... loading ...
ریاض احمدچودھری
بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ کشمیر میں مزید 43 چوکیاں قائم کر لیں ہیں۔ فورسز کی ہر چوکی میں 25 اہلکار تعینات ہیں۔بھارتی فورسز کی جانب سے 26 چوکیاں کشمیر ڈویژن جبکہ 17 چوکیاں جموں ڈویژن میں قائم کی گئی ہیں۔ بھارتی فوج نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں میں پانچ اگست دو ہزار انیس سے اب تک بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں ایک ہزار سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق بی جے پی حکومت نے پانچ اگست دوہزار انیس کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا جس نے علاقے کو فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے۔ بھارتی فوج نے سری نگر شہر سمیت مختلف علاقوں سے پانچ نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ بھارتی فوج نے ان گرفتاریوں کا جواز پیش کرتے ہوئے انہیں مختلف عسکریت پسند تنظیموں کے سابق کارکن قرار دیتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ گزشتہ 16 سالوں سے گرفتاری سے بچ رہے تھے۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے کارکنوں نے اظہار رائے کی آزادی اور دیگر بنیادی حقوق پرجبری پابندیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیری عوام کو اپنی سیاسی خواہشات کے اظہار کی آزادی کیلئے بھارت پردبائو بڑھائے۔
مودی کی بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کی حق پر مبنی جدوجہد آزادی کو دبانے اور اختلاف رائے کو خاموش کرنے کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں تمام بنیادی حقوق بشمول احتجاج کرنے کا حق اور اظہار رائے کی آزادی کوپامال کیا جا رہا ہے۔ کشمیریوں کو روزانہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں ظلم و تشدد ، قتل عام ، تذلیل اور خوف ودہشت کا نشانہ بنایاجاتاہے۔ ہر کشمیری مقبوضہ علاقے میں موجود خو ف و دہشت کے ماحول میں گھٹن محسوس کرتا ہے، جہاں نگرانی، پابندیاں اور جبری کارروائیاں روزکا معمول بن چکی ہیں۔ سول سوسائٹی کے کارکنوں نے کہاکہ کشمیریوں کو اپنے ضمیر کی بات کرنے اور اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں اظہار کرنے کا مکمل حق حاصل ہونا چاہیے۔ کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی سیاسی آواز دبا کر انہیں اپنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روک نہیں سکتا۔بھارتی حکومت نے پیراملٹری فورسز کی مزید 200 کمپنیاں کشمیر بھیج دی ہیں۔ ان میں سے بیشتر کو شمالی کشمیر اور جموں خطے کے کچھ حصوں میں تعینات کیا گیا ہے۔ بھارتی فورسز کی بڑی تعداد کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کچلنے کے لیے تعینات کی گئی ہے۔ 5 اگست 2019 ء کے شب خون سے قبل بھارتی سفاک سپاہ کی مقبوضہ وادی میں تعداد 7 لاکھ تھی۔ کشمیری بھارت کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے ظلم کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ وہ 5 اگست کے فیصلے کے خلاف گھروں سے نکل آئے۔ سروں پر کفن باندھ کر احتجاج شروع کیا مظاہرے ہونے لگے۔ جس پر بھارت نے قابو پانے کے لیے مزید بربریت سے کام لیا۔دو لاکھ مزید فوجی مقبوضہ وادی میں تعینات کر دیئے اور فوری طور پر وادی میں سخت ترین پابندیوں کا حامل کرفیو نافذ کر دیا گیا جو آج بھی مسلسل لاگو ہے۔ اس کے باوجود کشمیری موقع ملتے ہی گھروں سے نکل کر احتجاج کرتے ہیں۔ ان کی آواز کو مکمل طور پر دبانے کے لیے 5 اگست کے بعد وادی میں فوج کی تعیناتی میں بتدریج اضافہ کیا جارہا ہے جو کل تک نو لاکھ تھی جس میں اب مزید 20 ہزار کا اضافہ کیا گیا۔ اس سے مقبوضہ وادی میں انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے جو کچھ کیا جا رہا ہے وہ انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثال ہے۔ وہاں تعینات فورسز کشمیریوں کے خلاف ظلم کا ہر حربہ اور ضابطہ روا رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے کشمیریوں کو حقِ استصواب دیا جائے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع راجوڑی میں کشمیری مجاہدین سے ایک جھڑپ میں 4 بھارتی فوجی اہلکار ہلاک اور کئی شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد بھارتی فوج نے علاقے میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔یہ کارروائی راجوڑی کے علاقے سندربنی اور دیگر مقامات پر نامعلوم افراد کی مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات کے بعد شروع کی گئی۔ بھارتی فوج نے علاقے میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن (سی اے ایس او) کا آغاز کیا ہے۔بھارتی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس معلومات اور مسلسل نگرانی کی بنیاد پرسندربنی کے علاقے ناتھوا تِبہ میں، جو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب واقع ہے، میں مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی مشتبہ نقل و حرکت دیکھی گئی۔حکام کے مطابق اس کے بعد زمینی آپریشن کے ساتھ فضائی نگرانی بھی شروع کر دی گئی۔دوسری جانب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ علاقے میں بھارتی فوج کے ایک کیمپ پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 4 اہلکار ہلاک اور کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
٭٭٭