سے کسی بیماری
میں مبتلا افراد اس آلودگی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
کراچی میں ماحول کی آلودگی اور ہوا مین زہریلی ذرات کے مسائل متعدد اور ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ سب سے بڑا
ذریعہ ٹرانسپورٹ ہے ۔ شہر میں لاکھوں گاڑیاں، خاص طور پر پرانی اور ناقص ایندھن استعمال کرنے والی گاڑیاں، روزانہ زہریلا دھواں
خارج کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعتی سرگرمیاں، پاور پلانٹس، ریفائنریز اور بندرگاہی سرگرمیاں بھی فضا میں خطرناک کیمیکل چھوڑتی
ہیں۔ عالمی سطح پر تحقیق یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ ایسے صنعتی super-emitters شہری علاقوں، بشمول کراچی، میں بڑی مقدار میں PM2.5 خارج کرتے ہیں جو انسانی صحت کے لیے شدید خطرہ بنتے ہیں۔
کراچی کی جغرافیائی اور موسمی صورتحال بھی اس مسئلے کو بڑھا دیتی ہے ۔ شہر میں نمی زیادہ ہونے اور ہوا کے کم بہاؤ کی وجہ سے آلودہ
ذرات فضا میں ٹھہر جاتے ہیں۔ بعض اوقات گرد و غبار، کچرا جلانے اور تعمیراتی کاموں سے پیدا ہونے والے ذرات بھی فضا کو مزید خراب
کرتے ہیں۔ اگرچہ سمندری ہوائیں کچھ اوقات میں فضا کو صاف کرنے میں مدد دیتی ہیں، لیکن شہری پھیلاؤ اور بے ہنگم ترقی نے اس
قدرتی توازن کو متاثر کیا ہے ۔اس زہریلی فضا کے اثرات نہایت سنجیدہ ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق PM2.5 کی بلند سطح سانس کی
بیماریوں، دمہ، دل کے امراض، فالج اور حتیٰ کہ قبل از وقت اموات کا سبب بن سکتی ہے ۔ بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیمار افراد کے لیے یہ
خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے ۔ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے انسانی قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے اور زندگی کی مجموعی مدت بھی متاثر
ہو سکتی ہے ۔
ماہرین اس مسئلے کے حل کے لیے کئی اقدامات تجویز کرتے ہیں، جن میں صاف ایندھن کا استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کی بہتری، صنعتی
اخراج پر سخت کنٹرول، شجرکاری، اور شہری منصوبہ بندی میں بہتری شامل ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ جب تک حکومتی پالیسی، عوامی شعور اور
صنعتی ذمہ داری ایک ساتھ نہ آئیں، کراچی کی فضا میں بہتری ایک مشکل ہدف رہے گی۔ اوپر سے ہر طرف کھدائی سوئی گیس کی لائینوں کی
تبدیلی اور ریڈ لائین منصوبے نے شہر میں تباہی پھیر دی ہے ۔ ماہرین تو شہر میں ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہر میں
سیوریج لائنوں کی ناقص صورتحال کے باعث زہریلی گیسز سے ہلاکتوں کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔حکومت سندھ اس بارے
میں ایک ایسا غیر انسانی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے ۔ جس میں سدھار کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے ۔کراچی، جو کبھی پاکستان کا
اقتصادی حب اور زندگی سے بھر پور شہر تھا، آج اپنی ہی فضا کا یرغمال بن چکا ہے ۔ شہر کی سڑکوں پر اڑتا زہریلا گرد و غبار اور بے ضابطہ ترقیاتی
منصوبے شہریوں کی صحت کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔ یونیورسٹی روڈ سے گزرنے والے شہری سانس، دمہ، نمونیہ، چیسٹ انفیکشن ، نزلہ،
زکام ، جلدی امراض اور آنکھوں کے انفیکشن میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ سب سے زیادہ خطرناک یہ کہ بچے تیزی سے دمہ کا شکار ہو رہے ہیں یہ
آلودہ فضا ان کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہو رہی ہے ۔ حکومت توجہ کرے تو صنعتی کنٹرول ، گاڑیوں کی نگرانی اور موثر اقدامات سے آلودگی
میں 50 فیصد تک کی ممکن ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ شہر کی ترقی کو ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ متوازن کیا جائے ۔ شہر کی فضا کی خرابی
صرف حکومت پر عائد ہوتی ہے نہ صرف شہریوں پر بلکہ اس حوالے سے دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔ حکومت ، صنعت کار، اور شہری سب کو
مل کر فوری اقدامات کرنا ہوں گے ۔ ورنہ کراچی ایک ایسے مقام پر پہنچ جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو گی ۔
٭٭٭